دنیا کا آلودہ ترین شہر کون سا ہے؟ عالمی ادارہ صحت نے ٹاپ ٹوئنٹی شہروں کی فہرست جاری کردی

دنیا کا آلودہ ترین شہر کون سا ہے؟ عالمی ادارہ صحت نے ٹاپ ٹوئنٹی شہروں کی فہرست جاری کردی
جمعرات‬‮ 3 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:54
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے فضائی آلودگی سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ہے جو دنیا کے ایسے بڑے شہروں کی فضا کے معیار کو جانچ کر تیار کی گئی ہے جہاں تقریبا 14 ملین یا اس سے زائد کی آبادی موجود ہے۔ رپورٹ میں دنیا کے سب سے زیادہ 20 آلودہ شہروں میں سے 14 بھارتی شہر شامل ہیں جن میں نئی دلی سمیت ممبئی، پٹنا، آگرہ، واراناسی، جیپور اور جودھ پور بھی شامل ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست نئی دلی، دوسرے نمبر پر مصر کا شہر قاہرہ، پر بنگلا دیش

کا دارالحکومت ڈھاکا، چوتھے نمبر پر بھی بھارت کا شہر ممبئی جب کہ پانچویں نمبر پر چین کا داراحکومت بیجنگ شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں 90 فیصد انسان آلودہ فضا میں سانس لینے میں مجبور ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آلودہ فضا سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہے جس سے پھیپھڑوں کا مرض، حرکت قلب متاثر ہونا اور دیگر مہلک بیماریوں کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے سالانہ 7 ملین افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کی اہم وجہ صنعتوں، گاڑیوں اور ٹرک کا دھواں ہے جس سے 4.2 ملین افراد کی سالانہ اموات ہوتی ہے جب کہ جنگلات کی کٹائی اور عمارتوں کی تعمیر میں اضافہ 3.8 ملین افراد کی سالانہ اموات کا باعث ہے۔ہے کہ فضائی آلودگی کی اہم وجہ صنعتوں، گاڑیوں اور ٹرک کا دھواں ہے جس سے 4.2 ملین افراد کی سالانہ اموات ہوتی ہے جب کہ جنگلات کی کٹائی اور عمارتوں کی تعمیر میں اضافہ 3.8 ملین افراد کی سالانہ اموات کا باعث ہے۔

نئی دہلی(آن لائن )عالمی ادارہ صحت کی جانب سے فضائی آلودگی سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ہے جو دنیا کے ایسے بڑے شہروں کی فضا کے معیار کو جانچ کر تیار کی گئی ہے جہاں تقریبا 14 ملین یا اس سے زائد کی آبادی موجود ہے۔ رپورٹ میں دنیا کے سب سے زیادہ 20 آلودہ شہروں میں سے 14 بھارتی شہر شامل ہیںجن میں نئی دلی سمیت ممبئی، پٹنا، آگرہ، واراناسی، جیپور اور جودھ پور بھی شامل ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست نئی دلی، دوسرے نمبر پر مصر کا شہر قاہرہ، تیسرے نمبر پر بنگلا دیش کا دارالحکومت ڈھاکا، چوتھے نمبر پر بھی بھارت کا شہر ممبئی جب کہ پانچویں نمبر پر چین کا داراحکومت بیجنگ شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں 90 فیصد انسان آلودہ فضا میں سانس لینے میں مجبور ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آلودہ فضا سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہے جس سے پھیپھڑوں کا مرض، حرکت قلب متاثر ہونا اور دیگر مہلک بیماریوں کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے سالانہ 7 ملین افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کی اہم وجہ صنعتوں، گاڑیوں اور ٹرک کا دھواں ہے جس سے 4.2 ملین افراد کی سالانہ اموات ہوتی ہے جب کہ جنگلات کی کٹائی اور عمارتوں کی تعمیر میں اضافہ 3.8 ملین افراد کی سالانہ اموات کا باعث ہے۔ہے کہ فضائی آلودگی کی اہم وجہ صنعتوں، گاڑیوں اور ٹرک کا دھواں ہے جس سے 4.2 ملین افراد کی سالانہ اموات ہوتی ہے جب کہ جنگلات کی کٹائی اور عمارتوں کی تعمیر میں اضافہ 3.8 ملین افراد کی سالانہ اموات کا باعث ہے۔

