جنت سے کھانا منگوا کر حضرت فاطمہ نے دعوت دی

اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :

” ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ”
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
” ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ”
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ”
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :

” ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ”

ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :

” ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ”
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
” ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ”
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ”

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
” ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ”

ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
” ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ”
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر
ﻧﺎﻡ ﮐﺘﺎﺏ = ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿِّﺪﮦ ﻓﺎطمۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﺎتیں

روز تک 3کھجوریں روزانہ کھانے سے آپ کے جسم میں

کھجور کے انسانی صحت پر خوشگوار اثرات اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور جدید سائنس بھی اس بات کو قبو ل کرتی ہے کہ کھجور میں موجود فائبر اور دیگر اجزاء ہمارے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہیںاور میگنیز پایا جاتاہے۔ B6کھجور میں کاپر،پوٹاشیم،فائبر،میگنیشیم ،وٹامن اگر آپ دن میں تین کھجوریں کھائیں تو آپ کے جسم پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اورآپ کا جسم بیماریوں سے محفوظ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ دل، جگر، اور دماغ کو تقویت ملے گی اور خود کو ترو تازہ اور توانا محسوس کریں گے۔طبی ماہرین کے مطابق کھجورکا استعمال

رسول ﷺ بھی ہے اور اسے 12روز تک استعمال کرنے سے صحت کے بہت سے مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے ۔نظام انہضام پر اثرات:اگر آپ کو قبض،تیزابیت،معدے یا انتڑیوں کی تکلیف ہے تو آپ کو کھجور ضرور کھانی چاہیے۔اس میں موجود فائبر ہمارے معدے کے لئے بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہے۔دردوں سے نجات:کھجوروں میں میگنیشیم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سوجن پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور جسمانی دردیں بھی کنٹرول میں رہتی ہیں۔مختلف تحقیق میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کھجور کھانے سے جسم میں سوجن کم ہونے کے ساتھ درد میں آرام آتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اس قسم کا

ہمارے ہاں کچا پیاز اور لہسن عام کھانے کی ترغیب دی جاتی اور اسکے طبی فوائد بتاکر لوگوں میں اشتیاق پید اکیا جاتا ہے .اگرچہ یہ چیزیں حلال ہیں لیکن اسلام میں کچے پیاز اور لہسن کو کھانے سے منع فرمایا گیا .

اس سے انسانوں کے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے.تاہم اسکو پکا کر کھالیا جائے تو منع نہیں کیا جاتا.علمائے دین کا کہناہے کہ لہسن اورپیازکچا کھانا بدبو کی وجہ سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس کام سے روکا ہے جو نظافت و نفاست کے خلاف ہو.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دوران فرمایا کہ جو اس درخت یعنی لہسن سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے‘‘.بخاری شریف اور مسلم میں لہسن پیاز کچا کھانے کے حوالے سے متعدد احادیث موجود ہیں.حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کافی طویل ہے جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سی باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے:’

’اے لوگو! تم لہسن اور پیاز کے درختوں سے کھاتے ہو، حالانکہ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں. مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جس شخص کے منہ سے ان کی بدبو آتی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حکم دیتے کہ وہ مسجد سے نکل کر بقیع کے قبرستان کی طرف چلا جائے. لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو ختم کر دے.‘‘ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا. ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے‘‘اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ لہسن اور پیاز کی بو سے جہاں انسانوں کو ناگواری محسوس ہوتی ہے وہاں فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے. لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دینے کے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے. جس سے انسان روحانی طور پر بھی کمزور ہوجاتا ہے .لہذا اورادو وظائف کرنے والوں کو خاص طور پر ان سے گریز کرنا چاہئے.

Shaheed Kabhi Marta Nahin

شہادت ہر عمر اور سائز میں آتے ہیں، اور اس کے اعزاز کے لئے ایک قوم کا فرض ہے. میں خاص پاکستانی (دہشت گردی کے خلاف جنگ) وقت کے فریم سے نوجوان پاکستانی شہیدوں کے چند جنگجوؤں کا اشتراک کروں گا.

