جنات سے حفاظت

جنات سے حفاظت
جمعہ‬‮ 13 اپریل‬‮ 2018 | 16:30
ایک مرتبہ حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! میں اپنے بستر پر سوتاہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آوا زجیسی آواز سنتاہوں اورشہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ جیسی بھنبھناہٹ سنتا ہوں اور بجلی کی چمک جیسی چمک دیکھتاہوں.پھر جب میں گھبرا کر اور مرعوب ہوکر سراٹھاتاہوں تو مجھے ایک (کالا)سایہ نظر آتاہے جو بلند ہوکر میرے گھر کے صحن میں پھیل جاتاہے . پھر میں اس کی طرف مائل ہوتاہوں اوراس کی جلد چھوتا ہوں تو اس کی جلد سیہہ( ایک جانور ہے جس کے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں )کی جلد

)کی جلد کی طرح معلوم ہوتی ہے .وہ میری طرف آگ کے شعلے پھینکتا ہے میرا گمان ہوتا ہے کہ وہ مجھے بھی جلادے گا اورمیرے گھر کو بھی .تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’اے ابو دجانہ !تمہارے گھرمیں رہنے والا برا(جن) ہے رب کعبہ کی قسم !اے ابو دجانہ! کیا تم جیسے کو بھی کوئی ایذا دینے والا ہے ؟‘‘پھر فرمایا:’’ تم میرے پاس دوات اورکاغذ لے آؤ.‘‘ جب یہ دونوں چیزیں لائی گئیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو حضرتِ سیِّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا اور فرمایا:’’اے ابوالحسن! جو میں کہتا ہوں لکھو .‘‘حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:’’ کیا لکھوں ؟‘‘حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدِ رَّسُوْلِ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَo اِلٰی مَنْ یَّطْرُقُ الدَّارَ مِنَ العُمَّارِ وَالزُّوَّارِ اِلَّا طَارِقًا یَّطْرُقُ بخَیْرِ اَمَّا بَعْد فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَاعَۃً فَاِنْ کُنْتَ عَاشِقًا مُّوْلِعًا اَوْفَاجِرًا فَہٰذَا کِتَابٌ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَعَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ o اُتْرُکُوْا صَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَانْطَلِقُوْا اِلٰی عَبَدَۃِ الْأَصْنَامِ وَاِلیٰ مَنْ یَّزْعَمُ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَلَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَo کُلُّ شَیْ ئٍ ھٰالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ حٰمٓ لَایُنْصَرُوْنَ حٓمٓ عٓسٓقٓ تَفَرَّقَ اَعْدَ ائُ اللّٰہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِااللّٰہِ الْعَلِّیِ الْعَظِیْمِ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ o حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں نے اس خط کو لیا اورلپیٹ لیا اوراپنے گھر لے گیا اوراپنے سرکے نیچے رکھ کر رات اپنے گھر میں گزاری تو ایک چیخنے والے کی چیخ سے ہی میں بیدار ہوا جو یہ کہہ رہا تھا:’’ اے ابو دجانہ !لات وعزی کی قسم ان کلمات نے ہمیں جلاڈالا تمہیں تمہارے نبی کا واسطہ اگر تم یہ خط مبارک یہاں سے اٹھا لو تو ہم تیرے گھر میں کبھی نہیں آئیں گے .‘‘اورایک روایت میں ہے کہ ہم نہ تمہیں ایذا دیں گے نہ تمہارے پڑوسیوں کو اورنہ اس جگہ پر جہاں یہ خط مبارک ہوگا. حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں : ’’ میں نے جواب دیا مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے واسطہ کی قسم میں اس خط کو یہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اس کی اجازت نہ حاصل کرلوں .