ہار منہ لہسن کھانے کے کیا فوائد ہیں؟

ہار منہ لہسن کھانے کے کیا فوائد ہیں؟

لہسن ایک ایسی سبزی ہے جس کا استعمال قدیم زمانے میں رہنے والے لوگ بھی کیا کرتے تھے اور اس کی افادیت سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔مصری، رومن، ایرانی، یہود، عرب اور دنیا کی تمام اقوام نے لہسن کے فوائد پر کافی کچھ لکھا ہے اور اسے کبھی بھی خطرناک یہ نقصان دہ نہیں کہا گیا۔ان تمام فوائد کی سجہ سے اسے ’مصالحہ جات کا سردار‘ بھی کہا گیا ہے۔

آج ہم آپ کو لہسن کے خالی پیٹ استعمال کے فوائد بتائیں گے۔*صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم میں کئی خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔*خالی پیٹ لہسن کھانے سے پیٹ میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پاتاجس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔

*لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ ،سردی اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔ *یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپکیطبیعت بحال ہو رہی ہے۔*اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔*اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔

اسپغول کے فوائد جن سے آپ واقف نہیں

اسپغول کے فوائد جن سے آپ واقف نہیں

اسپغول کا استعمال عام طور پر پیٹ کے امراض کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی غذا یا دوا ہے جسے لوگ بلاجھجک استعمال کرتے ہیں- لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اسپغول کو پیٹ کے امراض کے علاوہ بھی کئی بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے- اسپغول کا نام فارسی کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ایک لفظ ’’اسپ‘‘ یعنی گھوڑا اور دوسرا ’’غول‘‘ یعنی کان۔ گویا گھوڑے کا کان یعنی اس دوا کی شکل گھوڑے کے کان سے ملتی ہے۔ فارسی کا یہ نام اس قدر ہوا کہ برصغیر میں بھی سب اسے اسپغول کے نام سے پکارا جانے لگا۔اسپغول کا پودا ایک گز بلند ہوتا ہے اور ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں۔ سرخ رنگ اور سفیدی مائل چھوٹے بیج ہوتے ہیں جسے اسپغول کہتے ہیں۔ ذائقہ میں پھیکا ہوتا ہے اور منہ میں ڈالنے پر لعاب پیدا کرتا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ اسپغول کا اصل وطن ایران ہے۔ اگرچہ درست ہو مگر دنیا میں اکثر جگہوں پر یہ خودرو پیدا ہوتا ہے۔ عرب میں بھی اس کو پایا گیا ہے۔اسپغول پر کی جانے والی تحقیقکے مطابق اسپغول کے بیجوں میں فیٹس یعنی حشمی روغن پایا جاتا ہے۔

زلالی مادہ اور فالودہ نما جیلی جیسا لعاب ہے۔ دراصل یہ لعاب ہی وہ مادہ ہے جو انسانی جسم میں بیماری کے خلاف اپنا اثر دکھاتا ہے۔اس لعاب کی ایک حیرت انگیز مثال یہ ہے کہ انسانی جسم میں چوبیس گھنٹے تیزاب یعنی ہائڈروکلورک ایسڈ جیسے تیز اثر تیزاب اور لیلیے کے تیزاب میں رہنے کے باوجود اسپغول کے لعاب کا برائے نام حصہ ہضم ہوتا ہے اور تمام ہضم کے عمل کے درجات کو طے کرتا ہوا بڑی آنت میں موجود جراثیم پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان کوکولونائزیشن کو منجمد کردیتا ہے-ان تیزابوں کی اثرانگیزی اس پر کچھ اثر نہیں کرتی اور پھر آگے جاکر یہ لعاب یعنی جیلی ان جرثوموں مثلاً مبسی لس شیگا‘ سیسی لس فلیکس نر‘ سینسی لس کولائی اور سیسی کرکالر ابھی اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسپغول کا لعاب چھوٹی آنت کی کیمیائی خمیرات کا زیادہ اثر نہیں لیتا اور نہ معدے کے کرشمات کا اثر لیتا ہے اور نہ بڑی آنت میں موجودجراثیم اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔یہ لعاب آنتوں کے زخموں اور خراشوں پر بلغمی تہہ چڑھا دیتا ہے اور بیکٹیریا کے نشوونما کو احسن طریقہ سے روک دیتا ہے اور جو زہریلے مواد جو ان بیکٹیریا کی موجودگی سے پیدا ہوتے ہیں ان کو جذب کرلیتا ہے۔اسپغول کے بارے میں جو اطباء رائے رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ دوسرے درجے کا سرد ہے اور بعض کے نزدیک تیسرے درجے کا سرد ہے۔

