قیامت آنے میں تھوڑا ہی عرصہ رہ گیا ہے.

قیامت آنے میں تھوڑا ہی عرصہ رہ گیا ہے.

Qayamat ki kuch Nishaniya

Hazrat Huzaifa (Radiyallahu Ta’ala Anhu) se Riwayat he k Huzure Akram (Saw) ne Irshad farmaya ke QAYAMAT k Qareeb 72 Bate pesh Aaegi jin mein se kuch darja zail hain .

Woh Nishaniya niche pesh ki jati he

1. Log NAMAZE Garat karne (chhodne) lagenge. (Yani NAMAZO ka Ehtimam Rukhsat ho jaega.)

2. Amanat Zae Karne lagenge. Yani jo Amanat un k Pas rakhi jaegi us me khayanat karne lagenge.

3. Sood (Wyaj,Intrest) khaya jaega.
4. Jhoot ko Halal samjne lagenge. (yani jhoot 1 fan (hunar) ban jaega. k kon kitni sifat se jhoot bol leta he)

5. Mamuli mamuli bato par khun rezi karne lgenge. Zara si bat pa dusre ki jaan le lenge.

6. Unchi-Unchi (Lambi, Tall) Imarate (buildeng) banaenge.

7. ILAM bech kar log Dunay jama karenge.

8. Qata Rahmee Yani Rishte daro se bad-suluki hogi.

9. Insaf naayab ho jaega.(Yani Insaaf mushkil se mil sakega)

10. Jhoot sach ban jaega.

11. Resham ka libas pehna jaega. (Yad rahe k Resham ka libas pehnna Mard k liye JAIZ nahi he)

12. Zulam aam ho jaega.

13. Talaq ki kasrat hogi. (Yani khub TALAQ di jaegi.) Yad rahe k Talaq dena halal or Jaiz kamo me sab se na pasandida kam he

14. Nagahani Maut aam ho jaegi. yani aisi maut aam ho jae gi jis ka pehle se pata na hoga. balki achanak pata chalega k falana abhi zinda theek thak tha or ab mar gaya.

15. KHAYANAT karne wale ko AMEEN (Amanat Dar) samja jaega. Yani jo Amanat me khayanat karta hoga. log usi par bharosa karne lagenge.

زندگی گزر جاتی ہے

زندگی گزر جاتی ہے

ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا ‘بیٹا، اسے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ.کہنا یہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیں.بیٹا وہ ہار لے کر چچا جی کے پاس گیا.چچا نے ہار کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر کہا بیٹا، ماں سے کہنا کہ ابھی مارکیٹبہت مندا ہے.تھوڑا رک کر فروخت کرنا ، اچھے دام ملیں گے.اسے تھوڑے سے روپے دے کر کہا کہ تم کل سے دکان پر آکر بیٹھنا.اگلے دن سے وہ لڑکا روز مرہ دکان پر جانے لگا اور وہاں ہیروں و جواہرات کی پرکھ کا کام سیکھنے لگا. ایک دن وہ بڑا ماہر بن گیا.لوگ دور دور سے اپنے ہیرے کی پرکھ کرانے آنے لگے.ایک دن اس

لگے.ایک دن اس کے چچا نے کہا، بیٹا اپنی ماں سے وہ ہار لے کر آنا اور کہنا کہ اب مارکیٹ میں بہت تیزی ہے،اس کے اچھے دام مل جائیں گے.ماں سے ہار لے کر اس نے پرکھا تو پایا کہ وہ تو جعلی ہے.وہ اسے گھر پر ہی چھوڑ کر دکان لوٹ آیا.چچا نے پوچھا، ہار نہیں لائے؟اس نے کہا، وہ تو جعلی تھا.تب چچا نے کہا جب تم پہلی بار ہار لے کر آئے تھے،

اسوقت اگر میں نے اسے جعلی بتا دیا ہوتا تو تم سوچتے کہ آج ہم پر برا وقت آیا تو چچا ہماری چیز کو بھی جعلی بتانے لگے.آج جب تمہیں خود علم ہو گیا تو پتہ چل گیا کہ ہار نقلی ہے.سچ یہ ہے کہ علم کے بغیر اس دنیا میں ہم جو بھی سوچتے، دیکھتے اور جانتے ہیں، سب غلط ہے.اور ایسے ہی غلط فہمی کا شکار ہو کر رشتے بگڑتے ہیں.ذرا سی رنجش پر، نہ چھوڑ کسی بھی اپنے کا دامن.زندگی گزر جاتی ہے، اپنوں کو اپنا بنانے میں.

