گفتگو کے دوران اکثر لوگ نظریں کیوں چراتے ہیں

گفتگو کے دوران اکثر لوگ نظریں کیوں چراتے ہیں
ہفتہ‬‮ 3 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 16:59
گفتگو کے دوران اکثر لوگ نظریں کیوں چراتےہیں اور اس کے پیچھے کیاعلامت ہے ، ایسی وجہ سامنے آگئی جو بہت کم لوگجانتے ہونگے ۔ لوگ اکثر بات چیت کے دوران دوسرے شخص کی آنکھوں میں دیکھکر بات کرنے میں دکت محسوس کرتے ہیں اورادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں، اسطرح کرنے سے بات کرنے والےشخص کو ایسا

محسوس ہوتا ہے کہ اس کی باتوں کوتوجہ سے نہیں سنا جا رہا اور برا محسوس ہونے لگتا ہے۔مگر ایک تحقیق کےمطابق ایسا کرنا ایک فطری عمل ہے۔اگر کوئی شخص دوران گفتگو ادھر ادھردیکھ رہا ہے تو اس کا ہر

گز یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ کی باتوں کو اہمیت نہیں دے رہا بلکہ وجہ یہ ہے کہ دوران گفتگو ہمارا دماغ الفاظ کی ترتیب اور چناؤ میں مصروف ہونے کے باعث دوسرے شخص کے چہرے پر توجہ مرکوز کرنےمیں مشکل محسوس کرتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب کوئی آپ سے بات چیتکے دورانمشکل الفاظ کا استعمال کررہا ہو تو ایسی صورتحال میں دوسرے شخص کیآنکھوں میں دیکھ کر بار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ درحقیقت دماغی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، دوران گفتگو دماغ الفاظ کی ترتیب اور چناؤ میں مصروف ،ہونے کے باعث دوسرے شخص کے چہرے پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ اسی لئے اگر کبھی آپ کسی سے بات کررہے ہو اور دوسرا شخص ادھر ادھر دیکھے تو یہ جان لیجئے گا کہ اس کا دماغ دو مختلف چیزوں کے چناؤ میں مصروف ہے۔اس لیے یہ لوگ باتیں تو آپ سے کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا دھیان کہیں اور بھی بھٹکرہا ہوتا ہے

وقت رشتے ، حالات

وقت رشتے ، حالات
بدھ‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2018 | 17:49
عبدل ہادی میرے تایا زاد چھ فٹ سے نکلتے قد ، چوڑے شانے مضبوط جسم مگر نرم سا دل رکھنے والا،،،،،، بےحد مخلص انسان سے یاد نہیں کہ کب مجھے محبت ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔ شاید جب میں پندرہ سولہ سال کی تھی تب،،،،، جب وہ مجھے لیٹل فرینڈ کہتا تھا،،،،، میری بہت کیئر کرتا تھا —— ہادی کو سارے کزنز میں حورین انمول یعنی میں حقیقا بے حد عزیز تھی جانے کیوں ،،،،، وہ میری ہر برتھ ڈے پر سب سے پہلے وش کرتا تھا وہ کہتا تھا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی میری فرینڈ کو مجھ سے پہلے

مجھ سے پہلے وش کرے،،،،،،، جب ہم سارے کزنز کوئی گیم کھیلتے تھیں تو ہادی ہمیشہ میرا پارٹنر بنتا—- اور جیت بھی ہادی کی وجہ سے ہمیشہ میری ہوتی تھی وہ مجھے ہارنے نہیں دیتا تھا—- خیر یہ سب کچھ بچپن مٰیں تھا بڑے ہونے کے بعد ہماری پھر اسی بے تکلفی نہ رہی تھی — ہم سارے کزنز کے گھر ساتھ ساتھ تھیں روز کا آنا جانا تھا —

ویسے ہم سارے کزنز میں پیار بہت تھا مگر میرے اور ہادی کا پیار ان سب سے الگ تھا اور اس کا احساس ہم دونوں کو تب ہوا جب ہماری فیملی بابا کی بزنس کی وجہ سے اسلام آباد شفٹ ہوئی تھی،،،،، اسلام آباد آکر مجھے ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں مل رہا تھا عجیب بے چینی سی تھی اور تب ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ میں اسلام آباد بنا دل کے آگئی ہوں دل تو پنڈی میں ہادی کے پاس ہی رہ گیا تھا،،،،،،،، یہی حال ہادی کا بھی تھا—– تب ہی تو وہ مجھے میرے پرسنل نمبر کالز کرنے لگا تھا—-

اس سے بات کر کے مجھے سکون ملتا تھا– شاید اس کو بھی تب ہی تو وہ دن رات کالز کرتا تھا—- ہم دونوں نے اپنے پیار کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ ہم بنا اظہار کے ایک دوسرے کے دل کا حال جان گئے تھے —- اس بات کا پتا گھر میں کسی کو بھی نہ تھا —- میں گھر والوں سے چھپ کر ہادی سے بات کرتی تھی —- ہادی کے گھر میں بھی کسی کو پتا نہ تھا—-اور یوں ہم دونوں کو چھپ چھپ کر باتیں کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا —- اس ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا تھا —