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ! ﮐﯿﻮﮞ؟ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﮑﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﺸﻠﺴﭧ ﺗﮭﮯ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭘﻤﭗ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻥ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺅﭦ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺧﻮﻥ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺜﻼ ﺗﯿﻦ

ﻣﻨﺰﻟﮧ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻤﭗ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﭘﻤﭗ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﻤﭗ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺜﻼ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ، ﻟﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ، ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﺳﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺧﻮﻥ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺩﯾﻦ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﺟﺪﯾﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ :43 ﻭَﺃَﻗِﻴﻤُﻮﺍ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗُﻮﺍ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﺍﺭْﻛَﻌُﻮﺍ ﻣَﻊَ ﺍﻟﺮَّﺍﻛِﻌِﻴﻦَ
:43 ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮٰﺓ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ) ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ( ﺟﮭﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮﻭ ﻭَﺍﺳْﺘَﻌِﻴﻨُﻮﺍ ﺑِﺎﻟﺼَّﺒْﺮِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ۚ ﻭَﺇِﻧَّﻬَﺎ ﻟَﻜَﺒِﻴﺮَﺓٌ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﺨَﺎﺷِﻌِﻴﻦَ :45 ﺍﻭﺭ ) ﺭﻧﺞ ﻭﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ( ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﮔﺮﺍﮞ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ) ﮔﺮﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ( ﺟﻮ ﻋﺠﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ

ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﺍﺫْﻛُﺮُﻭﺍ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺫِﻛْﺮًﺍ ﻛَﺜِﻴﺮًﺍ

:41 ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ

:42 ﻭَﺳَﺒِّﺤُﻮﻩُ ﺑُﻜْﺮَﺓً ﻭَﺃَﺻِﻴﻠًﺎ

:42 ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ
ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﻳَﻌْﻤُﺮُ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻣَﻦْ ﺁﻣَﻦَ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﻭَﺃَﻗَﺎﻡَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗَﻰ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﺨْﺶَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪَ ۖ ﻓَﻌَﺴَﻰٰ ﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﺃَﻥْ ﻳَﻜُﻮﻧُﻮﺍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﻬْﺘَﺪِﻳﻦَ

:18 ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮﺓ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ) ﺩﺍﺧﻞ ( ﮨﻮﮞ

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

نبی کریمؐ کو کائنات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا، آپ نہ صرف احکامات خداوندی قیامت تک کے انسانوں کیلئے دے کر بھیجے گئے بلکہ آپ کی ذات اطہر و طاہر کو سرتاپا رحمت بنا دیا گیا، آپ نے قیامت تک آنیوالی انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کو نہ صرف انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کے مصائب و آلام دور کرنے کیلئے شریعت کے بتائے طریقوں کو اپنانے کا درس دیا۔ نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کامفہوم ہے کہ ’’جوشخص صبح و شام تین تین مرتبہ سورہ اخلاص، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھےگا وہ

الناس پڑھےگا وہ ہر طرح کے مصائب اور رنج و غم سے محفوظ رہے گا۔‘‘آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں ہر انسان ذہنی پریشانی، بے سکونی میں مبتلا ہے تو ایسے میں اس حدیث میں نبی کریمؐ کے بتائے ہوئے طریقے سے نہ صرف دلی سکون، ذہنی آسودگی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ جادو، حسد اور شریروں کی شرارتوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

