حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

دور حاضر میں قبض ،ہیپاٹائٹس،ڈپریشن اور کینسر ایسے امراض کا علاج کرنا ہو تو قدرت الٰہی سے یہ خصوصیات ہمیں چقندر میں مل جائیں گی جو معالجہ کی زبردست قوت رکھتی ہے. چقندر میں مینگانیز اور بیٹین کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے جس سے اعصابی نظام کا فعل درست ہوجاتا ہے.چقندر کو لال رنگ دینے والے اجزاء بیٹالین اور ویٹامن سی قوت مدافعت میں اضافہ کرتے اور بیماریوں سے بچنے میں کردار ادا کرتے ہیں. تحقیق کے مطابق یہ کینسر سیلز کو جنم لینے سے بھی روکتے ہیں. چقندر ایک معروف سبزی ہے جسے عربی میں سلق اور انگریزی

سلق اور انگریزی میں Beetrootکہا جاتا ہے.اللہ کے رسول ﷺ نے چقندر کو صحت کے انتہائی مفید قرار دیا اور صحابہ اکرام ؓ کے طبی فوائد کی بنا پر اسکو شوق سے کھاتے . ترمذی میں حضرت ام منذرؓکے حوالے سے ایک حدیث

ایک بار رسول اللہﷺ حضرت ام منذرؓ کے گھر تشریف لے گئے. حضرت علیؓ آپﷺ کے ہمراہ تھے. اس وقت گھر میں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے. سرکار دوعالم ﷺ نے ان کھجوروں میں سے تناول فرمایا تو حضرت علیؓ بھی کھانے لگے اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا ”اے علی! تم کمزور ہو اس لئے تم نہ کھاؤ“. ام منذرؓ چقندر کھانے لگیں تو آنحضورﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں.

محدثین بتاتے ہیں کہ ان دنوں حضرت علیؓ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور دکھتی آنکھوں پر کھجور کھانا مضر ہے. اس لئے آپﷺ نے حضرت علیؓ کو منع فرمایا اور جب آپﷺ کے سامنے چقندر پیش کئے گئے تو آپﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں اور تمہاری ناطاقتی کو یہ دور کر دے گا. اس حدیث کی روشنی میں دوباتیں معلوم ہوتی ہیں کہ پرہیز کرنا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چقندر کھانے سے کمزوری دور ہوتی ہے.

بخاری شریف میں بھی چقندر کا ذکر ملتا ہے. قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابوحازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں” ہم لوگوں کو جمعہ کے دن آنے کی بہت خوشی ہوتی تھی، اس لئے کہ ایک بڑھیا تھی جو چقندر کی جڑیں جنہیں ہم اپنی کیاریوں میں لگاتے تھےاس کو اکھیڑ کر اپنی دیگ میں ڈالتی تھی، اور اس میں جو کے کچھ دانے بھی ڈال دیتی تھی، میں یہی جانتا ہوں کہ اس میں چکنائی یا چربی نہیں ہوتی تھی، جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے، تو اس بڑھیا کے پاس آتے. وہ ہم لوگوں کے پاس وہی چقندر لا کر رکھ دیتی تھی،

جمعہ کے دن کی خوشی ہمیں اسی سبب سے ہوتی تھی، اور ہم لوگ جمعہ کی نماز کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے“ اطبا کہتے ہیں کہ چقندرکھانا ہضم کرتی اور رعشہ کیلئے مفید اور بلغم خارج کرتی ہے.چقندر کا مزاج پہلے درجہ میں گرم خشک ہے . یہ مواد تحلیل کرتی اور سدے کھولتی ہے .چقندر کی چار معروف اقسام ہیں ،ان میں سے سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے. چقندر کے قتلوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کی ایک پیالی صبح ناشتا سے ایک گھنٹہ پہلے پی لی جائے تو پرانی قبض بھی ختم ہوجاتی اور بواسیر کی شدت بھی بتدریج کم ہوجاتی ہے :