وقت رشتے ، حالات ، —– اسلام آباد شفٹ ہونے کے بعد ہمارا بزنس بہت اچھا چلنے لگا لگا تھا جبکہ ہادی لوگوں کے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوگئے تھیں —– تایا ابو کا کاروبار ختم ہو گیا تھا— اس لیے مجبورا ہادی اور اس کے بڑے بھائی کو جاب کے لیے دبئی جانا پڑا تھا —- اور اللہ کا شکر ہے دبئی میں ہادی کو بہت اچھا جاب مل گیا تھا — ان کے گھر کی گاڑی مشکل سے ہی سہی مگر چلنے لگی تھی — ان ہی دنوں میری آپی جس کی منگنی ہادی کےبڑے بھائی سے ہوئی تھی اور یہ رشتہ دادی نے بہت پہلے طے کیا تھا ان کی شادی ہوگئی ہادی کے بھائی سے —-

یہ شادی بڑی مشکل سے ہوئی تھی کیونکہ اسلام آباد شفٹ ہونے کے بعد میری فیملی والوں کی سوچ بدل گئی تھی– ہمارے حالات بدل گئے تھیں —- مجھے بہت دکھ ہوتا تھا یہ سب دیکھ کر— ٹھیک ہے لمحوں میں حالات بدل جاتے ہیں — لیکن یہ رشتوں ، پیاروں ، اور لوگوں کو کیا ہو جاتا ہے؟ کہ وہ لمحوں کا وقت بھی نہیں لیتے بدلنے میں—–آپی اس شادی سے خوش نہیں تھی اس کا مزاج اپنے سسرال والوں سے الگ تھا — اس کے سسرال والے بہت اچھے محبت کرنے والے لوگ تھیں اس گھر میں اگر آپی کو کوئی تکلیف تھی تو وہ صرف معاشی تنگی تھی بس— باقی وہ لوگ آپی کا بہت خیال رکھتے تھے —-

می ابو کو لگتا ہے کہ ان کی بیٹی خوش نہیں ہے اس گھر میں — ان کا خیال تھا کہ اگر اپنے جیسے لوگوں میں بیٹی کی شادی کرتے تو وہ خوشیوں سے مالا مال ہوتی —- میں نے امی سے کئی بار کہا امی اگر آپی کے نصیب میں خوشیاں ہوئے تو ان ہی لوگوں سے ملے گے اگر نہیں تو پھر کہے سے بھی نہیں — مگر امی یہ بات مانتی ہی نہیںمیری اور ہادی کی پسندیدگی کا سب کو پتا بھی آپی کے شادی کے پانچ ماہ بعد ہوا تھا

—– آپی کے شادی سے پہلے سب ٹھیک تھا—- اس کی شادی کے پانچ ماہ بعد ہادی نے اپنی بڑی بہن کو اپنی پسندیدگی کے بارے میں بتا دیا وہ بہت خوش ہوئی تھی کیونکہ ان کی فیملی مجھے بہت پسند کرتی تھی—- اسی خوشی میں ہادی کی بہن نے یہ بات آپی سے کر دی اس نے آپی سے کہا اب حورین بھی بہت جلد ہادی کی دلہن بن کر ہمارے گھر آئی گی— ہادی اور حورین ایک دوسرے کو لائک کرتے ہے—- آپی اس ٹائم اپنی نند سے کچھ بھی نہیں کہا اور جب اسلام آباد آئی تو امی کو سب کچھ بتا دیا——-

آج سے چار سال پہلے آپی کی شادی کے پانچ ماہ بعد ہادی کی ساری فیملی ہمارے گھر آئی تھی ساتھ میں آپی بھی تھی ان لوگوں نے اچانک آکر ہمیں سر پرائز دیا تھا ہادی بھی ان دنوں پاکستان آیا ہوا تھا— میں بہت خوش تھی ان سب کے آنے سے —– ہادی کو میں ایک سال بعد دیکھ رہی تھی وہ پہلے سے زیادہ سمارٹ لگ ر ہا تھا — سب کے سامنے تو ہماری صرف سلام دعا ہی ہوئی تھی لیکن جب دن کے ٹائم سب سونے چلے گئے تو ہادی نے مجھے مسیج کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں پلیز گھر کے پچلے طرف لان میں آجاؤ میں ویٹ کر رہا ہوں —

میں نے مانا کر دیا کیونکہ مجھے اس ٹائم بہت ڈر لگ رہا تھا—- لیکن پھر ہادی کے بے حد اصرار پر میں اس سے ملنے لان میں چلی آئی میرے پہنچتے ہی وہ گھٹنوں کے بل زمین پر میرے سامنے بیٹھ گیا تھا اس کے ہاتھ میں بہت ہی خوبصورت رنگ تھی— کبھی یوں ہادی سے فیس ٹو فیس ملی نہیں تھی اس ٹائم شرم بھی آرہا تھا خوش بھی تھی اور ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی آ نہ جائے—-

