’’ یہ کسی مُردے کا ہاتھ ہے ‘‘دست شناس زندہ نوجوان کا ہاتھ دیکھ کر بُری طرح چونکا اور پھروہ واقعہ رونما ہوگیا جس کی کوئی امید نہیں کرسکتا تھا

’’ یہ کسی مُردے کا ہاتھ ہے ‘‘دست شناس زندہ نوجوان کا ہاتھ دیکھ کر بُری طرح چونکا اور پھروہ واقعہ رونما ہوگیا جس کی کوئی امید نہیں کرسکتا تھا
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:28
دست شناسی بھی ایک عجیب پُراسرار علم ہے.جس کو اس علم پر قدرت ہوجاتی ہے وہ لکیروں سے انسان کو اندر باہر سے پڑھ لیتا ہے لیکن ایسے لوگ اب بہت کم ہوتے ہیں جو درست پیشن گوئی کرسکتے ہوں . مجھے کسی طور پر اس بات پر پورا یقین نہیں ہوپاتا کہ کوئی دست شناس ایسا علم بھی رکھ سکتا ہے کہ کسی انسان کی موت کا درست

وقت بتادے. چند دن پہلے میں نے نیٹ پر ہی ایک ایساواقعہ پڑھا تھا جو کسی سلیم نے بیان کیا تھا .اللہ ہی جانتا ہے کہ اس میں

کتنی سچائی ہے لیکن یہ واقعہ جیسا بھی ہے اسکو پڑھنے کے بعد میں کسی کوبھی اپنا ہاتھ دیکھانے کا مشورہ نہیں دوں گا کیونکہ سلیم کے مطابق یہ واقعہ اسکے ذہن پر بہت برے اثرات چھوڑ گیا ہے. ویسے دست شناسوں کو ہاتھ دیکھانے کے بعد انسان کوئی بری بات سن لے تو دل میں اسکا روگ پال لیتا ہے.بعض اوقات کسی غلط پیش گوئی کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کربیٹھتا ہے.

مجھے اس بات کا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کو ہاتھ دیکھانے کا شوق ہوتا ہے وہ زیادہ خراب ہوتے ہیں. سلیم کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے والد صاحب کے ایک دوست سے ملنے نتھیا گلی گیا. میرے ساتھ میرا ایک دوست حمید بھی تھا. والد صاحب کے یہ دوست ایک زبردست پامسٹ تھے اور ان کی اس معاملے میں بہت دور دور تک شہرت تھی. اس کے علاوہ ان کے کچھ اور بھی روحانی معاملات تھے جو وہ فی سبیل اللہ کرتے تھے.میرا دوست جو میرے ساتھ تھا ، اسے وہاں پر ہاتھ دکھانے والوں کا مجمع دیکھ کر اشتیاق ہوا کہ وہ بھی ان کو اپنا ہاتھ دکھائے.

انھوں نے جب حمید کا ہاتھ دیکھا تو ان کے چہرے پہ حیرت کے آثار نظر آئے. انھوں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’بیٹا ! کیا آپ ذرا تھوڑی دیر کے لیے دوسرے کمرے میں جاؤ گے ؟‘‘ حمید کو یہ سن کر قدرے حیرت ہوئی خیر وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا،جو ساتھ ہی تھا. اس کے جانے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا’’ سلیم بیٹا! آپ کا یہ دوست کون ہے؟‘‘ میں نے انھیں بتایا کہ وہ میرا بچپن کا دوست ہے اور ہمارے محلے میں رہتا ہے. ’’میری زندگی میں آج تک ایسا نہیں ہوا‘‘، انھوں نے مجھ سے کہا.

’’ایسی کون سی بات ہے جو آپ نے اس میں دیکھی ہے ؟ میں نے محسوس کیا ہے کہ اس کا ہاتھ دیکھنے کے بعد آپ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے .‘‘ میں نے ان سے پوچھا. ’’یہ بات اپنے تک ہی رکھنا ، اسے نہیں بتانا کہ میں نے جو ہاتھ دیکھا وہ ایک زندہ آدمی کا ہاتھ نہیں تھا. میرے گزشتہ تجربے اور دست شناسی کے علم کے مطابق وہ آدمی دنیا سے جا چکا ہے. ‘‘ ابھی انھوں نے یہ الفاظ منہ سے نکالے ہی تھے کہ اندر سے شوروغوغہ بلند ہوا. ہم دونوں ادھر بھاگے تو پتہ چلا کہ میرے دوست حمید کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے.

اسے دیکھتے ہی انھوں نے اپنے ایک ملازم کو پانی لانے کو کہا اور ہم سب لوگ جو کمرے میں موجود تھے انھیں کلمہ طیبہ پڑھنے کو کہا. یہ سارا منظر آج بھی میری آنکھوں کے آگے گھومتا ہے کہ کس طرح چند منٹ کے اندر میرا دوست ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گیا. بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اسے بہت زبردست دل کا دورہ پڑا ہے جس سے وہ جانبر نہیں ہو سکا کیونکہ ہارٹ اٹیک کے بارے میں میری تھوڑی بہت معلومات تھیں. وہ منظر ، وہ واقعہ میں ساری عمر بھلانا بھی چاہوں تو شاید کبھی نہ بھلا سکوں.‘‘