ٹوتھ پیسٹ سے کیل مہاسوں کا خاتمہ

ٹوتھ پیسٹ سے کیل مہاسوں کا خاتمہ
جمعرات‬‮ 12 اپریل‬‮ 2018 | 14:02
ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو سفید اور چمکدار بناتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ چہرے پر دانوں اور کیل مہاسوں کا علاج بھی اس میں پوشیدہ ہے۔ اگر آپ کا چہرہ دانوں اور کیل مہاسوں کی وجہ سے بدصورت لگتا ہے تو اب فکر کی کوئی بات نہیں، آپ گھر بیٹھے ان سے نجات پاسکتے ہیں اور اس پر کوئی اضافی خرچہ بھی نہیں ہوتا۔ ٹوتھ پیسٹ میں ٹرائی کلوسان اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ نامی مادّوں کی موجودگی اسے دانوں اور کیل مہاسوں کےلیے بہترین علاج بنادیتی ہے۔ ایک معمولی مقدار کو دانوں اور کیل مہاسوں سے متاثرہ

کر 2 گھنٹے تک چھوڑ دیجیے اور پھر اسے صاف کریں گے تو حیرت کن نتیجہ آپ کے سامنے ہوگا۔ بہترین نتائج کےلیے اس عمل کو روزانہ دوہرایا جائے جب کہ حساس جلد والے افراد اسے محتاط انداز میں استعمال کریں۔

پھٹکری کے دلچسپ فوائد جو آپ نہیں جانتے

پھٹکری کے دلچسپ فوائد جو آپ نہیں جانتے
پیر‬‮ 9 اپریل‬‮ 2018 | 20:04
عام طور پر پھٹکری پانی صاف کرنے کے لیے یا پھر شیو کروانے کے بعد چہرے پر رگڑ کر جراثیموں سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہے- لیکن شاید آپ کو اس بات کا ہرگز اندازہ نہیں ہے کہ پھٹکری کتنے جادوئی کمالات کی مالک ہے؟ پھٹکری کئی ایسے طبی مسائل کے حوالے سے آپ کی مددگار ثابت ہوسکتی ہے جن کے آپ ایک طویل عرصے سے شکار چلے آرہے ہیں- پھٹکری مارکیٹ آپ کو باآسانی دستیاب ہوتی اور یہ پاؤڈر کی شکل میں بھی فروخت ہوتی ہے اور ٹکڑوں کی شکل میں بھی-کیل مہاسوں اور دانوں سے نجاتچہرے

دانوں سے نجاتچہرے پر کیل مہاسے اور دانے خواتین کے لیے ایک بھیانک خواب کی مانند ہوتے ہیں- لیکن اگر پھٹکری کی مدد حاصل کی جائے تو ان مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے- پھٹکری کو پیس کر پانی میں شامل کرلیں اور اس پیسٹ کو متاثرہ جگہ پر لگائیں- 20 منٹ بعد چہرے کو دھو لیں اور یہ عمل روزانہ کریں- آپ کو حیرت انگیز نتائج دیں گے- تاہم یہ بھی یاد رکھیں ہر جلد ایک جیسی نہیں ہوتی اس لیے اگر پیسٹ لگانے کے بعد کسی قسم کی جلن یا خارش ہو تو فوراً دھو دیں اور دوبارہ اس ٹوٹکے کو استعمال نہ کریں-

ڈھلکی ہوئی جلد بڑھتی عمر کے ساتھ ڈھلکتی جلد بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ میں اس میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے- لیکن یہ مسئلہ بھی پھٹکری کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے- پھٹکری کے پاؤڈر کو پانی میں شامل کر کے 30 منٹ تک چہرے پر لگائیں- اس سے نہ صرف آپ کی جلد میں دوبارہ سختی آجائے گی بلکہ چمکدار بھی ہوجائے گی- اس کے علاوہ آپ عرقِ گلاب اور انڈوں کی سفیدی بھی استعمال کرسکتے ہیں-جھریاں پھٹکری جھریوں سے نجات کے لیے بھی بہترین قرار دی جاتی ہے- پھٹکری کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا گیلا کریں اور آہستہ آہستہ اپنے چہرے پر رگڑیں- یہ عمل کچھ دیر تک کرتے رہنا ہے- اس کے بعد عرقِ گلاب سے چہرے کو دھو لیں اور moisturizer کا استعمال کریں-