اور پھر آچانک ہادی نے میرا ہاتھ تھام لیا رنگ پہنانے سے پہلے اس نے کہا تھااس انگھوٹی کو تھامنے والا ہاتھ تمہارا ہے حورین اور اس ہاتھ کے مالک کا دل بھی تمہارا ہے — کیا یہ دل ہمیشہ کے لیے تمہارا بن سکتا ہے؟ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہادی مجھے یوں یہاں بولا کے اتنے خوبصورت انداز میں پروپوز کرے گا— میں حیرت خوشی سےگنگ رہ گئی تھی —–

اچانک سے ڈیر ساری آنسو میرے آنکھوں میں آئے تھے — یہ خوشی کے آنسو تھے –ہادی نے مجھے خاموش دیکھ کر ایک بار پھر سے کہا تھا حورین well you marry me یہ بولتے ہوئے اس کے لبوں پر بہت ہی خوبصورت سی مسکان تھی — میں نے دھیرے سے اثبات مٰیں سر ہلایا تھا اور ہادی نے میرے انگلی میں دھیرے سے رنگ پہنا دی تھی میری ڈھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی — رنگ پہنانے کے بعد اس نے i love you jaan e hadi کہا اور جلدی سے لان سے چلا گیا تھا کیونکہ وہاں کسی کا بھی آنے کا خطرہ تھا —- لیکن میرے پاؤں اس جگہ جم گئے تھے مٰیں پوری برف ہو گئی تھی —

موسم ایک دم سے بہت خوبصورت ہو گیا تھا —- سخت گرمی کا موسم ایک دم سے خوبصورت ہوگیا تھا —- یہ سب محبت کا کمال تھا — بہت خوبصورت احساس تھا میں لفظوں میں بتا نہیں سکتی اس ٹائم کی فیلنگ کو مجھے لگ رہا تھا جیسے ساری دنیا زمین پر ہیں اور میں آسمان پر ہوں میری اور ہادی کی روز واٹس اپ پر بات ہوتی تھی مگر یہ جو احساس تھا کبھی نہیں ہوا تھا —- اگلے دن وہ سب چلے گئے تھیں آپی چند دن رہنے کے لئے آئی تھی

کیا آپ جانتے ہیں کہ کپل شرما اور نجم سیٹھی میں کیا رشتہ ہے ؟ یہ رپورٹ پڑھ کرآپ بھی ایک بار ضرور چونک اٹھیں گے

کیا آپ جانتے ہیں کہ کپل شرما اور نجم سیٹھی میں کیا رشتہ ہے ؟ یہ رپورٹ پڑھ کرآپ بھی ایک بار ضرور چونک اٹھیں گے
منگل‬‮ 4 ستمبر‬‮ 2018 | 13:07
اگر آپ عروج و زوال کی کوئی حالیہ مثال دیکھنا چاہتے ہیں تو کپل شرما سے بہتر اور کوئی نہیں مل سکتی، بھارتی ٹی وی کے سپراسٹار اب اس حال پر پہنچ چکے کہ حال ہی میں خود کشی کے بارے میں بھی سوچنے کا اعتراف کر چکے، ایک ایسا انسان جو جوانی میں ہی ارب پتی بن چکا، شاہ رخ خان ، اکشے کمار اور دیگر بھارتی سپراسٹار اس کے شو میں آٓنا اعزاز سجھتے تھے، نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے لاکھوں پرستار موجود ہیں،وسیم اکرم اور شعیب اختر بھی شوز میں شریک

شوز میں شریک ہو چکے، جاوید میانداد کے مزاحیہ واقعات بھی ہم نے بھارتی کرکٹرز کی زبانی اسی شو میں سنے، مگر مقبولیت میں کمی کی وجہ سے چینل کو مذکورہ پروگرام مجبوراً بند کرنا پڑا، شاہ رخ جیسے اسٹار شو میں آئے مگر ریکارڈنگ کے بغیر جانا پڑا، کپل شدید ڈپریشن کا شکار ہوئے اور شراب کا سہارا لیا، دوست دور ہو گئے، میڈیا نے طرح طرح کی کہانیاں پھیلائیں۔ کئی ماہ کا بریک اور علاج کے بعد اب چند روز قبل کیپل شرما اپنی نئی فلم کے ٹریلر لانچ میں سامنے آئے اور صحافیوں کے سامنے اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کیا،

انھیں ایک چیز لے ڈوبی اور وہ تھا ان کا غرور، ایک چھوٹے سے گھر سے محل تک پہنچ جانے ، دولت اور شہرت نے ان پر اثر ڈالا اور وہ اپنے سامنے سب کو کمتر سمجھنے لگے، نتیجہ جہاز میں ساتھی اداکار سنیل گروور سے جھگڑے کی صورت میں برآمد ہوا، وہ ناراض ہو کر شو چھوڑ گئے اور پھر زوال کا سفر شروع ہو گیا، اب یہ حال ہے کہ اگر کپل کی نئی فلم نہ چلی تو شاید چند ماہ بعد وہ بھولی بسری داستان بن جائیں، یہ واقعہ ہم سب کیلیے ایک بڑا سبق ہے، ہم میں سے بیشتر لوگ دانستگی یا نادانستگی میں اکثر مغرور ہو جاتے ہیں اور انھیں اس کا اندازہ تک نہیں ہوتا،