ہر سال مارچ میں فرعون کی لاش پر چوہے چھوڑے جاتے ہیں جو گوشت نوچ لیتے ہیں

ہر سال مارچ میں فرعون کی لاش پر چوہے چھوڑے جاتے ہیں جو گوشت نوچ لیتے ہیں
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:26
اللہ تعالیٰ سے حضرت موسی ؑ نے پوچھایااللہ تونے فرعون کوچارسوسال حکومت دی ۔اوریہ دنیامیں واحدشخص ہے جودعویٰ کرتاہے کہ میں رب ہوں۔اللہ تعالیٰ نے کہاکہ میں تمہاری بادشاہی کاسارازورنکالتاہوں میں تجھے نجات دیدوں گا۔تمہارے جسم کوزندہ کردوں گا۔توآنیوالی نسلوں کے لیے یادگاربن جائےگا۔مصرمیں پرانے زمانے میں لوگ

نعشوں کوایسامسالہ لگاتے تھے جس سے نعشیں محفوظ رہتی تھیں وہ لوگ آنتیں نکال کرباہرپھینک دیتے تھے اورجسم پرمسالہ لگاکراس کے اوپرپٹیاں باندھ دیتے تھے جس کے بعدنعشیں محفوظ ہوجاتی تھیں۔وہ جسم آج تک ٹھیک پڑے ہوئے ہیں کچھ انہوں نے پٹیاں اتاردیں۔جن کی پٹیاں اتاردی ہیں توان کی

کھال پتالگتاہےکہ یہ مردہ کی کھال ہے چٹخی ہوئی ٹوٹی ہوئی کٹی ہوئی ۔چیرے ایسے کہ پتالگتاہے کھال نام کی چیزموجودہے۔کھال اتری نہیں ۔آنکھوں میں سوراخ نہیں ہے۔پائوں چٹخے ہوئے انگلیاں چٹخی ہوئی ہیں۔

فرعون وہ واحدشخص ہے جس کی نعش پرگوشت تروتاز ہ ہے۔لگتاہے ابھی کسی نے اس کوسلایاہے۔بلکہ اس کی نعش پرگوشت بڑھتارہتاہے بڑھتارہتاہے۔ہرسال پندرہ مارچ کوانہوں نے اسی میوزیم میں چوہے رکھے ہوئے ہیں جواس کے اوپرچھوڑتے ہیں اوروہ اس کابڑھاہواگوشت کھ اجاتے ہیں اورپھرا س کی ڈریسنگ کی جاتی ہے اوراس کوشیشے میں رکھاجاتاہے ۔پڑاہوالگتاہے کہ ابھی کوئی سویاہواآدمی ہے۔

بال بالکل صحیح آنکھیں ہرچیزبالکل صحیح سلامت۔وہ لگتانہیں کہ یہ ساڑھے تین ہزارسال پرانی ممی ہے۔موسیٰؑ اورہمارے نبیؐ میں دوہزارسال کافرق ہے۔میں تمہارے جسم کونجات دوں گااورلوگوں کوکہوں گاکہ دیکھویہ انجام ہے خدائی کادعویٰ کرنے کا۔ایک دفعہ مو سیٰ ؑ نے پوچھایااللہ توفرعون کواتنی مہلت کیوں دیتارہا۔وہ توکہتاتھامیں خداہوں تواللہ تعالیٰ نے فرمایایہ کم بخت اپنی رعایامیں عدل کرتاتھامیں اس لیے اس کومہلت دیتارہا۔جب اس نے ظلم کیاتوپھرپکڑا۔

خون کی کمی اور بلڈپریشر تو دور کرتا ہی ہے مگر انارمیں موجود نمک کا تیزاب انسانی جسم میں کیا حیران تبدیلی لاتا ہے ؟

خون کی کمی اور بلڈپریشر تو دور کرتا ہی ہے مگر انارمیں موجود نمک کا تیزاب انسانی جسم میں کیا حیران تبدیلی لاتا ہے ؟
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:25
انار ایک بے پناہ فوائد کا حامل پھل ہے۔ جنت کا پھل ہے۔ قرآن مجید نے انار کو جنت کا میوہ قرار دے کر مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے۔ انار کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ انار کا اصل وطن ایران ہے۔اور اس کی باقاعدہ کاشت بھی سب سے پہلے ایران میں شروع ہوئی۔ انار میں فولاد اور ہائیڈ رو کلورک ایسڈ موجود

ہوتے ہیں۔ انار کھانے سے بھوک کھل کر لگتی ہے۔ انار میں وٹامن اے ‘ وٹامن بی ‘ کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ انار میں موجود نمک

کاتیزاب معدے کو طاقت دیتا ہے اور غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ انار دل کو طاقت دیتا ہے اور جسم میں صاف خون پیدا کرتا ہے۔ انار ورم جگر ‘ یرقان ‘ تلی کے امراض ‘ گرم ‘ کھانسی ‘ سینے میں درد ‘ بھوک میں کمی ‘ ٹائیفائیڈ کے لئے مفید ادویاتی اور قدرتی غذا ہے۔