خشکی سے نجات سر میں موجود خشکی ہماری زندگی کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے لیکن اس مسئلے سے بھی پھٹکری باآسانی نجات دلوا سکتی ہے- اپنے شیمپو میں ایک چٹکی پھٹکری اور نمک شامل کر لیں اور اب اس شیمپو سے سر دھوئیں- آپ خود اپنے بالوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی محسوس کریں گے-جوؤں سے چھٹکارا جوؤں بچوں کے سر میں ہوں یا پھر بڑوں کے عذاب بن جاتی ہیں- جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے لیے پانی اور تیل پر مشتمل پھٹکری کا پیسٹ تیار کیجیے- اب اس مکسچر کو سر میں اچھی طرح لگا کر کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیں- جلد ہی آپ کو جوؤں سے چھٹکارا مل جائے گا-

پھٹی ایڑیاں ہم اکثر اپنی پھٹی ایڑیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں تاہم پھٹکری اس حوالے سے بھی اپنا جادوئی کمال دکھا سکتی ہے- پھٹکری کو اس وقت تک ایک خالی پیالے میں گرم کریں جب تک کہ وہ پگھل کر فوم نہ بن جائے- اب اس مکسچر کو ٹھنڈا کریں- اب اس میں ناریل کا تیل شامل کریں اور متاثرہ جگہوں پر لگائیں-

بدبو بھگانے کے لیے یقیناً یہ سب سے کے لیے نیا ہوگا لیکن یہ حقیقیت ہے کہ پھٹکری کی جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے اسے بدبو بھگانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے- پھٹکری کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا گیلا کریں اور اسے متاثر جگہوں پر نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔استعمال کریں- تاہم یہ عمل روزانہ نہیں بلکہ ایک دن چھوڑ کر کرنا ہے-

ہر سال ایک نیا نغمہ تیار کرنے والی انوکھی وہیل

ہر سال ایک نیا نغمہ تیار کرنے والی انوکھی وہیل
بدھ‬‮ 11 اپریل‬‮ 2018 | 16:01
بحر منجمد شمالی میں رہنے والی وہیل (Bowhead whale) سے متعلق حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ وہ سمندر کی تاریک تہہ میں ہر سال ایک نیا گانا تیار کرتی ہے اور پورا سال اسے گنگناتی ہے۔ یوں تو وہیل سمندر کی تہہ میں دو مختلف طرح کی آوازیں نکالتی ہیں جو سننے والوں کو ایک گانے کی طرح محسوس ہوتی ہیں لیکن حیران کن طور پر وہیل ہر سال ایک نیا گانا ایجاد کر لیتی ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹے اسٹیفورڈ نے اپنی ساتھیوں کے ہمراہ سمندر کی تہہ میں درجنوں وہیل کی حرکات کا مطالعہ کیا۔

گیا کہ وہیل یہ نغمے اپنے ساتھیوں کو متوجہ کرنے کے لیے گنگناتی ہیں جن کے ساتھ وہ کچھ وقت گزارنا چاہتی ہیں ان کا یہ طرز عمل انہیں نہ صرف دیگر وہیلز بلکہ ممالیہ جانوروں میں بھی منفرد مقام دلاتا ہے۔ پروفیسر کیٹے نے مشاہدہ کیا کہ یہ وہیل ہر سال اپنی ’ پکار‘ کے انداز میں تبدیلی لاتی ہیں اور ہم نے تین سال کے دوران 184 مختلف انداز کے مشاہدے کیے۔پروفیسر کیٹے کا کہنا تھا کہ وہیل ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے لیے کلاسیکل گلوگار کی طرح سُر اور لے پیدا کرتی ہیں گو یہ نغمے 2 منٹ کے دورانیے کے تھے لیکن یہ دورانیہ بار بار دہرایا جاتا تھا اور وہیل ہر بار یکساں طریقے سے گاتی ہیں۔ یوں تو پرندوں میں یہ انداز کافی عام ہے لیکن دیو ہیکل ممالیہ کا انداز انوکھا بھی ہے اور منفرد ہے۔