صحافی بھی پیچھے نہیں ہیں، میں بہت بڑا اینکر یا صحافی ہوں، سب میرے آگے پیچھے گھومتے ہیں، ٹویٹر پر میرے اتنے زیادہ فالوورز ہیں۔فلاں فلاں اسٹوریز میں نے بریک کیں، فلاں کرکٹر یا آفیشل میرا ذاتی دوست ہے، میری تحریریں ہزاروں لوگ پڑھتے ہیں، ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ بعض حالیہ مثالوں کا نہیں سوچتے کہ بڑے بڑے اینکر ایک اسکینڈل کے بعد گھر بیٹھ گئے اور اب ان کا کوئی نام تک نہیں لیتا، کرکٹ بورڈ میں جائیں تو چیئرمین نجم سیٹھی سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر نظام نہیں چل سکتا، وہ اپنے آگے کسی کی نہیں سنتے،

بیچارے شہریارخان اب عہدے سے الگ ہو کربھی کوئی سچ بات کریں تو سیٹھی صاحب کے عتاب کا شکار ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر کوئی مزاج سے ہٹ کر بات کرے تو وہ وہیں الجھ پڑتے ہیں،ان کے ’’جانثار‘‘ مختلف طریقوں سے صحافیوں پر دباؤ ڈالتے ہیں، بورڈ کے بیشتر اعلیٰ عہدیدار اپنے سامنے کسی کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، انھیں لگتا ہے کہ ہمیشہ بڑے عہدوں پر رہیں گے، اس غرور کی وجہ سے بعض غلط فیصلے ہو جاتے ہیں جو شاید تبدیلی آنے کے بعد ہی سب کی نظروں میں آئیں۔حیران کن بات ہے کوئی سابق سربراہان سے سبق نہیں سیکھتا، ماضی میں بڑی شان سے کرکٹ کے معاملات چلانے والے بعض لوگ آج اپنے بیٹوں کی ملازمت یا دیگر فوائد کیلیے موجودہ حکام کے آگے پیچھے پھرتے ہیں،

ایک زمانے میں میڈیا ان کے ایک جملے کو بریکنگ نیوزبنا دیتا اب لفٹ ہی نہیں کراتا، مگر بات وہی ہے کہ جب طاقت ہو تو انسان کہاں زوال کا سوچتا ہے، اسی طرح ہمارے بعض موجودہ اور سابق کرکٹرز بھی اپنی شہرت کے نشے میں اتنا گم ہو جاتے ہیں کہ انھیں اردگرد کا ہوش ہی نہیں رہتا، پھر جب سب کچھ چھن جاتا ہے تو پھر وہ دوبارہ عوام میں مقبول ہونے کیلیے نت نئے طریقے سوچتے ہیں،بعض کرکٹرز جب برے دور سے گذر رہے ہوں تو سب کے آگے پیچھے بھاگتے ہیں اچھا وقت ہو تو قریبی لوگ بھی یاد نہیں رہتے، ایسی کئی مثالیں ہیں مگر میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا، ہمارے بیشتر کرکٹرز کا تعلق چھوٹے علاقوں سے ہے۔ وہ جب قومی ٹیم میں آتے ہیں تو بعض آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اسی لیے اسکینڈلز سامنے آنے لگتے ہیں، کسی کو دولت تو کسی کو کوئی اور لالچ دے کر بکیز اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں، شرجیل خان وغیرہ اس کی روشن مثال ہیں،

وہیںسے معاملہ خراب ہوتا ہے، آپ بعض موجودہ نوجوان کرکٹرز کو دیکھ لیں، ٹیم میں آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے کہ ان کے ٹویٹر پر فین کلبز بھی بن چکے، سوشل میڈیا پر لڑکیوں سے جب ذرا فری ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اسکرین شاٹ لے کر گفتگو عام کر دیتی ہیں، پھر بہانہ بنانا پڑتا ہے کہ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا، انھیں سوچنا چاہیے کہ اصل کام گراؤنڈ میں پرفارم کرنا ہے جو اگر نہ کر پائے تو اردگرد موجود لوگ ایسے غائب ہوں گے جیسے کبھی تھے ہی نہیں، مجھے بس یہی ڈر ہے، سوشل میڈیا کی وجہ سے ان دنوں کھلاڑیوں کیلیے اسٹار بننا آسان ہو گیا ہے، ایک اچھا میچ اور آپ سب کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔مگر اس شہرت ، عزت اور دولت کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا،

یہی آپ کا امتحان ہے کہ کیسے اپنے قدم زمین پر رکھتے ہیں، قومی ٹیم مختصر طرز میں ان دنوں اچھاکھیل پیش کر رہی ہے، حالیہ عرصے میں ہمیں کئی باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کا ساتھ میسر آیا جنھوں نے اپنی عمدہ کارکردگی سے مداحوں کے دل میں جگہ بنا لی ہے، ہمیں ان کو سنبھال کر رکھنا ہے، اصل فوکس کھیل پر ہی رہنا چاہیے،ایک دوسرے کی کارکردگی سے حسد کا شکار نہ ہوں بلکہ خوش ہوں، سرفراز احمد کے کیس نے واضح کر دیا کہ بکیز اب بھی کرکٹرز کے گرد منڈلا رہے ہیں۔ان سے بچ کر رہیں، پہچانیں کہ سامنے بات کرنی والی خاتون واقعی پرستار ہے یا بکیز کی ایجنٹ، آپ کا ایک غلط قدم ساری محنت خاک میں ملا سکتا ہے،جیسے سرفراز آج رپورٹ کرنے پر ہیرو بن گئے لیکن اگر وہ اس میں چند گھنٹے کی بھی تاخیر برتتے تو نیا اسکینڈل بن چکا ہوتا اور معاملات بھی تبدیل ہو جاتے،

