بے نمازی کےساتھ دنیا میں کیا معاملہ ہو رہا ہے؟

حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نماز کو حقیر جانے گا اس کو الله تعالیٰ کی طرف سے پندرہ سزائیں ملیں گی، ﭽﮭ سزائیں زندگی میں، تین مرتے وقت، تین قبر میں اور تین روز حساب میں- زندگی کی ﭽﮭ سزائیں ١)۔۔۔ الله اس کی زندگی سے رحمتیں اٹھا لے گا- (اس کی زندگی بد نصیب بنا دے گا) ٢)۔۔۔ الله اس کی دعا قبول نہیں کرے گا- ٣)۔۔۔ الله اس کے چہرے سے اچھے لوگوں کی علامات مٹا دے گا- ٤)۔۔۔ زمین پر موجود تمام مخلوقات اس سے نفرت کریں گی-

کاموں کا صلہ نہیں دے گا-٦)۔۔۔ وہ اچھے لوگوں کی دعاؤں میں شامل نہیں ہو گا-مرتے ہوئے تین سزائیں١)۔۔۔ وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے-٢)۔۔۔ وہ بھوکا مرتا ہے-٣)۔۔۔ وہ پیاسا مرتا ہے- (اگرچہ وہ تمام سمندروں کا پانی پی لے، پیاسا ہی رہے گا)قبر میں تین سزائیں١)۔۔۔ الله اس کی قبر اتنی تنگ کردے گا جب تک اس کی پسلیاں ایک دوسرے کے اوپرنہ چڑھ جائیں-٢)۔۔۔ الله اسے چنگاریوں والی آگ میں انڈیل دے گا-٣)۔۔۔ الله اس پر ایسا سانپ بٹھائے گا جو ٰبہادر اور دلیرٰ کہلاتا ہے، جو اسے نماز فجر چھوڑنے پر صبح سے لے کر دوپہر تک ڈسے گا، نماز ظہر چھوڑنے پر دوپہر سے لے کر عصر تک ڈسے گا، اور اسی طرح ہر نماز چھوڑنے پر اگلی نماز تک ڈسے گا، ہر ضرب کے ساﺘﻬ ستر گز زمین کے اندر دھنسے گا-روز حساب کی تین سزائیں١)۔۔۔ الله اسے منہ کے بل جہنم میں بھیج دے گا جو جرم میں شامل ہو گا-٢)۔۔۔ الله اسے غصے سے دیکھے گا جس سے اس کے چہرے کا ماس گر جائے گا-٣)۔۔۔ الله اس کا سخت حساب لے گا اور اسے جہنم میں پھینکنے کا حکم دے گا-جو اپنی نمازوں کو ادا نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔فجر: ان کے چہرے کا نور ختم ہو جاتا ہے-ظہر: ان کی آمدنی

سے برکت اٹھا لی جاتی ہے-عصر: ان کے جسم کی مضبوطی اٹھا لی جاتی ہے-مغرب: انہیں اپنے بچوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا-عشاء: ان کی نیند سے سکون ختم ہو جاتا ہے

گیدڑ سنگهی کی حقیقت کیا ہے؟

گیدڑ سنگهی کی حقیقت کیا ہے؟

گیدڑ سنگهی دراصل گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانا (پهوڑا ) ہوتا ہے،جو کہ اسکے سر میں اپنی شاخیں پهیلاتا ہے اور ایک خاص حد تک بڑا ہونے کے بعد خود بخود جهڑ کر گر جاتا ہے،گرنے کے بعد بهی یہ جاندار رہتا ہے، اور اسے جادو ٹونے کرنے والے اٹها کر لے جاتے ہیں اور اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں. اسے سندور میں ہی رکها جاتا ہے، ورنہ اسکی بڑهوتری ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ یہ مر جاتا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ حالتوں میں ہوتا ہے .جادوگروں کے پاس شوہر یا محبوب یا سسرال والوں کو قابو کرنے کے خواہش مند خصوصاً محبت کا حصول چاہنے والے مرد و زن جب آتے ہیں تو انہیں ایک مخصوص رقم کے عوض یہ گیدڑ سنگهی دی جاتی ہے، گیدڑ

