دوران خون میں مسائل اور خاموش علامات

دوران خون میں مسائل اور خاموش علامات
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:30
اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ہمارا جسم 60 ہزار میل تک پھیلی خون کی شریانوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ دل اور دیگر پٹھوں کے ساتھ یہ شریانیں خون کی گردش کا نظام تشکیل دیتی ہیں۔ یہ نیٹ ورک خون کو جسم کے ہر کونے تک پہنچاتا ہے تاہم جب یہ نظام مسائل کا شکار ہو تو خون کی روانی سست یا بلاک ہونے لگتی ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جسمانی خلیات آکسیجن اور غذائیت ضرورت کے مطابق حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ڈان کے مطابق اس ناقص سرکولیشن کی علامات سے واقفیت مسائل کو زیادہ سنگین

سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ہاتھوں اور ٹانگوں پر اثرات جب اعضاء کو مناسب مقدار میں خون نہیں ملا تو ہاتھوں یا پیروں میں ٹھنڈک یا سن ہونے کا احساس ہوسکتا ہے، اگر جلد کی رنگت ہلکی ہے تو ٹانگوں پر نیلاہٹ کی جھلک نظر آسکتی ہے۔ اسی طرح ناقص سرکولیشن جلد کو خشک کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ناخن بھربھرے ہوجاتے ہیں جبکہ بال گرنے لگتے ہیں، خصوصاً پیروں کے۔ اگر ذیابیطس کے شکار ہوں تو زخم بھرنے کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے۔ذہنی افعال میں اچانک کمی جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ کو بھی خون کی صحت مند سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا کام مناسب طریقے سے سرانجام دے سکے۔ جب دوران خون کی فراہمی میں مسئلہ ہوتا ہے تو دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، اگر واضح طور پر سوچنے میں مشکل کا سامنا ہو یا یادداشت میں اچانک خرابی محسوس ہو، تو یہ سرکولیشن کے نظام میں خرابی کی نشانی ہوسکتی ہے۔کھانے کی خواہش ختم ہوجانا دوران خون کے نظام میں مسائل کی ایک اور علامت کھانے کی خواہش ختم ہوجانا ہے، غذائی نالی کو غذا ہضم کرنے اور آنتوں تک غذائیت پہنچانے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے، جب دوران خون سست پڑتا ہے تو نظام ہاضمہ بہت آسانی سے متاثر ہوجاتا ہے، بھوک کا احساس کم ہوتا ہے، مگر کم کھانا میٹابولزم کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔بغیر وجہ نظام ہاضمہ کے مسائل ناقص سرکولیشن سے صرف کھانے کی خواہش ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ جسم کی غذا سے حاصل ہونے والی غذائیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ خون کی مناسب فراہمی کے بغیر اکثر غذائیں درست طور پر ہضم ہوئے بغیر گزر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں قے یا متلی، بدہضمی یا دیگر نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔تھکاوٹ اس نظام میں گڑبڑ کے نتیجے میں جسم کی آکسیجن، وٹامنز اور منرلز کو ہر حصے میں پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، ایسا ہونے پر جسم ہر ممکن حد تک توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مشکل وقت پر کام آسکے۔ ایسا ہونے پر ہر وقت تھکاوٹ کا احساس طاری ہوتا ہے جو کہ روزمرہ کے کاموں کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔سینے میں کھچاﺅ جب سرکولیشن کا نظام ناقص ہوتا ہے تو دل کو عام معمول کی طرح خون نہیں مل پاتا، اس کے نتیجے میں سینے میں دباﺅ بڑھنے یا کھچاﺅ کا احساس ہوتا ہے، اس علامت کو انجائنا بھی کہا جاتا ہے۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ویسے تو سیاہ حلقوں کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر دوران خون کے نظام میں مسائل میں بھی یہ بہت عام علامت ہوتی ہے۔ اگر یہ جاننا چاہیں کہ سیاہ حلقے سرکولیشن نظام کا نتیجہ تو نہیں تو اس حصے کی جلد کو نرمی سے دبائیں، اگر ایسا کرنے پر جلد کی رنگت ہلکی ہوجائے اور انگلی ہٹانے پر واپس سیاہ ہوجائے تو یہ سرکولیشن مسائل کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے۔ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سنگین کیسز میں خون کی ناقص سرکولیشن کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سامنے آسکتی ہے جو کہ غذائیت کے عدم توازن اور جسم کی شریانوں میں سیال کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

آخر میں آذربائیجان کیوں جاؤں؟ مجبور کردینے والے دلچسپ حقائق

آخر میں آذربائیجان کیوں جاؤں؟ مجبور کردینے والے دلچسپ حقائق

  جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018  |  13:51

آذربائیجان (Azerbaijan) جس کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان بھی کہا جاتا ہے تاریخی ورثے٬ ثقافتی ورثے اور قدرتی نظاروں کے اعتبار سے ایک امیر ترین ملک ہے- حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک منفرد ملک ہونے کے باوجود بہت کم سیاح اس ملک کی سیر کو جاتے ہیں- شاید اس کی ایک وجہ لوگوں کے درمیان آذربائیجان سے متعلق معلومات کی کمی ہے- اس ملک کی ثقافت٬ فن تعمیر اور فیشن میں مشرق اور مغرب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے- آئیے ہم آپ کو تفصیل سے وہ دلچسپ وجوہات بتاتے ہیں جن کی بنا پر آپ کو

ملک کی سیر ضرور کرنی چاہیے-Its untouched nature آذر بائیجان ہر موسم میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جس کی وجہ یہاں موجود خوبصورت پہاڑ ہیں- جہاں دیکھوں Caucasus نامی یہ پہاڑی سلسلہ دکھائی دیتا ہے- موسمِ سرما ان پہاڑوں سے بہتے جھرنے اور نہریں منجمد ہوجاتی ہیں- آذربائیجان کی منجمد جھیلوں کا نظارہ انتہائی سحر انگیز ہوتا ہے-Ski Resorts Shahdag اسکائنگ کے لیے ایک بہترین مقام ہے- دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقام نہ صرف سستا ہے بلکہ یہاں لوگوں کا زیادہ ہجوم بھی نہیں ہوتا- آذر بائیجان میں کئی بہترین ریزورٹ ہیں جن میں Shahdag ہوٹل٬ Zirve ہوٹل٬ Park Chalet اور Pik Palace شامل ہیں-Baku یہ آذربائیجان کا دارالحکومت ہے اور اسے Baki اور ہواؤں کے شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- اس شہر میں موجود سمندر کے ساحل کے ساتھ کئی پرکشش عمارات اور راستے تعمیر کیے گئے ہیں جو کہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں- اگر آپ اس شہر کی سیر کو جائیں تو نظامی اسٹریٹ٬ فاؤنٹین اسکوائر٬ میڈن ٹاور اور فلیم ٹاورز دیکھنا نہ بھولیں-Sheki یہ آذربائیجان کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جو کہ پہاڑ کی ڈھلوان پر واقع ہے- یہاں آپ کو اسلامی فنِ تعمیر کے کئی شاہکار دکھائی دیں گے- اس کے علاوہ اس شہر کے کھانے بھی انتہائی مزیدار ہوتے ہیں- اکثر سیاح اس دلچسپ اور خوبصورت شہر کو نظرانداز کرنے کی غلطی کرتے ہیں مگر آپ ایسا نہ کیجیے گا- اس شہر میں واقع Sheki Khans کا محل اور مٹھائیوں کی مقامی دکانیں بھی شہرت رکھتی ہیں-Villages آذربائیجان کے دور دراز علاقوں میں کئی ایسے گاؤں واقع ہیں جو خوبصورتی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اور یہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں- ان میں سے اکثر گاؤں کے رہائشی سیاحوں کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں- انہیں نہ صرف رہائش فراہم کرتے ہیں بلکہ کھانا اور گاؤں کی سیر بھی کرواتے ہیں- گاؤں میں رہنے والوں کا ذریعہ معاش جانور یا پھر کھیتی باڑی ہوتی ہے-The People اس ملک کے باشندے مہمان نواز اور دوستانہ رویے کے حامل ہیں- یہ سیاحوں سے مل کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں- تاہم یہاں کے زیادہ تر باشندے انگریزی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں اور وہ صرف روسی زبان میں ہی بات کرنا جانتے ہیں- لیکن اس کے باوجود وہ سیاحوں کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں-Hot Wine آذربائیجان میں پایا جانے والا یہ الکوحل سے پاک کچھ میٹھا اور کھٹا مشروب ہے جو کہ موسمِ سرما میں استعمال کیا جاتا ہے- یہ مشروب اسکائی ریزورٹ کے قریب میں واقع کسی کیفے سے حاصل کیا جاسکتا ہے-Gobustan دنیا میں موجود مٹی کے 800 آتش فشاں میں سے 350 آذر بائیجان میں پائے جاتے ہیں- یہ دیکھنے میں انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں اور ان آتش فشاں سے بہت زیادہ مٹی اور ہائیڈرو کاربن گیسوں کا اخراج ہوتا ہے- اور یہی تیل اور گیس کی دریافت کے حوالے سے مدد بھی فراہم کرتے ہیں- اس حوالے سے سب سے بہترین مقام Gobustan ہے جو کہ باکو شہر کے قریب ہی واقع ہے-The Cuisineآذربائیجان کے کھانے آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے کیونکہ یہ انتہائی مزیدار اور لذیذ ہوتے ہیں- اس لیے جب بھی آذربائیجان جانا ہو یہاں کے کھانوں کا لطف ضرور اٹھائیے- آذربائیجان کی مشہور ڈشز میں Piti اور کباب بھی شامل ہیں-

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:58
زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری) یہ پرانی بات ہے‘ میاں نواز شریف کا اقتدار ختم ہو چکا تھا‘ یہ وزیراعظم سے ملزم بن چکے تھے‘ ان پر طیارہ ہائی جیک کرنے کا الزام تھا‘ یہ جنرل پرویز مشرف کی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے اور یہ ملک کی مختلف جیلوں میں بھجوائے جاتے تھے‘ میاں صاحب کو2000ء کے شروع میں راولپنڈی جیل سے لانڈھی جیل کراچی منتقل کیا گیا‘ میاں صاحب جیل پہنچے تو ان کے ساتھ وہاں انتہائی توہین آمیز سلوک کیا گیا‘ قواعد کے مطابق پولیس ملزموں اور مجرموں کو جیل کے عملے کے حوالے کرتی ہے‘ملزمان کی وصولی

فریضہ عموماً اسٹنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ادا کرتے ہیں‘ یہ کاغذات وصول کرتے ہیں‘ ملزم سے اس کا نام اور جرم پوچھتے ہیں‘ رجسٹر میں لکھتے ہیں اور ملزم کی وصولی کی رسید جاری کر دیتے ہیں‘ یہ قاعدہ عام ملزموں کیلئے ہے‘ وی وی آئی پی یا سیاسی قیدیوں کو جیل میں تکریم دی جاتی ہے‘ ان سے صرف دستخط لئے جاتے ہیں ‘ان سے تصدیقی سوال نہیں پوچھے جاتے لیکن میاں نواز شریف کو اس عمل سے بھی گزارا گیا‘ میاں صاحب کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کرسی پر بیٹھا تھا‘ اس نے رجسٹر کھولا اور نہایت بدتمیزی سے کہا ’’ نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے جواب دیا’’میاں محمد نواز شریف‘‘ سپرنٹنڈنٹ کا اگلا سوال تھا ’’والد کا نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے بتایا ’’ میاں محمد شریف‘‘ اس سے اگلی بات انتہائی نامناسب تھی‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا ’’ سوچ کر بتاؤ‘‘ میاں نواز شریف یہ بات پی گئے‘ میاں صاحب کی جیب میں پین تھا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے ہاتھ بڑھا کر وہ پین میاں صاحب کی جیب سے نکالا اور کہا ’’ تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ میاں صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا مگر خاموش رہے۔ مجھے یہ واقعہ مخدوم جاوید ہاشمی نے سنایا تھا‘ یہ سناتے ہوئے ہاشمی صاحب کا گلہ روند گیا تھا جبکہ میرا دل بوجھل ہو گیا تھا‘ آپ بھی اس وقت کو تصور میں لائیے‘آپ کو بھی یقیناًافسوس ہو گا‘ میاں نواز شریف دوسری بار ملک کے وزیراعظم بنے تھے‘ یہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جو دو تہائی اکثریت لے کر ایوان میں پہنچے اور انہیں صرف اس ’’غلطی‘‘ کی سزا مل رہی تھی کہ انہوں نے 22 ویں گریڈ کے ایک افسر جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کی جرأت کی تھی‘ میاں صاحب کے اس جرم کی پاداش میں منتخب حکومت کو گھر بھجوا دیا گیا‘ شریف خاندان کو گرفتار کر کے جیلوں میں پھینک دیا گیا‘ اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا‘ کیا یہ واقعی اتنا بڑاجرم تھا کہ ملک کو مارشل لاء کے اندھیروں میں بھی دھکیل دیا جاتا اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو اٹک کے اس قلعے میں بھی رکھا جاتا جس میں دن کے وقت بھی سانپ رینگتے رہتے تھے‘ یہ سلوک صرف یہاں تک محدود نہیں تھا‘ میاں نواز شریف کو اٹک قلعے سے نکال کر ملک کی مختلف جیلوں کی سیر بھی کرائی گئی‘انہیں ائیر ٹائیٹ بکتر بند گاڑیوں میں عدالت لایا جاتا‘ طیارے میں ان کا بازو سیٹ سے باندھ دیا جاتااور ان کی ساری پراپرٹی ضبط کر کے انہیں پورے خاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا اور یہ وہاں سے واپس آئے تو انہیں دھکے دے کر‘ ان کے کپڑے پھاڑ کر‘ انہیں طیارے میں پھینک کر واپس سعودی عرب بھجوا دیا گیا‘ کیا کسی جمہوری لیڈر کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے؟ لیکن میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ یہ ہوا اور یہ سلوک بھی ریاستی اداروں نے جنرل پرویز مشرف کی ایما پر کیا‘ میاں نواز شریف کو اس دور میں جنرل محمود کے لہجے نے زیادہ تکلیف دی تھی‘ جنرل محمود بارہ اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں کورکمانڈر تھے‘یہ میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے‘ میاں صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا‘ جاوید ہاشمی کے بقول جنرل محمود نے میاں نواز شریف کو دھمکی بھی دی اور گالی بھی۔ میاں صاحب جلا وطنی کے دوران اس سلوک پر بہت دل گرفتہ تھے‘ وہ جنرل محمود اور ان کے لہجے کو کبھی فراموش نہیں کر سکے‘ جنرل عزیز اس وقت ڈی جی ملٹری آپریشن تھے‘ میاں نواز شریف کو ان کے رویئے پر بھی افسوس تھا‘ جنرل عزیز کارگل کی جنگ میں بھی ملوث تھے‘ ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے پاک فوج کے تین ہزار جوان اور آفیسر شہید ہوئے ‘ میاں نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھ ان کا کورٹ مارشل بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ان دونوںجرنیلوں نے وردی بچانے کیلئے حکومت کا تختہ الٹ دیا‘ اپنی نوکری بچا لی مگر پورا سسٹم برباد کر دیا‘ میاں نواز شریف جنرل کیانی کے رویئے سے بھی خوش نہیں تھے‘ میاں نواز شریف 10 ستمبر 2007ء کو لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے‘ جنرل کیانی اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ میاں نواز شریف کو اسلام آباد سے سعودی عرب واپس بھجوانے کا فریضہ جنرل کیانی کے لوگوں نے نبھایا تھا۔یہ وہ واقعات ہیں آپ کو جن کا اثر میاں نواز شریف کی نفسیات پر دکھائی دے رہا ہے‘ آٹھ سال کی جلاوطنی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ سال کی بیڈ گورننس اور 2013ء کے الیکشن میں میاں نواز شریف کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں‘ان تمام چیزوں نے میاں صاحب پر اثر کیا اور آپ کو یہ اثر اب ان کے چہرے پر نظر آتا ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر زبرستی بٹھایا گیا ہو اور یہ بھاگنے کا موقع تلاش کر رہے ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ آپ اب دوسری حقیقت بھی ملاحظہ کیجئے‘ وہ جنرل پرویز مشرف جس نے 12 اکتوبر 1999ء کو صرف دو جیپیں وزیراعظم ہاؤس بھجوا کر دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت کو گھر بھجوادیا تھا‘ وہ عدالت سے بچنے کیلئے 48 دن ہسپتال میں چھپے رہے‘ وہ 18فروری کو رینجرز کے نرغے میں عدالت پیش ہوئے تو انہیں ملزم کے کٹہرے کے ساتھ کرسی پر بٹھا دیا گیا‘ خصوصی ٹریبونل کمرے میں داخل ہوا تو اسے جنرل پرویز مشرف نظر نہ آئے‘ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اونچی آواز میں پوچھا ’’ ملزم کہاں ہے‘‘ جنرل پرویز مشرف یہ تین لفظ سن کر اپنی کرسی سے اٹھے اوراس عدالت کو سیلوٹ کیا جسے انہوں نے 9 مارچ 2007ء کو اپنی انا کے قدموں میں روند دیا تھا‘ عدالت نے ملزم کو دیکھا اور مسکرا کر واپس ہسپتال بھجوا دیا‘ یہ جنرل مشرف کا انجام ہے‘ آپ جنرل محمود کی کہانی بھی ملاحظہ کیجئے‘ جنرل پرویز مشرف اور جنرل محمود کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے‘ جنرل مشرف نے اس جنرل محمود کو فارغ کر دیا جس نے کبھی میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے اخلاقیات کی ساری حدود کراس کر دی تھیں‘ یہ جنرل محمود بے روزگار ہوئے‘ چند دوست درمیان میں آئے اور جنرل محمود کو ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی فرٹیلائزر کا سربراہ بنا دیا گیا‘ جنرل مشرف کی بدلتی ہوئی نظریں جنرل محمود کی نفسیات پر اثرانداز ہوئیں‘ یہ مذہب کی طرف چلے گئے‘ داڑھی رکھی‘ تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے اور یہ اب دوسری بار ریٹائر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں مصروف ہیں‘میاں نواز شریف 4 نومبر 2013ء کو خیر پور ٹامیوالی گئے‘ یہ فوج کی مشقیں دیکھنے وہاں گئے‘ جنرل عزیز بھی اس تقریب میں شریک تھے‘ میاں نواز شریف ظہرانے کے دوران جنرل عزیز کے عین سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل عزیز اور میاں نواز شریف دونوں کو اس وقت یقیناً1999ء کے وہ دن اور وہ راتیں یاد آئی ہوں گی جب جنرل عزیز نے میاں نواز شریف پر عرصہ حیات تنگ کر دیاتھا اور پیچھے رہ گئے جنرل اشفاق پرویز کیانی۔ جنرل کیانی صاحب کو شریف النفس اور فلاسفر آرمی چیف کہا جاتا تھا‘ سگریٹ اور کتاب جنرل صاحب کی دو کمزوریاں تھیں‘ یہ سروس کے دوران یس سر اور یس باس رہے تھے‘ شاید اسی لئے جنرل کیانی نے میاں نواز شریف کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے دھکے دے کر سعودی عرب بھجوانے کا بندوبستکیا تھا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور یہ میاں نواز شریف سے وقت لے کر ان سے ملاقات کیلئے جاتے تھے‘ آج کل خبر گردش کر رہی ہے جنرل کیانی سیکورٹی کی وجہ سے فیملی سمیت دوبئی شفٹ ہونا چاہتے ہیں لیکن فوجی قیادت انہیں اجازت نہیں دے رہی‘ ان کے دست رات جنرل پاشا پہلے ہی یو اے ای میں نوکری کر رہے ہیں۔ آپ اگر پچھلے پندرہ سال کے اس عروج و زوال کی داستان پڑھیں تو آپ کو جمہوریت کی طاقت پر یقین آ جائے گا‘ پاکستان میں اگر جمہوریت نہ ہوتی توشاید وہ میاں نواز شریف کبھی واپس نہ آتے جن کی جیب سے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے یہ کہہ کر پین نکال لیا تھا ’’تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ یہ صرف جمہوریت‘ ووٹ اور بیلٹ باکس کی طاقت ہے جس کی وجہ سے آج وہ شخص تیسری بار ملک کا وزیراعظم ہے جسے جیل میں رکھنے‘سزا دینے‘ جلاوطن کرنے اور انتخابی عمل سے باہر رکھنے کیلئے بار بار پوری ریاستی طاقت استعمال ہوئی‘ یہ بھی جمہوریت کا کمال ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف جو بیک جنبش قلم پوری سپریم جوڈیشری کو گھر بھجوا دیتا تھا وہ آج خود اسی جوڈیشری کے رحم و کرم پر ہے‘ ہماری سیاسی لاٹ نے اپنی آنکھوں سے جمہوریت کا یہ معجزہ دیکھا مگر اس کے باوجود ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین فوج کو دعوت دے رہے ہیں‘ یہ فوج سے فرما رہے ہیں ’’آپ ملک کو ’’ٹیک اوور‘‘ کر لیں‘‘ کاش یہ بیان دینے سے قبل الطاف حسین ایک بار اس منظر کو نگاہوں میں لے آتے جب جنرل عزیز میاں نواز شریف کے سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور جسٹس فیصل عرب عدالت میں یہ صدا لگا رہے تھے ’’ ملزم جنرل پرویز مشرف کہاں ہیں‘‘ اور کاش اس بیان پر خوش ہونے والے لوگ بھی ایک بار‘صرف ایک بار جنرل محمود کے تبلیغی سیشن میں شریک ہو جائیں‘ یہ ٹریبونل کیلئے جنرل مشرف کا سیلوٹ دیکھ لیں‘ کاش ایک بار ایسا ہو جائے‘ مجھے یقین ہے یہ بھی جمہوریت کی طاقت پر یقین کر لیں گے‘ یہ بھی بیلٹ باکس کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد اور چند دلچسپ حقائق

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد اور چند دلچسپ حقائق
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:50
عام طور پر بائیں یا الٹے ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کو کچھ عجیب نظروں سے دیکھا جاتا لیکن چند لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے زیادہ تر کام بائیں ہاتھ سے سرانجام دیتے ہیں اور ایسے افراد کو (left-handed) کہا جاتا ہے- ایسے افراد کے بارے میں مختلف سائنسی مطالعوں میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ لوگ بہت زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اور ذہین بھی ہوتے ہیں- ہم یہاں آپ کے سامنے بائیں ہاتھ سے اپنے امور سرانجام دینے والے افراد کے بارے میں چند مزید حیران کن حقائق بیان

گے-دنیا کی کُل آبادی کا 10 فیصد حصہ بائیں ہاتھ (left-handed) سے اپنے کام سرانجام دینے والے افراد پر مشتمل ہے- مختلف ریسرچ کے مطابق یہ انتہائی منفرد لوگ ہوتے ہیں- بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے-ایک ڈراؤنی حقیقت یہ ہے کہ مختلف سائنسی مطالعوں کے مطابق بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد بےخوابی٬ سر درد اور دماغی امراض کا شکار زیادہ بنتے ہیں- کاموں کے لیے بائیں ہاتھ کا استعمال کرنے والے افراد کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے دماغ کا زیادہ تر سیدھا حصہ استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر تخلیقی صلاحیتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے-سیدھے یا دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے مقابلے میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی نشو نما سست روی کا شکار ہوتی ہے- یہ دائیں ہاتھ والوں کے مقابلے میں بلوغت تک تقریباً 5 ماہ بعد پہنچتے ہیں-بائیں ہاتھ سے گیمز کھیلنے والے بہت آسانی سے آپ کو شکست دے سکتے ہیں- یہ بہت جلد اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں-مختلف مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کا آئی کیو لیول 140 سے زائد ہوتا ہے وہ عموماً بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں یعنی یہ بہت زیادہ ذہین ہوتے ہیں-اگر ہم چند کھیلوں جیسے ٹینس٬ باکسنگ یا تیراکی پر نظر ڈالیں تو ہمیں وہاں بھی بائیں ہاتھ سے امور سرانجام دینے والے ایک بہترین کھلاڑی کے طور پر دکھائی دیتے ہیں-دنیا بھر میں ہر سال 13 اگست باضابطہ طور پر بائیں ہاتھ سے اپنے کام سرانجام دینے والوں کا دن منایا جاتا ہے-بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد بہت جلد شرمندہ ہوجاتے ہیں یا پھر جلد ہی غصے میں بھی آجاتے ہیں-دنیا کے چند ذہین افراد جیسے کہ البرٹ آئن اسٹائن یا بل گیٹس بھی بائیں ہاتھ سے ہی اپنے امور سرانجام دیتے ہیں-

آپ اپنے بچے کا نام ’ابلیس‘ نہیں رکھ سکتے

آپ اپنے بچے کا نام ’ابلیس‘ نہیں رکھ سکتے
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:06
جرمنی میں لازمی نہیں کہ آپ کے مرضی کے مطابق ہی آپ کے بچے کا نام رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اس ملک میں خدا کی تعریف والے نام تو چلتے ہیں لیکن شیطان سے تعلق والے نام مناسب نہیں۔ کئی دیگر ملکوں میں تو قوانین اس سے بھی سخت ہیں۔ جرمنی کے شہر کاسل میں رجسٹری آفس کے ملازمین نے یہ تو لازمی سوچا ہوگا کہ یہ کیسا نام ہے؟ اس شہر میں والدین اپنے نوزائیدہ بچے کا نام لوسیفر (ابلیس) رکھنا چاہتے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے بچے کے لیے اس غیرمعمولی نام کو مسترد کر دیا لیکن والدین

بھی یہ فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچے کا نام وہی رکھیں گے، جو وہ چاہتے ہیں۔اس کے بعد یہ کیس عدالت میں چلا گیا، جہاں والدین کو اس حوالےسے قائل کر لیا گیا کہ وہ اپنے بچے کو وہ نام نہ دیں، جسے دنیا بھر میں برا بھلا اور بدی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ اب ان جرمن والدین نے اپنے بیٹے کا نام لوسیان رکھ لیا ہے۔لفظ لوسیفر کا لاطینی زبان میں مطلب ’صبح کا ستارہ‘ ہے لیکن اب یہ لفظ ابلیس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عیسائی روایات کے مطابق شیطان پر خدائی لعنت سے پہلے اسے لوسیفر کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا۔ اب تمام بڑے مذاہب میں لوسیفر کو ابلیس یا پھر شیطان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔جرمن زبان کی ایسوسی ایشن (جی ایف ڈی ایس) کے مطابق بھی یہ نام بچے کے لیے مناسب نہیں ہے اور اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تنظیم سے وابستہ خاتون ریسرچر فراؤکے روڈے بُش کا جرمن اخبار دی ویلٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جب بھی اس طرح کے نام کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، تو فیصلہ بچے کے مستقبل اور اس کو پیش آنے والے ممکنہ مسائل کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔‘‘جرمنی میں اس حوالے سے ایسا کوئی واضح قانون موجود نہیں ہے، جس کے تحت والدین کو مخصوص نام رکھنے سے روکا جا سکے لیکن والدین کو یہ اجازت بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جو نام چاہیں رکھ لیں۔ یہ مقامی رجسٹرار کا کام ہے کہ وہ برتھ سرٹیفیکیٹ پر کچھ لکھنے سے پہلے ہر نام کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرے۔اگر رجسٹری آفس کے ملازمین کسی نام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں تو وہ جرمن زبان کے ادارے جی ایف ڈی ایس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ یورپ کے مختلف ملکوں میں بچوں کے ناموں کے حوالے سے مختلف قوانین ہیں۔مثال کے طور پر آئس لینڈ میں حکومت نے ایک فہرست تیار کر رکھی ہے، جس میں تقریبا اٹھارہ سو پچاس بچیوں اور سترہ سو لڑکوں کے نام شامل ہیں۔ والدین ان میں سے کوئی بھی نام منتخب کر سکتے ہیں اور اگر وہ کوئی نیا نام رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ’آئس لینڈ نیمنگ کمیٹی‘ سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور اس حوالے سے کئی مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ناموں کے حوالے سے سب سے آسان قوانین امریکا کے سمجھے جاتے ہیں۔

کاروباری ترقی کے لئے پانچ سادہ اصول

کاروباری ترقی کے لئے پانچ سادہ اصول
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:32
آپ کوئی نیا کاروبار کرنے جارہے ہیں یا آپ کامیابی سے کوئی کاروبار پہلے سے چلارہے ہیں ایک بات تو طے ہے کہ کاروبار میں ترقی کے ہر وقت مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں اس میں سے اپنا حصہ لینے کےلئے اپنےآپ کو تیار کرنا ہوتاہے۔ ٹاپ پوزیشن ہمیشہ خالی ہی رہتی ہے۔ کاروبار میں آگے بڑھنے کے لئے نئ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ جتنا بھی کاروباری منافع کیوں نہ کما رہے ہوں۔ مندرجہ ذیل پانچ اصولوں پر تھوڑی توجہ دے کر آپ اس منافع کو دوگنا بلکہ تین گنا تک بڑھا سکتے ہیں۔ آپ کوئی نیا

کرنے جارہے ہیں یا آپ کامیابی سے کوئی کاروبار پہلے سے چلارہے ہیں ایک بات تو طے ہے کہ کاروبار میں ترقی کے ہر وقت مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں اس میں سے اپنا حصہ لینے کےلئے اپنےآپ کو تیار کرنا ہوتاہے۔ ٹاپ پوزیشن ہمیشہ خالی ہی رہتی ہے۔ کاروبار میں آگے بڑھنے کے لئے نئ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ جتنا بھی کاروباری منافع کیوں نہ کما رہے ہوں۔ مندرجہ ذیل پانچ اصولوں پر تھوڑی توجہ دے کر آپ اس منافع کو دوگنا بلکہ تین گنا تک بڑھا سکتے ہیں۔ بزنس کو ترقی دینے کے پانچ سادہ سے اصول ہیں۔ درج ذیل میں ان کی تفصیل درج ہے۔ ۔۱۔ تجربہ اور تعلیم: کسی بھی کام میں آگے بڑھنے اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس کام سے متعلق مکمل معلومات اور تعلیم حاصل کریں۔ اور پھر اس تعلیم کو عملی طور پر آزمائیں۔ آپ کا کام جتنا زیادہ تجربہ کی آگ سے گزرے گا اتنا ہی زیادہ اس میں ترقی کے مواقع واضع تر ہوتے جائیں گے۔۔۲۔ اشیاء یا سروسز کا اعلی معیار اسی قیمت پر: اپنے کاروبار کو دوسروں سے منفرد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کی پراڈکٹس یا سروسز دوسروں کے مقابلے میں اعلی معیار کی ہوں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ اعلی معیار کی پراڈکٹس اسی قیمت یا اس سے بھی کم قیمت پر لوگوں کو مہیا کی جائیں۔۔۳۔ کسٹمر کئیر: اگر آپ کاروبار کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے گاہکوں کی ضروریات اور ان کی تکالیف کا خیال رکھنا ہوگا۔ آپ کی پراڈکٹس یا سروسز میں کیا ایسا ہے جو لوگوں کے لئے مفید ہے۔ اپنی پراڈکٹس میں افادیت کے عنصر کا اضافہ کریں۔ اپنی پسند نا پسند سے زیادہ اپنے گاہکوں کی پسند یا ناپسند کا خیال رکھیں۔ اس طرح جو پراڈکٹس تیار ہونگی وہ مستقل طور پر اپکے کسٹمرز کی ڈیمانڈ لسٹ میں جگہ بنا پائیں گی۔۔۴۔ کسٹمر ہمیشہ درست ہوتا ہے: غلطی سب سے ہوتی ہے اگر ہم غلطی کرتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہم سے بازپرس نہ کرے بلکہ اس کو بھلا کر آگے بڑھ جائیں۔ یہی اصول آپ کے گاہکوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگر کبھی وہ غلط بات پر بھی اسرار کریں تو ان کے ساتھ بحث میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے تھوڑا ایکسٹرا ان کو سروس مہیا کرنے میں صرف کیا جائے۔ کسٹمر سروسز کا بہترین معیار آپ کے گاہکوں کو متمعین کرے گا جس پر آپ کے گاہک نہ صرف خود دوبارہ آپ سے کاروبار کریں گے بلکہ دوسروں کو بھی آپ کی طرف ریفر کریں گے۔۔۵۔ ڈیٹابیس سافٹ وئیر: بزنس کی ترقی میں جس چیز کی بہت اہمیت ہے وہ ہے اپنے کاروبار کی صحیح صورتحال کو سمجھنا۔ مخصوص اوقات میں کیا سیل ہوا؟ کس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے کس میں منافع زیادہ حاصل ہوا؟ کس چیز کی کاسٹ آف سیل زیادہ ہے؟ کون سے کسٹمر سے کتنا بزنس کیا اور کتنا منافع کمایا؟ سٹاک کتنا پڑا ہے اور اس کی قیمت کیا ہے؟ کون سی اشیاء اسٹاک میں ختم ہونے والی ہیں؟ کتنے پیسے واجب الادا ہیں اور کتنے لوگوں سے لینے ہیں؟ خرچوں میں کتنا اضافہ ہوا اور کس مد میں زیادہ خرچہ ہوا؟۔۔۔۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا بروقت جواب ملنا بزنس کی ترقی کے لئ بہت ضروری ہے۔ ان سوالات کے جواب کتابی حساب کتاب سے حاصل کرنا باممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ اگر ہم اپنے کاروبار کو کمپیوٹرائیز کرلیں تو ان جوابات کا حصول ایک کلک کی دوری پر رہ جاتاہے۔

جب سابق گونر جنرل ملک محمد غلام کی وصیت پر عمل کرنے کیلئے ان کی قبر کو کھولا گیا تو اس میں سے کیا چیز نکلی ؟

جب سابق گونر جنرل ملک محمد غلام کی وصیت پر عمل کرنے کیلئے ان کی قبر کو کھولا گیا تو اس میں سے کیا چیز نکلی ؟
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:40
زندگی اس مالک کی دین ہے جس نے واضح احکامات دیے اور بتا دیا کہ یہ راستہ صحیح ہے اور یہ غلط ۔ غلط کریں گے تو جہنم آپ کا مقدر ہوگی اور صحیح کریں گے تو جنت کے حقدار ٹھہریں گے ۔اللہ رب العزت خالق کائنات ہیں اور اور یہ ان کی قدرت ہے کہ بس ’’کُن‘‘ کہتے ہیں اور کام ہو جاتا ہے ۔ یہ بھی برحق ہے کہ وہ اللہ کو اپنی مخلوق سے اس قدر پیار ہے کہ وہ ہمیں سب کچھ بتا دینے کے باوجود ہمیں سدھارنے کیلئے اپنی نشانیاں دکھاتے رہتے ہیں ۔ ہم

قارئین کی نذر ایک ایسا ہی واقعہ پیش کرنے جا رہے ہیں ۔پاکستان کی معروف رائٹر فائزہ نذیر ہ احمد اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتی ہیںکہ :انسانی زندگی مختلف واقعات کا مرقع ہے۔ روزمرہ زندگی کے واقعات دلچسپ ، عبرت ناک اور سبق آموز بھی ہوتے ہیں۔درجِ ذیل چند دلچسپ واقعات قارئین کی توجہ کیلئے پیشِ خدمت ہیں تا کہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اصلاح کا باعث بھی بن سکیں۔ پہلے دو واقعات پاکستان کی دو الگ الگ شخصیات کی وصیتوں سے متعلق ہیں جو پوری نہ ہو سکیں مگران دونوں کا انجام کتنا مختلف اورباعثِ عبرت ہوا ۔قارئین ان دونوں واقعات کو پڑھ کر جو بھی نتیجہ اخذ کریں لیکن قدرت کے رنگوں پر حیران ضرور ہوں گے ۔ وصیتیں جو پوری نہ ہو سکیں دنیا کے کسی بھی شہ سوار سے شکست نہ کھانے والا کوہِ گراں رستم زماں گاماں پہلوان 23مئی 1960ء کی صبح موت سے شکست کھا گیا۔گاماں پہلوان کو رمضان المبارک میں سحری کے وقت ایک نہایت ہی زہریلے سانپ نے کاٹ لیا تھا۔گاماں پہلوان کو ان ہی کے ذاتی تانگے پر میو ہسپتال لایا گیا۔یہ ایک بہت ہی زہریلا سانپ تھا اور کسی عام آدمی کو کاٹتا تو وہ فوراًہی لقمہ اجل بن جاتا مگر گاماں پہلوان اس سانپ کے زہر سے بھی بچ گئے ۔صحت یاب ہونے کے بعد گاماں پہلوان نے کہا کہ سانپ نے دانت میرے پائوں میں گاڑھ دیئے لیکن میں نے پوری قوت سے اسے زمین پر رگڑا تویہ الگ ہوااورمجھے یوں لگا جیسے میں جلتے تنور میں گرگیا ہوں۔گاماں پہلوان اس واقعہ کے بارہ سال بعد طبعی موت کا شکار ہوئے ۔ان کی وصیت کے مطابق انہیں پیر مکی کے مزار احاطہ میں دفن کیا جانا تھا ۔پیر مکی کے صحن میں قبر کی کھدوائی شروع ہوئی تو ایک مجاور خاتون نے ڈپٹی کمشنر کو دہائی دی کہ کچھ لوگ پیر مکی کے صحن میں زبردستی قبر بنانے جا رہے ہیں جنہیں ایسا کرنے سے روکا جائے ۔طویل بحث کے بعد گاماں پہلوان کو جوگی خاندان کے ذاتی قبرستان میں دفن کردیا گیا اور یوں ان کی آخری خواہش جسے پورا کرنا دشمن بھی اپنا فرض سمجھتا ہے ، پوری نہ ہو سکی۔ایک دوسرے واقعہ پر نظر دوڑائیںتوعبرت کی ایک بدترین مثال ابھر کر سامنے آتی ہے ۔ 29اگست 1952ء کو پاکستان کے گورنر جنرل ملک غلام محمد فوت ہوئے ۔ان کی وصیت کے مطابق انہیں سعودی عرب میں دفنایا جانا تھا لہٰذا انہیں امانتاًکراچی میں سپردِخاک کر دیا گیا۔کچھ عرصہ بعد وصیت کے مطابق ان کی لاش کو قبر سے نکال کر سعودی عرب روانہ کرنے لگے توایک ڈاکٹر، فوج کے کیپٹن، پولیس اہلکا ر، دوگورکن اور غلام محمد کے قریشی رشتہ دار قبرکشائی کے لیے قبر ستان پہنچے۔گورکن نے جیسے ہی قبر کھودیاور تختے ہٹائے تو تابوت کے گرد ایک سانپ چکر لگاتا دکھائی دیا، گورکن نے لاٹھی سے اس سانپ کو مارنے کی کوشش کی ،مگر وہ ہر وار سے بچ گیا ۔پولیس کے سب انسپکٹر نے اپنی پستول سے چھ گولیاں داغ دیں،مگر سانپ کو ایک بھی گولی نہ لگی۔ڈاکٹر کی ہدایت پر ایک زہریلے سپرے کا چھڑکائوکر کے قبر عارضی طور پر بند کر دی گئی۔دو گھنٹے کے بعدجب دوبارہ قبرکھودی گئیتو سانپ اسی تیزی سے قبر میں چکر لگا رہاتھا ۔چنانچہ باہمی صلاح مشورے کے بعد قبر کو بند کر دیا گیا اور اگلے دن ایک مشہور اخبار میں چھوٹی سی خبر شائع ہوئی جو کچھ یوں تھی: ’’سابق گورنر جنرل غلام محمد کی لاش سعودی عرب نہیں لے جا ئی جاسکی اور وہ اب کراچی ہی میں دفن رہے گی ۔

اپنی نماز کو بہتر کیسے بنائیں؟

اپنی نماز کو بہتر کیسے بنائیں؟
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:44
جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتا، اس کی نماز میں ادھر ادھر کے خیالات کا آنا بنسبت دوسروں کے زیادہ ممکن ہے اور ایسی نماز میں خشوع و خضوع کا ہونا مشکل ہے پھر نماز اللہ تعالی سے ملاقات اور راز ونیاز کا بہترین انداز ہے اس لئے کم ازکم نماز کا ترجمہ تو ہر مسلمان کو لازمی آنا چاہئیے۔، آئیں نماز سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں. *ثناء* سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ. (ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الصلاة، باب ما يقول عند افتتاح الصلاة، 1 : 283، رقم : 243) *’’اے اﷲ!

پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘**تعوذ* أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. *’’میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں۔‘‘* *تسمیہ* بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. *’’ﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘* *سورۃ الفاتحہ* الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO (الفاتحة، 1 : 1. 7) *’’سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہےo نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہےo روزِ جزا کا مالک ہےo (اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیںo ہمیں سیدھا راستہ دکھاo ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایاo ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کاo‘‘**سورۃ الاخلاص* قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌO اللَّهُ الصَّمَدُO لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌO (الاخلاص، 112 : 1۔ 4) *’’(اے نبی مکرّم!) آپ فرما دیجئے : وہ اﷲ ہے جو یکتا ہےo اﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہےo نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہےo اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہےo‘‘* *رکوع* سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ. (ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصلاة، باب ماجاء فی التسبيح فی الرکوع والسجود، 1 : 300، رقم : 261) *’’پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا۔‘‘* *قومہ* سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ. *’’ﷲ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘* رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ. (مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب إثبات التکبير فی کل خفض ورفع فی الصلاة، 1 : 293، 294، رقم : 392)*’’اے ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔‘‘* *سجدہ* سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی. (ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب مقدار الرکوع و السجود، 1 : 337، رقم : 886) *’’پاک ہے میرا پروردگار جو بلند ترہے۔‘‘* *جلسہ* حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان درج ذیل دعا مانگتے : اَللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِيْ وَارْزُقْنِيْ. (ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب الدعا بين السجدتين، 1 : 322، رقم : 850) *’’اے ﷲ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت پر قائم رکھ اور مجھے روزی عطا فرما۔‘‘* *تشہد* التَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اﷲِ الصّٰلِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ. (ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الدعوات، باب فی فضل لَا حَول ولا قوة إلَّا بِاﷲِ، 5 : 542، رقم : 3587) *’’تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اﷲ ہی کے لیے ہیں،اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘* *درودِ اِبراہیمی* حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو، تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ ابراہیمی پڑھتے جو درج ذیل ہے :ش اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ. اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ. (بخاری، الصحيح، کتاب الانبياء، باب النسلان فی المشی، 3 : 1233، رقم : 3190) *’’اے ﷲ! رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔* *’’اے ﷲ! تو برکتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔‘‘* *دعائے ماثورہ* درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھیں : رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِo رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَءَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُo (ابراهيم، 14 : 40، 41) *’’اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لےo اے ہمارے رب!* *مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے) اور دیگر سب مومنوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہوگاo‘‘*

12روز تک 3کھجوریں روزانہ کھانے سے آپ کے جسم میں ایسی تبدیلی آئےگی؟ جوآپ کو آزمانے پر مجبور کردے گی

12روز تک 3کھجوریں روزانہ کھانے سے آپ کے جسم میں ایسی تبدیلی آئےگی؟ جوآپ کو آزمانے پر مجبور کردے گی
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:33
کھجور کے انسانی صحت پر خوشگوار اثرات اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور جدید سائنس بھی اس بات کو قبو ل کرتی ہے کہ کھجور میں موجود فائبر اور دیگر اجزاء ہمارے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہیں اور ۔ کھجور میں کاپر،پوٹاشیم،فائبر،میگنیشیم ،وٹامن میگنیز پایا جاتاہے اگر آپ دن میں تین کھجوریں کھائیں تو آپ کے جسم پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اورآپ کا جسم بیماریوں سے محفوظ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ دل، جگر، اور دماغ کو تقویت ملے گی اور خود کو ترو تازہ اور توانا محسوس کریں گے۔طبی ماہرین کے مطابق کھجورکا

سنت رسول ﷺ بھی ہے اور اسے 12روز تک استعمال کرنے سے صحت کے بہت سے مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے ۔نظام انہضام پر اثرات:اگر آپ کو قبض،تیزابیت،معدے یا انتڑیوں کی تکلیف ہے تو آپ کو کھجورضرور کھانی چاہیے۔اس میں موجود فائبر ہمارے معدے کے لئے بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہے۔دردوں سے نجات:کھجوروں میں میگنیشیم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سوجن پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور جسمانی دردیں بھی کنٹرول میں رہتی ہیں۔مختلف تحقیق میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کھجور کھانے سے جسم میں سوجن کم ہونے کے ساتھ درد میں آرام آتا ہے۔

2خربوزے34لاکھ میں بک گئے ، ان میں ایسی کیا خاص بات تھی؟جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا

2خربوزے34لاکھ میں بک گئے ، ان میں ایسی کیا خاص بات تھی؟جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 11:45
خربوزہ ایک لذیذ پھل ہے جس میں موجود پانی کی مقدار جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہے اور اس پھل میں موجود دیگر وٹامنز جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔جاپان میں اُگنے والے خربوزے ’’یوباری‘‘ جہاں اپنی لذت اور غذائیت کے باعث ہر ایک کی پسند ہیں وہیں جاپان میں اسے اسٹیٹس سمبل بھی سمجھا جاتا ہے۔کسی پھل کو اسٹیٹس سمبل کی حیثیت حاصل ہوجانا ایک حیران کن بات ہے لیکن جاپان میں یہ ایک حقیقت ہے جس کا ثبوت حال ہی میں ٹوکیو میں ہونے والی پھلوں کی نمائش میں یوباری خربوزے کی نیلامی کے دوران

جا سکتا ہے جہاں اس پھل کے ایک دلدادہ شخص نے یوباری خربوزے کی ایک جوڑی 34 لاکھ روپے میں خرید لی۔ واضح رہے یہ ایک ہائبرڈ پھل ہے جسے خربوزوں کی دو الگ الگ قسم کے اختلاط سے تیار کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ دو سال قبل مئی 2016 میں ہونے والی نیلامی میں بھی یہ پھل 27 ہزار امریکی ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