ابھی تو چھوٹی موٹی باتیں سامنے آ رہی ہیں مگر محتاط رہنا چاہیے، بین اسٹوکس کی مثال بھی سامنے رکھیں جوٹاپ پرفارمر ہونے کے باوجوداپنی آف دی فیلڈ حرکات کی وجہ سے انگلش ٹیم سے باہر ہو گئے، یہ سوچیں کہ ہمیں 6 ماہ کا سپراسٹار نہیں بننا بلکہ پوری زندگی مداحوں کے دلوں پر راج کرنا ہے اور ایسا کرنا مشکل بھی نہیں ہے بس کامیابی کو سر پر سوار نہ کریں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ائیر ہوسٹس اور پائلٹس کی اصل تنخواہ کتنی ہو تی ہے ؟ جواب جان کر آپ کے سب اندازے غلط ثابت ہو جائیں گے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ائیر ہوسٹس اور پائلٹس کی اصل تنخواہ کتنی ہو تی ہے ؟ جواب جان کر آپ کے سب اندازے غلط ثابت ہو جائیں گے
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 10:34
فضائی سفر کے شعبے کو چمک دمک اور پیسے کی دنیا قرار جاتا ہے۔ پائلٹوں اور ائرہوسٹسوں کی زندگی کے معمولات میں تو ہر کسی کو دلچسپی ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ یہ جاننے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان کی کمائی کتنی ہوتی ہے۔ ’ٹیلی گراف ٹریول‘ نے یہ بات جاننے کیلئے متعدد پائلٹوں ، ائیرہوسٹسوں اور بیگج ہینڈلنگ سٹاف سے بات چیت کی اور کچھ نہایت دلچسپمعلومات اکٹھی کی ہیں۔پہلا دلچسپ انکشاف تو یہ سامنے آیا کہ اگرچہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فضائی سفر کی دنیا میں پائلٹ ہی سب سے زیادہ رقم کماتے

رقم کماتے

رقم کماتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس شعبے میں سب سے زیادہ تنخواہیں ائیرٹریفک کنٹرولرز کی ہوتی ہیں، جو اوسطاً سالانہ 91 ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی روپے) کماتے ہیں، یعنی ماہانہ تقریباً 11 لاکھ روپے۔ دراصل یہ دنیابھر میں سب سے زیادہ کمائی والی نوکریوں میں سے ایک ہے۔ ائیرٹریفک کنٹرولرز سے زیادہ کمانے والے صرف ڈاکٹر اور پیٹرولیم انجینئر ہوتے ہیں۔اس کے بعد پائلٹوں کا نمبر ہے جو سالانہ اوسطاً79 ہزار پاﺅنڈ، یعنی تقریباً پونے دس لاکھ پاکستانی روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ان کا اس اوسط مقدار سے کافی زیادہ کمانے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش ائیرلائن میں پائلٹوں کی سالانہ تنخواہ 1 لاکھ 40 ہزار پاﺅنڈ تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ائیرہوسٹسوں کا نمبر ہے جو سالانہ اوسطاً 25 ہزار پاﺅنڈ،

یعنی تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپے ماہانہ کماتی ہیں۔ائیرپورٹ پر بیگج ہینڈلر کی نوکری کرنے والے افرادبھی سالانہ اوسطاً 22 ہزار پاﺅنڈ کما لیتے ہیں۔ ایرو سپیس انجینئر سالانہ اوسطاً 81 ہزار پاﺅنڈ کماتے ہیں جبکہ ائیرکرافٹ مکینک کی اوسطاً سالانہ تنخواہ 45 ہزار پاﺅنڈ تک ہوتی ہے۔ آپ ان تنخواہوں کا موازنہ دیگر شعبوں میں دی جانے والی اوسط تنخواہوں سے بھی کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کیئرئیر کاسٹ کے مطابق کچھ دیگر اہم ترین شعبوں میں سالانہ اوسطاًتنخواہ کی کیفیت درج زیل ہے۔سرجن: 409665 ڈالرآرتھو ڈینٹسٹ :280000ڈالرسائیکاٹرسٹ: 194740ڈالرجنرل پریکٹشنر :190490 ڈالرچیف ایگزیکٹو : 181210 ڈالرڈینٹسٹ :193900 ڈالرپیٹرولیم انجینئر:128230 ڈالراوڈی ایٹرسٹس :124830ڈالرفارماسسٹ : 122230 ڈالر