انار کے رس میں شہد کا اضافہ کیا جائے تو بڑھاپے میں کمی ہوتی ہے انار کے ایک پاو¿ جوس میں دو چپاتیوں کے برابر غذائیت موجود ہوتی ہے۔ معدے کی کمزوری کے لئے انار مفید پھل ہے۔ چنانچہ یہ مقوی معدہ جگر کے علاوہ مقوی سینہ ہے۔ انار پھیپھڑوں سے بلغم نکال کر طاقت دیتا ہے۔ اس میں وٹامن سی‘ فاسفورس ‘ سوڈیم ‘ کیلشیم ‘ سلفر ‘ آئرن جیسے اجزاءبھی وافر پائے جاتے ہیں۔ یہ مختلف امراض کے بعد کی کمزوری کو دور کرتا ہے اور اس طرح ایک اعلیٰ ٹانک ہے۔

خون کی کمی ‘ بلڈ پریشر ‘ بواسیر اور ہڈیوں کے درد میں انار کو آیورویدک ‘ ایلوپیتھی اور طب یونانی میں مفید تسلیم کیا گیا ہے۔ انار کا پھل دل و دماغ کو اس حد تک فرحت اور تازگی دیتا ہے کہ ایک پیغمبرانہ قول کے مطابق اس کے استعمال سے انسان میں نفرت اور حسد کا مادہ زائل ہو جاتا ہے۔ انار کے چھلکے کے بھی فوائد ہیں۔ چنانچہ انار ایک مفید پھل ہے جس کے طب میں بے پناہ فوائد ہیں۔بیشتر افراد انار کے چھلکے پھینک دیتے ہیں جو کہ سفوف بنانے کے کام آسکتے ہیں انہیں خشک اور پیس کر یہ سفوف بنایا جاتا ہے جو لاتعداد طبی فوائد کے حامل ہوتے ہیں

اُسے بھینٹ چڑھاتے ہوےدریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں

اُسے بھینٹ چڑھاتے ہوےدریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:31
قیس بن الحجاج اُس سے رایت کرتے ہیں جس نے اُن سے یہ قصہ بیان کیا کہ جب ملک مصر فتح ہوا تو سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ (بطور گورنر) وہاں تشریف لائے جب عجمی مہینوں میں سے ایک مہینہ شروع ہوا تو (کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور) کہا کے اے حاکم وقت یقینا یہ ہمارے دریائے نیل کا ایک دستور ہے اور یہ اُس

دستور کے بغیر اپنی روانی جاری نہیں رکھتا۔سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دستور کیا ہے؟؟؟۔۔۔ (تو اُن میں سے کسی نے) کہا جب اس ماہ کی

گیارہ راتیں گزر جاتی ہیں تو ہم ایک کنواری لڑکی جو اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہو تلاش کرتے ہیں اُس کے والدین کو رضامند کرتے ہیں پھر بہترین لباس پہنا کر (زیورات سے آراستہ کرکے) اُسے (بھینٹ چڑھاتے ہوے) دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں (تو پھر دریائے نیل کی روانی جارہی رہتی ہے ورنہ رک جاتی ہے)،سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا۔۔۔ “

اسلام میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا یقینا اسلام تو اپنے سے پہلے ( کی رسومات جاہلیت) کو مٹادیتا ہے اہل مصر اُس دن کام سے رخ گئے اور نیل تھا کہ نہ تو سست روی کے ساتھ بہتا نہ ہی تیزی کے ساتھ بلکہ اُس کی روانی بالکل رک گئی یہاں تک کے لوگوں نے مصر سے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ دیکھا تو اس کے متعلق امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھا اور یہ بات بتلائی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھ بھیجا کے آپ نے بالکل صحیح کیا اسلام تو واقعتا جاہلیت کی سابقہ رسومات کو مٹادیتا ہے

اور آپ نے اپنے اُس خظ کے اندر ایک “رقعہ“ بھی ارسال فرمایا اور لکھ بھیجا کے میں آپ کی طرف اپنے اس خط کے ساتھ ایک “رقعہ“ بھی بھیج رہا ہوں آپ یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیں۔جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کا خط پہنچا تو انہوں نے وہ خط پڑھا اور وہ رقعہ اٹھایا اُسے کھولا تو اُس میں یہ لکھا تھا اللہ کے بندے عمر امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف امابعد!۔اے نیل! اگر و اپنی مرضی سے بہتا ہے تو نہ بہہ (اپنا بہاؤ روک دے) اور اگر عزوجل تجھے بہاتا ہے تو میں اللہ الواحد القہار سے دُعا کرتا ہوں کے وہ تیرا بہنا جاری فرمادے۔

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بھینٹ چڑھانے سے ایک دن قبل وہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیا جب کے اہل مصر، مصر سے نکلنے کا فیصلہ کرچکے تھے چونکہ مصر میں اُن کی منفعت تو دریائے نیل سے وابستہ تھی۔۔(الغرض) جب وہ رقعہ ڈالا گیا تو لوگوں نے یوم الصلیب کی صبح دیکھا کہ ایک ہی رات میں اللہ تعالٰی نے دریائے نیل میں سولہ ہاتھ تک کی اونچائی میں پانی بہادیا۔۔۔ پس اُس دن سے لے کر آج تک اللہ تعالٰی نے اہل مصر کے اس برے طریقہ کو ختم فرمادیا (یہ منکر روایت ہے)۔۔۔ تخریج۔۔۔