آپ کے ہونٹ بھی بار بار پھٹ جاتے ہیں

آپ کے ہونٹ بھی بار بار پھٹ جاتے ہیں

ہم اکثر بیمار ہونے کے بعد سوچتے ہیں کہ آخر یہ بیماری کسی قسم کی علامات ظاہر کیے بغیر ہم پر حملہ آور کیسے ہوگئی جبکہ ہم تو بالکل صحت مند تھے؟مگر یہ سوچ ٹھیک نہیں کیونکہ ایسی متعدد علامات ہوتی ہیں جنھیں ہم معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں جو درحقیقت یہ ظاہر کررہی ہوتی ہیں کہ جسم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ایسی ہی چند علامات کے بارے میں جانیے جو آپ کو کسی سنگین مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں

ہوسکتا ہے کہ ایسا موسم کی شدت کی وجہ سے ہو، مگر ہونٹوں کا پھٹنا خاص طور پر کونوں سے درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے جسم میں وٹامن B12 کی کمی ہے، اس وٹامن کی کمی متعدد طبی مسائل جیسے خون کی کمی کے امراض کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس وٹامن کی کمی سے قبل از وقت آگاہ ہوکر آپ خود کو کافی مسائل سے بچاسکتے ہیں۔

سننے میں ہوسکتا ہے کہ عجیب لگے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا قد گھٹنے لگتا ہے، مگر اس کی رفتار میں تیزی اس بات کی طرف اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کی ہڈیوں میں کچھ خرابی ضرور ہے یا وہ آسٹیوپوروسز جیسے مرض کا شکار ہورہی ہیں، ہڈیوں کے امراض کا مطلب یہ ہے کہ گرنے کی صورت میں کسی بھی وقت فریکچر کا خطرہ سامنے آسکتا ہے، تو اس کی قبل از وقت شناخت سے ہمیں اپنی غذا تبدیل کرکے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زیادہ ٹھنڈ لگنا
اگر آپ کو کچھ زیادہ ہی سردی لگتی ہے تو یہ اس بات کا عندیہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے جسمانی دفاعی نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے یا اس کو مسائل درپیش ہیں۔ یہ علامت وٹامن سی کی کمی یا کسی وائرس کے حملے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جس سے آپ آگاہ نہ ہوں، ایسی صورت میں ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے خود کو مسائل سے قبل از وقت بچایا جاسکتا ہے اور اپنی عام صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

پیشاب زیادہ زرد ہونا
یہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اپنے پیشاب کی رنگت پر توجہ دیں کیونکہ یہ ہماری عام صحت کے بارے میں آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، اگر آپ کے جسم میں پانی مناسب مقدار میں ہو تو اس کی رنگت لگ بھگ شفاف ہوتی ہے، تاہم اگر اس کی رنگت زیادہ زرد یا پیلی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ گردوں میں کوئی مسئلہ ہے اور وہاں جمع ہونے والا کچرا مناسب طریقے سے پراسیس نہیں ہورہا۔
جلد میں مسائل
اگر آپ کو بار بار جلد میں خارش یا کسی اور قسم کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الرجی کا ردعمل ہے یا آپ کا جسم آپ کو بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ آپ بہت زیادہ تناﺅ کا شکار ہیں اور حالات کو سست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہوتا ہے تو اس کی بات سننا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ جسم اکثر اسے مدد کی پکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔

معمول کی نیند سے محرومی
اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی نیند مسائل کا شکار ہے اور آپ کو بے خوابی کی شکایت ہورہی ہے تو یہ جسم اور ذہن کے تناﺅ کا شکار ہونے کی علامت بھی ہوسکتا ہے، جب ہم سوتے ہیں تو ہمارا جسم تناﺅ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو کم کردیتا ہے، مگر جب ہم تناﺅ کا شکار ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہواتی ہے، ایسا ہونے سے جسم اپنی مرمت خود کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