حضرت ابو دجانہ فرماتے ہیں رات بھر جنوں کی چیخ وپکار اور رونا دھونا جاری رہا .جب صبح ہوئی تو میں نے نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ادا کی اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی جو میں نے رات میں جنوں سے سنی تھی اورجو میں نے جنوں کو جواب دیا تھا . حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’ اے ابو دجانہ !(وہ خط اب تم )جنوں سے اٹھا لو قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بناکر بھیجا وہ جن قیامت تک عذاب کی تکلیف پاتے رہیں گے.‘‘ (دلائل النبوۃ،کتاب جماع ابواب نزول الوحی…الخ،ج۷،ص۱۱۸)

سورۃ اخلاص پڑھنے کے فوائد

سورۃ اخلاص پڑھنے کے فوائد

حادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،ان میں سے تین اَحادیث اور ایک وظیفہ یہاں درج ذیل ہے۔ (1) …حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکو یہ بات مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ

ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل ہو اللّٰہ احد،۳/۴۰۷، الحدیث: ۵۰۱۵)

(2) …حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَنے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا،وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اس سے پوچھو کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا:یہ سورت رحمن کی صفت ہے اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔( بخاری، کتاب التّوحید، باب ماجاء فی دعاء النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم… الخ، ۴/۵۳۱، الحدیث: ۷۳۷۵)

(3) …حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،ایک شخص نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی کہ’’ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ارشاد فرمایا’’ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص، ۴/۴۱۳، الحدیث: ۲۹۱۰)

(4) …تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے اور اگر گھر خالی ہو تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو سلام کرے اور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُپڑھ لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّفقرو فاقہ سے محفوظ رہے گا (صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶/۲۴۵۰، ملخصاً) اور یہ بہت مُجَرّب عمل ہے۔

دولتمند اور امیر ہونے کا وظیفہ

دولتمند اور امیر ہونے کا وظیفہ

اگر آپ تنگ دستی اور رزق میں کمی کا شکار ہیں تو ہم آپ کو یہاں نہایت مجرب عمل بتانے جا رہے ہیں جس کے کرنے سے نہ صرف آپ مالا مال ہو جائیں گے بلکہ رزق میں برکت کےدروازے بھی آپ پر کھول دئیے جائیں گے۔ وظیفے پر عمل کرنے سے پہلے ان چند باتوں کا خاص خیال رکھیں، پانچ وقت نماز کی ہر حال میں پابندی کریں،

تمام انسانوں اور کلمہ گو سے محبت رکھیں اور فرقہ وارانہ یا متعصبانہ خیالات کو ذہن سے نکال دیں تاکہ جب آپ رب کی مخلوق سے اخلاص اور محبت رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی آپ سے محبت رکھیں گے، آپس کی رنجشوں کو ختم کریں، جھوٹ بولنے سے گریز کریں، صدقہ و خیرات بھی کرتے رہیں۔جو شخص کاروبار میں مندی اور ملازمت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو یا ملازمت میں ترقی کا خواہش مند ہو ، اگر کسی مشکل میں پھنسا ہو تو یہ وظیفہ خاص اس کیلئے ہے۔

ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ آٹے کی سو گولیاں جو انگور کے دانہ کے برابر ہوں بنا لے، اور انہیں دھوپ میں سکھا لے یا بغیر سکھائے ہر جمعرات کے دن عشا کی نماز پڑھنے کے بعد ان آٹے کی ہر ایک گولی پر ایک مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحٰنک ان کنت من الظلمین پڑھے، اس طرح سو مرتبہ آیت کریمہ پڑھنے کی تعداد ہو جائے گی، اس عمل کے اول و آخر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھے۔ اس کے بعد ان گولیوں کو دریا میں یا صاف بہتے پانی میں بہاد یں۔ اس عمل کی بدولت بہت سے افراد نے اپنی مراد پائی ہے اور اللہ نے انہیں اپنے خزانوں سے غنی بنا دیا۔

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش
منگل‬‮ 17 اپریل‬‮ 2018 | 20:38
ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں گزشتہ ویک اینڈ پر ایک ایسی متنازعہ ایجاد کی پہلی بار عوامی نمائش کی گئی، جو ایک ایسی مشین ہے، جس کے ذریعے اپنی زندگی سے تنگ آیا ہوا کوئی بھی انسان محض ایک بٹن دبا کر خود کشی کر سکتا ہے۔ ایمسٹرڈم سے پیر سولہ اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس مشین کی نمائش اسی ڈچ شہر میں منعقدہ ایک ’جنازہ شو‘ میں ہفتہ چودہ اپریل کو کی گئی اور اسے دیکھنے والے عام شائقین نے بہت بڑی تعداد میں اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس

مظاہرہ کیا۔ اس مشین کا نام ’سارکو‘ ہے، جو انگریزی زبان کے لفظ ’سارکوفیگس‘ کا مخفف ہے اور جس کا مطلب تابوت ہوتا ہے۔