دی جاتی ہے، گیدڑ سنگهی کی ہمیشہ جوڑی ( نر اور مادہ ) ایک ساتھ رکهی جاتی ہے ورنہ بقول ان بدعقیدہ لوگوں کے یہ کام نہیں کرتی اور بےکار ہو جاتی ہے .اسکے علاوہ لوگ نعوذباللہ اسے شوقیہ گهر میں خیروبرکت کے لیے،روزگار کے حصول کے لیے،دولت میں اضافے کے لیے خریدتے ہیں اور بہت عقیدت سے اپنے پاس رکهتے ہیںگیدڑ سنگهی کے بال باقاعدہ بڑهتے ہیں اور انکی باقاعدگی، اور ایک خاص طریقے سے تراش خراش بهی کی جاتی ہے،

یہ تو تهی گیدڑ سنگهی کے بارے میں وہ معلومات اور عقائد،جو مجهے پتا چلے اور میں نے اپنا فرض جان کر آپ تک پہنچائے اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں کیا سچ ہے اور کیا جهوٹ، کیونکہ اللہ ہی سب سے بہتر علم رکهنے والا ہے محترم قارئین کرام اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگهی جیسی عجیب الخلقت چیز کو لوگوں کو فروخت کرتے ہیں وہ بهی اس دعوے سے کہ :” اسے رکهنے سے آپکے معاشی مسائل دور ہوں گے اور آپ کے گهر روپے پیسے کی ریل پیل ہو گی … ” تو کیا ان لوگوں کی خود کی رہائش اور حلیے دیکھ کر بهی لوگوں کو عقل نہیں آتی …؟ اورانکے ذہنوں میں یہ سوال نہیں ابھرتا کہ فروخت کرنے والے کے پاس تو نجانے کتنی تعداد میں انکی جوڑیاں موجود ہیں پهر وہ کیوں ابهی تک خالی ہاتھ ہیں ان خالی الذہن لوگوں کو کوئی بتائے کہ یہ بهی بڑا شرک ہے کہ:

تم اللہ کے ہوتے ایک ڈرپوک جانور کے جسم سے خارج ہوئے پهوڑے کو اپنا مشکل کشا مانتے ہو … “اللہ تعالٰی اصلاح فرمائے ایسی سوچ رکھنے والوں کی، کہ پهر ہندوؤں اور انکے درمیان فرق کیا رہ گیا …؟فقط دن میں پانچ وقت زمین پر ٹکریں مارنے کا …؟جبکہ ان بدنصیبوں کو تو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے گهر کی خوشیاں ، خیروبرکت اور رونق اس بد شکل شے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے دلی سے ہی سہی لیکن پانچ وقت رٹی رٹائی سورتیں ، آئیتں پڑهنے اور زمین پر سجدہ کرتے وقت سبحان ربی اعلیٰ کہنے کی ہی بدولت ہیں …! کاش کہ مجھ سمیت ہم سب کو عقل آسکے اور اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانان عالم کو بھلائی و ہدایت عطا فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے … آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین …

٧ لوگ ایسے ہیں جو الله کریم کو بہت پسند ہیں

٧ لوگ ایسے ہیں جو الله کریم کو بہت پسند ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس روز (یعنی قیامت کے دن) اپنے سائے میں رکھے گا جس روز اللہ کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا . انصاف کرنے والا حاکم۔ وہ جوان جو اپنی جوانی کو اللہ کی محبت میں صرف کر دے۔ وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو جب تک وہ دوبارہ مسجد میں نہیں چلا جاتا اس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے۔ وہ دو آدمی جو محض اللہ کے لئے آپس میں محبت رکھتے ہیں اگر یکجا ہوتے ہیں تو اللہ کی عبادت میں اور جدا ہوتے ہیں تو اللہ کی محبت میں یعنی حاضر و غائب خالص لوجہ اللہ محبت رکھتے ہیں۔ وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور (خوف اللہ سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ وہ آدمی جس کو کسی شریف النسب اور حسین عورت نے (برے ارادے سے) بلایا اور اس نے (اس کی خواہش کے جواب میں) کہہ دیا ہو کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔وہ آدمی جس نے اس طرح مخفی طور پر صدقہ دیا ہو کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ معلوم ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ یہ وو لوگ ہیں جو الله رب الکریم کو بے حد پسند ہیں.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس روز (یعنی قیامت کے دن) اپنے سائے میں رکھے گا جس روز اللہ کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا . انصاف کرنے والا حاکم۔ وہ جوان جو اپنی جوانی کو اللہ کی محبت میں صرف کر دے۔ وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو جب تک وہ دوبارہ مسجد میں نہیں چلا جاتا اس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے۔ وہ دو آدمی جو محض اللہ کے لئے آپس میں محبت رکھتے ہیں اگر یکجا ہوتے ہیں تو اللہ کی عبادت میں اور جدا ہوتے ہیں تو اللہ کی محبت میں یعنی حاضر و غائب خالص لوجہ اللہ محبت رکھتے ہیں۔ وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور (خوف اللہ سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ وہ آدمی جس کو کسی شریف النسب اور حسین عورت نے (برے ارادے سے) بلایا اور اس نے (اس کی خواہش کے جواب میں) کہہ دیا ہو کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔وہ آدمی جس نے اس طرح مخفی طور پر صدقہ دیا ہو کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ معلوم ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ یہ وو لوگ ہیں جو الله رب الکریم کو بے حد پسند ہی