اس روایت کو ابو الشیخ (العظمہ ج ٤ ص ١٤٢٤) اللالکائی (الکرامات ص ١١٩) اور ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر (ص ١٠٤) میں ابن لہیعہ عن قیس بن الحجاج عمن حدثہ کی سند سے روایت کیا۔جرح! اس کی سند ضعیف ہے اس میں دو علتیں ہیں۔پہلی علت!۔ ابن لہیعہ ہے اور یہ عبداللہ بن لہیعہ الحضرمی ہے یہ سُی الحفظ (برے حافظے والا) اور ضعیف ہے۔دوسری علت!۔ اس میں ایک راوی (مجہول) ہے جس کا نام نہیں بیان کیا گیا۔۔۔ حوالے دیکھئے تہذیب التہذیب (ج٥ ص ٣٢٧) تقریب التہذیب (ص٣١٩ تا ٣٥٦٣) میزان الاعتدال (ج ٣ ص ١٨٩) الکاشف (ج ٢ ص ١٠٩) ابن الجوزی کی الضعفاء (ج ٢ ص ١٣٠) السندھی کی کشف الاستار (ص٥٨)

اور ابن الکیال کی الکواکب النیرات (ص ٤٨١)۔ علامہ سیوطی نے “تخریج احادیث العقائد میں کہا کہ اس روایت کو ابو الشیخ ابن حبان نے کتاب العظمہ میں جس سند کے ساتھ بیان کیا اس سند میں ایک راوی مجہول ہے (ص١٤)۔ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں (ج ١ ص ٢٧) اور سیوطی نے حسن المحاضرہ (ج ٢ ص ٣٥٣) میں اسے ذکر کیا ہے (انتھی)۔۔۔ عرض مترجم!۔ اس قصہ کا ضعف آپ کے سامنے ہے کہ اس کے بیان کرنے والے کا سراغ ہی نہیں ملتا کہ کون تھا؟؟؟۔۔۔ کیسا تھا؟؟؟۔۔۔

ایک مجہول نامعلوم شخص ہے جس نے یہ قصہ بیان کیا لیکن افسوس کے آج کتنے ہی محراب ومنبر ہیں کے جن پر یہ اور اس قسم کی سینکڑوں، ہزاروں کہانیوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور کتنے ہی قصہ گوواعظین وخطباہیں جو جوش خطابت میں یا اپنے وعظ وتقریر کو خوش نما بنانے کے لئے اسے بیان کردیتے ہیں اور خبر قبولیت خبرواشاعت خبر سے متعلق قرآن وسنت کے بیان کردہ محکم اصول وضوابط کی کچھ پروا نہیں کرتے اور کتنے ہی ایسے علماء سوء ہیں جو عقیدہ توحید پر حملہ آور شرک وبدعات اور توہم پرستی کو سہارا دینے والی ایسی کہانیاں بیان کرتے ہوئے نہیں تھکتے

بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے طلسماتی ومن گھڑت کراماتی مذہب کو تقویت پہنچانے کے لئے اس قسم کی بےسند و بے ثبوت کہانیوں سے استدلال وحجت پکڑنے سے بھی ذرا نہیں ہچکچاتےکاش ایسا کرتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو بوقف فرمائیں غور وفکر اور تدبر سے کام لیتے ہوئے ان کی قباحت وشناعت کا بھی اندازہ لگائیں تو شاید کے اپنے اس طرز تغافل سے باز آجائیں اب ذرا اس کہانی کی قباحب ملاحظہ کیجئے۔کہانی بتلاتی ہے کہ ہر سال دریائے نیل اپنی روانی وبہاؤ کو روک دیتا پھر جب اہل مصر ایک کنواری لڑکی کو سجا دھجا کر اُسے دلہن بنا کر اُس کی بھینٹ چڑھاتے تو پھر دریائے نیل اُن کی اس قربانی سے خوش وخرم ہوکر اپنی ناراضگی ختم کردیتا

ورنہ وہ اپنی روانی روک کر ایک ظالمانہ، وحشیانہ اور انسانیت سوز قربانی کا مطالبہ اور اصرار کرتا۔یہ کہانی بتلاتی ہے کہ وہ کوئی ایک آدھ سال کا اتفاق حادثہ یا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ تو ہرسال کا معمول تھا اُس کی پختہ عادت، قانون اور دستور تھا دریائے نیل ہر سال ایک دلہن ایک کنواری دوشیزہ کا چڑھاوا اور بھینٹ لئے بغیر چلتا ہی نہیں تھا اُس کا یہ قانون ودستور ایسا اٹل تھا کے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے انکار پر اُس نے تیزی کے ساتھ بہنا تو درکنار سست روی کے ساتھ بھی بہنا گوارہ نہیں کیا۔۔۔

حتٰی کے خود سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا مشاہدہ کیا گویا کے دریائے نیل میں یہ قوت وصلاحیت اختیاری طور پر موجود تھی کے چاہتا تو بہتا رہتا اور چاہتا تو اپنی روانی پر فل اسٹاپ لگا دیتا اور اپنا بہاؤ روک دیتا اور پھر دریائے نیل عقل وشعور سے بھی مالا مال تھا کے اپنا مطالبہ پورا ہوتے ہی بہنا شروع کردیتا کیا ہی زبردست کرشمہ تھا؟؟؟بہت خوب!