مشہور پاکستان فوجی حوالہ جات

“شہید کی جو مرو نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ

اگر یہ ایرر برقرار رہے تو ہمارے ہیلپ ڈیسک سے رابطہ کریں.

“شہید کوہا مارا ناہ، واہ ہیس زنده ہا”

ترجمہ ——————————————-

“شہید (شہادت) کی موت ملک کا اعزاز ہے – شہید کا خون ملک کا قرض ہے”

“شہید کبھی نہیں مرتا ہے، وہ ہمیشہ زندہ ہے”

بے روزگار نوجوان کیلئے زبردست تحفہ،

ے شک رب تعالیٰ نے اپنے ذکر میں سکون اور عافیت رکھ دی ہے ۔ اکثر اوقات لوگ دعائیں پوری نہ ہونے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیںجس کی وجہ دراصل دعا اور عبادت میں خشوع و خضوع کا نہ ہونا ہوتا ہے۔ دعا کو عبادت کا زیور قرار دیا گیا ہے ۔ مسلمان دعا کے ذریعے اپنی مرادیں رب تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ آج کل پاکستان میں بیروزگاری ایک عام مسئلہ ہے، پڑھے لکھے افراد ملازمت نہہونے کی وجہ سے در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ یہاں ہم ایسے ہی بیروزگار نوجوانوں کو ایک نہایت مجرب وظیفہ بتانے جا رہے ہیں جس کے کرنے سے انشا اللہ انہیں من پسند ملازمت اور روزگار رب تعالیٰ نصیب فرمائیں گے۔ بیروزگار افراد روزانہ نماز عصر کے بعد اول و آخردرود شریف کے بعد اکتالیس بار’’یا اللہ یا باسط‘‘پڑھیں، انشا اللہ یہ عمل کرنے سے رب تعالیٰ آپ پراپنے خزانے کے منہ کھول دیں گے۔

گناہ کا شوق اور عذاب کا ڈر

ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس آیا، نوجوان تھا، کہتا ہے حضرت! گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں، چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، ڈر بھی لگتا ہے کہ عذاب ہو گا تو کوئی طریقہ بتا دیں کہ میں عذاب سے بچ جاؤں اور گناہ بھی کرتا رہوں۔اللہ والے بڑے دانا بینا ہوتے ہیں، دھکے نہیں دے دیتے، وہ محبت و پیارسے بات سمجھاتے ہیں، دل میں اتارتے ہیں، حضرت نے فرمایا، ہاں، میں تجھے طریقہ بتاتاہوں۔ وہ بڑا خوش ہو گیا۔بات سننے کے موڈ میں آگیا، کہنے لگا کہ حضرت! وہ کون سا طریقہ ہے کہ میں گناہ بھی کرتا

رہوں اور عذاب و سزا سے بھی بچ جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی: پہلی تجویز: تو یہ ہے کہ اگر گناہ کرناہی ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کر لیا کرو۔ اب وہ سوچتا رہ گیا۔ کہنے لگا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ رب العزت کی

نگاہوں سے اوجھل ہو کر گناہ کروں یہ تو ممکن ہی نہیں۔دوسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر دوسری تجویز یہ ہے کہ تم رزق کھانا چھوڑ دو، اللہ سے کہہ دینا کہ نہ تمہارا کھانا کھاتا تھااور نہ تمہاری بات مانتا تھا، اس نے کہا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کھانا چھوڑ دوں؟

میں پھر زندہ کیسے رہوں گا؟تیسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر تیسری تجویزپیش کرتاہوں اور وہ یہ کہ زمین و آسمان اللہ رب العزت ہی کا ملک ہے، اسی کی حکومت میں ہے اور بادشاہ کی نافرمانی اس کے ملک میں رہ کر کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے باہر نکل کر نافرمانی کرنا، اللہ پاک بھی قرآن پاک میں عجیب انداز سے فرماتے ہیں۔ ’’اگر تمہارے اندر استطاعت ہے کہ زمین و آسمان کے کروں سے باہر نکل سکتے ہوتو نکل کر دکھلاؤ، نکلو گے کس دلیل سے