دہی کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر اورامراضِ قلب سے بچانے میں مددگار

دہی کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر اورامراضِ قلب سے بچانے میں مددگار
بدھ‬‮ 11 اپریل‬‮ 2018 | 18:23
ماہرین نے ایک بہت بڑے سروے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ دہی کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے بچاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، فالج اور امراضِ قلب کی بڑی وجہ ہے، اسی بنا پر اس کیفیت کو ’خاموش قاتل‘ کہا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب آبادی ہائی بلڈ پریشر کی شکار ہے تاہم دہی کا استعمال اس مرض کو قابو میں رکھتا ہے اور یوں دل کے متعدد امراض کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔ اس ضمن میں نرسز ہیلتھ اسٹڈی کی گئی جس میں 30 سے 35 برس کی 55 ہزار

برس کی 55 ہزار ایسی خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں بلند فشارِ خون کا عارضہ لاحق تھا جب کہ ساتھ ہی 40 سے 75 سال کے 18 ہزار مردوں کو بھی شامل کیا گیا اور کئی سال تک ان ہزاروں مردوزن کا جائزہ لیا گیا۔

1980 سے شروع کیے گئے اس سروے میں شرکا سے مختلف وقفوں میں 61 سوالات کیے گئے۔ اس دوران شرکا سے فالج، دل کے امراض اور دیگر کیفیات کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ ان میں سے جنہوں نے دہی کا باقاعدہ استعمال کیا تھا ان میں دل کے دورے کا خطرہ 30 فیصد تک کم دیکھا گیا جب کہ خواتین میں یہ شرح 19 فیصد تھی۔

اس سروے میں 3 ہزار 300 خواتین اور 2 ہزار 148 مردوں کو دل، قلبی رگوں یا فالج وغیرہ کا حملہ ہوا۔ سروے کے پورے عرصے میں جنہوں نے ہفتے میں دو مرتبہ دہی کھایا تھا ان میں یہ خطرات 20 فیصد تک کم دیکھے گئے۔ ماہرین کے مطابق اس اہم مطالعے سے دہی کی افادیت سامنے آئی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے اہم رکن جسٹن بیونڈیا کا کہنا ہے کہ اس سے قبل قیاس کیا جاتا رہا تھا کہ دہی بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے تاہم اب ہزاروں افراد پر کئے گئے 30 سالہ مطالعے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دہی جسم پر مفید اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ بلڈ پریشر میں مبتلا افراد پر دہی کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بلڈ پریشر میں دہی کا استعمال بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

چند ایسی غذائیں جو کبھی فریج میں سٹور نہ کریں

ہمارے ہاں مختلف غذائیں یہ سوچ کر فریج میں رکھ دی جاتی ہیں کہ اس طرح یہ تروتازہ رہیں گی جبکہ ان کا ذائقہ بھی برقرار رہے گا- تاہم لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ کئی غذاؤں کو فریج میں رکھنا فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس عمل سے یہ غذائیں اپنی افادیت یا ذائقہ کھو دیتی ہیں- وہ کونسی غذائیں ہیں جنہیں کبھی بھی فریج میں نہیں رکھنا چاہیے؟ آئیے جانتے ہیں:اگر آپ شہد کو اپنے گھر کے فریج میں رکھیں گے تو یہ ایک بےذائقہ اور دانے دار مواد