کبوتر کے پاؤں

کبوتر کے پاؤں
بدھ‬‮ 29 اگست‬‮ 2018 | 10:41
طوفان نوح گزر جانے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کے لئے کبوتر کو بھیجاتو وہ زمین پر نہیں اترا بلکہ ملک سبا سے ایک زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آ گیاتو آپ نے فرمایا کہ اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہےتم زمین پر نہیں اترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین سے خبر لاؤ ۔تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اترااوردیکھ لیا کہ پانی

میں حرم کعبہ کی زمین پر اترااوردیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو چکا ہے اورسرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے۔کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے۔ اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس واپس آ گیا اور عرض کیا کہاے خدا کے پیغمبر !آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطا فرمائیے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمائیے۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر دست شفقت پھیرا اوراس کے لئے دعا فرمائی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہارپڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہو جائیں اور اس کی نسل میں خیر و برکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے۔کبوتر کی خاص عادت یہ ہے کہ اگر اس کو ایک ہزار میل کے فاصلے سے بھی چھوڑا جائے تو یہ اُڑ کر اپنے گھر پَہُنچ جاتا ہے نیز دُور دراز ملکوں سے خبریں لاتا اور لے جاتا ہے۔اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگرکبھی کسی کا پالتو کبوتر اور کسی جگہ پکڑا گیا اورتین تین سال یا اس سے بھی زیادہ مُدَّت تک اپنے گھر سے غائب رہا مگر باوُجُود اس طویل غیر حاضری کے وہ اپنے گھر کو نہیں بھولتا اور اپنی ثباتِ عقل ،قُوَّتِ حافِظہ اور کششِ گھر پر برابر قائم رہتا ہے اور جب کبھی اسے موقع ملتا ہے اُڑ کر اپنے گھر آجاتا ہے۔اگر کسی شخص کے اَعْضاء شل ہوجائیں یا لَقْوہ ، فالج کا اَثر ہو جائے تو ایسے شخص کو کسی ایسی جگہ جہاں کبوتر رہتے ہوں وہاں یا کبوتر کے قریب رہنا مفید ہے ،یہ کبوتر کی عجیب و غریب خاصیّت ہے ،اس کے علاوہ ایسےشخص کے لیے اس کا گوشت بھی فائدہ مند ہے۔ عجائب القرآن صفحہ 318 تفسیر صاوی جلد 3 صفحہ 912

How to Get Relief from Joint Pain in 7 Days Permanently | 100% Natural

How to Get Relief from Joint Pain in 7 Days Permanently | 100% Natural

2793

Homemade Remedy for Joint Pain & Arthritis Relief

A common health issue that is disturbing all of you these days irrespective of your age is having pain in your joints. Earlier, the disease was common in old-aged people, but, it has become common in young people now as well. For the prevention of this health and fitness issue, the most effective tip is to walk daily for     15-20 minutes. In addition to this, limit the use of foods high in protein. In the video below, I am going to share with you the recipe to make natural medicine at home to get relief from joint pain in 7 days. This medicine works for all of you, and also, it is 100% safe.

Joint Pain Treatment At Home with Fenugreek | Remedy that Works

For this remedy to ease pain in your joints, and to promote your good health, the ingredients you need to take are

Ingredients:

  • Fenugreek leaves, 10 grams
  • Water, as required

Procedure:

  • First, take about 10 grams of fresh fenugreek leaves.
  • Grind the leaves, add some water, and make paste.
  • Now, you will get the best herbal medicine to get relief from joint pain in 7 days only ready for use.

How to Use:

Use the paste in the morning on an empty stomach. Use the remedy for seven days regularly. Also, use only 10 grams of this remedy daily. The remedy also makes your body strong and healthy.

This homemade remedy to get relief from joint pain in 7 days is very effective, and the remedy gives visible results in one week only. There are no side effects of using this remedy, and it benefits your health greatly as fenugreek leaves are rich in nutrients. So, if you are suffering from this health issue, make and use this remedy and stay active all the time.

پاکستانی شہری انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ کیا سرچ کرتے ہیں؟ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے حیرت انگیز اعداد و شمار جاری کر دیے

پاکستانی شہری انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ کیا سرچ کرتے ہیں؟ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے حیرت انگیز اعداد و شمار جاری کر دیے
منگل‬‮ 24 جولائی‬‮ 2018 | 1:37
پاکستانی شہری انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ کیا سرچ کرتے ہیں اس حوالے سے تفصیلات سامنے آئی ہیں، گوگل کے اعداد و شمار کے مطابق دیگر ممالک کے شہریوں کی نسبت پاکستانی شہری گوگل پر سب سے زیادہ ڈرامے سرچ کرتے ہیں اور بھارتی شہری فلمیں اور مختلف قسم کی کھانے پینے کی چیزیں زیادہ تلاش کرتے ہیں، گوگل پر مختلف ممالک مختلف حوالوں سے مشہور ہیں جن میں امریکہ یونیورسٹیوں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، چین چینی کے برتنوں سے پہچانا جاتا ہے اور افغا نستان جنگی فلموں کی وجہ سے ہے

