بل گیٹس کی 5 پیشگوئیاں جو پوری ہوگئیں

بل گیٹس کی 5 پیشگوئیاں جو پوری ہوگئیں
جمعہ‬‮ 27 جولائی‬‮ 2018 | 14:24
بل گیٹس برسوں سے دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز اپنے نام کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ ان کی کمپنی مائیکرو سافٹ ہے۔تاہم 1999 میں انہوں نے مستقبل کے حوالے سے کچھ پیشگوئیاں کی تھی جو حیران کن حد تک درست ثابت ہوئیں۔انہوں نے انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے بلا سوچے سمجھے بات نہیں کی تھی بلکہ ٹیکنالوجی کے روزمرہ کی زندگی پر اثرات کو کاغذ پر لکھ کر دیا تھا۔ اور اس وقتاسمارٹ فون کا تو تصور بھی نہیں تھا جبکہ انٹرنیٹ بھی کچھ زیادہ اچھی طرح استعمال نہیں ہورہا تھا۔فیس بک کی آمد سے پانچ

آمد سے پانچ سال پہلے بل گیٹس نے فیس بک جیسی تخلیق کی پیشگوئی تھی۔یہاں ان کی ایسی ہی چند دلچسپ پیشگوئیوں کے بارے میں جانیں جو حقیقت کا روپ اختیار کرگئیں۔

موبائل ڈیوائسز بل گیٹس نے پیشگوئی تھی کہ مستقبل لوگ ایسی چھوٹی ڈیوائسز اپنے ساتھ لے کر گھوما کریں گے جو انہیں مسلسل ایک دوسرے سے رابطے میں مدد دے گی، ان کی مدد سے خبروں کو دیکھا جاسکے گا، پرواز کا وقت اور اسی طرح بہت کچھ کیا جاسکے گا۔ اور یہ اسمارٹ فون کے موجودہ فیچرز سے درست ثابت ہوچکا ہے۔

سوشل میڈیا انہوں نے کہا تھا کہ ایسی ویب سائٹس سامنے آئیں گی جو لوگوں کو اپنے دوستوں اور گھر والوں سے بات چیت میں مدد دیں گی، آسان الفاظ میں بل گیٹس نے فیس بک یا ٹوئٹر سے قبل سوشل میڈیا کی آمد کی پیشگوئی کی تھی۔

کمیونٹی ویب سائٹس بل گیٹس کی ایک پیشگوئی یہ تھی کہ کمیونٹی ویب سائٹس سامنے آئیں گی جن میں مکتلف موضوعات کی آن لائن کمیونٹیز تشکیل پاسکیں گی، اب ریڈیٹ اس کی ایک مثال ہے۔

آن لائن ملازمت کا حصول ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ آن لائن جاکر ملازمتوں کو تلاش کرسکیں گے اور اب پاکستان میں نہ سہی مگر متعدد ممالک میں انٹرنیٹ ملازمت کی تلاش کرنے والوں اور کمپنیوں کے لیے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ لاتعداد ویب سائٹ میں ملازمت کی تلاش میں مدد دی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل اسسٹنٹ بل گیٹس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ پرسنل اسسٹنٹ یا ساتھی تیار کیے جائیں گے جو کہ آن لائن کنکٹ ہوکر تمام ڈیوائسز کو ایک ساتھ جڑ دیں گے، چاہے وہ دفتر میں ہوں یا گھر میں، جبکہ ڈیٹا کا تبادلہ بھی ہوسکے گا۔اور اب ایسا ہوچکا ہے، گوگل ناﺅ موبائل ڈیوائسز کے لیے ایسا اسمارٹ اسسٹنٹ ہے جو اسی سمت پیشقدمی کررہا ہے، جبکہ آمیزون ایکو اور گوگل ہوم وغیرہ بھی اسمارٹ ہوم کو یقینی بنا رہے ہیں۔

محبت یا فتنہ؟

محبت یا فتنہ؟
جمعہ‬‮ 27 جولائی‬‮ 2018 | 14:22
کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا. اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا. وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی. میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی، پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں. آج پھر وہ چلا آیا تھا. اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا

سے، کیا ہوتی ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں. جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں. یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم. اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے. اُسے ان اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا. وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا.

سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے. ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو ،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا. کیا مان جاؤں؟ میں نے بے نیازی سے پوچھا. تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا. اچھا میری ہر بات مانو گے. ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں. لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو. آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں. خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ. کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں.. اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم. اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟ ہاں ہر بات.. تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو، اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے.

اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا. ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے.. یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا. اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے. میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے. کافی دن گزر گئے، اُس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج. پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا. میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے. اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو. لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی.. پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں، محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو. محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی. وہ شرمندہ سا ہوا. تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی. شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی.

کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی. پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے. تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟ وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا. خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں، اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں. اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی. میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی. وہ سچ مان رہا تھا. پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی. مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا. وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا. اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا. ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا، اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے.

محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے. ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے، ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم. لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے. محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے. اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ. میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا. میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی. میں نے دل میں سوچا. یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن.. اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں. یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو. دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو، نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو، ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا. میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا

سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں. میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں. باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے. میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے. میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں، اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے. میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں. اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی، ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں.