خانہ کعبہ پر حملہ ہوااورسعودی اور فرنچ آرمی ناکام ہو گئی تو

خانہ کعبہ پر حملہ ہوااورسعودی اور فرنچ آرمی ناکام ہو گئی تو

1979میں جب خانہ کعبہ پر شدت پسندوں نےحملہ کیا تو سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیااور خانہ کعبہ کے دفاع کیلئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیاگیا اور درخواست کی کہ پاکستان خانہ خدا کے دفاع کیلئے اقدامات کرے جس پر جنرل ضیاء الحق نے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا اور اسے حرم کی پاسبانی کیلئے بھیجا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس دستے کی کی قیادت اس وقت میجر پرویز مشرف کر رہے تھے ۔انہوں نے آپریشن سے پہلے کعبہ کی حرمت لیے جوانوں کو جان دینے پر آمادہ کیا ۔ نہایت کم وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی ۔ پاکستانی کمانڈوزنے دہشت گردوں کے سنائپرز سے نمٹنے کے لیے ایک عجیب ترکیب استعمال کی اور پورےمسجدالحرام میں پانی چھوڑا گیا ۔ پھر اس دستے کے کمانڈر نے سعودی حکومت سے فرمائش کی کہ ان کے جوانوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے مسجد میں جگہ جگہ ڈراپ کیا جائے ۔سعودی حکومت نے اس میں لاحق شدید خطرے اور حیرت کا اظہار کیا لیکن پاک آرمی کے اصرار پر انہیں مسجد میں گرایا جانے لگا ۔ جس وقتانہٰیں مسجد میں گرایا گیا اسی وقت پوری مسجد کی گیلی زمین میں کرنٹ چھوڑا گیا جسکی وجہ سے

دہشت گردوں کے شارپ شوٹرز اور سنائپرز کچھ دیر کے لیے غیر مؤثر ہوگئے ۔ پاک فوج نے غیر معمولی سرعت سے تمام دہشت گردوں پر قابو پالیا اور سب کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی۔اس طرح اللہ تعالی نے یہ عظیم سعادت پاکستان کو عطا کی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے۔آمین

اسپغول کے فوائد جن سے آپ واقف نہیں

اسپغول کے فوائد جن سے آپ واقف نہیں

اسپغول کا استعمال عام طور پر پیٹ کے امراض کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی غذا یا دوا ہے جسے لوگ بلاجھجک استعمال کرتے ہیں- لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اسپغول کو پیٹ کے امراض کے علاوہ بھی کئی بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے- اسپغول کا نام فارسی کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ایک لفظ ’’اسپ‘‘ یعنی گھوڑا اور دوسرا ’’غول‘‘ یعنی کان۔ گویا گھوڑے کا کان یعنی اس دوا کی شکل گھوڑے کے کان سے ملتی ہے۔ فارسی کا یہ نام اس قدر ہوا کہ برصغیر میں بھی سب اسے اسپغول کے نام سے پکارا جانے لگا۔اسپغول کا پودا ایک گز بلند ہوتا ہے اور ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں۔ سرخ رنگ اور سفیدی مائل چھوٹے بیج ہوتے ہیں جسے اسپغول کہتے ہیں۔ ذائقہ میں پھیکا ہوتا ہے اور منہ میں ڈالنے پر لعاب پیدا کرتا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ اسپغول کا اصل وطن ایران ہے۔ اگرچہ درست ہو مگر دنیا میں اکثر جگہوں پر یہ خودرو پیدا ہوتا ہے۔ عرب میں بھی اس کو پایا گیا ہے۔اسپغول پر کی جانے والی تحقیقکے مطابق اسپغول کے بیجوں میں فیٹس یعنی حشمی روغن پایا جاتا ہے۔