معمول کی نیند سے محرومی
اگر آپ مناسب نیند لینے کے بعد باوجود دن میں خود کو تھکن کا شکار محسوس کررہے ہیں تو یہ آپ کے تھائی رائیڈ میں مسئلے کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے،

میٹابولزم کی شرح کو کنٹرول کرنے والے اس بے نالی غدود میں خرابی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا جسم بغیر کسی ضرورت کے بھی تمام تر توانائی ایک ساتھ استعمال کررہا ہے، یہ مسئلہ آپ کے جسم کو گرانے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے معمول کا کام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے

پاؤں میں ٹوٹی جوتی اور سر پر ٹیڑھی ٹوپی

پاؤں میں ٹوٹی جوتی اور سر پر ٹیڑھی ٹوپی

جماعتِ اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے اپنے ترچھی ٹوپی کے راز سے خود ہی پردہ اٹھادیا اور اس معمے کو حل کرکے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو ختم کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سراج الحق سے وہ سوال پوچھ لیا جو پاکستان کے اکثر لوگوں کے ذہنوں میں کلبلاتا رہتا ہے۔ صحافی نے امیرجماعت اسلامی سے پوچھا کہ وہ ٹوپی ترچھی کیوں پہنتے ہیں؟ جس پرسراج الحق نے بتایا کہ بچپن میں میرے پاس سکول کیلئے چپل نہیں تھی میں نے چپل نہ ہونے پر سکول جانے سے انکارکردیا ۔ میرے سکول نا جانے کے انکار پر میری والدہ نے ٹوپی ترچھی رکھ دی اور کہا کہ اب لوگ تمہارے پاوں نہیں ٹوپی دیکھیں گے بس بچپن کے اسی دن سے لے کر اب تک ٹوپی ترچھی ہی پہنتاہو

بادشاہ کی جگہ قبر میں رات کون گزارے گا

ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ وہ اپنی بادشاہت اس کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا،سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا،اسی دوران ایک

کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا ۔ اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا اس نے سوچا کہ اگروہ ایسا کرلے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے،

اسی دوران ایک کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا ۔ اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا اس نے سوچا کہ اگروہ ایسا کرلے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا اس کے پاس تھا ہی کیا ایک گدھا اور بس! سو اس نے اعلان کر دیا کہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارے گا۔بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی اور وعدے کے مطابق کمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا، اور لوگوں نے قبر کو بند کر دیا، کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور اسکو کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو۔ اس نے کہا بھائی حساب کس چیز کا میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے!!! فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے لیکن پھر ایک دم رکے اور بولے ذرا اس کا نامہ اعمال کھول کر دیکھیں اس میں کیا ہے،بس پھر کیا تھا، سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھئی فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا، اس نے جواب دیا ہاں، فوری طور پر حکم ہوا کہ اسکو سو د’رے مارے جائیں،اسکی خوب دھنائی شروع ہو گئی۔اسکے بعد پھر فرشتوں نے سوال کیا اچھا یہ بتاو فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لاد کر اسکو مارا تھا، اس نے کہا کہ ہاں پھر حکم ہوا کہ اسکو دو سو د’رے مارے جائیں، پھر مار پڑنا شروع ہوگئی۔ غرض صبح تک اسکو مار پڑتی رہی۔صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں۔ جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی، لوگوں نے پوچھا بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں،

تو اس نے جواب دیا، او بھائیوں پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو پوری رعایااور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے گا۔ یہ کہانی تو فرضی تھی لیکں کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کس کس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے.

جس کے کاروبار میں رکاوٹ ہو تو بس یہ وظیفہ کریں

ہم میں سے ایسے اکثر لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی کاروبار میں ہاتھ ڈالیں تو ان کو نقصان ہوتا ہے اگر بنا بنایا کام ہو تو وہ بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ گھر میں پریشانیاں ہوتی ہیں ۔ بیماریاں ہوتی

ہیں جب دیکھوں کوئی نہ کوئی مسئلہ ان کے گھر میں چل رہا ہوتا ہے ۔ خاندانی دشمنی بن جاتی ہے ۔ ایسے تمام لوگ جن کو نوکری نہ ملتی ہو ، جھگڑے ہو گھر میں ، رشتہ نہ ہوتا ہے