میں بہت خوش ہوں. ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی.. پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں. اتنا کہہ کر میں چلی آئی. اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا. میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی. میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں

نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

جب تک

جب تک
جمعہ‬‮ 27 جولائی‬‮ 2018 | 14:18
سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیش آنے والا ایک سچا واقعہ۔ ایک سعودی تاجر کا بیان ہے کہ میں اور میرا دوست سعودی شہربریدہ میں تجارت کرتے تھے‘ ایک دن میں جمعہ کی نماز کے لیے بریدہ کی مسجد الکبیر میں گیا‘ نماز جمعہ کے بعد جنازہ کا اعلان ہوا‘ نماز جنازہ ادا کی گئی‘ لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ جنازہ کس کا ہے‘ پتہ چلا کہ یہ جنازہ میرے ہی دوست سعود کا ہے جو گزشتہ رات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا تھا‘ مجھے سن کر انتہائی صدمہ پہنچا

1995ء یعنی کوئی 22 برس پہلے کی بات ہے‘ اس وقت ابھی موبائل فون عام نہیں ہوا تھا‘چند مہینے گزرنے کے بعد وہاں کے ایک دکاندار نے مجھ سے بات کی کہ مرحوم سعود کے ذمے میرے 3لاکھ ریال ہیں توآپ میرے ساتھ چلیں ہم جا کر اس کے بیٹوں سے بات کریں اور یہ بات پہلے سے میرے علم میں تھی کہ سعود کے ذمہ یہ قرض ہے چنانچہ ہم مرحوم کے بیٹوں سے جا کر ملے‘ بات چیت ہوئی تو انہوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے رقم لوٹانے سے صاف انکار کردیا اورکہا کہ ہمارے باپ نے تو صرف 6لاکھ ریال چھوڑا ہے‘ ہم اگر 3لاکھ آپ کو دیتے ہیں تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا‘ اس دور میں بہت سا لین دین باہمی اعتمادپر بھی ہوتا تھا چنانچہ ہم واپس آگئے‘ یوں وقت گزرتا گیا لیکن ہر وقتمجھے سعود کی یاد ستاتی رہی‘ یہی سوچتا رہا کہ ناجانے قرض نہ چکانے کی وجہ سے قبر میں اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہوگی‘ایک دن میں نے اپنے پیارے دوست کا قرض اتارنے کا عزم کرلیا‘ اس ارادے کے بعد پھر مجھے دو دن تک نیند نہیں آئی‘ جب بھی میں سونے کے لئے آنکھیں بند کرتا توسعود کا مسکراتا چہرا میرے سامنے آ جاتا گویا وہ میری مدد کا منتظر ہو‘ تیسرے دن میں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوے اپنی دکان سامان سمیت فروخت کر دی اور دیگر جمع پونجی اکٹھی کی تو میرے پاس4لاکھ پچاس ہزار ریال جمع ہو گئےتوفوراً 3لاکھ ریال سے دوست کا قرض اداکیا جس سے مجھے دلی سکون ملا‘ اس ادائیگی کے 2 ہفتے بعد وہی شخص جس کو میں نے 3لاکھ ادا کئے تھے‘ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے اپناسب کچھ بیچ کر یہ پیمنٹ کی ہے لہٰذا میں 1لاکھ ریال سے دستبردار ہوتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے 1لاکھ ریال مجھے واپس کر دیا اور مارکیٹ میں دوسرے تاجروں کے ساتھ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کیا کہ مخلص دوست نے کمال کی مثال قائم کر دی ہے‘ چند دن گزرے کہ ایک تاجر کا فون آیا‘ اس نے پیشکش کی کہ میرے پاس دو دکانوں پر مشتمل ایک سٹور ہے جو میں آپ کو بلا معاوضہ دینا چاہتا ہوں‘میں نے اس کی پیشکش کو قبول کیا‘ مزدور لگا کر دکانوں کی صفائی کی‘اسی دوران سامان سے لدا ہوا ایک بڑا ٹرک دکانوں کے سامنے آ کر رکا جس میں سے ایک نوجوان نیچے اترا‘ سلام کے بعد کہنے لگا کہ میں فلاں تاجر کا بیٹا ہوں‘یہ سامان میرے ابا جان نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سامان بیچ کر اسکی نصف قیمت آپ ہمیں لوٹا دینا اور باقی آدھا مال ہماری طرف سے گفٹ ہے اور آئندہ جتنے مال کی ضرورت ہو ہم سے ادھار لے کر فروخت کر کے پیمنٹ کر دیا کریں‘ لوگ جنہیں میں جانتا نہیں تھا چاروں طرف سے میرے ساتھ تعاون کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور تھوڑے ہی عرصے میں میرا بزنس پہلے سے دگنا ہوگیا المختصر میں کچھ عرصہ بعد نے 3ملین ریال اپنے مال کی زکوٰۃادا کی‘ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔سید کائنات رحمۃ اللعالمین کا فرمان گرامی کس قدر سچا ہے کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد کرتا رہتا ہے۔

سچّی محبّت

سچّی محبّت
جمعہ‬‮ 27 جولائی‬‮ 2018 | 14:16
ایک سعودی شخص نے کسی فلپینی عورت سے چھپ کے شادی کی. چونکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھا۔اور پہلی بیوی کیساتھ اولاد بھی تھیں۔ جب اس شخص کو بیماری لاحق ہوئی تو اس نے اپنے پہلے بیوی کیساتھ جو اولاد تھیں ، ان کو وصیت کیلئے جمع کیا اور ان میں سے اپنے بڑے بیٹے کو بتایا۔۔” بیٹا میں نے چھپ کے فلپینی کسی عورت سے بھی شادی کی ہوئی ہے۔میرے بعد ان کا خیال رکھنا۔اور وراثت میں انکو بھی حق دینا” ۔اور ساتھ ہی انکا مکمل پتہ بھی دیا۔جہاں وہ رہتی تھی۔۔۔کچھ دن بعد وہ شخص وفات پاگیا