زلالی مادہ اور فالودہ نما جیلی جیسا لعاب ہے۔ دراصل یہ لعاب ہی وہ مادہ ہے جو انسانی جسم میں بیماری کے خلاف اپنا اثر دکھاتا ہے۔اس لعاب کی ایک حیرت انگیز مثال یہ ہے کہ انسانی جسم میں چوبیس گھنٹے تیزاب یعنی ہائڈروکلورک ایسڈ جیسے تیز اثر تیزاب اور لیلیے کے تیزاب میں رہنے کے باوجود اسپغول کے لعاب کا برائے نام حصہ ہضم ہوتا ہے اور تمام ہضم کے عمل کے درجات کو طے کرتا ہوا بڑی آنت میں موجود جراثیم پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان کوکولونائزیشن کو منجمد کردیتا ہے-ان تیزابوں کی اثرانگیزی اس پر کچھ اثر نہیں کرتی اور پھر آگے جاکر یہ لعاب یعنی جیلی ان جرثوموں مثلاً مبسی لس شیگا‘ سیسی لس فلیکس نر‘ سینسی لس کولائی اور سیسی کرکالر ابھی اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسپغول کا لعاب چھوٹی آنت کی کیمیائی خمیرات کا زیادہ اثر نہیں لیتا اور نہ معدے کے کرشمات کا اثر لیتا ہے اور نہ بڑی آنت میں موجودجراثیم اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔یہ لعاب آنتوں کے زخموں اور خراشوں پر بلغمی تہہ چڑھا دیتا ہے اور بیکٹیریا کے نشوونما کو احسن طریقہ سے روک دیتا ہے اور جو زہریلے مواد جو ان بیکٹیریا کی موجودگی سے پیدا ہوتے ہیں ان کو جذب کرلیتا ہے۔اسپغول کے بارے میں جو اطباء رائے رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ دوسرے درجے کا سرد ہے اور بعض کے نزدیک تیسرے درجے کا سرد ہے۔

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ! ﮐﯿﻮﮞ؟ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﮑﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﺸﻠﺴﭧ ﺗﮭﮯ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭘﻤﭗ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻥ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺅﭦ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺧﻮﻥ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺜﻼ ﺗﯿﻦ

ﻣﻨﺰﻟﮧ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻤﭗ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﭘﻤﭗ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﻤﭗ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺜﻼ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ، ﻟﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ، ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﺳﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺧﻮﻥ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺩﯾﻦ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﺟﺪﯾﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ :43 ﻭَﺃَﻗِﻴﻤُﻮﺍ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗُﻮﺍ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﺍﺭْﻛَﻌُﻮﺍ ﻣَﻊَ ﺍﻟﺮَّﺍﻛِﻌِﻴﻦَ
:43 ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮٰﺓ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ) ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ( ﺟﮭﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮﻭ ﻭَﺍﺳْﺘَﻌِﻴﻨُﻮﺍ ﺑِﺎﻟﺼَّﺒْﺮِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ۚ ﻭَﺇِﻧَّﻬَﺎ ﻟَﻜَﺒِﻴﺮَﺓٌ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﺨَﺎﺷِﻌِﻴﻦَ :45 ﺍﻭﺭ ) ﺭﻧﺞ ﻭﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ( ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﮔﺮﺍﮞ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ) ﮔﺮﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ( ﺟﻮ ﻋﺠﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ

ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﺍﺫْﻛُﺮُﻭﺍ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺫِﻛْﺮًﺍ ﻛَﺜِﻴﺮًﺍ

:41 ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ

:42 ﻭَﺳَﺒِّﺤُﻮﻩُ ﺑُﻜْﺮَﺓً ﻭَﺃَﺻِﻴﻠًﺎ

:42 ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ
ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﻳَﻌْﻤُﺮُ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻣَﻦْ ﺁﻣَﻦَ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﻭَﺃَﻗَﺎﻡَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗَﻰ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﺨْﺶَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪَ ۖ ﻓَﻌَﺴَﻰٰ ﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﺃَﻥْ ﻳَﻜُﻮﻧُﻮﺍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﻬْﺘَﺪِﻳﻦَ