تھری دی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کی گئی اس مشین کو آسٹریلیا کے ایک شہری اور قتلِ رحم کے ایک بہت بڑے حامی فیلپ نیچکے نے ڈچ ڈیزائنر الیکسانڈر بانِنک کی مدد سے تیار کیا ہے اور اس کے ساتھ ایک ایسا تابوت بھی لگا ہے، جسے بوقت ضرورت اس مشین سے علیحدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔’سارکو‘ ایک ایسی مشین ہے، جس کے ساتھ لگے ہوئے اسٹینڈ پر نائٹروجن گیس کا ایک سلنڈر نصب ہوتا ہے اور خود کشی کا فیصلہ کر لینے والا کوئی بھی انسان اس کے اندر بیٹھ کر محض ایک بٹن دبا کر چند ہی لمحوں میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے فیلپ نیچکے، جو قتلِ رحم کو قانونی قرار دینے کے لیے اپنی برسوں پر محیط کوششوں کی وجہ سے عرف عام میں ’ڈاکٹر ڈیتھ‘ بھی کہلاتے ہیں، کہتے ہیں، ’’جو کوئی بھی خود موت کو گلے لگانا چاہے، اسے اس مشین کے اندر بیٹھ کر صرف ایک بٹن دبانا ہوتا ہے، جس کے بعد یہ کیپسول نما مشین نائٹروجن گیس سے بھر جاتی ہے۔ اس گیس کی وجہ سے پہلے تو مشین کے اندر بیٹھا ہوا انسان کچھ غنودگی محسوس کرتا ہے، پھر وہ جلد ہی بے ہوش ہو جاتا ہے اور یوں بغیر کسی تکلیف کے اسی بے ہوشی کی حالت میں کچھ ہی دیر میں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ‘‘’ڈاکٹر ڈیٹھ‘ نے اس بارے میں اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’سارکو ایک ایسی مشین ہے، جس کی مدد سے کسی بھی انسان کے لیے، جو اپنی خوشی سے مرنا چاہتا ہو، بڑی پرسکون موت بہت آسان ہو جاتی ہے۔‘‘

ایمسٹرڈم میں ’بہت متنازعہ’ قرار دی جانے والی اس مشین کی نمائش اس کے ایک ایسے ماڈل کے طور پر کی گئی، جس کے ساتھ ورچوئل ریئلیٹی والی عینکیں بھی لگی ہوئی تھیں۔ عام شائقین تقریباﹰ حقیقی حالات میں لیکن ورچوئل سطح پر یہ محسوس کر سکتے تھے کہ اس مشین میں بیٹھ کر خود کشی کیسے کی جا سکتی ہے۔فیلپ نیچکے کے بقول وہ ایسی پہلی اور مکمل طور پر کام کر سکنے والی مشین اس سال کے آخر تک بنا لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے بعد اس کا ڈیزائن انٹرنیٹ پر بھی ریلیز کر دیا جائے گا، تاکہ جو کوئی بھی اس طرح خود کشی کرنا چاہے، وہ اگر پسند کرے تو اپنے لیے خود اپنے ہی گھر پر ایسی مشین خود بھی تیار کر سکے۔اس مشین کے ڈچ ڈیزائنر الیکسانڈر بانِنک کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس اس مشین کا ڈیزائن موجود ہو، تو اسے تیار کرنے کے لیے صرف ایک تھری ڈی پرنٹر کی ضرورت ہوگی۔

مفلسی

مفلسی
منگل‬‮ 17 اپریل‬‮ 2018 | 2:05
جب تم دنیا کی مفلسی سے تنگ آ جاؤ اور روز کا کوئی رستہ نا نکلے تو صدقہ دے کر اللہ سے تجارت کر لیا کرو۔ حضرت علی علیہ السلام دولت،رتبہ اور اختیار ملنے سے انسان بدلتا نہین اس کا اصلی چہرہ سامنے آجاتا ہے۔۔۔حضرت علی علیہ السلام جو شخص تمہاری نگاہوں سے تمہاری ضرورت کو سمجھ نہیں سکتا، اْ س سے کچھ مانگ کر خود کو شرمندہ نہ کرو۔ اے بندے ! تو دنیا میں رہ لیکن دنیا کو خود میں (باطن میں) نہ آنے دینا۔ کیونکہ جیسے کشتی پانی میں رہتی ہے تو کنارے پہنچ جاتی ہے۔ لیکن