right;”>دانے دار مواد بےذائقہ اور دانے دار مواد میں تبدیل ہوجائے گا- شہد کے لیے بہتر ہے کہ اسے عام درجہ حرارت میں ہی رکھا جائے-پیاز کو فریج میں رکھنے سے نہ صرف یہ نرم پڑ جاتا ہے بلکہ اس کی بو آس پاس موجود دیگر غذاؤں میں بھی شامل ہوجاتی ہے- پیاز کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایسی کم روشنی والی جگہ پر رکھا جائے جہاں ہوا کا گزر ہو-سیب کو اگر طویل مدت کے لیے فریج میں رکھ دیا جائے تو وہ اپنا ذائقہ کھونے لگتے ہیں- سیب کو ہمیشہ نارمل درجہ حرارت میں رکھا جائے اور کھانے سے صرف 30 منٹ قبل فریج میں رکھیں٬ اس عمل سے سیب خستہ ہوجائے گا-آلوؤں کو فریج میں رکھنے سے اس کا ذائقہ خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود نشاستہ بھی ضائع ہوسکتا ہے- آلوؤں کو ہمیشہ پیپر بیگ میں رکھ کر ایسے مقام پر رکھیے جہاں ہوا اور کم روشنی کا گزر ہو-ٹماٹروں کو اگر فریج میں رکھ دیا جائے تو یہ اپنا ذائقہ کھونے لگتے ہیں اور ساتھ ہی یہ نرم بھی پڑنے لگتے ہیں- ٹماٹروں کو اگر تازہ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ہمیشہ نارمل درجہ حرارت میں ہی رکھیے-اکثر لوگ یہ سوچ کر ڈبل روٹی فریج میں محفوظ کر دیتے ہیں کہ تروتازہ رہے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈبل باہر کی نسبت فریج کے اندر زیادہ تیزی سے سوکھنے لگتی ہے- ڈبل روٹی کو ہمیشہ ایسے ڈبے میں رکھیے جہاں سے ہوا کا گزر ہو-مرچیں چاہے لال ہوں٬ ہری ہوں یا پھر پیلی

انہیں ہمیشہ پیپر بیگ میں رکھ کر کچن میں ہی چھوڑ دیجیے- اس طرح مرچیں تروتازہ اور افادیت سے بھرپور رہیں گی-لہسن کو بھی پیپر بیگ میں رکھ کر کم روشنی لیکن تازہہوا والی جگہ پر رکھ دیجیے٬ ہفتوں بعد بھی استعمال کریں گے تو ذائقہ پہلے روز والا ہی ملے گا- خشک میوہ جات کو بھی فریج میں رکھنے سے گریز کیجیے کیونکہ یہ خراب ہوسکتے ہیں یا پھر اپنی افادیت کھو سکتے ہیں-تازہ بیریز کی زندگی پہلے ہی بہت مختصر ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ انہیں فریج میں رکھنے کے بجائے خریداری کے بعد 1 سے 2 دن میں لازمی استعمال کر لیا جائے-نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

33سالہ کروڑ پتی شخص کو مرنے کے بعدکتنے کروڑ روپے کے سونے کے زیورات پہنا کر سونے کے تابوت میں لٹایا گیا؟

33سالہ کروڑ پتی شخص کو مرنے کے بعدکتنے کروڑ روپے کے سونے کے زیورات پہنا کر سونے کے تابوت میں لٹایا گیا؟
منگل‬‮ 10 اپریل‬‮ 2018 | 19:47
33سالہ کروڑ پتی شخص کو مرنے کے بعدسونے کے زیورات سے آراستہ کر کے تابوت میں لٹا یا گیا ۔ خبر کی تفصیل کے مطابق رائیل اسٹیٹ کے بزنس سے وابستہ شیرون سکھیڈ کو گزشتہ ہفتے ٹرینڈا ڈوٹوبا گو میں اس کے سسر کے گھر کے سامنے نامعلوم افراد قتل کر کے فرار ہو گئے تھے ۔ 33سال شخص کو 1لاکھ ڈالر مالیت کے سونے کے زیورات سے آراستہ کر کے سونے کے تابوت میں لٹایا گیا ۔ 1 لاکھ ڈالر مالیت کے سونے کے زیورات پہنا کر سونے کے تابوت میں لٹایا گیا۔ شیرون کو اس کے شاہانہ انداز