انکا بیٹے قاضی کے پاس گیا۔اور پوری تفصیلات بتا دی۔قاضی نے فیصلہ رکوادیا اور حکم دی فلپینی عورت کو بھی یہاں پیش کریں۔تو بڑے بیٹے اپنے والد مرحوم کے دیئے ہوئے ایڈریس کے مطابق فلپین پہنچا۔ بڑی مشکل سے اس گلی میں پہنچا جہاں وہ رہتی تھی۔دوسری طرف وہ عورت جو اس کے والد کی زوجہ تھی۔انہیں دیکھ کر ہی بتا دیا۔” میں وہی عورت ہوں۔جو تو تلاش کر رہا ہے۔اور مجھ تک یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ میرا شوہر کا انتقال ہوگیا ہے” ۔تو بیٹے نے بھی ساری تفصیلات بتادی اور انکو سعودیہ کی طرف سفر کے لئے قائل کیا ۔اور اپنی دوسری ماں کو لیکر سعودی پہنچے اور سیدھا قاضی کے پاس گئے تو اس عورت کی حصے میں 8 لاکھ ریال آیا۔(جو پاکستانی روپیوں میں تقریبا 2کروڑ 16لاکھ کے لگ بھگ بنتے ہیں ) اور ساتھ ہی قاضی نے حکم دیا انکو عمرہ کی ادائیگی کے بعد فلپین روانہ کیا جائے۔ بڑے بیٹے نے ایسا ہی کیا۔اس کے واقعہ کے ٹھیک چار سال بعد بڑے بیٹے فلپین اپنے دوسری ماں سے ملنے اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے گیا تو وہاں پہنچ کر اس کو بہت تعجب ہوا۔اور اس سے کہا ماں جی آپ کو اتنی بڑی رقم وراثت ملنے کے باوجود وہی پرانے خستہ حال مکان میں رہ رہی ہے۔؟ماں جی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک جگہ پر لے گئی۔جہاں ایک بڑا اسلامی ادارہ قائم تھا۔وہاں حفظ القرآن کا شعبہ بھی تھا اور یتیم خانہ بھی۔۔۔ ماں جی نے کہا ” بیٹا سر اٹھا کر ادارے کے بورڈ کی طرف دیکھنا۔۔۔ ” بورڈ دیکھ کر بیٹے کی آنکھوں میں آنسو امڈ آیا۔کیوں کہ بورڈ پر انکے والد کا نام لکھا ہوا تھا۔اس نیک صفت عورت نے کہا “میں نے یہ ادارہ اپنے وراثت کے پیسے سے بنایا ہے اور اپنے شوہر کے نام پر وقف کیا ہے۔تاکہ ان کو اس ادارے کی وجہ سے ثواب ملتا رہے”۔یہ تھی سچی محبت ورنہ اس پیسے سے وہ ایک عالی شان بنگلہ بھی بنا سکتی تھی۔پر انہوں نے سوچا محبت کے مقابلے میں عالی شان بنگلہ کی کیا حیثیت بنگلہ تو عارضی چیز ہے البتہ یہ اسلامی ادارہ انکو اور انکے شوہر کو آخرت میں کام آئیگی۔جب بیٹا سعودیہ واپس آیا تو اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اس بارے آگاہ کیا۔تمام بھائی اس رات جاگتے رہے۔اور *باہم مل کر چندہ جمع کیا۔ اسی ایک رات میں 5 ملین ریال اپنے والد مرحوم سے منسوب اس ادارہ کیلئے انہوں نے چندہ جمع کیا۔جس کو انکی دوسری ماں نے انکے والد سے بے لوث محبت کی بنیاد پر قائم کی تھی۔۔۔سبحان اللہ..یہ واقعہ وہاں کےعربی اخبار میں بھی چھپ چکا ہے.. ” فی زمانہ رئیسوں کی اولادیں وراثتی رقم کے حصول کے لئے اپنے والدین کے مرنے کا انتظار کرتی ہیں اور جو سچی محبت کرتے ہیں اپنے مرنے والے کو توشئہ آخرت بھیجنے کی فکر میں رہتے ہیں ”

بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت

بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت
جمعہ‬‮ 27 جولائی‬‮ 2018 | 14:15
ایک عورت بنی اسرائیل میں رہتی تھی جو بہت بد کردار تھی، خدا نے اس کو حسن و جمال خوب سے نواز رکھا تھا اور وہ بدکار بھی انتہا درجہ کی تھی، پوری بستی کے ساتھ اس کے تعلقات تھے وہ اتنی مالدار ہو گئی کہ اس نے اپنے لیے بڑا محل بنا لیاتھا اور ایک تخت بنوایا اور وہ بن سنور کر ملکہ کی طرح تخت پر بیٹھتی تھی اور اس کے ساتھ غلط تعلق رکھنے والے پورے شہر کے امراء تھے اس کی زندگی ایسی ہی گزر رہی تھی۔ ایک مرتبہ کیا ہوا کہ وہ اپنے گھرکا دروازہ

اپنے گھرکا دروازہ کھول کر تخت پر بیٹھیبیٹھی تھی کہ قریب کسی اور بستی کا نوجوان تھا جونیک تھا، عبادت گزارتھا، وہ ادھر سے گزرا اور گزرتے ہوئے اچانک جو اس کی نظر اٹھی تو اس عورت پرجاپڑی اور اس عورت کی ایسی تصویر اس کے دل میں چھپی کہ وہ آگے تو چلاگیا مگر اس کا دھیان ادھر ہی بھٹک گیا۔ پھروہ مراقبہ میں، ذکر میں، تسبیحات میں، تلاوت میں جب بیٹھتا تو اس کا دل ہی نہیں لگتا تھا اس نے روزے بھی رکھے لیکن خیال نہ نکلا۔ اس نے اپنے آپ کو تکلیف بھی پہنچائی، کئی کئی دن اپنے آپ کو بھوکا پیاسا بھی رکھا۔

مگر اس کے دل سے خیال نہ نکلا، حتیٰ کہ ایک دن اس نے سوچا کہ جب اس خیال سے میری جان چھوٹتی ہی نہیں تو میں جاتاہوں، چنانچہ اس کے پاس جو تھوڑا بہت سامان تھا وہ اس نے بیچااور اس نے اتنے پیسے تیار کیے جتنے سے وہ بدکار عورت اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی تھی، وہ اس عورت کے پاس آیا اور اس کو پیسے دے کر اس کے پاس چارپائی پربیٹھ گیا، بات چیت کرنے لگا، اچانک بات چیت کے دوران اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ میں نے نیکوکاری کے اتنے سال گزارے ہیں، آج میرے اللہ مجھے اس غیر محرم کے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی دیکھ رہے ہوں گے۔

بس یہ خیال دل میں آیا تو اللہ کا درد دل پر غالب آ گیا اورنوجوان نے کانپنا شروع کر دیا، عورت اس سے پوچھتی ہے تم کانپ کیوں رہے ہو؟ تمہارا چہرہ کیوں پیلا ہو گیاہے؟اس نے کہا کہ بس میری طبیعت ٹھیک نہیں، اس نے کہا کہ پھر تم جس مقصد کے لیے آئے ہو وہ مقصد پوراکرو اور جاؤ، اس نے کہا: نہیں، وہ بڑی حیران ہوئی کہ آج تک میں نے اپنی زندگی میں کوئی ایسامرد نہیں دیکھا۔ جو میرے قریب اس طرح چارپائی پرآ کربیٹھے اور پھربرائی کیے بغیر چلاجائے، یہ نوجوان کیساہے؟ مگر نوجوان نے کہا: اچھا میں جاتا ہوں، اس نے کہا کہ تم کون ہو؟ کیا ہو؟اس نے بتایا کہ میں اس نام کا بندہ ہوں اور فلانی بستی کا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال آ رہا ہے کہ میں نے اتنی عمرمصلے پر بیٹھ کر گزاردی، آج میرا اللہ مجھے تیرے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی تو دیکھ رہاہے۔

بس اس کے بعد اس نوجوان کی آنکھوں میں سے آنسو آ گئے اور وہ چل پڑا۔ اب وہ چلا تو اس عورت کو جو تھوڑی دیر کی صحبت ہو گئی اس کی برکت اس کو مل گئی،چنانچہ عورت کے دل میں خیال آیا کہ یہ کنوارا نوجوان اتنا اللہ سے ڈرتا ہے! جب کہ اس نے گناہ بھی نہیں کیا اور میں تو سارا دن اور ساری رات گناہوں کا مرتکب ہونے والی ہوں، میں تو خدا سے ڈرتی ہی نہیں، اس کے دل میں شرمندگی پیدا ہوئی ندامت ہونے آنے لگی کہ کروں تو کیا کروں؟ دل میں خیال آیا کہ اچھا چلتی ہوں اور حضرت موسیؑ سے پوچھتی ہوں کہ کیا میرے لیے بھی توبہ کی کوئی صورت بنتی ہے،وہ اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی، اب اس کو بستی کا ایک ایک بندہ پہچانتا تھا وہ ایسی نامی گرامی چیز تھی، وہ چلی اور جا کر حضرت موسیٰؑ کو جو دیکھا تو وہ اس وقت بنی اسرائیل کے لوگوں کو نصیحت فرما رہے تھے۔

اس نے کسی آدمی کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ حضرت موسیٰؑ سے جا کر کہو کہ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں، اب جس کو پیغام دیا وہ بے وقوف تھا، کچھ پیغام پہنچانے والے بھی تو بے وقوف ہوتے ہیں،جس کو ڈھنگ ہی نہیں آتا پیغام پہنچانے کا، اس خدا کے بندے نے سیدھا جا کر سب کے سامنے کہہ دیا کہ حضرت آپ سے فلاں عورت ملنے آئی ہے، حضرت موسیٰؑ نے نام سنا تو آپ کو بہت جلال آیا کہ لوگ کیا سوچتے ہوں گے کہ ایسی عورت ان سے ملنے کے لیے آئی، ان کا کیا تعلق اس سے؟ حضرت موسیٰؑ نے غصہ میں کہہ دیا کہ اس سے کہو چلی جائے، میں اس سے نہیں ملنا چاہتا،اس بے وقوف نے آ کر کہا کہ میں نے بات کہی تو حضرت موسیٰؑ بڑے ناراض ہوئے، وہ تو بڑے خفا ہوئے تم سے۔ وہ ڈ ر گئی اس نے کہا کہ میری بدکاریاں ایسی ہیں کہ اللہ مجھ سے پہلے ناراض تھا اور اب اللہ کا نبی بھی مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا، میرے لیے تو اب دنیا میں ٹھکانہ کوئی نہیں، بڑے اداس اور بوجھل قدموں کے ساتھ وہ وہاں سے واپس آئی اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے،اب وہ حیران تھی کہ اللہ کے نبیؑ نے بھی میرے ساتھ بات کرنا گوارا نہ کیا، میں اتنی گری ہوئی چیز ہوں کہ وہ بات کرنا بھی نہیں چاہتے، چنانچہ وہ گھر آئی اور اس نے گھر کی کنڈی لگائی اس نے اپنے کسی بڑے سے سنا ہوا تھا کہ بندہ جب اپنے رب کو منانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے سامنے سجدہ کرے، چنانچہ اسے اور کوئی طریقہ آتا نہیں تھا،گھر کی کنڈی لگا کر ایک جگہ اس نے اللہ کے سامنے سجدہ کیا دل سے یہ کہہ رہی ہو گی۔

میں تیرے سامنے جھک رہی ہوں خدا۔۔میرا کوئی نہیں اللہ تیرے سوا۔اسے پوری دنیا میں اور کوئی نجات کا راستہ نظر نہیں آتا تھا، پھر اللہ کی شان دیکھئے! اس نے رات گزاری اگلے دن اس کے دل میں خیال آیا کہ میں عورت ذات ہوں، اکیلی مکان میں رہتی ہوں،ایک میری خادمہ ہے تو میں اگر نیت کر بھی لوں تو جتنے لوگوں نے میرے ساتھ بدکاریاں کی ہیں، وہ تو مجھے اس میں نہیں رہنے دیں گے، تو بہتر یہ ہے کہ میں اس جگہ کو چھوڑ کر چلی جاؤں تبھی اس نے فیصلہ کر لیا کہ میں یہاں سے چلی جاتی ہوں، اس نے اپنے آپ کو ایک سادہ سے کپڑے میں لپیٹا تاکہ کوئی کپڑوں کو اور حسن و جمال کو نہ دیکھے کہ یہ کون جا رہی ہے پھر اس نے سوچا عورت ذات ہوں۔

کہاں جاؤں؟دل میں خیال آیا کہ وہ جو نیک نوجوان تھا جس کے دل میں اللہ کا اتنا خوف تھا کہ وہ اللہ کے ڈر سے کانپ رہا تھا کیوں نہ میں اس نیک بندے کے پاس چلی جاؤں اور اس کی خادمہ بن کر رہ جاؤں، ممکن ہے کہ وہ مجھے نکاح میں ہی قبول کر لے، یہ اس بستی کی طرف چل پڑی، چنانچہ ڈھونڈتے ہوئے یہ اس بستی میں اس کے گھر پہنچی اور گھر والوں سے کہا کہ میں فلاں بندے سے ملنے کے لیے آئی ہوں،تو انہوں نے کہا کہ اس کا ذکر و عبادت کا معمول ہے اور وہ کمرے سے اتنے بجے نکلتا ہے تم انتظار کر لو، چنانچہ اس نے کہا: بہت اچھا، یہ انتظار میں بیٹھ گئی، جب انتظار کرنے بیٹھی ہوئی تھی تو اچانک اس نوجوان نے دروازہ کھولا اور اس کی نظر اس عورت پر پڑی۔

یہ سامنے بیٹھی ہوئی تھی، جب نوجوان نے عورت کا چہرہ دیکھا تو اس کو اپنا وہ وقت یاد آ گیا کہ وہ کون سا وقت تھا،میں اپنے مصلے کو چھوڑ کر بالآخر اس کی چارپائی پر جا بیٹھاتھا، تو اس نوجوان کے دل پر خوف طاری ہو گیا کہ کہیں یہ میرا ایمان خراب کرنے تو یہاں نہیں آ گئی، میں نے تو اتنی مشکل سے اس کا تصور ذہن سے نکالا تھا، تو نوجوان پر اتنا خوف طاری ہوا کہ وہ وہیں پر گرا اور اس کی جان ہی چلی گئی اب اس کی وفات پر گھر والے بھی رنجیدہ اور اس عورت کو بڑا ہی غم تھا،خیر تین دن کے بعد اس عورت نے اس کے گھر والوں کو بتایا کہ میں تو اس نیت سے آئی تھی تو انہوں نے کہا کہ اب وہ تو اس دنیا سے چلا گیا، اس کا ایک بھائی ہے، اگر تم مناسب سمجھو تو ہم اس سے پوچھ لیتے ہیں، اگر وہ تمہارے ساتھ نکاح کر لے تو تم اس کے ساتھ نکاح کر لو، اس نے کہا ٹھیک ہے، جب بھائی سے پتہ کیا تو اس نے کہا: ٹھیک ہے کہ اگر پہلے یہ ایسی عورت رہی ہے اور اب توبہ کی نیت کر چکی ہے تو میں اس کو اپنے نکاح میں قبول کر لوں گا، چنانچہ اس عورت کا اس کے بھائی کے ساتھ نکاح ہوا اور اس عورت کو اللہ تعالیٰ نے سات بیٹے عطا فرمائے اور وہ ساتوں بیٹے بنی اسرائیل کے اولیاء میں سے گزرے، ایسی بدکار عورت بھی اگر توبہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سات ولیوں کی ماں بنا دیتے ہیں، وہ مولا کتنا کریم ہے

نائی

نائی
جمعہ‬‮ 27 جولائی‬‮ 2018 | 14:11
یہ بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھا‘ یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتاتھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتاتھا‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا ”حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں‘ میں آپ کا وفادار بھی ہوں‘ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے“ بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا ”میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا“ نائی نے سینے پر

نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا ”آپ حکم کیجئے“ بادشاہ بولا ”بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے‘مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو“ نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا

اور واپس آ کر بولا ”جی جہاز وہاں کھڑا ہے“ بادشاہ نے پوچھا ”یہ جہاز کب آیا“ نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا اور بتایا ”دو دن پہلے آیا“ بادشاہ نے کہا ”یہ بتاﺅ یہ جہاز کہاں سے آیا“ نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا ”جہاز پر کیا لدا ہے“ نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا‘ اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا ”کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے“

وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ”جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا‘ اس میں جانور‘ خوراک اور کپڑا لدا ہے‘ اس کے کپتان کا نام یہ ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا‘ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا‘ یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے“ بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا ”کیا تمہیں حجام اور وزیر کا فرق معلوم ہوا“ حجام نے چپ چاپ استرااٹھایا اور عرض کیا ”جناب نائی نائی ہوتا ہے اور وزیر وزیر ہوتا ہے“۔

گھر میں جوتے نہ پیہننے کا حیرت انگیز فائدہ، جاپانیوں کی یہ رسم آپکی صحت کی ضامن ہے جانیے کیسے

گھر میں جوتے نہ پیہننے کا حیرت انگیز فائدہ، جاپانیوں کی یہ رسم آپکی صحت کی ضامن ہے جانیے کیسے
جمعہ‬‮ 20 جولائی‬‮ 2018 | 19:59
جاپانیوں کے رسوم و رواج خاصے دلچسپ ہیں اور ان کے کلچر کی کچھ باتیں تو دنیا کے لیے اچھنبے کی حیثیت رکھتی ہیں، گھر کے اندر جوتے نہ پہننا بھی ایک ایسی ہی بات ہے جسے اب سائنس دانوں نے اسے انسانی صحت کے لیے مفید قرار دیا ہے۔ جاپانی لوگ باہر سے آتے ہیں تو اپنے جوتے گھر کے اندرونی حصے سے باہر ہی رکھتے ہیں۔ گھر کے اندر یا تو ننگے پاؤں چلتے پھرتے ہیں یا ایسے جوتے استعمال کرتے ہیں جو ہمیشہ گھر کے اندر ہی رہتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جاپانیوں کی

عادت محض روایت کا حصہ نہیں بلکہ بے پناہ طبی فوائد کی حامل بھی ہے کیونکہ باہر استعمال ہونے والے جوتوں کو گھر کے اندر استعمال کرنا طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔یونیورسٹی آف ایروزونا کے سائنس دانوں نے ایک تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ جب ہم باہر سے گھر کے اندر آتے ہیں تو ہمارے جوتوں کے تلووں پر تقریباً 4لاکھ 21ہزار مختلف اقسام کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا تقریباً 96 فیصد جوتوں کے تلووں پر پائے گئے۔ ان میں کلیبسیلا نمونیا جو پیشاب کی نالی کا انفیکشن پیدا کرتا ہے اورسراتیا فکاریا جو سانس کی انفیکشن پید اکرتا ہے اور ای کولی جیسے بیکٹیریا بھی پائے گئے جو نظام انہظام کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیکٹیریا سڑکوں پر ، ریستورانوں میں، فٹ پاتھ پر، باغیچوں میں، غرض ہر جگہ موجود ہوتے اور ہمارے جوتوں کے ساتھ گھر میں بھی آ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ آپ اپنے جوتوں کو گھر میں داخل ہونے سے پہلے جراثیم کش محلول کے ساتھ دھوئیں۔ اگر انہیں ویسے ہی اندر لے آئیں تو پھر فرش کو بھی اسی طرح دھوئیں۔یہ ایک مشکل کام ہے لہٰذا اس کا آسان حل یہ ہے کہ باہر استعمال ہونے والے جوتے گھر کے اندرونی حصے میں نہ لائیں۔ گھر کے اندر آپ جاپانیوں کی طرح ننگے پاؤں چل پھر سکتے ہیں یا ایسے جوتے استعمال کرسکتے ہیں جو صرف گھر میں ہی استعمال ہوں اور کبھی بھی باہر نہ لے جائے جائیں۔

حجر اسود کی حفاظت پر مامور 24 اہلکاروں کی چند منفرد خصوصیات اورجنت سے آئے ہوئے مقدس ترین پتھر سے متعلق ایسی تفصیلات جو آپ کا ایمان تازہ کر دیں گی

حجر اسود کی حفاظت پر مامور 24 اہلکاروں کی چند منفرد خصوصیات اورجنت سے آئے ہوئے مقدس ترین پتھر سے متعلق ایسی تفصیلات جو آپ کا ایمان تازہ کر دیں گی
جمعہ‬‮ 20 جولائی‬‮ 2018 | 17:46
’حجراسود‘ کو بیت اللہ کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کی تاریخ کے بارے میں کئی آراءپائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت حجر اسود کو محفوظ رکھنے کیلئے ہرممکن حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاکہ زائرین کی جانب سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچ پائے۔ حجراسود کی حفاظت کیلئے اس کی مسلسل دیکھ بحال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلسل چھونے، گرمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے حجر اسود متاثر ہوتا ہے۔ سعودی حکام ایک جانب تو حجر اسود کو محفوظ بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں دوسری طرف حجاج و معتمرین کو اس