سورہ اخلاص

سورہ الفلق

سورہ الناس

بس لیموں اور کالی مرچ

بس لیموں اور کالی مرچ

لیموں کااستعمال سال بھرہی جاری رہتاہے لیکن موسم گرمامیں اس کااستعمال زیادہ ہوجاتاہے خاص کررمضان المبارک میں افطارکے وقت لیموں کاش بناکریادوسرے مشروبات میں مکس کرکے استعمال کیاجاتاہے لیکن اگرلیموں اورکالی مرچ کوایک ساتھ استعمال کیاجائے توا س سے متعددا مراض ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ لیموں کو ایک قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس میں موجود

ترش ذائقہ اس کو منفرد اور فائدہ مند بناتا ہے ۔اس کا استعمال نہ صرف جسم سے فالتو چربی ختم کتنے کے کام آتا ہے بلکہ یہ جلد کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے لیکن اگر لیموں کو نمککالی مرچ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کی طاقت میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے ۔کالی مرچ ، نمک حسب ذائقہ اوراس کے ساتھ لیموں کے قطرے ملاکراستعمال کیاجائے توکئی موذی امراض سے چھٹکارہ مل جائے گا۔

موٹاپا:۔ مل جائے گا۔موٹاپا:۔ دو بڑے چمچ لیموں ، ایک چوتھائی چمچ پسی ہوئی سیاہ مرچ اورایک کھانے کا چمچ شہد لیںاورتمام اجزاءکو نیم گرم پانی میں حل کریں۔اس مشروب کو پینے کی وجہ سے آپ کامیٹابولزم تیز ہوگا اور وزن کم ہونے لگے گا۔ گلے کی خراش:۔ آدھ چمچ سیاہ مرچ ، ایک کھانے کا چمچ لیموں کا رس اور ایک چائے کا چمچ سمندری نمک لیں۔ان تمام اجزاءکو ایک کپ نیم گرم پانی میں ملائیں اور دن میں تین سے چار بار اس کے غرارے کرنے سے گلا ٹھیک ہوجائے گا۔ ناک کی بندش کاخاتمہ :۔ زیرہ، سبز الائچی کے بیج، دارچینی اور سیاہ مرچ کو باریک کریں اور باریک

پاؤڈر بناکر اسے سونگھنے سے بند ناک کھل جائے گی۔ دل کی تازگی :۔ اگر آپکا دل خراب ہورہاہوتو ایک چائے کا چمچ سیاہ مرچ ، ایک کھانے کے چمچ لیموں کے رس کو ایک کپ گرم پانی میں ملائیں۔اس مشروب کو تھوڑا تھوڑا پیتے رہیں اور کچھ ہی دیرمیں آپ تازہ دم محسوس کریں گے

اگر آپ کو بھی پیروں میں سوجن کا سامنا ہے تو اسے نظر انداز نہ کر یں بلکہ۔۔۔

اگر آپ کو بھی پیروں میں سوجن کا سامنا ہے تو اسے نظر انداز نہ کر یں بلکہ۔۔۔

لندن(نیوزڈیسک)ہم روزمرہ کے کاموں میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی صحت کو وقت دینے کا خیال ہی نہیں آتااور بعض اوقات انتہائی معمولی بیماری صرف ہماری لاپرواہی کی وجہ سے موذی مرض بن جاتی ہے ان میں سے ایک ہے پاﺅں میں سوجن ہو جا نا جو کہ انتہائی تکلیف کا باعث بنتی ہے جسے بالکل بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔

اگر آپ کے خون کی گردش ٹانگوں کی جانب ٹھیک نہ رہے تو اکثر پاﺅں کی سوجن، سُن ہوجانایا درد کی شکایت ہوجاتی ہے اور اس سے دوسرے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ایسے مسئلے کے لئے شاہ بلوط کا پھل (Horse chestnut )کا استعمال کریں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس میں ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم میں سوجن کو کم کرتے ہیں۔