:18 ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮﺓ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ) ﺩﺍﺧﻞ ( ﮨﻮﮞ

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

نبی کریمؐ کو کائنات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا، آپ نہ صرف احکامات خداوندی قیامت تک کے انسانوں کیلئے دے کر بھیجے گئے بلکہ آپ کی ذات اطہر و طاہر کو سرتاپا رحمت بنا دیا گیا، آپ نے قیامت تک آنیوالی انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کو نہ صرف انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کے مصائب و آلام دور کرنے کیلئے شریعت کے بتائے طریقوں کو اپنانے کا درس دیا۔ نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کامفہوم ہے کہ ’’جوشخص صبح و شام تین تین مرتبہ سورہ اخلاص، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھےگا وہ

الناس پڑھےگا وہ ہر طرح کے مصائب اور رنج و غم سے محفوظ رہے گا۔‘‘آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں ہر انسان ذہنی پریشانی، بے سکونی میں مبتلا ہے تو ایسے میں اس حدیث میں نبی کریمؐ کے بتائے ہوئے طریقے سے نہ صرف دلی سکون، ذہنی آسودگی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ جادو، حسد اور شریروں کی شرارتوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

سورہ اخلاص

سورہ الفلق

سورہ الناس

اللہ نے” عصر کی قسم “کیو ں کھائی اورکیوں فرمایا؟ انسان خسارے میں ہے

اللہ نے” عصر کی قسم “کیو ں کھائی اورکیوں فرمایا؟ انسان خسارے میں ہے
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 16:51
میں نے عرض کیا ’’خواجہ صاحب سائنس نے کمال کر دیا ہے ٗ قدرتی آفتیں اور بیماریاں انسان کے دو بڑے مسئلے ہیں ٗ سائنس ان دونوں کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے ٗ اب وہ وقت دور نہیں جب انسان آفتوں اور عذابوں کے ہاتھ سے نکل آئے گا‘‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے ٗ وہ نرم آواز میں بولے ’’مثلاً سائنس نے کیا کر دیاہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر زلزلے ٗ آتش فشاں ٗ آندھیاں ٗ طوفان اور سیلاب پانچ بڑی آفتیں ہیں ٗ سائنس نے ان آفتوں کی پیش گوئی کا سسٹم بنا