نکلو گے۔‘‘ (سورہ رحمن:33)، (جیسے گھڑے کی مچھلی کدھر جائے گی) کہا کہ حضرت! یہ بھی نہیں ہو سکتا۔چوتھی تجویز: فرمانے لگے اچھا پھر ایک طریقہ اور بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب ملک الموت آئیں روح قبض کرنے کے لیے تو انہیں کہہ دینا کہ تھوڑا انتظار کر لو تاکہ میں توبہ کر لوں، اس نے کہا: حضرت! وہاں تو انتظار کا تصور ہی نہیں۔ ’’جب موت آتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے اور نہ پیچھے۔‘‘ پانچویں تجویز: فرمایا، ایک طریقہ اور بتاتا ہوں،وہ یہ کہ جب قبر میں تم کو دفن کر دیا جائے اور اس وقت منکر نکیر آئیں تم سے سوال پوچھنے کے لیے تم کہہ دینا (No Admission without permission) آج کل لوگ لکھ

کر لگا دیتے ہیں، تو تم بھی کہہ دینا کہ بغیر اجازت کیوں آئے؟ اس نے کہا، حضرت! میں ان کو کیسے منع کر سکتاہوں۔چھٹی تجویز: فرمانے لگے، اچھا بھئی! ایک اور طریقہ بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب قیامت کے دن تمہارے برے عملوں کو کھولا جائے گا،اور پروردگار عالم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس کو گھسیٹ کر تم جہنم میں ڈال دو تو اس وقت تم ضد کرکے کھڑے ہو جانا کہ میں تو نہیں جاتا۔ اس نے کہا کہ حضرت!

میری کیا حیثیت ہے کہ فرشتوں کے سامنے ضد کرکے کھڑا ہو جاؤں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اب لوہاگرم تھا اور چوٹ لگانے کاوقت تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ اے بھائی، جب تیری حیثیت ہی کوئی نہیں تو اتنے بڑے پروردگار کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟کہنے لگا، حضرت! آج سے میں گناہوں سے توبہ کرتاہوں اور آج کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

حضرت محمد صیون وافات کا قیس | پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جذباتی موت کی کہانی اردو میں

حج (الوداعی حجری) کے دو ماہ بعد، محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے. انہوں نے جماعت کی نماز کی قیادت کی. ان نمازوں میں سے ایک کے بعد انہوں نے حدیث کے شہیدوں پر خصوصی نعمتیں کیں، اور پھر مسلمانوں کو خطاب کیا:”خدا کے بندوں میں غلام ہے جس کو خدا نے اس دنیا کے درمیان انتخاب کی پیشکش کی ہے اور جو اس کے ساتھ ہے، اور غلام نے خدا کے ساتھ جو انتخاب کیا ہے.”ابو بکر (ر) نے اسے روکا جب تک وہ سمجھتا تھا کہ نبی خود اپنے بارے میں بات کررہا تھا اور اس کا انتخاب اس کی
موت کا مطلب تھا. نبی نے فرمایا:”میں نے آپ کو خبردار کیا کہ