240افراد پر تین ماہ تک کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پھل جسم میں سوجن کم کرتا ہے۔ پاﺅں میں سوجن اس وقت پیدا ہونا شروع ہوتی ہے جب ہمارا دل صحیح طریقے سے خون کو پمپ نہیں کرتا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر پاﺅں پر سوجن آنا شروع ہوجائے تو فوراًاس مسئلے کو حل کریں کیونکہ یہ دل کی بیماری کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اکثر دل کادورہ اس وقت اچانک پڑتا ہے جب ہمارا دل صحیح طریقے سے خون کو پمپ نہیں کرتا۔

خون کی کمی کے اسباب اور علامات

خون کی کمی کے اسباب اور علامات
بدھ‬‮ 25 اپریل‬‮ 2018 | 14:40
خون ایک سرخ رنگ کا سیال مادہ ہے جو ہمارے جسم کے اعصاب اور شریانوں میں ہر وقت گردش میں رہتا ہے۔ یہ پلازمہ اور سرخ خلیات پر مشتمل مرکب ہے جو بالترتیب۵۵ فیصد اور ۴۵ فیصد ہیں۔سرخ خلیات کے علاوہ سفید خلیات اور platelets بھی موجود ہوتے ہیں۔ قارئین آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک تندرست جسم میں خون کی مقدار پانچ سے چھ لیٹر ہوتی ہے۔لیکن اس کا انحصار انسان کی بناوٹ پر ہے جو مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ سائنسی لحاظ سے یہ کل

کا ۷ء۷ ہوتا ہے۔ اگر انسانی جسم میں سرخ خلیات کی مقدار زیادہ ہو جائے تو اس انسان کو polycythemia ہو جاتا ہے۔اور اگر کسی انسان میں خون کی کمی ہو جائے تو تو اسے Anarmia کہتے ہیں۔انیمیا کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ اگر انسانی جسم میں سرخ خلیات کم ہو جائیں یا خون کی کمی ہو جائے تو اسے ہم ہیمو گلوبین یا انیمیا کہتے ہیں۔ مردوں میں اس کی مقدار 100 ml/14.5 gm اور خواتین میں 100ml/13.5gm ہوتی ہے ۔سب سے پہلے ہم اس کے اسباب دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے خون کی کمی ہو جاتی ہے۔اسباب: ٭خواتین میں اگر حیض کی زیادتی ہو جائے۔٭خواتین میں لیکوریا کی بیماری بھی اس کا ایک سبب ہے۔٭ خواتین میں حیض بھی اس کی ایک وجہ ہے۔٭ دوران حمل بھی خون کی کمی کی شکائت ہو جاتی ہے۔٭خون کی قے ہوتی ہوں اور خون کا اخراج ہو جاتا ہو۔٭ نکسیر کی وجہ سے بھی خون کی کمی ہو جاتی ہے۔٭ خونی پیچش بھی اس کا سبب ہوتے ہیں۔٭خونی بواسیر سے انیمیا ہو سکتا ہے۔٭ خونی پیشاب کے خارج ہو نے سے خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔٭ پیٹ میں کیڑے ہونا بھی ایک وجہ ہے۔٭ ہاضمہ کی خرابی بھی خون کی کمی کا سبب بننتی ہے۔٭ دائمی قبض کے شکار لوگوں کو بھی انیمیا ہو جاتا ہے۔٭ سیر تفریح اور ورزش نہ کرنا٭ بچے کو دیر تک دودھ پلانے والی مائیں اس کا شکار ہو سکتی ہیں۔٭رنج و غم بھی اس کی ایک وجہ ہے۔٭ بچے کی پیدائش پر خون کا زیادہ اخراج خون کی کمی کا سبب بنتا ہے۔٭کسی چوٹ یا زخم کی وجہ سے بھی خون کی کمی ہو جاتی ہے۔جس میں خون بہت عرصہ رستا رہے۔٭ یرقان کا مرض ہو جانے سے بھی خون کی کمی ہو جاتی ہے۔٭خوراک کی کمی بھی اس کا سبب ہے۔٭ فولاد کی کمی بھی خون کی کمی کی وجہ بن سکتی ہے۔٭کسی انسان کا جل جانا بھی ایک وجہ ہے۔قارئین آپ سب خون کی کمی کے اسباب سے تو واقف ہو چکے ہیں اب آپ کو اس کی علامات بھی بتاتے ہیں تاکہ آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو پہچان سکیں جو خون کی کمی کا شکار ہیں۔ یا پھر اپنے آپ میں بھی ان علامات کی روشنی میں خود معائنہ کر سکیں۔ علامات ٭ خون کی کمی کے مرض میں مبتلا فرد کا چہرہ پھیکا اور پیلا پڑ جاتا ہے۔٭ مریض کے ناخن سفید ہو جاتے ہیں۔٭ سر میں بھاری پن اور درد رہتا ہے۔٭مریض کی جلد،ہونٹ وغیرہ زردی مائل رنگ کے ہو جاتے ہیں۔٭ مریض کا ہاضمہ خراب رہتا ہے ۔٭ بھوک کی کمی ہو جاتی ہے۔٭ مریض کو اکثر قبض رہتی ہے۔٭خون کی کمی کی وجہ سے کچھ خواتین کو حیض آنا بند ہو جاتا ہے اور کچھ کو زیادہ آنے لگتا ہے۔٭مریض کے جسم کا درجہ حرارت نارمل سے کم ہو جاتا ہے۔٭اگر جسم میں خون کی بہت زیادہ کمی ہو جائے تو پھر انتقال خون کی ضرورت ہوتی ہے ۔نہ کروانے کی صورت میں مریض کا دل فیل ہو سکتا ہے جسے میڈیکل کی زبان میں Anaemic Heart Failure کہتے ہیں۔ ٭ مریض معمولی محنت کر کے بھی تھک جاتا ہے۔٭ مریض کا سانس پھولنے لگتا ہے۔٭ مریض کا سر چکراتا ہے۔٭ مریض کی طبیعت میں گراوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔٭ مریض کا کسی کام کاج میں دل نہیں لگتا۔٭ خون کی کمی میں مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔اگر آپ خون کی کمی کا ٹیسٹ کسی لیبارٹری سے کروانا چاہتے ہوں تو اس کے لئے اپنا HB % یعنی ہیمو گلوبین معلوم کریں۔علاج٭خون کی کمی والے افراد کو فوری طور پر اپنا علاج شروع کر دینا چاہیے٭ ماہرمعالج سے رابطہ کریں۔٭ ورزش کو روزانہ کا معمول بنائیں ۔٭ اپنی خوراک میں پھل ، سبزیاں اور گوشت کا اضافہ کریں۔