حفاظت کیلئے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حجر اسود کا کوئی ٹکڑا توڑنے سے گریز کیا جائے۔ ماضی میں غلاف کعبہ کی طرح حجر اسود کے ٹکڑے بھی توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حجر اسود کی حفاظت پر چوبیسگھنٹوں میں 24 سیکیورٹی اہلکار مامور ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اہلکار ایک گھنٹہ تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داریوں میں زائرین کی جانب سے مقدس پتھر کو بوسہ دینے کے عمل کی نگرانی کرنا، کمزور، ناتواں، عمر رسیدہ اور معذور معتمرین کی مدد کرنا ہے۔غلاف کعبہ سے متصل رکن یمانی اور الملتزم کے درمیان ایک پہرے دار ہمہ وقت چوکس کھڑا رہتا ہے جس کی واحد ذمہ داری حجر اسود کی حفاظت اور زائرین کی حجر اسود کوچومنے کے عمل کی نگرانی کرنا اور انہیں اس عمل کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔رم مکی کے ایک سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہر گھنٹے بعد حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داری تبدیل ہوتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا چاک وچوبند محافظ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ چونکہ محافظوں کو ہر طرح کے سخت گرم اور سرد موسم اور زائرین کے ہجوم کے ماحول میں مشقت بھری ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے اس لئے حجر اسود کے پہرے دار مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ حجر اسود کی حفاظت پر ایسے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جو امن وامان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے بھی ممتاز مقام رکھتے ہیں۔مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ کی جنرل پریزیڈنسی ہر نماز سے قبل تطہیر کعبہ کے ساتھ حجر اسود پر خوشبو چھڑکتی ہے۔ مسجد حرام کے فرش اور قالینوں پر بھی چوبیس گھنٹوں کی بنیاد پر خوشبو کا باقاعدگی کے ساتھ چھڑکاؤ کیاجاتا ہے۔’حجراسود‘ کو بیت اللہ کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ حجر اسود کی تاریخ کے بارے میں کئی آراءپائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت حجر اسود کو محفوظ رکھنے کیلئے ہرممکن حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاکہ زائرین کی جانب سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچ پائے۔مسجد حرم میں خوشبو کے چھڑکاؤ یونٹ کے سربراہ محمد عقالہ الندوی کے مطابقحجر اسود دراصل 8 چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے، جبکہ کل چھوٹے ٹکڑوں کی تعداد 15 بیان کی جاتی ہے۔ ان میں سے سات ٹکڑے مٹی کی تہوں کے نیچے ہیں جن میں بڑا ٹکڑا 2 اور چھوٹا ٹکڑا ایک سینٹی میٹر ہے۔ ان تمام ٹکڑوں کو درختوں سے حاصل ہونے والے للبان العربی الشحری یا الحوجری بروزہ مادے جسے خوشبو داری دھونی سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے سب سے چھوٹے ٹکڑے کا سائز ایک جبکہ بڑے ٹکڑوں کا سائز دوسینٹی میٹر ہے۔ حجر اسود کو بچانے کیلئے اس پر سونے اور چاندی کی قلعی بھی کی جاتی ہے۔حجراسود کی حفاظتکیلئے اس کی مسلسل دیکھ بحال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلسل چھونے، گرمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے حجر اسود متاثر ہوتا ہے۔ سعودی حکام ایک جانب تو حجر اسود کو محفوظ بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں دوسری طرف حجاج و معتمرین کو اس کی حفاظت کیلئے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حجر اسود کا کوئی ٹکڑا توڑنے سے گریز کیا جائے۔ ماضی میں غلاف کعبہ کی طرح حجر اسود کے ٹکڑے بھی توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔حجر اسود کو محفوظ بنانے کیلئے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کیلئے حفاظتی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ جہاں کہیں اس کے اندر کسی جگہ کی مرمت کی ضرورت ہوتی ہے اسے مرمت کیاجاتا ہے تاہم اس کی دیکھ بحالمعمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔ تاریخی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ سب سے طویل حجر اسود چوتھی صدی ہجری میں محمد بن نافع الخزاعی نے دیکھا۔ اس کا ایک حصہ سیاہ اور باقی سفید تھا۔ اسی طرح سلطان مراد العثمانی ابن علان المکی نصف زراع، ایک تہائی زراع، سفید پتھر اور اس کا سیاہ دہانہ دیکھا۔حجر اسود کے گرد چاندی کا حلقہ سب سے پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لگایا، اس کے بعد مختلف ادوار میں خلفاءاور دولت اس کے گرد سونے اور چاندی کے حلقے بناتے رہے۔ آل سعود حکومت کے قیام سے قبل آخری بار سلطان محمد رشاد خان نے 1331ھ میں حجر اسود کے سنہری حلقے کا ہدیہ کیا۔ یہ خالص سونے سے تیار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں سنہ1366ھ میں شاہ عبدالعزیز نے اس کے ایک حصے کی مرمت کرائی جبکہ 1375ھ کو الرشادی حلقہ ہٹا کر اس کی جگہ نیا حلقہ لگایا گیا۔حجر اسود کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ طواف کا آغاز اور اختتام اسی سے ہوتا ہے۔ خانہ کعبہ اور حجر اسود کے درمیان ملتزم ہے جس کی لمبائی دو میٹر ہے جبکہ جنوب مغرب میں رکن کعبہ، رکن الیمانی، جنوب مشرق میں رکن الموازی واقع ہے جہاں سے طواف کا آغاز ہوتا ہے، اسے رکن الیمانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چونکہ دائیں جانب واقع ہے اس لئے اسے رکن یمانی کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر دائیں ہاتھ سے استلام فرمایا۔(ع،ع)

آنکھ پھڑکنے کا مطلب کچھ برا ہونیوالا ہے ؟ اس میں کتنی حقیقت ہے ؟ ماہرین نے بتادیا