اب سرسوتی اور گنگا، جمنانامی، دریاؤں میں کرشموں کے قائل اور اُن کی داستانیں سنانے والوں کو کس منہ سے احمق کہا جائے؟؟؟۔۔۔ افسوس ہے ایسی کہانیوں کو سچا سمجھ کر بیان کرنے والوں کی عقل وفہم پر اُن کی چھوٹی سمجھ اور محدود سوچ پر۔المختصر!۔ اس قسم کی کہانیوں کو سچا سمجھ کر بیان کرنے والے مولویان گرامی کو چاہئے کہ وہ دریاؤں سمندروں کی کرامتوں اور کرشموں کے بھی قائل ہوجائیں تاکہ ان بےسروپا کہانیوں پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوں نہ صرف یہ کے ان کہانیوں کا بھی حق ادا ہوجائے بلکہ ان کے طلسمی کرامات کے من گھڑت قصوں اور دیومالائی کہانیوں کو بھی پوری تقویت ملے۔ واللہ تعالٰی اعلم اقتباس مشہور واقعات کی حقیقت​

پردہ اور شرعی احکامات کی پابندی اور نماز کے دوران نجس قرار دئیے گئے کتوں سے لگائو۔۔ معروف صحافی انصار عباسی کا خاتون اول بشریٰ بی بی سے متعلق ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیںگے

پردہ اور شرعی احکامات کی پابندی اور نماز کے دوران نجس قرار دئیے گئے کتوں سے لگائو۔۔ معروف صحافی انصار عباسی کا خاتون اول بشریٰ بی بی سے متعلق ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیںگے
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:26
اسلام آباد ملک کے معروف صحافی انصار عباسی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کا ایک ٹی وی انٹرویو سنا۔ وزیراعظم عمران خان کی بیگم جو باپردہ دار خاتون ہیں، کو پردہ کا دفاع کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پردہ اُن کی پہچان ہے اور اس کا اسلام میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حکم ہے،کسی کو اس پر اعتراض کرنے یا اس کا مذاق اُڑانے کا کوئی حق نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کسی نے اگر اُن پر تنقید کرنا

ہے تو اُن کی بات پر کی جائے لیکن ایک ایسے عمل پر جو اللہ کا حکم ہے، پر کوئی مسلمان کیسے اعتراض کر سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پردگی اور مختصر لباس پہننے والی خواتین کو آج کل ماڈرن سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس باپردہ خواتین کو ’’پینڈو‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ اسی انٹرویو کے دوران بشریٰ بی بی نے ایک ایسی بات کی جو قابلِ اعتراض تھی، اس لیے سوچا اس بارے میں بھی بات کر لی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ

ایک دفعہ بنی گالہ والے گھر میں وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ موٹو (عمران خان کا پالتو کتا) اندر آ گیا جس پر اُنہیں ڈر محسوس ہوا کہ موٹو کہیں اُن کی جائے نماز پر نہ آ جائے، اس پر انہوں نے غصے سے ہاتھ کا اشارہ کر کے اُسے پرے دھکیل دیا۔وہ چپ کر کے صوفہ کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور جب انہوں نے جا کے اُسے دیکھا تو اُنہیں کتے کی آنکھیں بھیگی ہوئی محسوس ہوئیں اور انہوں نے اُس کی آنکھوں سے پانی بہتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اُن کو بہت دکھ ہوا اور اُس دن کے بعد جہاں وہ جاتی ہیں، وہاں موٹو ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں بشریٰ بی بی کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا کہ کتے کو گھر کے اندر رکھنا گوروں کا تو رواج ہے جس کی ہمارے ہاں ایک ماڈرن طبقہ نقل

بھی کرتا ہے لیکن ایک اسلامی سوچ رکھنے والی باپردہ خاتون کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام میں کتے کو شوقیہ طور پر گھر کے اندر رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک ناپاک جانور ہے جسے محض شکار یا (مویشیوں کی) رکھوالی کے لیے رکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جس گھر میں تصویر اور کتا ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ایک اور حدیث کے مفہوم کے مطابق اگر کسی شخص نے کتا پالا، جو کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ ہو تو روزانہ اس شخص کی نیکیوں سے ایک قیراط کمی کی جاتی ہے۔ (بخاری2322)

سلمان نے لگایا ۔۔ پاکستانی اداکارہ پرچوری کا الزام

سلمان نے لگایا ۔۔ پاکستانی اداکارہ پرچوری کا الزام
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:34
ممبئی:بولی وڈ کے دبنگ خان فلم انڈسٹری میں اپنی دریا دلی کی وجہ سے بہت زیادہ مشہور ہیں ،اپنے دوستوں اور قریبی رشتے داروں کو وہ انتہائی مہنگی چیزیں تحفتاً دے دیتے ہیں۔لیکن انہوں نے پاکستانی اداکارہ ماورا حسین کی فلم صنم تری قسم پر چوری کا الزام لگادیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی اداکارہ ماورا حسین اپنی فلم صنم تیری قسم

کے ذریعے بولی وڈ میں قدم رکھ رہی ہیں ،آج کل وہ اپنی فلم کے حوالے سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں ۔میڈیا کے نمائندوں کو حیرت اس وقت ہوئی جب سلمان خان نے

صنم تیری قسم کے ہدایتکار پر گانا چوری کا الزام لگایا،ان کا کہناتھا کہ اس گانے کو میں فلم تیرے نام میں شامل کرنا چاہتا تھا لیکن بعض وجوہات کی بناءپر شامل نہ کرسکا