لیکن اگر پانی کشتی میں آجائے تو ڈوب جاتی ہے۔ لوگوں سے دعا کی التماس کرنے سے بہتر ہے کہ انسان خود ایسا ہوجائے کہ لوگوں کے دل سے خود بخود اُسکے لیے دعائیں نکلیں۔حضرت علی علیہ السلام

صبح الائچی کھانے سے کے فائدے ہیں –

صبح الائچی کھانے سے کے فائدے ہیں –

سبز الائچی پاک و ہند سمیت ایشیائی ممالک میں گھروں میں عام مستعمل ہے اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ریاست میسور کی الائچی بہترین ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں یہ پائی جاتی ہے۔ اردو اور ہندی میں اسے چھوٹی الائچی یا سبز الائچی اور انگریزی میں کارڈاموم کہتے ہیں۔ چھوٹی سی الائچی بڑے بڑے فائدے رکھتی ہے جن میں سے چند ایک درج زیل ہیں یہ تیزابیت کو ختم کرتی ہے۔ خوابیدگی کے خمار کو کم کرتی ہے جبکہ معدے میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے ریاح پیدا ہونے سے روکتی ہے۔

بدہضمی سے ہونیوالی گیس اور سردرد کیلئے سبر چائے میں الائچی ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔ الائچی معدے میں موجود لعالی جھلی کو مضبوط بناتی ہے، اس لیے یہ تیزابیت کیلئے اکسیر ہے۔ اس کو چبانے سے منہ بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ السر کی بیشتر اقسام میں بھی فائدہ مند ہے۔ تبخیر اور السر میں اس کا درج ذیل مرکب انتہائی مفید ہے۔ سفوف تبخیر: سبز الائچی ، سونف ، طیا شیر کبود انڈیا ، کشنیز ہموزن سفوف بنالیں اورا یک چمچ چائے والا ہر کھانے کے بعد استعمال کریں۔ ہیضہ اور دست آنے کی صورت میں الائچی کا عرق پلانا بے حد مفید ہے۔ الائچی خورد دافع اسہال اور کمزوری امعامیں بے حد مفید ہے۔ اس کیلئے الائچی خورد تین گرام طبا شیر تین گرام مصطگی رومی تین گرام اور چینی نوگرام ان تمام ادویہ کو پیس کر سفوف تیار کریں اور آدھا چمچہ چائے والا ہمراہ پانی دن میں دو تا تین بار استعمال رکرنا بے حد مفید ہے۔ اگر آپ کے سانس کی بدبو ہزار کوشش کے باوجو د بھی ختم نہیں ہوتی تو الائچی استعمال کریں یہ اینٹی ہیکٹریل خصوصیات کی حامل ہے اور اس کی تیز خوشبو منہ کی بدبو دور کردیتی ہے۔ یہ نظام انہضام کو بہتر بناتی ہے اور منہ کی بدبو کی ایک بڑی وجہ نظام انہضام کی خرابی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سبر الائچی دیگر اور ڈیز یز منہ کے السر‘ منہ کے چھالے‘ خناق ‘ ٹانسلز وغیرہ میں زرور دیا گگانے کی ادویات میں مستعمل ہے۔ سبز الائچی کا سفوف آدھی چمچ صبح نہار منہ مسلسل استعمال کرنے سے پسینے کی بدبو کو خوشبو میں بدل دیتی ہے۔ الائچی پھیپھڑوں میں خون کے دورانیہ کو بڑھا کر نزلہ، زکام، کھانسی ، دمہ کے امراض میں آرام پہنچاتی ہے جبکہ بلغم کو باہر نکالنے کیلئے بھی انتہائی مددگار ہے۔ اس کے آدھی چمچ پا?ڈر کو دن میں دو تین بار کھانے سے ڈیپریشن ‘سٹریسااور دیگر دماغی و نفسیاتی امراض میں فائدہ ملتا ہے الائچی میگنیشیم ، پوٹاشیم اور کیلشیم کے مرکبات سے بھرپور ہوتی ہے اس لیے یہ خون کے الٹرولائٹس کیلئے صحت کا خزانہ ہے۔ یہ اجزا دوران خون کو بہتر بنانے میں اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔

پریشانی اور بیماری کا وظیفہ

پریشانی اور بیماری کا وظیفہ

ایسے تمام لوگ جو بے برکتی اور تنگ دستی کی وجہ سے پریشان ہیں۔اور جن کی اولاد نا فرمان ہے۔اور وہ ایسا چاہتے ہیں کہ اللہ پاک کوئی ایسا وسیلہ بنائیں کہ اولاد ہماری فرمانبردار ہو جائے اور ہماری بات سننے والی بن جائے اور ایسے افراد جن کے گھر میں کوئی بیماری ہے علاج کرواتے ہیں مگراس کے باوجود بھی وہ جان نہیں چھوڑتی۔آپ ڈکٹرز کو اپنی بیماری بتاتے ہیں اور

وہ کہتے ہیں کہ آپ بہت تندرست ہیں۔لیکن وہ اندر ہی اندر سے بیمار ہوتے ہیں تو ان لوگوں کے لئے آج ہم ایسا مجرب عمل لے کے آئے ہیںکہ جس سے اللہ پاک آپکی غربت اور تنگ دستی کو ختم کرکے آپکے رزق میں اضافہ فرمائیں گے۔
اور آپکی اولاد کو آپکا فرمانبردا ربنادیں گے اور آپکے گھر میں لڑائی جھگڑے پریشانیاں اور بیماریاںختم ہوجائیں گی۔اور گھر کے تمام افراد میں محبت پیدا ہوگی۔سب سے پہلے جب بھی آپ آٹا گوندھیں تو گوندھنیں سے پہلے وضو کریں اور پھر تین مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنی ہے اور اس کے بعد آپ نے ان اسمائِ مبارک کا ورد جاری رکھنا ہے

جب تک آٹا گوندھ نہ لیں۔اور آٹا گوندھنے کے بعد تین مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ کے ہاتھوں پر دم کردیں۔اور جب آٹا گوندھ کے کسی برتن میں رکھیں تو اس پہ بھی دم کردینا ہے۔انشاءاللہ آپ جب فریج سے نکال کر اسکی روٹی بنائیں گی تو جس جس کے پیٹ میں بھی جائے گی اس کا دل نرم ہو جائے گا اور ساتھ میں اندر کی جو تمام بیماریاں ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔صد قہ جاریہ سمجھ کر آگے شیئر ضرور کریں۔

ہر قسم کے درد کی دعا درد کی جگہ ہاتھ رکھ کر7بار یہ پڑھ لو

ہر قسم کے درد کی دعا درد کی جگہ ہاتھ رکھ کر7بار یہ پڑھ لو

آ ج حضور اکرم ۖ کی ایک دعا میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں۔جب بھی آپ کا جسم درد کرنےلگے چاہے وہ سرکا درد ہو قمر کا درد ہو آپ کے پائوں پے چوٹ لگی ہو آپ کے دانت کا درد ہو چاہے کسی بھی قسم کا وہ درد کیوں نہ ہو حضور اکرم ۖ کی بتائی ہوئی یہ دعاایسی طریقے سے کریں گے توانشا ء اللہ آپ کو شفاء ظرور مل جائے گی درد سے ایک صحابی رسول اکرم ۖ کی خدمت میں حاظر ہوے اس وقت حاظر ہوے جب ان کے جسم میں بہت زیادہ درد ہو رہا تھا حاضر ہو کر انہوں نے اللہ کے نبی ۖ سے اپنے درد کے بارے میں مکمل جاننےکےلیےنیچےویڈیوپرکلک کرکے ویڈیودیکھیں