کے مطابق دنیا سے رخصت کیا گیا ۔ شیرون کے دو بچے تھے ، اسے تقریباً ایک لاکھ سے زائد مالیت کے سونے کے زیورات پہنا کر شمشان گھاٹ پہنچایا گیا ۔ یا درہے کہ شیرون کو جلانے سے قبل تمام زیورات کو اس کے جسم سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ مقامی پولیس شیرون کے قاتلوں کو تلاش کر رہی ہے جبکہ ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ نہیں آیا ۔

33سالہ کروڑ پتی شخص کو مرنے کے بعدکتنے کروڑ روپے کے سونے کے زیورات پہنا کر سونے کے تابوت میں لٹایا گیا؟

25 ایسی ملازمتیں جو آپ کو ایک سال میں کروڑ پتی بنا دیں گی

25 ایسی ملازمتیں جو آپ کو ایک سال میں کروڑ پتی بنا دیں گی
منگل‬‮ 3 اپریل‬‮ 2018 | 12:42
آج کل کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والا فرد اکثر یہ سوال کرتا ہے کہ متعلقہ ڈگری لے کر وہ کتنی کمائی کرسکے گا اور اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک اس کےلیے کیا مواقع موجود ہیں۔اگر آپ کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے اور آپ امریکا یا کینیڈا جا کر اچھی آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ تحریر ضرور پڑھنی چاہیے۔ یہاں یہ واضح رہنا بھی ضروری ہے کہ ذیل میں دیئے گئے شعبہ جات وہ ہیں جن میں افرادی قوت کی مانگ پر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد بھی

بھی کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

یعنی اگر آپ میں اتنی قابلیت ہے کہ ان میں سے کسی ملازمت کےلیے اہل قرار پا جائیں تو نہ صرف امریکی ویزہ کا حصول آپ کےلیے آسان ہوجائے گا بلکہ ممکنہ طور پر کینیڈا امیگریشن میں بھی آپ کےلیے خاصی سہولیات پیدا ہوجائیں گی۔یہ بھی واضح رہے کہ بالکل نئے اور ناتجربہ کار افراد کو ان شعبوں میں نسبتاً کم آمدنی ہی سے ابتداء کرنا ہوگی لیکن تجربے میں اضافے کے ساتھ ساتھ وہ جلد ہی اس سے بھی کہیں زیادہ آمدنی حاصل کرسکیں گے۔

1۔ ڈاکٹر سالانہ اوسط تنخواہ: 180, 000 ڈالر (ایک کروڑ 80 لاکھ روپے)

2۔ وکیل سالانہ اوسط تنخواہ: 144, 500 ڈالر (ایک کروڑ 44 لاکھ روپے)

3۔ ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 142, 120 ڈالر (تقریباً ایک کروڑ 43 لاکھ روپے)

4۔ سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 132, 000 ڈالر (ایک کروڑ 32 لاکھ روپے)

5۔ فارمیسی مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 130, 000 ڈالر (ایک کروڑ 30 لاکھ روپے)

6۔ اسٹریٹجی مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 130, 000 ڈالر (ایک کروڑ 30 لاکھ روپے)

7۔ سافٹ ویئر آرکٹیکٹ سالانہ اوسط تنخواہ: 128, 250 ڈالر (ایک کروڑ 29 لاکھ روپے)

8۔ انٹیگریٹڈ سرکٹ ڈیزائن انجینئر سالانہ اوسط تنخواہ: 127, 500 ڈالر (ایک کروڑ 28 کروڑ روپے تقریباً)

9۔ آئی ٹی مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 120, 000 ڈالر (ایک کروڑ 20 لاکھ روپے)

10۔ سولیوشن آرکٹیکٹ سالانہ اوسط تنخواہ: 120, 000 ڈالر (ایک کروڑ 20 لاکھ روپے)