وہ اوقات جب پانی “ نہ “ پینا صحت کیلئے فائدہ مند

وہ اوقات جب پانی “ نہ “ پینا صحت کیلئے فائدہ مند
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:25
بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کھانا یا ورزش پانی پیے بغیر کرسکتے ہوں۔ ویسے تو ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کا بہت زیادہ استعمال بھی سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ تو یہ اچھا خیال ہے کہ پانی کی مقدار کو جسمانی ضروریات کے مطابق محدود کردیا جائے، مگر ڈان کے مطابق کچھ کام یا چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے دوران پانی پینے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے۔ سونے سے قبل سونے سے قبل پانی پینے سے گریز کرنے کی 2 وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ بستر پر جانے

اس سیال کا استعمال نیند کو متاثر کرسکتا ہے، اس عادت کے نتیجے میں رات کو پیشاب کے لیے اٹھنا پڑ سکتا ہے جبکہ سونے میں بھی معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری وجہ کا تعلق گردوں سے ہے۔ جیسا آپ کو علم ہوگا کہ دن کے مقابلے میں رات کو گردے اپنے افعال سست روی سے سرانجام دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کو صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پیر سوجنے کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔ رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد میں یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔ورزش کے دوران ایک تحقیق کے مطابق ورزش کے دوران پانی پینا منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے، ورزش کے دوران جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے گرمی کا احساس ہوتا ہے، مگر خود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے زیادہ پانی پینا مختلف اثرات جیسے سردرد، متلی، سرچکرانے وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح امراض قلب کے شکار افراد اگر ورزش کے دوران پانی استعمال کریں تو دل پر بوجھ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، اسی لیے ڈاکٹر ورزش کے بعد ہی پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔پیشاب کی رنگت ختم ہوجانا بے رنگ پیشاب اس بات کی نشانی ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار زیادہ بڑھ چکی ہے، اس کی وجہ دن بھر میں زیادہ پانی پینا ہوتا ہے۔ ایسا ہونے سے جسم میں سوڈیم کی سطح کم ہوتی ہے جو کہ مختلف طبی مسائل بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ بن سکتی ہے۔مرچوں کا احساس کم کرنے کی کوشش زیادہ مرچ مصالحے کے بعد اگر جلن کا احساس ہورہا ہو تو پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے، مرچوں میں موجود ایک مالیکیول اسی وقت تحلیل ہوتا ہے جب پانی کی جگہ ٹھوس سیال جیسے دودھ کو پیا جائے۔ اگر مرچوں کے اوپر پانی پیا جائے تو وہ مالیکیول برقرار رہتا ہے اور منہ سے غذائی نالی تک پھیل سکتا ہے، جس سے صورتحال زیادہ بدتر ہی ہوسکتی ہے۔کھانے سے قبل، دوران یا بعد میں پینا کھانے کے دوران پانی پینا بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا منہ لعاب دہن بناتا ہے جس میں ایسے انزائمے ہوتے ہیں جو صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے ضروری ہیں۔ کھانے کے دوران پانی پینا اس عمل کو کم کردیتا ہے جس کے نتیجے میں جسم غذا ہضم نہیں کرپاتا جو وقت گزرنے کے ساتھ معدے کے لیے نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ خیال رہے کہ ٹھنڈا پانی پینا اس صورتحال کو مزید بدتر کرسکتا ہے۔سمندری پانی یہ تو سب کو معلوم ہے کہ سمندر پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ کیوں ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سمندری پانی مختلف وائرسز سے بھرا ہوتا ہے جو نقصان پہنچاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ غلطی سے بھی یہ پانی منہ میں چلاجائے تو اسے فوری تھوک دینا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سمندری پانی میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور جسم کو اسے خارج کرنے کے لیے بہت زیادہ خالص پانی کی ضرورت پڑسکتی ہے جس کا نتیجہ سنگین ڈی ہائیڈریشن کی شکل میں نکل سکتا ہے۔اگر پہلے ہی بہت زیادہ پانی پی چکے ہوں اوپر لکھا تو جاچکا ہے مگر پھر یاد دلاتے جائیں کہ بہت زیادہ پانی پینا سوڈیم کی سطح کم کرکے ناخوشگوار اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح یہ عادت گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اسے خون میں موجود اہم اجزاء کو ریگولیٹ کرنے کا کام چھوڑ کر پانی کے اخراج کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:58
زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری) یہ پرانی بات ہے‘ میاں نواز شریف کا اقتدار ختم ہو چکا تھا‘ یہ وزیراعظم سے ملزم بن چکے تھے‘ ان پر طیارہ ہائی جیک کرنے کا الزام تھا‘ یہ جنرل پرویز مشرف کی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے اور یہ ملک کی مختلف جیلوں میں بھجوائے جاتے تھے‘ میاں صاحب کو2000ء کے شروع میں راولپنڈی جیل سے لانڈھی جیل کراچی منتقل کیا گیا‘ میاں صاحب جیل پہنچے تو ان کے ساتھ وہاں انتہائی توہین آمیز سلوک کیا گیا‘ قواعد کے مطابق پولیس ملزموں اور مجرموں کو جیل کے عملے کے حوالے کرتی ہے‘ملزمان کی وصولی