سونف اور الایچی میں ایسا کیا راز پوشیدہ ہے

سونف اور الایچی میں ایسا کیا راز پوشیدہ ہے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )معدے میں تیزابیت اس وقت ہوتی ہے جب گیسٹرک گلینڈز میں تیزابی سیال کی سطح بڑھ جاتی ہے جو کہ گیس، سانس میں بو، پیٹ میں درد اور دیگر امراض کا باعث بنتی ہے۔ عام طور پر معدے میں تیزابیت کی وجہ کھانے کے درمیان طویل وقفہ، خالی پیٹ ہونا یا بہت زیادہ چائے، کافی یا تمباکو نوشی کا استعمال وغیرہ ہوتا ہے۔ جب تیزابی سیال معمول سے زیادہ ہوجائے تو سینے میں جلن یا تیزابیت کا احساس ہوتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچن میں ہر وقت موجود رہنے والی چند چیزیں معدے کی تیزابیت سے نجات دلاسکتی ہیں؟سبز الائچی پاک و ہند سمیت ایشیائی ممالک میں گھروں میں عام مستعمل ہے اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ریاست میسور کی الائچی بہترین ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں یہ پائی جاتی ہے۔ اردو اور ہندی میں اسے چھوٹی الائچی یا سبز الائچی اور انگریزی میں کارڈاموم کہتے ہیں۔ چھوٹی سی الائچی بڑے بڑے فائدے رکھتی ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔یہ تیزابیت کو ختم کرتی ہے۔ خوابیدگی کے خمار کو کم کرتی ہے جبکہ معدے میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے ریاح پیدا ہونے سے روکتی ہے۔ بدہضمی سے ہونیوالی گیس اور سردرد کیلئے سبر چائے میں الائچی ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔ الائچی معدے میں موجود لعالی جھلی کو مضبوط بناتی ہے، اس لیے یہ تیزابیت کیلئے اکسیر ہے۔ اس کو چبانے سے منہ بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ السر کی بیشتر اقسام میں بھی فائدہ مند ہے۔ تبخیر اور السر میں اس کا درج ذیل مرکب انتہائی مفید ہے۔ سفوف تبخیر: سبز الائچی ، سونف ، طیا شیر کبود انڈیا ، کشنیز ہموزن سفوف بنالیں اورا یک چمچ چائے والا ہر کھانے کے بعد استعمال کریں۔ ہیضہ اور دست آنے کی صورت میں الائچی کا عرق پلانا بے حد مفید ہے۔الائچی خورد دافع اسہال اور کمزوری امعا میں بے حد مفید ہے۔ جبکہ سونف کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف چبانا معدے میں تیزابیت کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ سونف کی چائے غذائی نالی کو صحت مند رکھتی ہے جبکہ یہ مشروب بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی فائدہ مند ہے۔