آنکھ پھڑکنے کا مطلب کچھ برا ہونیوالا ہے ؟ اس میں کتنی حقیقت ہے ؟ ماہرین نے بتادیا
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 16:20
آپ نے سنا ہوگا کہ آنکھ پھڑکنا کچھ اچھا یا برا ہونے کی نشانی ہے۔اب یہ توہم پرستی ہے یا درست، اس بحث کو چھوڑیں، بس یہ جان لیں کہ آنکھ پھڑکنے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔درحقیقت عام طور پر آنکھ پھڑکنا ہوسکتا ہے کہ ذہنی طور پر پریشانی کا باعث بنے مگر یہ کسی بیماری کے بجائے طرز زندگی، ایک وجہ ہوسکتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق آج کل لوگ اپنا بہت زیادہ وقت کمپیوٹر یا فون کی اسکرین کے سامنے گزارنے کے عادی ہوتے ہیں۔اور اس عادت کے نتیجے میں آنکھوں پر دباؤ بڑھتا ہے یا وہ خشک ہونے

ہے۔تاہم ایسا ہونے پر آنکھ پھڑکنے کے امکان بھی بڑھتے ہیں۔اسکرینوں سے ہٹ کر بہت تیز روشنی میں رہنا، آنکھ کی سطح یا اندرونی حصے میں خارش، جسمانی دباؤ، تمباکو نوشی، ذہنی تناؤ اور تیز ہوا کے نتیجے میں آنکھ پھڑکنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اگر آنکھ کی اس حرکت سے پریشان ہیں تو آنکھوں کو کچھ وقت تک آرام دیں۔اگر ممکن ہو تو اپنے سے کچھ دیر کے لیے وقفہ کریں اور شام میں ایسی سرگرمیوں کو اپنائیں، جس میں اسکرینوغیرہ کا کوئی دخل نہ ہو۔بہت کم ایسا ہوتا ہے جب آنکھ پھڑکنا کسی عارضے کی نشانی ہو اور وہ بھی اس وقت جب مناسب آرام اور اسکرین وغیرہ سے دوری کے باوجود یہ سلسلہ برقرار رہے۔اگر اس کے باوجود آنکھ کی لرزش نہ رکے تو یہ پلکوں کے ورم، آنکھوں کی خشکی، روشنی سے حساسیت اور موتیا وغیرہ کی علامت ہوسکتی ہے۔بہت سنگین معاملات میں یہ کسی دماغی اور اعصابی نظام کے مسئلے کی نشانی ہوسکتی ہے جس کے ساتھ چند دیگر علامات بھی سامنے آتی ہیں

چرچل کی تقریر اور ٹیکسی ڈرائیور

چرچل کی تقریر اور ٹیکسی ڈرائیور
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 15:45
ایک بار سر ونسٹن چرچل کی تقریر کرنے جلد سے جلد ریڈیو اسٹیشن پہنچنا تھا- اس لیے وہ ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر ڈرائیور سے بولے “ برٹش براڈ کاسٹنگ ہاؤس چلو-“ ڈرائیور ان کی طرف دیکھ کر بےپروائی سے بولا “ مجھے افسوس ہے٬ میں اس وقت یہ جگہ نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ٹھیک نصف گھنٹنہ بعد مسٹر چرچل کی تقریر نشر ہوگی جسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کرسکتا- میں اپنے وزیراعظم کی تقریر ضرور سنوں گا-“ چرچل نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے اور اسی عالم میں ڈرائیور کو ایک پونڈ انعام دیا-

نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور بڑے شگفتہ لہجے میں بولا “ آپ انتہائی اچھے اور نیک انسان ہیں- چلیے میں آپ کو چھوڑ آؤں٬ چرچل اور ان کی تقریر کو جہنم میں ڈالیے- وزیراعظم کی تقریر تو ہوتی رہتی ہے٬ آپ جیسے نیک دل انسان تو کبھی کبھی ملتے ہیں-مزید پڑھیے:ونسٹن چرچل کی انگریزی ونسٹن چرچل کوآٹھویں جماعت میں ۳ سال ہوگیا تھا کیونکہ اسے انگریزی میں بہت مشکل کا سامنا تھا۔یہ ستم ظریفی کہ کچھ سال بعد آکسفورڈ یونیورسٹی والوں نے اسے اپنی آغازی تربیت پر بولنے کا کہہ دیا۔ وہ اپنی ساری چیزوں کے ساتھ جو کہ ایک سگار، چھڑی اور ٹوپی پر مشتمل تھیں ساتھ لے آیا۔ وہ یہ چیزیں اپنے ساتھ ہر جگہ لے جاتا تھا۔جیسے ہی چرچل پوڈیم پر پہنچا لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دی۔لاثانی شان و شوکت کے ساتھ اس نے اپنے ماننے والوں کے شکریہ کہا اور انہیں بیٹھنے کو کہا۔اس سنے سگار ہٹایا اور احتیاط سے ٹوپی پوڈیم پر رکھتے ہوئے اپنے منتظر لوگوں کو دیکھا۔پورے ہال میں آواز گونج اٹھی جب اس نے انگریزی میں کہا: کبھی ہمت مت ہارو۔کچھ سیکنڈز گزرے اور اس نے اپنی ایڑھیوں پر اونچا ہو کر پھر کہا:کبھی ہمت مت ہارو۔ اس کے الفاظ سب کے کانوں میں بجلی کی طرح گونجے۔پورے ہال میں سناٹا سا چھا یا ہوا تھا جب اس نے اپنی ٹوپی اور سگار لیا ور پلیٹ فارم چھوڑ دیا۔اسکا آغازی بیان ختم ہو چکا تھا۔ انسان کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ محنت کا پھل ہر انسان کو ملتا ہے چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لیے فیس بک میسج بٹن پر کلک کریں۔