اے مسلمان مسلمان انصار (مددگار، یعنی مدینہ کے رہائشیوں کو جو مکہ سے تارکین وطن میں مدد کرنے میں مدد کرنے والے) کے ساتھ اچھے ہو. انہوں نے اپنا کام اچھی طرح سے کیا ہے. مسلمانوں میں تعداد میں اضافہ ہو گا لیکن انصار کم ہو جائے گا اور کھانا میں نمک بن جائے گا.”تم سے پہلے قوموں پر افسوس ہے کہ آپ نے ان کے نبیوں کے قبروں کی عبادت کی تھی. میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں. اے لوگ، میرے ساتھ مردوں کے سب سے زیادہ غیر جانبدار مجھ سے ابوبکر ہے، اور اگر میں انسان سے لے جانے کے لئے ایک ناقابل یقین دوست ہے وہ ابو بکر ہو گا – لیکن اخلاقی ورثہ ہماری ہے جب تک کہ ہم خدا اس کی موجودگی میں متحد نہیں کرتے ہیں. اے میری پیارے
بیٹی فاطمہ اور اے میرے عزیز چاچی صفیہ، آخرت کی راہ میں اپنی کوششیں خرچ کرو کیونکہ میں اللہ کی مرضی کے خلاف آپ کی مدد نہیں کروں گا.”میں آپ سے پہلے جاتا
ہوں اور میں آپ کا گواہ ہوں. میرے ساتھ آپ کی میٹنگ پول میں ہے (ایک کھودی کشتھ جسے کھوارار کی طرف سے کھلایا جاتا ہے جہاں جنت میں ان کے داخلے پر ایمان لائے

گا.). میں تم سے ڈرتا ہوں کہ تم خدا کے سوا معبودوں کو قائم کرو گے. لیکن میں تم سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا بھر میں ایک دوسرے کے مقابلے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے. “اس خطے کے فورا بعد، اس کے آخری مسجد میں، نبی بہت کمزور بن گیا تھا کہ وہ منتقل نہیں ہوسکتا. پھر اس نے ابو بکر کو نماز پڑھائی. پیغمبر نے اپنی باقی بیماریوں کو اپنے محبوب بیوی عیسی (را) کے اپارٹمنٹ میں گزارے. ربيع الاول کے بھيسویں صدی کے ابتدائی صبح، نبی کے بخار کا حدیث ہے اور وہ مسجد میں گیا، جس میں فدل اور تھاوان کی مدد کی گئی تھی جب ابو بکر نماز پڑھتے تھے. نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابوبکر نے اپنے سر کو تبدیل کرنے کے بغیر واپس قدم اٹھایا، لیکن نبی نے اپنا ہاتھ اپنے کندھے پر زور دیا کہ وہ اسے جاری رکھیں. نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو بکر کے حق پر بیٹھ کر نماز پڑھی. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری وصولی مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی. اناس (را) کو یہ بتایا گیا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو اس سے کہیں زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا تھا.

اگر بیوی میں یہ نشانیاں ہیں تو دوسری شادی کیں

ایک بیوی کی حیثیت سے ایک عورت کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟ * کیا ایک بیوی ایک خاندان کے بہتر مستقبل کی معمار ہو سکتی ہے؟ * کیا آپ کا شماربری اور جاہل قسم کی بیویوں میں تو نہیں ہوتا؟ * اگر ایسا ہے تو کیا آپ نے کبھی اپنی ذات میں ان خامیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو آپ کو آپ کو اس صف میں شمار کرتی ہیں۔ * کیا آپ ان خامیوں کو دور کر کے خود کو ایک بہتر خاتون،بیوی اور ماں ثابت کر سکتی ہیں؟ کونسی نشایاں ہوں تو دوسری شادی کر لینی چاہئے؟ دیکھیں اس اردو کے نیچے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کونسی شانی ہو تو مرد