مزید پڑھیں : سونف کی چائے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟ دار چینی یہ مصالحہ معدے کی تیزابیت کے خلاف کام کرتا ہے اور معدے کی صحت ہاضمے اور غذا کو جذب کرنے میں مدد دے کر کرتا ہے۔ معدے میں تیزابیت کو دور کرنے کے لیے دار چینی کی چائے مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ بھی جانیں : دار چینی کے 5 طبی فوائد لونگ لونگ قدرتی طور پر غذائی نالی میں گیس کو پیدا ہونے سے روکتی ہے،

الائچی اور لونگ کو کچل کر کھانا بھی معدے میں تیزابیت کا علاج کرتا ہے اور سانس کی بو سے بھی نجات دلاتا ہے۔ زیرہ زیرہ بھی معدے میں تیزابیت کو معمول پر رکھنے میں مددگار مصالحہ ہے جو کہ ہاضمے میں مدد دینے کے ساتھ پیٹ کے درد کو بھی کم کرتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ زیرہ ایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر ہر کھانے کے بعد کھانا عادت بنالیں۔ یہ بھی دیکھیں : اس مصالحے کا ایک چمچ روزانہ توند سے نجات دلائے ادرک ادرک کے متعدد طبی فوائد ہیں،یہ ہاضمے کے لیے بہترین اور ورم کش ہوتی ہے۔ معدے کی تیزابیت کم کرنے کے لیے ایک ٹکڑا ادرک چبالیں یا کچھ مقدار میں ادرک ابلتے ہوئے پانی کے کپ میں ڈالیں اور پی لیں

ایسا جادوئی قہوہ جس کا پینے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا!

ایسا جادوئی قہوہ جس کا پینے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا!
بدھ‬‮ 25 اپریل‬‮ 2018 | 4:24
دنیا بھر میں ملائشیا اور نڈونیشیا جڑی بوٹیوں سے مالا مال ممالک کے طور پر جانے جاتے ہیں وہیںپر نت نئے روایتی انداز میں مروجہ ہر پل قہووں کا راج ہے اسی طرح کی ایک جڑی بوٹی تونکات علی کا قہوہ ملائشیا میں عام ہے اور پوری دنیا میں اس کی بے پناہ مانگ ہے ملائی زبان میں جڑی بوٹی کو تونکات علی جبکہ عربی میں اس کو عکازہ علی کے نام سے جانا جاتا ہے دنیا بھر میں یہ کہیں پاوڈر کہیں کیپسول اور کہیں ٹی بیگ میں بک رہا ہوتا ہے، اس کو مدانہ قوت میں اضافے کےلئے

پیا جاتا ہے ،اعصاب کی کمزوری میں بے پناہ فائدہ مند ہے جن لوگوں کے گردوں میں پتھریاں ہوں انہیں یہ قہوہ پلایا جاتا ہے، یہ قہوہ پینے والوں کو شوگر نہیں ہوتی اور اس کےلئے بہت سے فوائد زندگی میں میسر ہوتے ہیں۔