لیا ہے ٗسائنس دانوں نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ہے جو آتش فشاں کے پیندے میں چلا جاتا ہے اور وہاں آنے والی تبدیلیاں نوٹ کر لیتاہے ٗ ماہرین یہ تبدیلیاں دیکھ کر پیشن گوئی کر سکیں گے فلاں آتش فشاں فلاں دن اور فلاں وقت ابل پڑے گا ٗ اس سسٹم کے بعد آتش فشاں کے قریب آباد لوگ وہاں سے بروقت نقل مکانی کر جائیں گے ٗ یوں بے شمار لوگوں کی جانیں اور املاک بچ جائیں گی‘‘ خواجہ صاحب سکون سے سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’زلزلے کے ماہرین نے ایک ایسی سلاخ بنائی ہے جو زمین کی تہہ میں پچاس ساٹھ کلومیٹر نیچے چلی جائے گی ٗیہ زمین کے اندرموجود پلیٹوں کی حرکت نوٹ کرے گی اب جونہی کسی پلیٹ میں کسی قسم کی حرکت ہوگی ماہرین زلزلے سے کہیں پہلے زلزلے کی شدت ٗ اس کے مرکز اور اس سے متاثر ہونے والے علاقے کا تخمینہ لگا لیں گے ٗ ماہرین اس علاقے کے لوگوں کوبروقت مطلع کردیں گے لہٰذا وہ لوگ زلزلے سے پہلے گھروں اور دفتروں سے باہر آ جائیں گے ٗ یوں ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی ٗ ماہرین نے عمارتوں کے ایسے ڈھانچے بھی بنا لئے ہیں جو ساڑھے نو درجے کی شدت سے آنے والے زلزلے میں بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب زلزلے آئیں گے لیکن لوگ اطمینان سے اپنے معمول کے کام کرتے رہیں گے ‘‘ خواجہ صاحب بڑی توجہ سے میری بات سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’بیماریاںانسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں ٗ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے ہمارے جینز میں ساڑھے چار ہزار بیماریاں ہوتی ہیں ٗ ہر بیماری کا ایک الگ جین ہوتا ہے ٗ سائنس دانوں نے اڑھائی ہزار مہلک بیماریوں کے جینز تلاش کر لئے ہیں لہٰذا اب وہ وقت دور نہیں جب سائنس دان تکلیف شروع ہونے سے پہلے کسی شخص کا معائنہ کریں گے ٗ اس میں پروان چڑھنے والے جینز دیکھیں گے ٗ ان جینز کو صحت مند جینز کے ساتھ بدل دیں گے اور مریض مرض کے حملے سےپہلے ہی صحت مند ہو جائے گا ٗ انسانی کلوننگ کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے ٗ اگلے دس بیس برس میں انسان مرنے سے پہلے دوبارہ جنملینا شروع کر دے گا‘‘ خواجہ صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا ٗ میں نے عرض کیا ’’اس طرح سائنس دانوں نے آندھیوں ٗ طوفانوں اور سیلابوں کی پیدائش کے مراکز بھی تلاش کر لئے ہیں ٗ ماہرین کا کہنا ہے اگر ان آفتوں کے مراکز تباہ کر دئیے جائیں تو یہ آفتیں پیدا نہیں ہونگیں ٗ سائنس دان ایسے آلے بنا رہے ہیںجو ان ہواؤں ٗ ان پانیوں اور ان موجوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیں گے جو اکٹھی ہوکر آندھی ٗ سیلاب اور طوفان بنتی ہیں چنانچہ اگلے بارہ برسوں میں انسان ان تینوں آفتوں پر بھی قابو پا لے گا لہٰذا خواجہ صاحب آنے والا وقت انسان کے لئے بڑا آئیڈیل ہوگا ٗ دنیا میں انسان کے لئے کوئی چیلنج نہیں ہو گا ٗ لوگ مطمئن ٗ آرام دہ اور سکھی زندگی گزاریں گے‘‘خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور مجھے میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ کر بولے ’’تم بڑے بے وقوف ہو ٗیہ قدرتی آفتیں اتنی بڑی دشمن نہیں ہیں جتنا بڑا انسان ٗانسان کا دشمن ہے۔ آج تک انسان نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان پچھلے دس ہزار سال میں قدرتی آفتیں مل کر نہیں پہنچا سکیں ٗ تم یہ دیکھ لو 8 اکتوبر کے زلزلے میں جتنے لوگ مارے گئے تھے اس سے پانچ گنا زیادہ لوگ ہماری سڑکوں پر پچھلے ساٹھ برسوں میں حادثوں میں مارے گئے ہیں ٗ ہر سال ہمسایوں کے ہاتھوں جتنے ہمسائے قتل ہوتے ہیں ٗجتنے بیٹے اپنے باپ قتل کرتے ہیں ٗ آشناؤں کےہاتھوں جتنے خاوند مارے جاتے ہیں ٗ جتنے خاوند اپنی بیویوں کو قتل کرتے ہیں ٗ ڈاکوؤں کے ہاتھوں جتنے راہگیر مارے جاتے ہیں اور جتنے دوست ہر سال دوستوں کو قتل کرتے ہیں ٗ یہ ساری ہلاکتیں قدرتی آفتوں سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں ٗ بش جیسے لوگ اپنی انا کی تسکین کے لئے جتنے لوگ مار دیتے ہیں ٗ دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنے لوگ مارے جاتے ہیں ٗ کشمیر ٗ فلسطین ٗ افغانستان ٗ سری لنکا ٗ عراق اور چیچنیا میں انسانوں کے ہاتھوں جتنےانسان مارے جاتے ہیں ٗ گورے کے ہاتھوں جتنے کالے مارے جاتے ہیں اور سرخ رو انسان جتنے پیلے انسانوں کو قتل کرتے ہیں یہ تعداد قدرتی آفتوں کا لقمہ بننے والے انسانوں سے کہیں زیادہ ہے ٗ ناگاساگی پر بم کس نے پھینکا تھا ٗ ایک انسان نے ٗ اس کا نشانہ کون بنے دوسرے انسان ٗ دوسری اور پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی تھی ٗ ایک انسان نے ٗ اس جنگ کا لقمہ کون بنے ٗ دوسرے انسان ٗ کوریا کی جنگ کس نے چھیڑی تھی ٗ ویتنام پر حملہ کس نے کیا تھا ٗروس افغانستان جنگ کس نے شروع کی تھی ٗ افغانستان اور عراق پر حملہ کس نے کیاتھا؟ انسان نے ٗ اور ان جنگوں سے کس کو نقصان پہنچا ٗ انسان کو؟ بارہ اکتوبر کا واقعہ کس کا کمال تھا؟ انسان کا اور اس کا نقصان کس کو پہنچا؟ انسان کو؟ اس دنیا میں بھائی کے ہاتھوں بھائی اور دوست کے ہاتھوں دوست مارا جاتا ہے لہٰذا انسان کا سیلابوں ٗ طوفانوں اور بیماریوں سے مقابلہ نہیں ٗ انسان کا انسان سے مقابلہ ہے اور جب تک انسان کی شرست میں تبدیلی نہیں آتی ٗیہ دنیا دارِامن نہیں بن سکتی ٗ اس زمین پر تخریب کا عمل جاری رہے گا‘‘میں خواجہ صاحب کی بات غور سے سنتا رہا ٗ انہوں نے فرمایا ’’انسان ٗ انسان سے خائف ہے ٗ وہ جب بھی ذرا سا خوشحال ہوتا ہے ٗ اسے جب بھی ذرا سا اقتدار یا اختیار ملتا ہے ٗ وہ جب بھی ذرا سی کامیابی پاتا ہے تو وہ دوسرے انسان کو تکلیف دینا شروع کر دیتا ہے ٗ وہ آم کھا کر گٹھلیاں ہمسائے کے گھر پھینک دے گا ٗ وہ دو لاکھ کا کتا خریدے گا اور یہ کتا دوسرے کے دروازے پر باندھ دے گا ٗ وہایٹم بم بنا کر چاہے گا ساری دنیا اس کے قدموں میں جھک جائے ٗ وہ بادشاہ کا مصاحب بن کر چاہے گا سب لوگ اسے سلام کریں ٗ سب لوگ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں ٗاب دوسری طرف بھی انسان ہوتا ہے ٗ اس کے اندر بھی وہی خون ٗ وہی انا اور وہی ہٹ دھرمی ہوتی ہے لہٰذا انسان انسان کے ساتھ ٹکرا جاتا ہے اورآخر میں دونوں فنا ہو جاتے ہیں ٗ انسان کی انسان کے ساتھ جنگ میں پورس بھی مارا جاتا ہے اور سکندر بھی ٗ دونوں خسارے میں رہتے ہیں ٗیہ اس زمین کا قانون ہے لہٰذا انسان جب تک مقدونیہ ٗ سمرقند اور واشنگٹن کے اقتدار تک محدود نہیں رہتا ٗ وہ جب تک دوسرے انسان پر حکمرانی کی خواہش ختم نہیں کرتا ٗ وہ جب تک دوسرے لوگوں سے چھیڑ چھاڑ بند نہیں کرتا اس وقت تک انسان کے ہاتھوں انسان مارا جاتا رہے گا ٗ اس وقت تک اس زمین پر امن نہیں ہوگا‘‘ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا ٗ انہوں نے فرمایا ’’سائنس دانوں کو قدرتی آفتوں کی بجائے انسانی شرست کا کوئی علاج دریافت کرنا چاہئے ٗانہیں کوئی ایسی دوا ایجاد کرنی چاہئے جسے کھانے کے بعد صدر بش اور صدام حسین کی انا پر سکون ہو جائے اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکرانا بند کر دیں ٗ جسے کھانے سے صدر پرویز مشرف اور نواز شریف کے اختلافات ختم ہو جائیں اور دونوں خود کو کمزور اور چند سانسوں کے مہمان انسان سمجھ لیں ٗ جسے کھانے سے طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کو تسلیم کرلیں ٗ جسے کھانے سے ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی آزادی اور زندہ رہنے کا حق مان لیں ٗجسے کھانے سے انسان انسان کو معاف کر دے اور جسے کھانے سے انسان انسان سے ٹکرانا بند کر دے‘‘ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا ٗ انہوں نے فرمایا ’’یقین کرو ایک جنگل میں دو شیر سکون اور آرام سے رہ سکتے ہیں لیکن ایک چھت کے نیچے دو انسان لڑے ٗٹکرائے اور مرے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ٗ شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا عصر کی قسم انسان خسارے میں ہے‘‘