1: پہلی نشانی شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرنا: ایک جاہل بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرتی ہے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہنے کے بجائے ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کبھی خوشدلی سے پیش نہیں آتی اورمعمولی باتوں پر سسرالیوں سے لڑجھگڑ گھر میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرلیتی ہے۔ 2: شوہر کو اہمیت نہ دینا جاہل بیوی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حق دار ہے۔ایسی اکثر بیویاں شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور شوہر کی بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔شوہر کو بہرصورت بیوی کی ایک مناسب اور بے غر ض توجہ درکار ہوتی ہے جس سے لاپرواہی فاصلوں کو جنم دیتی ہے۔ 3: گھر پہ توجہ نہ دینا جہالت کی ایک نشانی اپنے گھر پر توجہ نہ دینا بھی ہے۔ایسی بیوی گھریلو معاملات سے لاپرواہ سی نظر آتی ہے۔حتیٰ کہ گھر کے ضروری کام کاج اور اہم معاملات بھی جو ایک عورت ہی کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ادھورے پن کا شکار نظر آتے ہیں۔ایسی خاتون کا گھر صفائی ستھرائی سے عاری نظر آتا ہے ۔یہ ماحول آہستہ آہستہ گھر کے افراد کے رویوں میں بھی رچ بس جاتا ہے اور معیارِزندگی کو زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔ 4: بچوں پر توجہ نہ دینا ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حامل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات میں بھی بے توجہی برتتی ہے۔وہ نہ تو خود زندگی کے درست طور طریقوں کو اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی بچوں کو ان کا درس دیتی نظر آتی ہے۔اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کی صیح اقدار سے آگاہ نہیں ہوپاتے کیونکہ بحرحال ایک بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں اس فرض اس سے کوتاہی میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ 5: وقت کی پابندی نہ کرنا جاہل بیوی کو وقت کی اہمیت کا قطعاً ادراک نہیں ہوتا۔اسکے بچے سکول اور شوہر آفس ہمیشہ لیٹ ہی پہنچتا ہے۔ناشتہ، لنچ یا ڈنر وغیرہ کے کوئی

اوقات مقرر نہیں ہوتے۔ٖاس خاتون کے گھریلو امور افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔مناسب ٹائم مینجمنٹ کی عدم موجودگی افرادِخانہ کے مزاج میں چڑچڑے پن کوجنم دیتی ہے اور گھر کا پرسکون ماحول بد نظمی کی نظر ہو جاتا ہے۔ 6: شوہر سے بدزبانی معمولی لڑائی جھگڑوں میں بعض اوقات مصلحتاً خاموشی اختیار کر لینا اور غلطیوں کواگنور کر دیناگھریلو ماحول پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔مگر ایک جاہل بیوی ان خصوصیات سے ناآشنا ہوتی ہے۔معمولی باتوں پر بحث وتکرار اور پھر بدزبانی پر اتر آتی ہے ۔اس کا رویہ شوہر کے ساتھ عزت و احترام سے عاری ہوتا ہے۔بحث و تکرار، بد زبانی و بد تہذیبی کا یہ رویہ بالآخر شوہر کو گھر اور بیوی سے بددل کر دیتا ہے۔ 7: شوہر کی گھر آمد کو اہمیت نہ دینا اس آرٹیکل کو پڑھنے والی تمام خواتین سے میری گزارش ہے کہ ایک لمحے کے لئے ذرا یہ تصور کیجیئے کہ آپ ایک شوہر ہیں جو اپنے کام سے تھکا ہارا ،بھوکا پیاسا واپس آیا ہے اور آپ کی بیوی نے نہ تو آپ کی آمد ہی کو اہمیت دی ،نہ آپ کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھمایا اور نہ کھانے کا پوچھا۔تو آپ کیسا محسوس کریں گی؟ ایک جاہل بیوی شوہر کی آمد پر ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 8: دوسری عورتوں کے سامنے شوہر کی برائی بیان کرنا ایک جاہل بیوی شوہر کی خوبیوں پر کم اور خامیوں پر زیادہ توجہ رکھتی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ وہ دیگر خواتین اور لوگوں کے سامنے بھی بڑے دکھ کے ساتھ ان خامیوں کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہے۔اسے اس حقیقت کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ شوہر کی خامیوں کا دوسروں کے سامنے یوں برملا اظہار ان خامیوں کو دور تو نہیں کرسکتا ہاں مگر گھر کی فضا میں کچھ پیچیدگیاں ضرور پیدا کر دیتا ہے۔
9: شوہر کے والدین سے بدتمیزی شوہر کے ماں باپ کی عزت نہ کرنا اور ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آناجاہل بیوی کی سب سے اہم نشانی ہے۔یہ رویہ گھریلو ماحول میں عدم برداشت کے عناصر کوجنم دیتا ہے ۔