بتایا ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ۖ نے اس صحابی کو یہ دعا بتائی آپ ۖ نے ارشاد فرمایا تم اپنے جسم پر درد والی جگہ ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ بسم اللہ پرھنے کے بعد آپ نے یہ سات مرتبہ دعا پڑھنی ہے ۔ صحیح المسلم کی یہ حدیث ہے دعا کو اوپر ویڈیو میں دیکھیں اور اچھی طرح یاد بھی کر لیں جزاک اللہ وہ دعا جو رسول کریم ﷺ پڑھ کر مریضوں پر دم فرماتے تھے،ایسی دعا جو ہر مرض کا علاج ہےنبی اکرمؐ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی اچھی گزرتی ہے، نبی اکرمؐ نے مختلف بیماریوں کے لیے بھی بہت سی دعائیں بتائی ہیں، ہمارے ہاں لوگ نبی اکرمؐ کی بتائی ہوئی دعاؤں کو چھوڑ کر دیگر ٹوٹکوں میں لگ جاتے ہیں لیکن روحانی علاج کی طرف نہیں آتے۔ ہم لوگوں کو بیماری کی حالت میں نبی کریمؐ کی بتائی ہوئی دعاؤں پر عمل کرنا چاہیے، یہ طب نبویؐ ہے۔ ابن ماجہ میں اس بارے میں بہت سی دعائیں اور رسول کریمؐ کے دم فرمانے کا مفصل بیان موجود ہے، بخاری شریف اور مسلم شریف کی ایک متفق علیہ حدیث ہے کہ حضرت سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ اپنے بعض گھر والوں کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ مریض کے درد والے حصے پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے، اللھم رب الناس، اذھب الباس، واشف انت الشافی، لا شفای الا شفاؤک،شفای لا یغادر سقما۔ترجمہ: اے اللہ لوگوں کے ربّ! تکلیف کو دور فرما دے توشفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری ہی شفاء شفاء ہے، تو ایسی شفا عطا فرما جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے۔نبی کریمؐ کی اتنی پیاری اور عجز کرنے والی دعا اس جیسی اور کوئی دعا ہو ہی نہیں سکتی۔

5 گھریلو ٹوٹکے جن کی سائنس نے تصدیق کی

5 گھریلو ٹوٹکے جن کی سائنس نے تصدیق کی
ہفتہ‬‮ 14 اپریل‬‮ 2018 | 13:20
برسوں سے لوگ مختلف گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں دعوے کرتے ہیں کہ وہ مختلف مشکل مسائل کا حل ثابت ہوتے ہیں جن میں سے کچھ تو موجودہ عہد کے لحاظ سے انتہائی مضحکہ خیز ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جن کو جدید دور کی سائنس نے بھی تسلیم کیا ہے۔یہاں ایسے ہی کچھ گھریلو ٹوٹکوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی سائنس نے تصدیق کی ہے۔ لوبیا کے پتے کھٹملوں کے خلاف مفید ایک قدیم یورپی ٹوٹکے کے مطابق لوبیا کے تازہ پتے سونے کی جگہ کے ارگرد بکھیرنے سے کھٹملوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے، اب سائنس

اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ جرنل آف دی رائل سوسائٹی انٹرفیس میں شائع ایک تحقیق کے مطابق لوبیا کے پتوں میں موجود اجزاءکھٹملوں کے خاتمے یا انہیں بستر سے دور رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

شہد قدیم مصری، چینی، ہندوستانی اور افریقی تہذیبوں میں شہد کا ذکر مختلف امراض، زخموں اور جلنے کے زخموں کے علاج کے لیے ملتا ہے، آج کے ڈاکٹر بھی اس کو سچ تسلیم کرتے ہیں۔ جرنل پیڈیا ٹرکس میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کھانسی کے شکار کسی بچے کو سونے سے آدھے قبل شہد چٹایا جائے تو کھانسی کی شکایت میں کمی آتی ہے۔ اسی طرح کسی زخم پر شہد کو ملنا اسے ٹھیک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لہسن متعدد گھریلو ٹوٹکوں میں لہسن کے استعمال کا ذکر ملتا ہے اور امریکا کی ایریزونا یونیورسٹی کے مطابق لہسن جراثیم کش، اینٹی فنگل اور بیکٹریا کش ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ بالوں کی افزائش، کیل مہاسوں کے خاتمے، نزلہ زکام کی روک تھام، موٹاپے میں کمی اور ہونٹوں پر زخم کو ٹھیک کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پیاز پیاز کا ذکر مختلف گھریلو ٹوٹکوں میں ملتا ہے اور امریکی کہاوتوں کے بقول یہ پھوڑوں اور تشنج وغیرہ کے خلاف موثر ثابت ہوتی ہے۔ طبی سائنس کے مطابق حقیقت میں ایسا تو نہیں ہوتا تاہم اس میں وٹامن سی، سلفرک کمپاؤنڈز، فلیونوئڈز اور پائیتھوکیمیکلز وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ امریکا کے مایو کلینک کی ایک تحقیق کے مطابق پیاز میں موجود اجزاءکینسر، امراض قلب، ہڈیوں کی کمزوری اور ذیابیطس کے خلاف فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ یہ پارکنسن امراض، شریانوں کی بیماریاں اور فالج کا خطرہ بھی کم کرتی ہے۔ ادرک گھریلو ٹوٹکوں کے مطابق ادرک متلی کی شکایت میں کمی لاتی ہے اور طبی سائنس بھی اس کی تصدیق کرتی ہے، اسی طرح طبی جریدے جنرل کینسر پریوینٹیشن ریسرچ میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ادرک سے آنتوں کے ورم میں کمی آتی ہے جس سے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