حضور ﷺکا ایسا معجزہ جس کو پڑھ کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا

حضور ﷺکا ایسا معجزہ جس کو پڑھ کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 11:44
نبی آخر الزماں حضرت محمد ؐکو اللہ تعالیٰ نے بے شمار معجزات عنایت فرمائے ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لئے روشنی اور ہدایت کا ذریعہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ایک ایسا ہی معجزہ اس وقت دیکھا گیا جب آپ ? تقریباً 1500 صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے ساتھ سفر فرمارہے تھے اور راستے میں پانی کی شدید قلت واقع ہوگئی۔ پانی نہ ملنے کی وجہ سے وضو کرنا بھی ممکن نہ رہا، جبکہبہت سارے صحابہ کو پیاس نے بے حال کر رکھا تھا۔ اس موقع پر آپ ؐ نے حکم فرمایا کہ جو پانی بچا

وہ پیش کریں۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مشکیزہ لے کر آئے جس میں چند قطرے باقی تھے۔ آپ ؐ نے مشکیزے کے منہ پر ہاتھ رکھا اور ایک بڑا پیالہ لانے کو کہا۔ اس کے بعد مشکیزے سے پانی یوں رواں ہوا کہ 1500 افراد نے سیر ہوکر پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ جہاں چند بوند پانی میسر نہ تھا وہاں اب منظر یہ تھا کہ کسی کو پانی کی حاجت باقی نہ رہی تھی۔اسی طرح مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد آپؐ ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پر مقیم تھے اور آپ ؐ کے لئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے کھانا تیار کیا گیا تھا۔ آپ ? نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحکم دیا کہ مدینہ کے 30افراد کو بھی مدعو کرلیں۔ انہیں متفکر پا کر آپ نے دوبارہ یہی حکم فرمایا، جس کی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً تعمیل کی۔ 30 مہمانوں کی آمد کے بعد دو افراد کے لئے تیار کیا گیا کھانا ان کے سامنے پیش کردیا گیا، مگر اس میں ایسی برکت پیدا ہوئی کہ تمام لوگوں نے کھایا اور یہ کھانا ابھی باقی تھا۔ اس کے بعد مزید 60 افراد نے کھانا کھایا، یہ ختم نہ ہوا، تو مزید 90 افراد نے کھایا، اور تب بھی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر والوں کے لئے کھانا موجود تھا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر بھی ایک ایساہی روح پرور منظر دیکھنے میں آیا۔ اسلامی لشکر کے پاس خوراک کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔آپ ؐنے فرمایا کہ جس کے پاس جو کچھ بچا ہے وہ لے آئے۔ ایک چٹائی بچھادی گئی اور اس پر بچی کھچی کھجوریں رکھ دی گئیں، جن کی کل مقدار چار مٹھی سے زیادہ نہ تھی۔ آپ نے اس موقع پر دعا فرمائی اور حکم دیا کہ ہر کوئی آئے اور اپنی بھوک مٹائے۔ پورے لشکر میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا کہ جو خالی ہاتھ تھا، سب نے اپنی ضرورت کےمطابق کھجوریں لیں، مگر چٹائی پر اب بھی کھجوریں موجود تھیں۔ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا، ’’جس طرح یہ برکت نازل ہوئی، اس سے مجھے محسوس ہوا کہ اگر تمام دنیا بھی آجاتی تو یہ کھانا اس کے لئے کافی ہوتا۔

رمضان المبارک میں مسجد الحرام میں اعتکاف، پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، سعودی حکومت نے اہم اعلان کر دیا

رمضان المبارک میں مسجد الحرام میں اعتکاف، پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، سعودی حکومت نے اہم اعلان کر دیا
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 13:42
حرمین شریفین کی اعلیٰ انتظامیہ نے مسجد الحرام میں اعتکاف کے خواہشمندوں سے 15شعبان سے درخواستیں طلب کرلیں۔سعودی میڈیا کے مطابق درخواستیں حرمین انتظامیہ کی جنرل پریذیڈنسی کی ویب سائٹ کے ذریعے لی جائیں گی۔ 15رمضان درخواست دینے کی آخری تاریخ ہو گی۔16 رمضان سے 20رمضان تک اعتکاف کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ اعتکاف کا سلسلہ 19سے ماہ رمضان کے آخر تک جاری رہے گا۔ انتظامیہ نے توجہ دلائی ہے کہ اندراج کا تعلق مرد حضرات سے ہے۔ اعتکاف کے امیدوار مسجد الحرام کے گیٹ نمبر 119کے سامنے قائم خصوصی کیبن کی خدمات سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