The Life Story of Tipu Sultan | Maulana Tariq Jameel Latest Bayan

Tipu Sultan (born Sultan Fateh Ali Sahab Tipu,[2] 20 November 1750 – 4 May 1799), also known as the Tipu Sahib,[3] was a ruler of the Kingdom of Mysore. He was the eldest son of Sultan Hyder Ali of Mysore.[4] Tipu Sultan

introduced a number of administrative innovations during his rule,[5] including his coinage, a new Mauludi lunisolar calendar,[6] and a new land revenue system which initiated the growth of the Mysore silk industry.[7] He expanded the iron-cased Mysorean rockets and commissioned the military manual Fathul Mujahidin, and is considered a pioneer in the use of rocket artillery.[8] He deployed the rockets against advances of British forces and their allies during the Anglo-Mysore Wars, including the Battle of Pollilur and Siege of Seringapatam. He also embarked on an ambitious economic development program that established Mysore as a major economic power, with some of the world’s highest real wages and living standards in the late 18th century.[9]

Napoleon was the French commander-in-chief, and he sought an alliance with Tipu Sultan. Both Tipu Sultan and his father used their French-trained army[10] in alliance with the French in their struggle with the British, and in Mysore’s struggles with other surrounding powers, against the Marathas, Sira, and rulers of Malabar, Kodagu, Bednore, Carnatic, and Travancore. Tipu’s father, Hyder Ali, rose to power in Mysore, and Tipu succeeded to a large kingdom upon his father’s death in 1782, bordered by the Krishna River in the north, the Eastern Ghats in the east, and the Arabian Sea in the west.[11] He won important victories against the British in the Second Anglo-Mysore War and negotiated the 1784 Treaty of Mangalore with them after his father died from cancer in December 1782 during the Second Anglo-Mysore War.

Tipu became involved in conflicts with his neighbors, including the Maratha–Mysore War which ended with Maratha and Tipu signing treaty of Gajendragad,[12] as per which Tipu Sultan was obligated to pay 4.8 million rupees as a one time war cost to the Marathas, and an annual tribute of 1.2 million rupees, In addition to returning all the territory captured by Hyder Ali.[13][14]

Tipu remained an implacable enemy of the British East India Company, renewing conflict with his attack on British-allied Travancore in 1789. In the Third Anglo-Mysore War, he was forced into the Treaty of Seringapatam, losing a number of previously conquered territories, including Malabar and Mangalore. He sent emissaries to foreign states, including the Ottoman Empire, Afghanistan, and France, in an attempt to rally opposition to the British.

Firon Ki Laash Per Taza Gosht Ugta Rehta Hai – Maulana Tariq Jameel’s Shocking Revelation

This is the Dead Body of Ramses II, The Egyptian King in the era of Prophet Moses (Peace be upon Him). Its age is approximately 3000 years old and it was found by the Red Sea, at the place called Jabalain, and is now on display in the Royal Mummies Chamber of the Egyptian Museum in Cairo.
The most amazing thing with this dead body is; it isn’t a mummy. Scientists says that this dead body is amazingly preserved without any mummification, even all of the internal organs are not removed.
So what is the secret of such good preservation of this body? See the answer in the Holy Quran where Allah Almighty said that the Pharaoh will be preserved as a warning for generations…
“We brought the tribe of Israel across the sea and Pharaoh and his troops pursued them out of tyranny and enmity. Then, when he was on the point of drowning, he (Pharaoh) said, “I believe that there is no god but Him in whom the tribe of Israel believe. I am one of the Muslims.” What, now! When previously you rebelled and were one of the corrupters? Today we will preserve your body so you can be a Sign for people who come after you. Surely many people are heedless of Our Signs.” (Qur’an, 10: 90-92)