11۔ انگیجمنٹ مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 120, 000 ڈالر (ایک کروڑ 20 لاکھ روپے)

12۔ ایپلی کیشن ڈیویلپمنٹ مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 120, 000 ڈالر (ایک کروڑ 20 لاکھ روپے)

13۔ فارماسسٹ سالانہ اوسط تنخواہ: 118, 000 ڈالر (ایک کروڑ 18 لاکھ روپے)

14۔ سسٹم آرکٹیکٹ سالانہ اوسط تنخواہ: 116, 920 ڈالر (ایک کروڑ 17 لاکھ روپے تقریباً)

15۔ فائنانس مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 115, 000 ڈالر (ایک کروڑ 15 لاکھ روپے)

16۔ ڈیٹا سائنٹسٹ سالانہ اوسط تنخواہ: 115, 000 ڈالر (ایک کروڑ 15 لاکھ روپے)

17۔ رِسک مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 115, 000 ڈالر (ایک کروڑ 15 لاکھ روپے)

18۔ کری ایٹیو ڈائریکٹر سالانہ اوسط تنخواہ: 115, 000 ڈالر (ایک کروڑ 15 لاکھ روپے)

19۔ ایکچوئری سالانہ اوسط تنخواہ: 115, 000 ڈالر (ایک کروڑ 15 لاکھ روپے)

20۔ ڈیٹا آرکٹیکٹ سالانہ اوسط تنخواہ: 113, 000 ڈالر (ایک کروڑ 13 لاکھ روپے)

21۔ ٹیکس مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 110, 000 ڈالر (ایک کروڑ 10 لاکھ روپے)

22۔ پروڈکٹ مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 107, 000 ڈالر (ایک کروڑ 7 لاکھ روپے)

23۔ ڈیزائن مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 106, 500 ڈالر (ایک کروڑ 7 لاکھ روپے تقریباً)

24۔ اینالیٹکس مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 106, 000 ڈالر (ایک کروڑ 6 لاکھ روپے)

25۔ انفارمیشن سسٹمز مینیجر سالانہ اوسط تنخواہ: 106, 000 ڈالر (ایک کروڑ 6 لاکھ روپے)

کھانسی کا سیرپ ’’سینکوس ‘‘ کا استعمال فوری طور پر روک دیں کیونکہ۔۔۔

کھانسی کا سیرپ ’’سینکوس ‘‘ کا استعمال فوری طور پر روک دیں کیونکہ۔۔۔
منگل‬‮ 10 اپریل‬‮ 2018 | 15:17
ملٹی نیشنل ادواساز کمپنی نوارٹس فارما نے کھانسی کے سیرپ’’سینکوس‘‘ کو مارکیٹ سے واپس اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور مریضوں کو دی جانے والی اس دوائی کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی ہے ۔ نجی ٹی وی چینل جیوز نیوز کے مطابق نوارٹس فارما کے ترجمان کی جانب سے یہ اعلان کیا گیاہے کہ کھانسی کے سیرپ کو مریض کہ نہ دیا جائے ۔سیرپ کو ایک کیمیکل کی ہیئت تبدیل ہونے پر مارکیٹ سے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ملٹی نیشنل کمپنی نوارٹس فارما کا کہناہے کہ صارفین استعمال شدہ سینکوس سیرپ بھی واپس کر سکتے

واپس کر سکتے ہیں،دوااحتیاطاًمارکیٹ سے واپس منگوائی جارہی ہے۔ادھر انڈسٹری ماہرین کا کہناتھا کہ دوا کی واپسی عالمی پریکٹس ہے،دوا ایک کیمیکل کی ہیئت تبدیل ہونے پر واپس ہورہی ہے۔

جنت سے کھانا منگوا کر حضرت فاطمہ نے دعوت دی

اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :

” ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ”
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
” ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ”
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ”
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :

” ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ”

ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :

” ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ”
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
” ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ”
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ”

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
” ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ”

ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
” ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ”
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر
ﻧﺎﻡ ﮐﺘﺎﺏ = ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿِّﺪﮦ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﺎتیں