نمک صرف کھانے کی چیز نہیں٬ حیرت انگیز کمالات

نمک صرف کھانے کی چیز نہیں٬ حیرت انگیز کمالات
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:37
نمک دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اشیاء میں سے ایک ہے اور کھانے کا ذائقہ اس کے بغیر اچھا نہیں لگتا۔ یہ بہت مہنگا تو نہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے میں شامل کرنے سے ہٹ کر بھی اسے مختلف طریقوں سے استعمال کرکے زندگی کو آسان بنایا جاسکتا ہے؟ جی ہاں واقعی اس کے ایسے متعدد فوائد ہیں جو ہوسکتا ہے آپ کو معلوم بھی نہ ہو۔ یہاں آپ ڈان نیوز کے توسط سے نمک کے چند حیران کن طریقہ کار جان سکیں گے۔ مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی جلن سے

کے کاٹنے سے جلن ہورہی ہے تو اپنی انگلی کی پور کو پانی سے نم کریں اور نمک میں ڈبو دیں، اب اس مکسچر کو متاثرہ حصے میں رگڑیں، آپ کو ریلیف محسوس ہونے لگے گا۔تانبے کی اشیاء کو جگمگائیں تانبے کے برتنوں کی چمک بحال کرنا چاہتے ہیں؟ تو نمک کو سرکے اور آٹے میں مکس کریں یا اسے لیموں کے عرق میں شامل کرکے برتنوں پر رگڑیں۔تیل کی چھینٹوں کو روکیں فرائنگ پین میں کسی چیز جیسے مچھلی کو تلنے سے پہلے کچھ مقدار میں نمک کو چھڑک دیں، اس سے گرم تیل کی چھینٹیں مچھلی کو فرائنگ پین میں ڈالنے پر اچھلیں گی نہیں۔جوتوں کی بو دور کریں اگر جوتوں میں بدبو پیدا ہوگئی ہے تو اسے دور کرنے کے لیے کپڑے میں نمک بھر کر لپیٹ لیں، اور کچھ گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ بو غائب ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ آپ جوتوں کے اندر نمک چھڑک دیں اور پھر جوتوں کو ہلائیں، اس کے بعد نمک کو نکال دیں۔چیونٹیوں سے نجات چیونٹیوں سے نجات کے لیے نمک اور پانی کو 1:4 کے تناسب سے بوتل میں ملائیں، اس سلوشن کو ہر اس جگہ چھڑک دیں جہاں چیونٹیوں کی بھرمار ہو یا بس نمک ہی متاثرہ حصے پر چھڑک دیں، وہ بھی کارآمد ہوتا ہے۔سبزیوں اور پھلوں کو براﺅن سے بچائیں پھل اور سبزیاں کٹ جانے کے بعد جلد براﺅن ہوجاتی ہیں، اس سے بچنے کے لیے ایک برتن میں کھارا پانی بھر کر پھل یا سبزی کو اس میں ڈبو دیں۔لہسن اور پیاز کی بو ہاتھوں سے دور کریں لہسن اور پیاز کاٹنے پر ہاتھوں میں بو بس جاتی ہے، تاہم اس کا حل کافی آسان ہے، اپنے ہاتھوں کو گیلا کریں اور نمک کی کچھ مقدار کو کسی سپاٹ جگہ پر چھڑک کر اپنے ہاتھ اس سے رگڑیں اور پھر دھولیں۔ائیر فریشنر بنائیں اس مقصد کے لیے آدھے سے ایک کپ نمک اور بیس سے تیس قطرے کسی خوشبودار تیل یا گلاب کی پتیاں چاہیے ہوں گی۔ اب یہ اشیاء کسی برتن یا جار میں ڈالیں اور چھوڑ دیں، اس سے گھر میں ایک بھینی مہک پھیل جائے گی۔اچانک بھڑکنے والی آگ کو بجھائیں یہ طریقہ کار عام طور پر چولہے کے اچانک بھڑکنے سے پیدا ہونے والے شعلوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، ان شعلوں پر نمک چھڑک دیں جس سے آکسیجن کی روانی کٹ جائے گی اور شعلے بجھ جائیں گے۔استری کی صفائی اگر استری کے نیچے کوئی کپڑا جل کر چپک گیا ہے تو استری کو تیز ترین درجہ حرارت پر چلائیں اور ایک بھورے پیپر کے ٹکڑے پر نمک چھڑک کر گرم استری اس پر چلائیں۔سنک کی صفائی لیموں کے عرق اور نمک کو ملا کر ایک پیسٹ بنائیں اور اس سے اسٹین لیس اسٹٰل کو چمکائیں، یہ پیسٹ کیمیکل کلینرز سے بھی زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔

آپ کے بچے جنت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں

آپ کے بچے جنت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:19
الحمدللہ، بیٹے کے ذہن میں جنت کا بہت دلچسپ اور مزے کا تصور ہے. ایک دن چاکلیٹ کھا رہا تھا، میں نے اسے بتایا کہ جنت میں ہمارے گھر سے بھی بڑی بڑی چاکلیٹس ہوں گی، اور جیلی اتنی بڑی ہوں گی کہ آپ ان کے اوپر چھلانگیں لگا سکیں گے، اور یہاں تو آپ کو دانت برش کرنے پڑتے ہیں اور زیادہ چاکلیٹ کھانے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں، جنت میں آپ جتنی مرضی چاکلیٹ کھانا، دانت بالکل بھی خراب نہیں ہوں گے، بے شک برش مت کرنا، کیونکہ اللہ کی بنائی ہوئی بہت سپیشل چاکلیٹس ہوں گی.

کی آنکھیں حیرت، تعجب اور خوشی سے چمک اٹھیں. اب جب بھی دعا مانگتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ “اللہ جی! میں جب جنت میں جاؤں تو مجھے بہت بہت بہت بڑا سا پیزا/چاکلیٹ /آئس کریم دینا.” وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جب وہ جنت میں جائے گا تو سپائیڈرمین کی طرح لٹک سکے گا یا آئرن مین کی طرح اڑ سکے گا. یا وہ جب چاہے گا، اپنے آپ کو روبوٹ بنا لے گا.الحمدللہ، اس کے ذہن میں شیطان کے بارے میں بھی اس کی عمر کے حسب سے واضح تصور ہے کہ شیطان نہیں چاہتا کہ وہ جنت میں جائے اور اس کے پاس اتنی ساری پاورز آ جائیں، اس لیے وہ ہم سے ایسے کام کروانا چاہتا ہے جس سے امی ابو اور اللہ جی ناراض ہوتے ہیں. کبھی کبھی غلطی ہو بھی جاتی ہے لیکن اگر اللہ سے معافی مانگ لی جائے تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے. میں نے کل صبح بیٹے کو بتایا کہ اب رمضان شروع ہو گیا ہے تو آپ جو بھی اچھا کام کریں گے، اللہ جی آپ کو اس کے 70 پوائنٹس (ثواب) دیں گے. عام دنوں میں اس کام پر ایک ہی پوائنٹ ملتا تھا. اور بیٹا یہ بات جانتا ہے کہ اللہ کے پاس اس کے جتنے زیادہ پوائنٹس ہوں گے، جنت میں اسے اتنی ہی زیادہ سپر پاورز اور چیزیں ملیں گی. (آج کے بچے بھی ناں! سپر پاورز کے چکر میں!) اور ماشاءاللہ صبح سے وہ اپنے پوائنٹس گن رہا تھا.میں نے بہنا کو سلام کیا ہے، 70 پوائنٹس امی کی فوراً بات مانی ہے. 70 پوائنٹس اپنے ناشتے کی پلیٹ پوری ختمکی ہے. 70 پوائنٹس مجھ سے تھوڑا سا دودھ میز پر گر گیا تھا. میں نے صاف کر دیا. ، 70 پوائنٹس کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھی، 70 پوائنٹس گھر سے نکلتے ہوئے دعا پڑھی، 70 پوائنٹس…… سکول سے واپسی پر ایک جگہ کوک کا خالی کین کسی نے پھینکا ہوا تھا. میں نے بیٹے کو کہا کہ اگر آپ اسے اٹھا کر کوڑا دان میں پھینک دو گے تو اس پر بھی آپ کو 70 پوائنٹس ملیں گے. ماشاءاللہ، اس کے بعد راستے میں تین چار بوتلیں اور بھی ملیں، بیٹے نے خود ہی اٹھا کر کوڑے دان میں ڈال دیں. رات کو اپنے بابا کو بتا رہا تھا کہ آج میرے ایک ہزار سے بھی زیادہ پوائنٹس ہو گئے اللہ جی کے پاس آپ کے بچے کیا کہتے/کرتے/سوچتے ہیں جنت کے بارے میں؟

وردی اس لئے پہنی جاتی ہے کہ ملک کیلئے لڑا جائے، مشرف سابق جنرل اسد درانی کے بارے میں بہت کچھ کہہ گئے

وردی اس لئے پہنی جاتی ہے کہ ملک کیلئے لڑا جائے، مشرف سابق جنرل اسد درانی کے بارے میں بہت کچھ کہہ گئے
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:08
سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ اسد دورانی خود کو بہت اونچا سمجھتے ہیں ۔ وردی اس لئے پہنی جاتی ہے کہ ملک کے لئے لڑا جائے بھارت کے ساتھ پر امن رہنا چاہئے نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے سے ڈر گئے تھے گزشتہ روز سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل ریٹائرڈ اسد دورانی خود کو بہت اونچا سمجھتے ہیں فوج کی وردی اس لئے پہنی جاتی ہےتا کہ ضرورت کے وقت ملک کے لئے جنگیں لڑ سکیں۔ اگر لڑ نہیں سکتے تو فوج میں آتے ہی کیوں ہیں انہوں

مزید کہا کہ کشمیرکے بارے میں کشمیریوں سے پوچھا جائے میں ہمیشہ اس بات کا خواہاں رہا ہے کہ ہمیں بھارت کے ساتھ پر امن رہنا چاہئے لیکن امن کی خاطر ملکی وقار اور عزت داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا سابق صدر پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے سے ڈر گئے تھے ۔

فرانسیسی جریدے کو ترک صدر طیب اردوان کی توہین کرنا مہنگا پڑ گیا ترک صدر کے حامیوں نے فرانس میں ایسا کام کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو جائے گا، فرانسیسی صدر پھٹ پڑے

فرانسیسی جریدے کو ترک صدر طیب اردوان کی توہین کرنا مہنگا پڑ گیا ترک صدر کے حامیوں نے فرانس میں ایسا کام کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو جائے گا، فرانسیسی صدر پھٹ پڑے
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:12
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ایک سیاسی جریدے کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر کی گئی تنقید کا دفاع کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک تقریب سے ماکروں ن کہاکہ یہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے کہ لپوائنٹ نامی جریدے کے پوسٹرز کو دکانوںسے صرف اس وجہ سے ہٹا دیا جائے کہ اس نے آزادی کے دشمنوں کو ناراض کیا ہے۔ اس جریدے نے اپنے سرورق پر ترک صدر کی آمر کے عنوان سے ایک تصویر شائع کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایردوآن کے حامیوں نے جنوبی فرانس میں اخبارات اور کتابوں کی

سے یہ جریدے ہٹا دیے تھے۔

”میرے کفن پر اللہ کے رسول ﷺ کا پسینہ لگادینا “ کیا آپ جانتے ہیں یہ عظیم خاتون کون تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پسینہ مبارک سے خوشبو بنایا کرتی تھیں،ان کی آخری وصیت کیا تھی کہ جس سےعشق نبیﷺ کی ایسی گراں قدر مثال قائم ہوگئی کہ رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا

”میرے کفن پر اللہ کے رسول ﷺ کا پسینہ لگادینا “ کیا آپ جانتے ہیں یہ عظیم خاتون کون تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پسینہ مبارک سے خوشبو بنایا کرتی تھیں،ان کی آخری وصیت کیا تھی کہ جس سےعشق نبیﷺ کی ایسی گراں قدر مثال قائم ہوگئی کہ رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:41
عشق مصطفیٰؐ جس دل میں سما جاتا ہے وہاں پھر کوئی اور نہیں سما سکتا ، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی نبی کریم ؐ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اکثر صحابہ کرامؓ میں آپ کےوضو مبارک کے پانی پر سے بحث ہو جاتا کرتی تھی، صحابہ کرامؓ آپ کے وضو مبارک کے پانی کو بھی زمین پر نہ گرنے دیتے، کئی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپ کے پسینے کو اپنے آپ پر مل لیا کرتے تھے۔صحابہ کرامؓ کی روایات کے مطابق آپ ؐ کا پسینہ مبارک نہایت خوشبو دار تھا۔ ایسی ہی ایک

کا ذکر اسلامی تاریخ میں موجود ہے جو آپؐ کے پسینہ مبارک کو جمع فرماتی اور ان سے خوشبو بناتی تھیں۔ آپؓ کا اسم گرام ام سلیمؓ بنت ملحان تھا ، آپؓ حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ اور مشہور صحابی رسولؐ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کی اہلیہ تھیں، آپؓ کی والدہ رسول کریمؐ کی رضاعی بہن بھی تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ آپؐ سے پردہ نہ فرماتیں ۔آپؐ اکثر اوقات ان کے گھر تشریف لے جاتے اور کبھی کبھار قیلولہ بھی فرما لیتے۔ سیدہ ام سلیم ؓبنت ملحان کا اللہ کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔آپؓ اسلام قبول کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھیں ۔ آپؓ کا پہلا خاوند ملک بن نضر حالت کفر میں ملک شام میں گزر گیا۔ ام سلیم نے بچپن سے ہی انس بن مالکؓ کو اسلام اور نبی کریم ؐ کی محبت کا درس دیا ، آپؓ نہایت مدبر اور بہادر خاتون تھیں۔ سیرت نگاروں کے مطابق ایک بار جب آپؐ ام سلیمؓ کے گھر چارپائی پر قیلولہ فرما رہے تھے تو وہاں چمڑے کا ایک ٹکرا پڑا تھا ، آپؐ کو پسینہ آیا جس کے قطرے چمڑے کے اس ٹکڑے پر جذب نہ ہوئے ، ام سلیمؓ نے جھٹ سے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے آپؐ کے پسینہ مبارک کو ایک چھوٹی سے بوتل میں جمع فرماعشق مصطفیٰؐ جس دل میں سما جاتا ہے وہاں پھر کوئی اور نہیں سما سکتا ، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی نبی کریم ؐ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اکثر صحابہ کرامؓ میں آپ کےوضو مبارک کے پانی پر سے بحث ہو جاتا کرتی تھی، صحابہ کرامؓ آپ کے وضو مبارک کے پانی کو بھی زمین پر نہ گرنے دیتے، کئی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپ کے پسینے کو اپنے آپ پر مل لیا کرتے تھے۔صحابہ کرامؓ کی روایات کے مطابق آپ ؐ کا پسینہ مبارک نہایت خوشبو دار تھا۔ ایسی ہی ایکصحابیہ کا ذکر اسلامی تاریخ میں موجود ہے جو آپؐ کے پسینہ مبارک کو جمع فرماتی اور ان سے خوشبو بناتی تھیں۔ آپؓ کا اسم گرام ام سلیمؓ بنت ملحان تھا ، آپؓ حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ اور مشہور صحابی رسولؐ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کی اہلیہ تھیں، آپؓ کی والدہ رسول کریمؐ کی رضاعی بہن بھی تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ آپؐ سے پردہ نہ فرماتیں ۔آپؐ اکثر اوقات ان کے گھر تشریف لے جاتے اور کبھی کبھار قیلولہ بھی فرما لیتے۔ سیدہ ام سلیم ؓبنت ملحان کا اللہ کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔آپؓ اسلام قبول کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھیں ۔ آپؓ کا پہلا خاوند ملک بن نضر حالت کفر میں ملک شام میں گزر گیا۔ ام سلیم نے بچپن سے ہی انس بن مالکؓ کو اسلام اور نبی کریم ؐ کی محبت کا درس دیا ، آپؓ نہایت مدبر اور بہادر خاتون تھیں۔ سیرت نگاروں کے مطابق ایک بار جب آپؐ ام سلیمؓ کے گھر چارپائی پر قیلولہ فرما رہے تھے تو وہاں چمڑے کا ایک ٹکرا پڑا تھا ، آپؐ کو پسینہ آیا جس کے قطرے چمڑے کے اس ٹکڑے پر جذب نہ ہوئے ، ام سلیمؓ نے جھٹ سے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے آپؐ کے پسینہ مبارک کو ایک چھوٹی سے بوتل میں جمع فرما لیا۔نبی کریمؐ یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپؐ نے ام سلیمؓ سے دریافت کیا کہ ام سلیمؓ یہ آپ کیا کر رہی ہیں ، ام سلیمؓ کہنے لگیں”یارسول اللہﷺ آپ کا مبارک پسینہ ہے ، میں اسے دوسری خوشبوؤں میں شامل کر لیتی ہوں“ فرماتی تھیں” آپﷺ کا پسینہ بہترین خوشبو ہے“ ام سلیمؓ نے اپنے بیٹے انس بن مالک ؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے کفن پر رسول اللہ ﷺ کا پسینہ لگا یا جائے ، چنانچہ آپؓ کی وفات کے بعد انس بن مالکؓ نے اپنی والدہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ کا پسینہ مبارک ان کے کفن پر لگایا تھا ۔ لیا۔نبی کریمؐ یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپؐ نے ام سلیمؓ سے دریافت کیا کہ ام سلیمؓ یہ آپ کیا کر رہی ہیں ، ام سلیمؓ کہنے لگیں”یارسول اللہﷺ آپ کا مبارک پسینہ ہے ، میں اسے دوسری خوشبوؤں میں شامل کر لیتی ہوں“ فرماتی تھیں” آپﷺ کا پسینہ بہترین خوشبو ہے“ ام سلیمؓ نے اپنے بیٹے انس بن مالک ؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے کفن پر رسول اللہ ﷺ کا پسینہ لگا یا جائے ، چنانچہ آپؓ کی وفات کے بعد انس بن مالکؓ نے اپنی والدہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ کا پسینہ مبارک ان کے کفن پر لگایا تھا ۔

قصہ ہشت درویش

قصہ ہشت درویش
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:24
آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہااتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوںپہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کیدو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا بچپن تھانیرنگی زمانہ دیکھیے کہ خبر ہی نہ ہوئی اور جوانی آن ٹپکیایک عفیفہ کہ نام اُس کا اب ذہن میں نہیںالبتہ اس کے والد گرامی شہرکے سب بڑے کھمبوں پہ رات کو لالٹین باندھ کر

دارین کمایا کرتے تھے، تاکہ اللہ کے وہ بندے جو رات کو دوسروں کے گھروں میں روزی روٹی کے سلسلہ میں نقب لگاتے ہیں ، اُن کو مشکل نہ ہو(لوگ ایویں بکواس کرتے ہیں، کہ ڈاکو ان کو باقاعدہ حصہ دیا کرتے تھے)اور دن میں سود پہ پیسہ دے کر خدمت خلق کیا کرتے تھےایسے لوگ اب جہاں میں کہاں ملیں گےتو ایک روز اس عفیفہ نے مجھے رستہ میں گزرتے ہوئے کہا، اے بھلے آدمی! مدت سے تو مجھے روزن دیوار سے دیکھا کرتا ہےکیوں نہ تو مستقل ہمارے گھر میں ہی منتقل ہو جائےوالد گرامی ایک عدد ملازم کی تلاش میں ہیں ، جو اُن کے ساتھ مل کر دن رات اللہ کی مخلوق کی خدمت بجا لائےمیں نے باقاعدہ بغلیں بجائیںاور ساڑھے تین درم کے بتاشے لے کر وہیں غربا میں تقسیم کیاتفاق سے اس وقت ہم دونوں ہی وہیں تھےگھر تو اپنا نام کا تھاسو ہمسایے کا ہی ایک جوڑا چھت سے اٹھایااور اُس عفیفہ کے گھر جا وارد ہوئےپہنچتے ہی اُس خضر صورت بزرگ نے میرا ماتھا چوما اور لالٹینوں میں تیل ڈالنے پر مامور کیا چند ہی روز میں ہمیں یقین ہو گیا، کہ یہ عفیفہ ہم سے محض فلرٹ کر رہی ہےسو اُس شب ہم نے اُس بزرگ کے گھر کو خیر باد کہہ دیادل دنیا سے اوب سا گیا تھادنیا کے مال سے نفرت ہو چلی تھیاسی لیے سوچا ، کیوں نہ اس بزرگ کو بھی اس آزار سے نکالتے چلیںسو چلتے چلتے اُس کی تجوری کا بوجھ ہلکا کیا اور شہر سے باہر نکل پڑادیکھا تو صحرا میں ایک جگہ کچھ لوگ الاؤ کے گرد رقص کرتے تھے اور نامانوس زبان میں عجب نغمے گاتے تھےاُن کے ہاتھوں میں چھوٹےچھوٹے پیالے تھےجن میں نجانے کوئی مشروب تھاصحرا، رات، رقص،الاؤ، مشروبمیں نے بزرگ کی دولت کو کمر سے کس کے باندھا اور اُس حلقہ میں شامل ہواتھوڑی دیر میں ان میں سے ایک نے میرے ہاتھ میں وہی جام پکڑایاخمار میں تھاایک ہی لمحہ میں سارا جام چڑھا گیارقص کرتے کرتے مجھے لگا، کہ آسماں کے تارے میرے قریب ہی کہیں آ گئے ہوںبلکہ ایک دو کو تو ہاتھ بڑھا کر میں نے پکڑنا چاہااسی دوران میں معرفت کی دنیا میں اتر گیااور پھر میری آنکھ اگلی صبح ہی کھلیفوراً کمر کی طرف ہاتھ بڑھایا، تو خبر ہوئی کہ وہ بھی میرے درویش بھائی تھےاور مجھے دنیا کے علائق سے ہٹا دینے پہ مامور تھےحق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھےتیسرا درویش: اے پیر جواں سالابھی سے سر دو اسپرین والی درد سے بھر گیا ہےاپنی داستان کو کل رات تک اٹھاکہ آج رات مجھے کل رات کی تھکن اتارنا ہےوہ والی تھکن جو پرسوں رات چوتھے درویش کے چوتھے عشق کا قصہ سنتے سنتے ہوئی تھی پانچواں درویش: بھلے لوگو! مدت ہوئی ملائی کا برف کھائےتم میں سے کوئی شہر جائے اور کسی نیک دل تاجر کو سفوفِ دلپذیر سنگھا کرصبح تک کے لیے میٹھی نیند سلا کر اس کی دعائیں لےاور ملائی کا برف اُس کے برفاب خانے سے لائےکیا کہا تھا گنجوی خراسانی نے اک آگ لگی میری سینے میں ہائے ظالم نے کیا مصرعہ کہاتیر ہی تو مار ڈالا سینے میںچھٹا درویش: تیر سے یاد آیا درویش بھائیو! تمہیںبھی کچھ یاد آیا؟؟ ایک تھا تیر انداز ، ایک تھی کمان اور ایک ہی تھا تیر اُس مردِ نیک نہاد نے کمان کا چلہ کھینچاتیر چڑھایااور پھر ساتواں درویش: پھر کیا ہوا؟ آٹھواں درویش:پھر خاک ہونا تھادن چڑھنے کو آ گیا ہے اور ابھی ملائی کا برف نہیں آیاتف ہے ایسی درویشی پہ پہلا درویش: بھائیو! دنیا فانی ہے اور آنی جانی ہےکیوں خواہشات دنیا میں اتنا مگن ہوتے ہوعبرت سرائے دہر میں ہر منظر سے عبرت پکڑوہمارے ہمسائے ہی میں ایک خوبرو ، فرشتہ صفت عطار کا لونڈا دوائیں بیچتا تھاکل میں اس سے دوا لینے گیا تو بھلا چنگا تھاحیرت ہے کہ آج شام میں اس کوچے میں گیا تو اسے دیکھ کر میری سٹی گم ہو گئیکچھ دیر میں اپنی سٹی ڈھونڈتا رہاجب مل گئی تو کیا دیکھتا ہوںکہ وہ بدستور بھلا چنگا ہی تھاکیا زمانہ آ گیا کیا زمانہ آ گیاآٹھواں درویش: رات تمام ہوئیمگر نہ میری داستانِ درد تم نے سماعت کی اور نہ خس خانہ برفاب کا وہ جگر پارہ آیاجسے کہیں تو شہنشاہِ اثمارکے رس میں ملا کے پیش کرتے ہیں تو کہیں مرکب اسود یعنی موسوم بہ چکلیت میں ملا کے نوش جاں کرتے ہیں کہیں رس بھری کارس اس میں ملاتے ہیں تو کہیں میوہ ہائے خشک کا انبار اس کے تودہ پہ استادہ کرتے ہیںہائے نواب اجہل الزماں کے دیوان خانہ کی رونق ! وائے ملک یسارالدولہ کے زنان خانہ کی رونق!!استغفراللہ! یہ کیا ہفوات بک گئے ہم ہم کہنا چاہ رہے تھے ملک یسارالدولہ کے نعمت خانہ کی رونق یہی ملائی کا برف ہی تو ہوتی تھیقسما قسم ذائقوں اور فواکہات میں ملوث و ملفف کر کے نقرئی طشتریوں میں ادھ کھلے چاند کی راتاے چشم فلک! دہائی ہےدہائی ساتواں درویش: صاحبو! دیکھتا ہوں کہ لذائذ جسمانی و نفسانی کے بہت دلدادہ ہوتے جاتے ہونفس کا غلام اور تربوز کا بیج ایک ہی خاصیت رکھتے ہیںکچھ عرصہ قبل تک تو یہ خاصیت مجھے یاد تھیاب بھولنے لگا ہوںایک تجویز ہے کہ ہم آٹھوں بھائی آج رات نکلیں اور گلیوں کوچوں میں آوارگی کریںنئے لوگ، نئی کہانیاں،نئی خوشبوئیں، نیا کوتوال اور نئے سپاہیکوتوالی کے سابقہ ملازم تو ہم آٹھوں بھائیوں کی جان کے درپے ہی ہو گئے تھے قرارداد منظور ہوتی ہے آدھی رات کے قریب کا وقت ہے، چاند ڈیڑھ نیزے پہ اور سورج بستر میں پڑا ہےتارے دون کی لے رہے ہیں اور ستارے خرگوش کی نیند سے حظ اٹھاتے ہیںایسے میں یہ قلندر صفت مردان باصفا شہر کی سیر کو نکلتے ہیںاگلی شب: تکیے پہ آٹھوں درویش ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈال کے حال کھیل رہے ہیںتزکیہ نفس اور اسرار معرفت کی یہ مجلساللہ اللہ پہلا دریش کہ عمر اور قفس کے تجربے میں سب سے فائق تھایوں گویا ہوااے چمنستان معرفت کی بلبلو! کل رات کی داستاں جلد سناؤ، کہ عقل جلا مانگتی ہے ذرا یہ نمدہ تو ادھر کھسکاناآٹھواں درویش: صاحبو! کل رات جو میں تکیے سے نکل شہر میں وارد و صادر ہواتو بیڑی جلانے کو لمحہ بھر ایک گلی کی نکڑ پہ رکا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گدھا ایک پختہ عمر کو کان سے پکڑ کے کھینچے جا رہا تھادم بخود، انگشت بدنداںفہم نماندیا خدا یہ کیا ہو رہا اس شہر میں تھوڑا آگے چلا تو ایک درویش کو شرطوں کی وردی میں دیوار پھلانگ کر ایک تاجر کے گھر جاتے دیکھاپوچھا ، اے درویش بھائی تم تو بندی خانے میں تھےکہنے لگا، چپ کر میں چپ ہو ررہاآگے چلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑھیا غازہ و خم کاکل لگائے سجائے بیچ رستے کے تخت بچھائے بیٹھی ہے اور ہر آنے جانے والے کو آخرت سے ڈرا رہی ہے صاحبو! یہ دیکھ کر میری تابِ مجال جواب دی گئیاور شہر سے صحرا کو نکل آیاالبتہ اتنا ضرور ہوا کہ نکلتے نکلتے ایک بھاگتے ہوئے چور کی لنگوٹی ضرور لے آیاشکر ہے وہ درویش بھائیوں میں سے نہیں تھااللہ بس باقی ہوسساتواں درویش: صاحبو! میں جب شہر پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ امیر شہر کی سواری جاتی ہےخدام حشم جلو میں قطار اندر قطار چلتے تھےیہ دیکھ کرحصول خلعت شاہی کی پرانی خواہش میرے اندر عود کر آئی اور میں نے آوازہ ہوس بلند کر دیاافسوس ہے اس نفس پہمیں نے صدا دی! اے امیر شہرتیری توصیف کو تملق بھی کمتر صنعت ہے اور تیری صورت کی مدح کو خود نظیفی و اباابائی قصیدہ لکھ کر لائیں تو حق ادا نہ کر سکیں گےشجاعت کا تذکرہ کروں یا سخاوت کاابھی یہ سب کہہ رہاتھا کہ امیر نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیا ور کہا درویش لگتے ہومیں بھی کبھی درویش تھایہ بتاؤ بستہ الف کے درویش ہو یا بستہ ی کےمیں حیران ہی تو رہ گیاامیر شہر نےمیری تلاشی کا حکم دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پچھلے ہفتے جو ہار ہم نے شربت روح افزا پلا کر فارس کے تاجر سے ہدیتاً وصول کیا تھااُس کو دیکھ کر کہنے لگاایسی رعایا مالک دوجہاں ہر ایک کوعنایت فرمائےکہ بادشاہ کی زیارت کو آویں تو ایسے خوبصورت تحفے لے کر آویںہم تیرا یہ ہدیہ قبول کرتے ہیں سر پیٹنے کا مقام تھاسو خوب پیٹاجانب صحرا آئے اور سر میں مٹی ڈال کر رقص درویش کیااور اس شعر کی قوالی کیا کیے درویشی بھی ہے عیاری، سلطانی بھی ہے عیاریچھٹا درویش: تکیے کے بھائیو! مدت ہوئی میں بادیہ گردی کا اسیر ہوااور شہروں کی بود و باش سے تائباور صرف صحراؤں میں بھٹکے قافلوں کو مزید بھٹکا کر نان شبینہ کا انتظام کیا کرتا تھاکل جب آپ کی تجویز و قرارداد پہ شہر میں جا موجود ہواتو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مانوس شکل سرائے کی انتظارگاہ میں قہوے کے فنجان کے فنجان لنڈھا رہی ہےغور کیا تو یہ اعلیٰ حضرت نادرکلوروی ثم بغدادی تھےان کے ایک قافلے کو ایک دفعہ بیچ صحرا کے اس فقیر نے دنیاوی مال و دولت کے دلدر سے چھرایا تھاحضرت کی نظر مجھ پہ پڑی تو اپنے چار ہٹے کٹے مریدوں سمیت فوراً آن ملےانتہائی محبت سے ملےان چاروں نے بھی باری باری معانقہ کیااس عمل میں ہماری تین پسلیاں مجروح ہوئیں اور باقی مضروباسس کے بعد وہ مجھے باصرار اپنے حجرے میں لے گئے اور ان چاروں احباب کو میرے ساتھ حال بے حال کھیلنے کا حکم دیاانہوں نے تعجیل سے تعمیل کیاس سے آگے بیان میرے بس میں نہیںبس یہی کہہ رہا ہوں تب سے درویش کی موت آئے تو شہر کا رخ کرتا ہے پانچوں درویش: بھائیو! اب تم سے کیا چھپاؤں، جب رات میں نے شہر کا قصد کیا تو مجھ پہ نیند کا غلبہ ہوااتنا غلبہ اتنا غلبہ ہواکہ میں چلتے چلتے رستے میں موجود ایک کٹیا میں پڑ کے سو رہادن چڑھے ہوش آئیتو واپس آ گیانادم ہوں معافی کا خواستگار ہوں ہاں اتنا ضرور ہے کہ رستے میں ایک پان فروش کو چونا لگاتے دیکھا تو خود اس کو چونا لگا کر سکھایا کہ اصل میں چونا کیسے لگاتے ہیںیہ جو ہندوستان کے خوشبو دار پتوں میں خوشبو کی لپٹیں مارتا قوام آپ چبا رہے ہینیہ اسی مرد حق پرست کا ہی آپ بھائیوں کے لیےتحفہ تو تھاچوتھا درویش: یہ شہر بھی عجیب ہوتے ہیںایسے ایسے لوگ ان میں جا بستے ہیں جن کی جیبیں بھری اور دل و دماغ خالی ہوتے ہیںمدت سے میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احقر العباد قدس سرہ العزیز کے دروس ہائے فلسفہ سے اپنے علمی پیاس بجھایا کرتا ہوںآج جو شہر کا رخ کیا تو ان کا مدرسہ سامنے آ گیادل کی ضد کہ شیخ کی قدم بوسی کی جائے اور ادھر سے آپ بھائیوں کے حکم کی بجا آوریسو میں نے ایک درمیانی راہ نکالی اور سنیما میں لگی تازہ نمائشِ متحرک تصاویر(فلموں) کے اشتہار دیکھنے لگاان میں سے ایک مجھے بہت بھایانام کچھ یوں تھا ’’اندلس کے باغات میں لختئی رقص‘‘ بمعہ چہار ہزلیات از نواب مسؤل امبیٹھوینصف درم خرچ کر میں وسطی طبقے میں جا بیٹھاپردہ سیمیں پہ عجب مناظر تھےعجب ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی ، کہ برق خود مختار بعد از تبسم رخصت ہوئیہمیں وطن مالوف کی بہت یاد آئیجہاں ایسی ہی برکات و فیوض رئیس سلطنت کے دم قدم سے جاری تھیں صاحبو! اُن کانام نامی تو آپ بخوبی جانتے ہوں گےمیں نے نعرہ مستانہ بلند کیا تمام ناظرین وجد میں آ گئے اور رقص بسمل شروع کیاموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے ٹکٹیں ان کی جیبوں میں اور نقدی و ماکولات اپنے جبہ میں منتقل کرنا شروع کیںپھر اسی ہاؤ ہو میں سے نکلےشہروالوں کی عاقبت ناندیشی پہ سخت تاسف کرتے کرتے آپ بھائیوں کی خدمت میں دوبارہ ھاضر ہوا شک نہیں کہ کبوتر با کبوترباز بہ بازباری تھی تیسرے درویش کیلیکن اس نے ہوشیار ریل مسافر کی طرح عین وقت پہ ایک ہزار رکعت نفل کی نیت کیتاکہ مالِ مسروقہ شریفہ میں درویش بھائیوں کو شامل کرنے کی نوبت نہ آئے کیا وقت آ گیاکیسے لوگ چہرہ زمین پہ آن بسےاتنی حرصاتنا لالچالحفیظ و الامان دوسرے درویش کی ڈھنڈیا پڑیتو پتہ چلا کہ وہ پہلے درویش کی معیت میں پچھلی رات کا تمام مال غنیمت سمیٹ کر کب کے یاد خدا میں مصروف ہونے کو پہاڑ کی کھوہ کا رخ کر چکے نفل پڑھتے درویش نے کمر کے پٹکے کو اور زور سے باندھا اور سلام پھیرے بغیر ہی جانب مشرق برہنہ پا دوڑ لگا دی بقیہ پانچ درویشوں نے ایک دوسرے کی داڑھیاں اور جبے ہاتھوں میں لیے اور حال کھیلنے لگے وہ دن اور آج کادن سب درویش ویرانوں میں بستے ہیںہاں کبھی کبھار شہروں کا رخ کرتے ہیں تو براہ راست ایوانوں میں پہنچائے جاتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں چلتے ہو تو صھرا کو چلیے والسلام مع الاکرام

ہاتھ کی رگوں میں خون نیلا کیوں نظر آتا ہے؟

ہاتھ کی رگوں میں خون نیلا کیوں نظر آتا ہے؟
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:20
خون کا رنگ سرخ ہوتا ہےاور یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے جسم میں خون کسی اوررنگ کا ہو مگر آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہو گا کہ آپ جب بھی اپنے جسم کی ابھری ہوئی نسوں(رگوں) کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ان رگوں میں نیلاہٹ نظر آتی ہے یعنی یہ نیلی نظر آتی ہیں جبکہ دوسری جانب ان نسوں پر دوڑنے والا خون سرخ رنگ کاہوتا ہے، سرخ ہونے کےباوجود ہاتھوں کی رگوں میں خون کا رنگ نیلا کیوں نظر آتا ہے اور اس کی کیا وجہ ہے ، اس سوال کا جواب یہہے کہ ہمارے جسم

انتہائی باریک رگیں جو ایک جال کی صورت میں پھیل ہوتی ہیں جو دل سے خون لے جانے اور اسے واپس دل تک پہنچانے کا کام سر انجام دیتی ہیں ،دل سے خون جسم میں جانے کے عمل کے دوران یہ خون آکسیجن سے بھرپور ہوتا ہے جسے ہم صاف خون کہتے ہیں اور جب جسم سے واپس یہ خون دل تک پہنچتا ہے تو اس میں آکسیجن کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔ ہیموگلوبن ، آئرن اور آکسیجن خون کا رنگ سرخ بناتے ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں کا خیال ہےکہ کیونکہ دل تک واپس پہنچنے کے دوران خون میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے تو اس لئے خون کا رنگ تبدیل ہو کر نیلا نظر آتا ہے مگر اس مِتھ میں کوئی صداقت نہیں بلکہ خون کا رنگ سرخ کے بجائے نیلا نظر اس لئے آتا ہے کہ سرخ اور نیلی روشنی کا طول موج ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں ہماری جلد میں مختلف گہرائی تک سرایت کرسکتی ہیں۔ سرخ روشنی کا بڑا حصہ جلد میں جذب ہوکراندرتک چلاجاتا ہے جب کہ نیلی روشنی ہماری کھال میں تھوڑی سی گہرائی تک اترنے کے بعد رگوں سے ٹکرا کر باہر کی سمت واپس لوٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہاتھوں کی رگیں سرخ کے بجائے نیلی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا رگوں کا نیلا نظرآنا بصری دھوکے کے سوا اورکچھ نہیں۔

مختصر مزاحیہ کہانی

مختصر مزاحیہ کہانی
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:32
ایک فرم کا مالک اپنے دو ماتحتوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے نکا۔راستے میں انھیں ایک بوتل پڑی نظر آئی ۔ایک ماتحت نے بوتل اٹھائی ،اس پر ڈھکنا لگا ہوا تھا اور اندر کوئی دودھیا سی چیز نظر آرہی تھی ۔ ماتحت نے آن کی آن میں ڈھکنا کھولا، اس دھوئیں نے ایک جن کی صورت اختیار کر لی ۔ساتھ ہی جن اپنی خوف ناک آواز میں بولا “تم لوگوں نے مجھے اس بوتل سے نجات دلائی میں تم تینوں کی اییک ایک خواہش پوری کروں گا۔بولو تمہاری کیا کیا خواہش ہے ” اس پر فرم کے

نے کہنا چاہا : ” میری خواہش ہے کہ ۔۔۔” اس وقت اس کا ایک ماتحت بول پڑا ۔ “سر مہربانی کر کے پہلے مجھے اپنی خواہش کا اظہار کرنے دیں ” “اچھی بات ہے پہلے تم خواہش بیان کر لو۔۔۔” اس نے جن سے کہا : “آپ مجھے ایک جزیرے پر بھیج دیں جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود ۔۔ بس میںکھاؤں پیوں ، عیش کروں ۔۔۔کوئی کام نہ کروں اور میرے علاوہ وہاں کوئی نہ ہو ” “اچھی بات ہے ” یہ کہہ کر جن نے چٹکی بجائی ۔۔۔ اور وہ ماتحت غائب ہو گیا ۔ اب پھر مالک نے کہنا چاہا: “میری خواہش یہ ہے کہ ۔۔۔۔” ایسے میں دوسرا ماتحت بولا : “سر ! مہر بانی فرما کر مجھے خواہش بیان کرنے کی اجازت دیں ” “اچھی بات ہے ۔۔ تم پہلے بیان کر لو۔” “مجھے ساحلِ سمندر پر بھیج دو ۔۔۔ جہاں میرا خوب صورت بنگلہ ہو ” “اچھی بات ہے ” جن نے کہا اور چٹکی بجائی ۔۔۔وہ بھی غائب ہوگیا۔ اب مالک کی باری تھی ۔۔۔ اس نے جن سے کہا “یہ دونوں میری فرم میں کام کرتے تھے ۔۔۔ میری خواہش ہے کہ ان دونوں کو واپس لے آؤ ” جن نے چٹکی بجائی اور وہ دونوں واپس آگئے ۔ سبق : اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ پہلے بڑوں کو بات کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

مرتے وقت دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

مرتے وقت دماغ میں کیا ہوتا ہے؟
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:27
مرتے وقت کسی کے دماغ میں کیا ہوتا ہے؟ اس حوالے سے کسی کے پاس بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ سائنسدانوں کو کچھ معلومات ضرور ہیں لیکن یہ سوال پھر بھی ایک راز ہی ہے۔ تاہم بعض سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک تحقیق کی ہے جس سے نیورو سائنس کے بارے میں دلچسپ معلومات ملتی ہے۔ یہ تحقیق جینز ڈرائر کی سربراہی میں کام کرنے والے برلن اور اوہائیو کی سنسناٹی یونیورسٹی اور چیریٹی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ اس کے لیے سائنسدانوں نے بعض مریضوں کے اعصابی نظام کی انتہائی قریب سے نگرانی کی ہے، اور اس

لیے انہوں نے ان مریضوں کے خاندان والوں سے پیشگی اجازت لی تھی۔یہ افراد یا تو کسی شدید سڑک حادثے میں زخمی ہو گئے تھے یا پھر انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ موت کے وقت انسانوں اور جانوروں کا دماغ ایک ہی طرح کام کرتا ہے۔ اس تحقیق کا اہم مقصد مرتے وقت نہ صرف دماغ کی نگرانی کرنا تھا بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرنا تھا کہ کیسے کسی کو اس کی زندگی کے آخری لمحات میں بچایا جا سکتا ہے۔ جو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔۔۔ سائنسدانوں کی اس تحقیق سے پہلے ’مردہ دماغ‘ کے بارے میں جو کچھ بھی ہم جانتے ہیں وہ سب معلومات جانوروں پر کیے جانے والے تجربات سے حاصل کردہ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ مرتے وقت: جسم میں خون کی گردش رک جاتی ہے اور اس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال جسے سریبرل اسکیمیا کہا جاتا ہے، میں کیمیائی اجزا کم ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دماغ میں ’الیکٹریکل اکٹیویٹی‘ مکمل طور پر خارج ہو جاتی ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ دماغ کو ٹھنڈا کرنے کا یہ عمل نیورونز کے اپنی توانائی کو محفوظ کرنے کی وجہ سے شروع ہوتا ہے، لیکن توانائی کو محفوظ بنانے سے کام نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کا ڈر پھر بھی رہتا ہے۔ اس سب کے بعد ٹیشو ریکوری ناممکن ہو جاتی ہے۔انسانوں میں: تاہم سائنسدانوں کی یہ ٹیم اس سارے عمل کو انسانوں کے حوالے سے مزید گہرائی میں جا کر سمجھنا چاہتی تھی۔ لہٰذا انھوں نے بعض مریضوں کے دماغ کی اعصابی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ ڈاکٹروں کی طرف سے ہدایات دی گئیں تھی کہ ان مریضوں کو الیکٹروڈ سٹرپس وغیرہ کی مدد سے ہوش میں لانے کی کوشش نہ کی جائے۔سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ نو میں سے آٹھ مریضوں کے دماغ کے خلیے موت سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ دماغ کے خلیے اور نیورونز دل کی دھڑکن رک جانے کے بعد بھی کام کر رہے تھے۔ اس کے لیے خلیے گردش کرنے والے خون کا استعمال کرتے ہیں اور اس سے کیمیکل انرجی اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق جب جسم مر جاتا ہے اور دماغ میں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے تو مرنے والے نیورون بچی توانائی کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔الیکٹرو میکینیکل توازن کی وجہ سے دماغ کے خلیے تباہ ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے تھرمل انرجی نکل جاتی ہے اور اس کے بعد انسان مر جاتا ہے۔ لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ موت آج جتنی طاقتور ہے ضروری نہیں کہ مستقبل میں بھی اتنی ہی ہو۔ جینز ڈرائر کا کہنا ہے کہ ’ایکسپینشنل ڈی پولارائزیشن سیلولر ٹرانسفارمیشن شروع کرتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے، لیکن یہ موت نہیں، کیونکہ انرجی کی سپلائی کو بحال کر کے ڈی پولارائزیشن کو الٹ کیا جا سکتا ہے۔‘

مصائب سے مت گھبرائیے

مصائب سے مت گھبرائیے
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:27
اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ درحقیقت یہی خواہش پریشانیوں کوجنم دیتی ہے۔ کیا ایسا ہوسکتاہے کہ آپ کسی راستے سے گزریں اور اس میں گڑھے، موڑ، اسپیڈ بریکر نہ آئیں؟ جب ذرا سے راستے میں آپ اتنا کچھ برداشت کرسکتے ہیں تو زندگی میں پیش آنے والی خلافِ مزاج باتوں سے کیوں گھبرا جاتے ہیں؟ اب دیکھتے ہیں کہ کیا مصیبتیں ہمیں صرف پریشان کرنے کے لیے ہوتی ہیں یا ان کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟رسول الله

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہِ خَیْرًا یُصِبْ مِنْہُ الله تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بلائیں ، پریشانیاں اور مصائب یونہی بے سبب نہیں بھیجتے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عقل مند لوگوں ان مصائب سے کس کس طرح کے فائدے اٹھاکر دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ گئے۔ابن اثیر کی ’’جامع الاصول‘‘ اور ’’النہایہ‘‘ جیسی شاہ کار کتابوں کی وجہ تصنیف یہ بنی کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور تھے، لیکن قسمت کا رونا رونے کے بجائے انہوں ہمت و محنت سے کام لیا اور ان عظیم کتابوں کی تصنیف کے کام میں جُت گئے۔امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کو حاکم وقت نے ناراض ہوکر ایک کنوئیں میں بند کراودیا۔ انہوں نے اس فرصت کو غنیمت جانا اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے دھونے کے بجائے فقہی مسائل کی بے نظیر کتاب ’’المبسوط‘‘کی پندرہ جلدیں اپنے ان شاگروں کو زبانی لکھوا دیں جو کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ کر لکھتے جاتے تھے۔ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی قید و بند کی حالت میں لکھے۔پس ثابت ہوا کہ اہل بصیرت حضرات دکھ درد اور مصائب میں مبتلا ہونے پر انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔لہٰذا تمام مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ آپ ان میں گھرکر خود کو پریشان نہ کریں بلکہ انہیں دور کرنے یا ان کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ان تدابیر پرعمل کریں:۱) سب سے پہلے پیش آنے والے مسئلہ کوسمجھیں۔ عقل مند افراد مصائب کے سامنے ہمت نہیں ہارتے بلکہ ٹھنڈے دل ودماغ سے ان کامشاہد ہ کرتے ہیں۔ گہری نظر سے ان کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں حل کرنے کا مرحلہ بخیر و خوبی طے ہوسکتا ہے۔۲) اکثر مسائل اپنے اندر ہی اپنا حل رکھتے ہیں، لہٰذا کسی بھی مسئلہ پر بجائے بوکھلانے کے اس کو حل کرنے کے لیے صبر اورسکون کے ساتھ کمر بستہ ہوجائیں۔اللہ نے انسان کو وہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ہر مسئلے کا حل تلاش کرسکتا ہے،بس تھوڑی سی کوشش کرنی پڑتی ہے پھر مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔۳) اگر آپ پریشانی پر پریشان ہوگئے تو آپ پرگھبراہٹ طاری ہوجائے گی، یہ کچھ حد تک تو فطری ہوتی ہے لیکن اگر آپ نے اس کو اپنے حواس پر طاری کرلیا تو یہ آپ کو بدحواسی کی طرف لے جائے گی، ایسی صورت میں حالات آپ کو بد سے بدتر لگنے لگیں گے۔لہٰذا کسی بھی پریشانی کواپنے اوپر طاری نہ ہونے دیں۔مسئلہ کا حل سوچنے کے بجائے بدحواسی کے آگے ہتھیارڈالنے کا مطلب اپنا دشمن آپ بننا ہے۔۴) دماغ سے صحیح حل اسی وقت نکلتا ہے جب دماغ کی مجموعی حالت پُر سکون ہو،دماغ کو پُرسکون رکھنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔بس بے جا بھاگ دوڑ، چیخ و پکار یا رونے دھونے سے پرہیز کریں، تھوڑا تحمل اور بردباری سے کام لیں ۔تحمل سے کام لینا اس طرح ممکن ہوگا کہ اپنی مشکل کو بڑا نہ سمجھیں۔ آپ کو اپنی مشکل اس وقت چھوٹی لگنے لگے گی جب آپ دنیا کے ان لوگوں کو دیکھیں گے جو آپ سے سو گنا زیادہ مشکلات کا شکار ہیں، تب آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ ان مشکلات میں گھرے لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔۵) اگر مسئلہ آپ سے کسی طرح حل نہ ہو رہا ہو تو کسی ایسے فرد سے رابطہ کریں جو سمجھدار، تجربہ کار اور آپ کا مخلص ہو،جو آپ کی پریشانیوں پر ہرطرح سے غور کرے اور آپ کو مفید مشورہ دے۔لیکن کسی بھی مشورہ پرعمل کرنے سے پہلے اسے اپنے ذاتی فیصلے کے ساتھ اچھی طرح پرکھیں،کیوں کہ آپ کے لیے کیاصحیح ہے اور کیا غلط یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۶) اپنی ذات پر اعتماد آپ کی اصل کامیابی ہے۔اس اعتماد کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ کہہ کر اپنی کمر خود ٹھونکیں کہ ہاں میں یہ کام کرسکتا ہوں۔ یہ اعتماد مشکلات کے حل کے لیے ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے گاڑی کوچلانے کے لیے پیٹرول۔اگر آپ نے اپنے اندر اس اعتماد کو پروان چڑھا لیا تو کوئی پریشانی آپ کوپریشان نہیں کرسکتی۔ کیوں کہ اب آپ وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔۷) کسی بھی پریشانی کے حل کو التوا میں نہ ڈالیں۔بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں تو اسے التوا میں ڈال دیتے ہیں، یہ نہایت غلط سوچ ہے۔ یقین جانیے مسئلہ چاہے کتنا ہی بڑا اور مشکل کیوں نہ ہو آپ کی صلاحیتوں کے سامنے ہیچ ہے۔لیکن اسے کل پر ٹالنے یا نظریں چرانے سے اس کا حل نہیں نکلے گا۔خود اعتمادی سے یہ کہہ کر اس کے سامنے کھڑے ہوجائیں کہ ہاں میں تم سے نمٹ سکتا ہوں۔ پھر ناممکن ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکیں۔ان سب باتوں سے ہم نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات و مصائب انسان کو توڑنے کے لیے نہیں، اسے مضبوط و خود اعتماد بنانے اور ایک نئی زندگی پہلے سے بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ یہ مشکلات انسان کی شخصیت کی تعمیر و تربیت کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیوں کہ آزمائش کی ان بھٹیوں سے گزرنے کے بعد اس کا اصل جوہر نکھر کر سامنے آتا ہے،اور اس کی وہ صلاحیتیں جو اب تک چھپی ہوئی ہوتی ہیں اس طرح ظاہر ہوتی ہیں کہ وہ خود بھی حیران رہ جاتا ہے۔ہر مضبوط اور کامیاب شخصیت کے پیچھے مصائب ،تکالیف اور رنج و الم کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ غم اور مشکلات آپ کو وقتی طور پر تو پریشان کردیتے ہیں، آپ کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں، آپ کی ہمت جواب دیتی نظر آتی ہے اور آپ کو اپنی زندگی لاحاصل لگنے لگتی ہے۔ لیکن درحقیقت آپ کی آج کی مشکل آپ کا کل محفوظ بناتی ہے، یہ اندر ہی اندر آپ کی تربیت کرتی ہے اور آپ کا مستقبل تاب ناک بنانے کے لیے آپ کو تیار کرتی ہے۔اگر آپ نے آج کی پریشانی کو اپنے ذہن پر سوار کرلیا تو آپ کا آج اور کل دونوں تاریک ہوجائیں گے۔اس لیے بہادر بنیے، مصائب سے سبق تو سیکھیئے لیکن ان کو اپنے دل کا روگ نہ بنائیے۔ہمت سے کام لیجئے اور تازہ اُمنگ سے ایک نئی زندگی جینے کا ارادہ کیجیے۔ایک نئی اور خوشگوار زندگی آپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے!!!