کاروبار میں نقصان ہو وہ دو رکعت نفل پڑھ کر اگر اللہ سےئ مانگے گے تو اللہ ان کی جھولی کو کبھی بھی خالی نہیں لٹائے گا اور انہیں مالا مال کر دے گا

ان کی تمام پریشانیاں ختم ہو جائے گی کاروبار میں برکت پیدا ہو گی ۔نوکری نہیں ہے تو مل جائے گی ۔ بس اللہ سے مانگے اور اس کے ساتھ اللہ کے مقدس نام کا خوب ذکر کریں جو کہ ذیل میں ہےاس کو روزانہ 300 بار پڑھے ۔۔وتوکل علی اللہ و کفی با اللہ وکیلا

ہم میں سے ایسے اکثر لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی کاروبار میں ہاتھ ڈالیں تو ان کو نقصان ہوتا ہے اگر بنا بنایا کام ہو تو وہ بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ گھر میں پریشانیاں ہوتی ہیں ۔ بیماریاں ہوتی

گناہ کو ایک کتاب میں لکھ لیتا تھا

گناہ کو ایک کتاب میں لکھ لیتا تھا

بغداد میں ایک بہت ہی گنہگار انسان تھا لیکن اسکی ماں بہت صالحہ تھی. اس شخص سے جب بھی کبھی گناہ ہوتا تو وہ اس گناہ کو ایک کتاب میں لکھ لیتا تھا.ایک رات کا زکر ہے جب وہ اپنے دن کے تمام گناہ کتاب میں لکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی. نکل کر باہر دیکھا تو نہایت ایک خوبصورت حسین و جمیل ماہ جبین لڑکی کھڑی تھی اس نے اس لڑکی سے پوچھا ” کیا چاہیے”

اس لڑکی نے جواب دیا.” میرے پاس یتیم بچے ہیں تین دن سے بھوکے ہیں کچھ بھی کھانے کو میسر نہیں” ” اچھا اندر چلی آو ” اس شخص نے اس لڑکی کو گھر کے اندر بلایا اور دروازہ بند کردیا کیونکہ اس عورت کو دیکھ کر اس شخص کی نیت خراب ہوگئی. وہ عورت جان گئی کہ اس بندے کی نیت خراب ہوگئی

ہے کہ اس کے جی میں اب برائی آئی ہے اس شخص نے اس عورت کو زبردستی اپنی طرف کھینچا تو اس نے زور سے کہا. ” اے مصیبتوں کو دور کرنے والے! مجھے اس انسان سے بچا اور اے اپنی مرنے کو بھول جانے والے انسان ! مجھے تو تم موت سے غافل نظر آتا ہے کہ تم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا کہ تم سے بہتر اور طاقتور لوگوں کو موت کھا گئی ان کو بھی اس دنیا سے سواۓ تھوڑی سی روزی اور کپڑے کے کچھ بھی نہ نصیب ہوا اور جو منزلیں اور بڑے بڑے گھر انہوں نے

آباد کیے وہ بھی خالی رہ گیےاور تم خود بھی کل یا اگلے روز تن تنہا قبرستان میں جاگزین ہوکر ان کی ہمسائیگی میں چلا جائے گا اے میرے پرودگار.! میری فریاد کو سن اور اس انسان سے مجھے بچا” اس شخص نے جب یہ فریاد سنی تو بہت رویا اور اس عورت کو چھوڑ دیا. اس شخص نے اس عورت کو کھانے کی چیزیں دی اور کہا “

یہ اپنے بچوں کو کھلاو.میں بہت گنہگار انسان ہوں اپنے بچوں سے کہنا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ میرے گناہ معاف کردیں اور جو گناہ میں اپنی کتاب میں لکھتا رہا وہ گناہ معاف ہونے کے بعد مٹ جائیں”.اس عورت نے جاتے ہوۓ اس شخص کو بہت دعائیں دی جب وہ عورت چلی گئی تو بندے نے اپنی کتاب میں لکھا کہ میں نے ایک عورت سے آج زنا کرنا چاہا کتاب کھولنے بیٹھ گیا جیسے ہی اس نے پہلا صفحہ کھولا تواس پر کچھ لکھا ہی نہیں تھا تمام کتاب چھان ماری لکن گناہوں کا تمام ریکارڈ کتاب سے پاک ہوچکا تھا،