پردہ اور شرعی احکامات کی پابندی اور نماز کے دوران نجس قرار دئیے گئے کتوں سے لگائو۔۔ معروف صحافی انصار عباسی کا خاتون اول بشریٰ بی بی سے متعلق ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیںگے

پردہ اور شرعی احکامات کی پابندی اور نماز کے دوران نجس قرار دئیے گئے کتوں سے لگائو۔۔ معروف صحافی انصار عباسی کا خاتون اول بشریٰ بی بی سے متعلق ایسا انکشاف کہ جان کر آپ پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیںگے
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:26
اسلام آباد ملک کے معروف صحافی انصار عباسی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کا ایک ٹی وی انٹرویو سنا۔ وزیراعظم عمران خان کی بیگم جو باپردہ دار خاتون ہیں، کو پردہ کا دفاع کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پردہ اُن کی پہچان ہے اور اس کا اسلام میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حکم ہے،کسی کو اس پر اعتراض کرنے یا اس کا مذاق اُڑانے کا کوئی حق نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کسی نے اگر اُن پر تنقید کرنا

ہے تو اُن کی بات پر کی جائے لیکن ایک ایسے عمل پر جو اللہ کا حکم ہے، پر کوئی مسلمان کیسے اعتراض کر سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پردگی اور مختصر لباس پہننے والی خواتین کو آج کل ماڈرن سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس باپردہ خواتین کو ’’پینڈو‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ اسی انٹرویو کے دوران بشریٰ بی بی نے ایک ایسی بات کی جو قابلِ اعتراض تھی، اس لیے سوچا اس بارے میں بھی بات کر لی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ

ایک دفعہ بنی گالہ والے گھر میں وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ موٹو (عمران خان کا پالتو کتا) اندر آ گیا جس پر اُنہیں ڈر محسوس ہوا کہ موٹو کہیں اُن کی جائے نماز پر نہ آ جائے، اس پر انہوں نے غصے سے ہاتھ کا اشارہ کر کے اُسے پرے دھکیل دیا۔وہ چپ کر کے صوفہ کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور جب انہوں نے جا کے اُسے دیکھا تو اُنہیں کتے کی آنکھیں بھیگی ہوئی محسوس ہوئیں اور انہوں نے اُس کی آنکھوں سے پانی بہتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اُن کو بہت دکھ ہوا اور اُس دن کے بعد جہاں وہ جاتی ہیں، وہاں موٹو ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں بشریٰ بی بی کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا کہ کتے کو گھر کے اندر رکھنا گوروں کا تو رواج ہے جس کی ہمارے ہاں ایک ماڈرن طبقہ نقل

بھی کرتا ہے لیکن ایک اسلامی سوچ رکھنے والی باپردہ خاتون کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام میں کتے کو شوقیہ طور پر گھر کے اندر رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک ناپاک جانور ہے جسے محض شکار یا (مویشیوں کی) رکھوالی کے لیے رکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جس گھر میں تصویر اور کتا ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ایک اور حدیث کے مفہوم کے مطابق اگر کسی شخص نے کتا پالا، جو کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ ہو تو روزانہ اس شخص کی نیکیوں سے ایک قیراط کمی کی جاتی ہے۔ (بخاری2322)

کیا آپ جانتے ہیں کہ تالے کے نیچے یہ چھوٹا سا سوراخ کیوں ہوتا ہے ؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ تالے کے نیچے یہ چھوٹا سا سوراخ کیوں ہوتا ہے ؟
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:10
تالے کے نچلی طرف چابی کے قریب بنے باریک سوراخ کا مقصد تالے میں تیل ڈالنے کیلئے جگہ فراہم کرنا ہے، تا کہ وقت گزرنے کے ساتھ تالہ زنگ وغیرہ کی وجہ سے بے کار نہ ہو جائے۔ تالے کو سطح آب کے نیچے استعمال کرنے کی صورت میں یہ سوراخ فلٹر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ بال بوائنٹ پین کے ڈھکنے کے اوپری سرے

میں بھی ایک باریک سوراخ ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ اسے غلطی سے نگل لے تو اس سوراخ کے ذریعے اس کی سانس بحال

رہے۔ پیمانے کے آخری سرے پر بنا سوراخ اسے لٹکانے کیلئے ہے، تاکہ آپ جب اسے استعمال نہ کرتفصیلات کے مطابق تالے کے نچلی طرف چابی کے قریب بنے باریک سوراخ کا مقصد تالے میں تیل ڈالنے کیلئے جگہ فراہم کرنا ہے، تا کہ وقت گزرنے کے ساتھ تالہ زنگ وغیرہ کی وجہ سے بے کار نہ ہو جائے۔ تالے کو سطح آب کے نیچے استعمال کرنے کی صورت میں یہ سوراخ فلٹر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

بال بوائنٹ پین کے ڈھکنے کے اوپری سرے میں بھی ایک باریک سوراخ ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ اسے غلطی سے نگل لے تو اس سوراخ کے ذریعے اس کی سانس بحال رہے۔ پیمانے کے آخری سرے پر بنا سوراخ اسے لٹکانے کیلئے ہے، تاکہ آپ جب اسے استعمال نہ کر رہے ہوں تو یہ محفوظ رہے۔ رہے ہوں تو یہ محفوظ رہے۔

معاشرے میں آج کل کمیٹی ڈالنا بہت عام سی بات ہے کیا شریعت میں جائز ہے کہ نہیں اس بارے میں کیا حکم ہے؟

معاشرے میں آج کل کمیٹی ڈالنا بہت عام سی بات ہے کیا شریعت میں جائز ہے کہ نہیں اس بارے میں کیا حکم ہے؟
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:08
پاکستان ہی نہیں برصغیرمیں بھی کمیٹی ایک وبا کی طرح ہر خاص و عام میں موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ جب اس کے فوائد بھی بیش بہا ہیں . آپ کی ضروریات ، آپ کے رکے ہوئے چھوٹے موٹے کام ، گھروں کی آرائش و زیبائش اور مرمت جیسی چیزیں اسی کمیٹی سے ہی تو پوری ہوتی ہیں .مگر کیا آپ نے سوچا کہ کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ .

گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک سائل نے مفتی صاحب سے سوال کیا کہکیا کمیٹی ڈالنا جائز ہے اور شریعت

اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟ تو مفتی صاحبان نے اس حوالے سے مفصل جوابات دیے جو ہم اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں . کمیٹی کے ذریعے مالی مدد کا حصول ممکن بنانا کوئی نیا عمل نہیں بلکہ برس ہا برس پرانا ہے لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کمیٹی کئی طرح کی ہیں ان میں سے صرف ایک جائز ہے بقیہ کمیٹیاں ناجائز اور جوا کھیلنے کے مترادف ہیں.مفتی صاحبان کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹیاں اس طرح ڈالی جائیں کہ اگر ممبران کو اپنی باری آنے پر رقم ملے اور شروع سے آخر تک ممبران کمیٹیاں بھرتے رہیں

تو ایسی صورت میں یہ عمل جائز ہوگا.مفتی صاحب نے سائل کے سوال پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر لوگ اپنی کسی بڑی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کمیٹیاں ڈالتے ہیں جس میں ممبران کی مخصوص تعداد مقررہ رقم ہر ماہ جمع کرواتی ہے یوں ایک خطیر رقم اکٹھی ہو جاتی ہے جو قرعہ اندازی کر کے کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے تاہم قرعہ اندازی میں نام آنے والا ممبر بھی کمیٹی ختم ہونے تک اپنی ماہانہ کمیٹی بھرتا رہتا ہے.

لیکنکئی کاروباری حضرات ایسی کمیٹیاں بھی ڈالتے ہیں جنہیں ’’لکی کمیٹی‘‘ کہا جاتا ہے،اس کمیٹی میں جس ممبر کی کمیٹی کھل جاتی ہے وہ پوری رقم تو لے جاتا ہے لیکن پھر کمیٹی کی ماہانہ رقم بھرنے کا پابند نہیں ہوتا اسے لکی کمیٹی کہا جاتا ہے اور یہ جوا کھیلنے کی مانند ہے.اس لیے لکی کمیٹی یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور کمیٹی ڈالنا اور اس پہ رقم حاصل کرنا جائز نہیں.اسی طرح ایک ’’بولی کمیٹی‘‘ ہوتی ہے جس میں قرعہ اندازی میں جس ممبر کا نام آتا ہے اسے کوئی دوسرا ممبر زیادہ رقم دے کر وہ کمیٹی لے لیتا ہے اور اس کمیٹی میں بھی جس جس کا نام قرعہ اندازی میں آتا جاتا ہے وہ کمیٹی سے باہر ہو جاتا ہے چنانچہ یہ کمیٹی بھی سراسر جوا اور سود ہے جو کسی طور جائز نہیں.

وہ وقت جب ایک جادوگرنی اماں عائشہ ؓکے پاس پہنچی اور آکر زارو قطار رونے لگی

وہ وقت جب ایک جادوگرنی اماں عائشہ ؓکے پاس پہنچی اور آکر زارو قطار رونے لگی
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:06
جادو کے متعلق اِمام حاکم نے المستدرک میں اور ابن کثیر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی تفسیر میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے ایک واقعہ روایت کیا ہے۔ آپ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:’’رسول اللہ اکی وفات کے تھوڑے عرصے بعد دومۃ الجندل کے باشندوں میں سے ایک عورت میرے پاس آئی۔ وہ رسول اللہ اسے مل کر جادو کے متعلق کسی

چیز کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ ا کو نہیں پایاتو میں نے اسے اس قدر روتے ہوئے دیکھا

کہ اس کے رونے کی شدت سے مجھے ترس آ گیا۔ وہ عورت کہہ رہی تھی کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاکت میں جا پڑی ہوں‘‘۔ میں ( یعنی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا )نے اس سے واقعے کی تفصیل پوچھی تو اس نے مجھے بتایا:’’میرا شوہر مجھ سے دور چلا گیا تھا۔ پھر ایک بوڑھی عورت میرے پاس آئی تو میں نے اس سے اپنے حال کا شکوہ کیا۔

اس نے کہا کہ اگر تو وہ سب کرے جس کا میں تجھے حکم دوں تو تیرا خاوند تیرے پاس لوٹ آئے گا۔ میں نے کہا کہ ہاں میں کروں گی۔جب رات ہوئی تو وہ میرے پاس دو سیاہ کتوں کو لے کر آئی۔ ان کتوں میں سے ایک پر وہ خود سوار ہو گئی اور دوسرے پر میں سوار ہوئی۔ ان (کتوں) کی رفتار زیادہ تیز نہ تھی۔ (ہم چلتے رہے)، یہاں تک کہ شہر بابل پہنچ کر رکے۔ وہاں دو آدمی اپنے پیروں سے ہوا میں لٹکے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ تجھے کیا ضرورت ہے؟ اور کیا ارادہ لے کر آئی ہے؟ میں نے (اپنی حاجت بیان کی اور ) کہا:

’’ جادو سیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا :’’بے شک ہم آزمائش ہیں، لہٰذا تو کفر نہ کر اور واپس لوٹ جا۔‘‘ میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں نہیں لوٹوں گی۔ انہوں نے کہا :’’تو اس تندور میں جا کر پیشاب کر۔ ‘‘میں وہاں تک گئی تو کانپ اٹھی۔ میں خوفزدہو گئی اور پیشاب نہ کر سکی اور یونہی ان دونوں کے پاس لوٹ آئی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا:’’ کیا تو نے پیشاب کیا؟ ‘‘ میں نے جواب دیا: ’’ہاں!‘‘۔ انہوں نے پوچھا :’’ کیا تو نے کوئی چیز دیکھی؟‘‘ میں نے جواب دیا:’’ میں نے کچھ نہیں دیکھا۔‘‘

انہوں نے کہا:’’ تو نے پیشاب نہیں کیا، اپنے وطن لوٹ جا اور کفر نہ کر۔‘‘ میں نے انکار کیا۔ چنانچہ انہوں نے پھر کہا :’’ اس تندور تک جا اور اس میں پیشاب کر۔‘‘ میں وہاں تک گئی، پھر مجھ پر کپکپاہٹ طاری ہو گئی اور میں ڈر گئی۔ پھر میں ان کے پاس لوٹ گئی۔ انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا:’’ تو نے کیا دیکھا؟‘‘ یہاں تک کہ اس نے بتایا کہ میں تیسری مرتبہ گئی اور تندور میں پیشاب کر دیا۔ پس میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے لوہے کے گلو بند والا ایک گھوڑسوار نکلا اور آسمان کی طرف چلا گیا۔

تب میں ان کے پاس آئی اور انہیں اس بات کی خبر دی۔ انہوں نے کہا:’’ تو نے سچ کہا، یہ تیرا ایمان تھا جو تیرے اندر سے نکل چکا ہے، اب تو لوٹ جا۔‘‘ پس میں (یعنی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا) نے اس عورت سے کہا:’’اللہد کی قسم! میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی اور کہا، کیا انہوں نے اس کے علاوہ بھی تجھے کچھ بتایا ہے؟ ‘‘اس نے جواب دیا:’’ہاں ضرور بتایا ہے کہ آپ جو چاہیں گی وہ ہو جائے گا۔ یہ گیہوں(گندم) کے دانے لیجئے اور ان کو زمین میں بو دیجئے۔ چنانچہ میں نے وہ دانے لے لیے، اس نے کہا:

’’ نکل آ!‘‘، تو پودے نکل آئے۔ پھر اس نے کہا:’’ فصل کٹ جا!‘‘، تو فصل کٹ گئی۔ پھر اس نے کہا:’’پس کر آٹا بن جا!‘‘، تو آٹا بن گیا۔ پھر اس نے کہا:’’ روٹی پک جا!‘‘ تو روٹی پک کر تیار ہو گئی۔ جب اس( عورت) نے دیکھا کہ میں (یعنی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا) پھر بھی کچھ نہیں بولی تو وہ میرے سامنے شرمندگی سے گر پڑی اور کہنے لگی: ’’ اے ام المومنین(رضی اللّٰہ عنہا)! میں نے اس کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کیا۔‘‘ چنانچہ میں نے رسول اللہ ا کے صحابہ رضی اﷲ عنہم سے اس بارے میں دریافت کیا لیکن انہیں بھی اس بارے میں معلوم نہیں تھا کہ(اس معاملے پر) کیا کہیں۔

(جس چیز کا مکمل علم نہ ہو اس کے متعلق صحابہ ث اپنی رائے دینے میں احتیاط کیا کرتے تھے )۔ انہوں نے صرف اتنا کہا:’’ اگر آپ کے والدین یا ان میں سے کوئی بھی حیات ہوتے تو وہ آپ کے لیے کافی ہوتے۔‘‘ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد امام حاکم رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث صحیح ہے۔‘‘ (ابنِ جریر، التفسیر۔ بیہقی، السنن۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین۔

ابن قدامہ المقدسی عن المغنی: ۸/ ۱۵۲) اس واقعے کے پیش نظر حقیقت میں بات یہ ہے کہ ہاروت ماروت کو اللہ تعالیٰ نے خیرو شر اور کفرو ایمان کا علم دے دیا تھا۔ اس لیے وہ ہر ایک کفر کی طرف جھکنے والے کو نصیحت کرتے اور ہر طرح روکتے۔ جب وہ نہ مانتا تو ا س سے وہ مخصوص کلمات کہہ دیتے جس سے اس کا نورِ ایمان جاتا رہتا۔ وہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا اور اسے جادو آ جاتااور یہی اس عورت کے ساتھ ہوا۔