دور حاضر میں قبض ،ہیپاٹائٹس،ڈپریشن اور کینسر ایسے امراض کا علاج کرنا ہو تو قدرت الٰہی سے یہ خصوصیات ہمیں چقندر میں مل جائیں گی جو معالجہ کی زبردست قوت رکھتی ہے. چقندر میں مینگانیز اور بیٹین کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے جس سے اعصابی نظام کا فعل درست ہوجاتا ہے.چقندر کو لال رنگ دینے والے اجزاء بیٹالین اور ویٹامن سی قوت مدافعت میں اضافہ کرتے اور بیماریوں سے بچنے میں کردار ادا کرتے ہیں. تحقیق کے مطابق یہ کینسر سیلز کو جنم لینے سے بھی روکتے ہیں. چقندر ایک معروف سبزی ہے جسے عربی میں سلق اور انگریزی

سلق اور انگریزی میں Beetrootکہا جاتا ہے.اللہ کے رسول ﷺ نے چقندر کو صحت کے انتہائی مفید قرار دیا اور صحابہ اکرام ؓ کے طبی فوائد کی بنا پر اسکو شوق سے کھاتے . ترمذی میں حضرت ام منذرؓکے حوالے سے ایک حدیث

ایک بار رسول اللہﷺ حضرت ام منذرؓ کے گھر تشریف لے گئے. حضرت علیؓ آپﷺ کے ہمراہ تھے. اس وقت گھر میں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے. سرکار دوعالم ﷺ نے ان کھجوروں میں سے تناول فرمایا تو حضرت علیؓ بھی کھانے لگے اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا ”اے علی! تم کمزور ہو اس لئے تم نہ کھاؤ“. ام منذرؓ چقندر کھانے لگیں تو آنحضورﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں.

محدثین بتاتے ہیں کہ ان دنوں حضرت علیؓ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور دکھتی آنکھوں پر کھجور کھانا مضر ہے. اس لئے آپﷺ نے حضرت علیؓ کو منع فرمایا اور جب آپﷺ کے سامنے چقندر پیش کئے گئے تو آپﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں اور تمہاری ناطاقتی کو یہ دور کر دے گا. اس حدیث کی روشنی میں دوباتیں معلوم ہوتی ہیں کہ پرہیز کرنا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چقندر کھانے سے کمزوری دور ہوتی ہے.

بخاری شریف میں بھی چقندر کا ذکر ملتا ہے. قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابوحازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں” ہم لوگوں کو جمعہ کے دن آنے کی بہت خوشی ہوتی تھی، اس لئے کہ ایک بڑھیا تھی جو چقندر کی جڑیں جنہیں ہم اپنی کیاریوں میں لگاتے تھےاس کو اکھیڑ کر اپنی دیگ میں ڈالتی تھی، اور اس میں جو کے کچھ دانے بھی ڈال دیتی تھی، میں یہی جانتا ہوں کہ اس میں چکنائی یا چربی نہیں ہوتی تھی، جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے، تو اس بڑھیا کے پاس آتے. وہ ہم لوگوں کے پاس وہی چقندر لا کر رکھ دیتی تھی،

جمعہ کے دن کی خوشی ہمیں اسی سبب سے ہوتی تھی، اور ہم لوگ جمعہ کی نماز کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے“ اطبا کہتے ہیں کہ چقندرکھانا ہضم کرتی اور رعشہ کیلئے مفید اور بلغم خارج کرتی ہے.چقندر کا مزاج پہلے درجہ میں گرم خشک ہے . یہ مواد تحلیل کرتی اور سدے کھولتی ہے .چقندر کی چار معروف اقسام ہیں ،ان میں سے سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے. چقندر کے قتلوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کی ایک پیالی صبح ناشتا سے ایک گھنٹہ پہلے پی لی جائے تو پرانی قبض بھی ختم ہوجاتی اور بواسیر کی شدت بھی بتدریج کم ہوجاتی ہے :