اس شخص نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ماں کے پاس چلا گیا ماں کو کہا کہ اسکے گناہ معاف ہوگئے ہیں کیونکہ میں نے اللہ پاک سے ایک عورت کے ہاتھ پر صلح کرلی.اس کے بعد اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی اور دعا کی ” اے رحمان ! جیسے آپ نے میرے گناہ مٹا دیے اب مجھے اپنے پاس بلا لیں” یہ کہہ کر سجدہ کیا ، ماں نے جب دیکھا کہ سجدہ طویل ہوگیا تو اسکو حرکت دی دیکھاکہ روح پرواز کرچکی ہے اور اسکا انتقال ہوچکا ہے.

Qasim Ali Shah II Affordable Solution II Motivational Lecture II USA

Being highly productive isn’t a natural talent for everyone. Some of us have a naturally strong work ethic, while others really like our sitting-around time. But we always seem to find time for the things we want to do.

Laziness, on the other hand, appears for very specific reasons. Maybe we don’t know how to do the task, maybe we feel overwhelmed by everything we do have to do. Maybe we are just plain scared and our mindset needs adjustment.

Whatever the cause, if laziness is interfering with your productivity, if it’s making you unresponsive to your responsibilities, if it’s costing you your success, you must learn to overcome it.

Here are 12 easy ways to get on top of your laziness so you can begin to be more productive.

1. Make sure you’re not overwhelmed. Sometimes we freeze up when we’re overwhelmed by everything we have to do–we freeze up and don’t do anything at all. Do you have realistic expectations on how much you are truly able to accomplish? If you have too much on your plate and no idea how you’re going to get it all done, it may be that you’re not lazy but overwhelmed.

2. Check your motivation. Similarly, if you’re not motivated it is very easy to slip into what looks like laziness. To be productive we need to be motivated. If it’s hard for you to stay connected to what motivates you, make up a list that you can consult when you need an extra push.

Emotional Life: How to Manage Your Emotions | In Urdu

We all suffer from emotional overreactions. In the heat of the moment we say something to a person we love without stopping to consider the shockwaves. Or we blast off an email and wonder why we didn’t sleep on it before pressing ‘Send’. Our emotions spill over and, by the time they recede, the damage is done.

There’s no denying that this kind of behavior is on the rise. In the public domain, barely a day passes without newspapers splashing the story that a comment, tweet or email has caused an uproar. Demands are made for heads to roll, and responses range from retractions (‘I apologise unreservedly for my lack of judgement …’) to defiance (‘This is a ridiculous case of political correctness…’). And then the next story breaks.

The converse situation is that we feel gripped by fear or anxiety and fail to seize the moment to speak up or act according to our values. The consequences of freezing can be just as deleterious, and sometimes more so, than overreacting. Either way, managing our emotions is a tricky business.
When we look back on these situations our stock explanation is, ‘My emotions got the better of me’. But this raises a serious question: am I in charge of my emotions, or are they in charge of me? Nobody asked me this question at school, or told me the answer. Consequently I stumbled into the adult world with a royal flush of emotions – ranging from joy and excitement to fear and anger – without a manual for how to live with them.

Kash Mujhe Koi Pehle Bata Deta -By Qasim Ali Shah

Inspirational quotes have an amazing ability to motivate others and change the way we feel about ourselves. This is why I find them so interesting and crucial on our paths to success.

So what’s their secret?

You see, the way you think and feel about yourself, including your beliefs and expectations about what is possible for you, determines everything that happens to you. When you change the quality of your thinking, you change the quality of your life, sometimes instantly. Just as positive words can make someone smile or a well-timed humorous quote can make someone laugh, our thoughts react to the world in real-time.

1motivational guide – 5 questions to ask yourself to stay motivated

You have complete control over only one thing in the universe — your thinking – and that’s where motivational quotes come in!

Jump to: Inspirational Quotes About Life, For Students, For Work, For Success or Leadership Quotes

You can decide what you are going to think in any given situation. Your thoughts and feelings determine your actions and determine the results you get. It all starts with your thoughts – and I have found that inspirational words are a quick way to retune your thinking. Try keeping a few uplifting excerpts or positive proclamations on hand. If you ever notice your energy or your spirit begin to drop, simply recite an inspirational and uplifting quote to quickly boost your mood.