فریضہ عموماً اسٹنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ادا کرتے ہیں‘ یہ کاغذات وصول کرتے ہیں‘ ملزم سے اس کا نام اور جرم پوچھتے ہیں‘ رجسٹر میں لکھتے ہیں اور ملزم کی وصولی کی رسید جاری کر دیتے ہیں‘ یہ قاعدہ عام ملزموں کیلئے ہے‘ وی وی آئی پی یا سیاسی قیدیوں کو جیل میں تکریم دی جاتی ہے‘ ان سے صرف دستخط لئے جاتے ہیں ‘ان سے تصدیقی سوال نہیں پوچھے جاتے لیکن میاں نواز شریف کو اس عمل سے بھی گزارا گیا‘ میاں صاحب کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کرسی پر بیٹھا تھا‘ اس نے رجسٹر کھولا اور نہایت بدتمیزی سے کہا ’’ نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے جواب دیا’’میاں محمد نواز شریف‘‘ سپرنٹنڈنٹ کا اگلا سوال تھا ’’والد کا نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے بتایا ’’ میاں محمد شریف‘‘ اس سے اگلی بات انتہائی نامناسب تھی‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا ’’ سوچ کر بتاؤ‘‘ میاں نواز شریف یہ بات پی گئے‘ میاں صاحب کی جیب میں پین تھا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے ہاتھ بڑھا کر وہ پین میاں صاحب کی جیب سے نکالا اور کہا ’’ تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ میاں صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا مگر خاموش رہے۔ مجھے یہ واقعہ مخدوم جاوید ہاشمی نے سنایا تھا‘ یہ سناتے ہوئے ہاشمی صاحب کا گلہ روند گیا تھا جبکہ میرا دل بوجھل ہو گیا تھا‘ آپ بھی اس وقت کو تصور میں لائیے‘آپ کو بھی یقیناًافسوس ہو گا‘ میاں نواز شریف دوسری بار ملک کے وزیراعظم بنے تھے‘ یہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جو دو تہائی اکثریت لے کر ایوان میں پہنچے اور انہیں صرف اس ’’غلطی‘‘ کی سزا مل رہی تھی کہ انہوں نے 22 ویں گریڈ کے ایک افسر جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کی جرأت کی تھی‘ میاں صاحب کے اس جرم کی پاداش میں منتخب حکومت کو گھر بھجوا دیا گیا‘ شریف خاندان کو گرفتار کر کے جیلوں میں پھینک دیا گیا‘ اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا‘ کیا یہ واقعی اتنا بڑاجرم تھا کہ ملک کو مارشل لاء کے اندھیروں میں بھی دھکیل دیا جاتا اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو اٹک کے اس قلعے میں بھی رکھا جاتا جس میں دن کے وقت بھی سانپ رینگتے رہتے تھے‘ یہ سلوک صرف یہاں تک محدود نہیں تھا‘ میاں نواز شریف کو اٹک قلعے سے نکال کر ملک کی مختلف جیلوں کی سیر بھی کرائی گئی‘انہیں ائیر ٹائیٹ بکتر بند گاڑیوں میں عدالت لایا جاتا‘ طیارے میں ان کا بازو سیٹ سے باندھ دیا جاتااور ان کی ساری پراپرٹی ضبط کر کے انہیں پورے خاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا اور یہ وہاں سے واپس آئے تو انہیں دھکے دے کر‘ ان کے کپڑے پھاڑ کر‘ انہیں طیارے میں پھینک کر واپس سعودی عرب بھجوا دیا گیا‘ کیا کسی جمہوری لیڈر کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے؟ لیکن میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ یہ ہوا اور یہ سلوک بھی ریاستی اداروں نے جنرل پرویز مشرف کی ایما پر کیا‘ میاں نواز شریف کو اس دور میں جنرل محمود کے لہجے نے زیادہ تکلیف دی تھی‘ جنرل محمود بارہ اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں کورکمانڈر تھے‘یہ میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے‘ میاں صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا‘ جاوید ہاشمی کے بقول جنرل محمود نے میاں نواز شریف کو دھمکی بھی دی اور گالی بھی۔ میاں صاحب جلا وطنی کے دوران اس سلوک پر بہت دل گرفتہ تھے‘ وہ جنرل محمود اور ان کے لہجے کو کبھی فراموش نہیں کر سکے‘ جنرل عزیز اس وقت ڈی جی ملٹری آپریشن تھے‘ میاں نواز شریف کو ان کے رویئے پر بھی افسوس تھا‘ جنرل عزیز کارگل کی جنگ میں بھی ملوث تھے‘ ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے پاک فوج کے تین ہزار جوان اور آفیسر شہید ہوئے ‘ میاں نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھ ان کا کورٹ مارشل بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ان دونوںجرنیلوں نے وردی بچانے کیلئے حکومت کا تختہ الٹ دیا‘ اپنی نوکری بچا لی مگر پورا سسٹم برباد کر دیا‘ میاں نواز شریف جنرل کیانی کے رویئے سے بھی خوش نہیں تھے‘ میاں نواز شریف 10 ستمبر 2007ء کو لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے‘ جنرل کیانی اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ میاں نواز شریف کو اسلام آباد سے سعودی عرب واپس بھجوانے کا فریضہ جنرل کیانی کے لوگوں نے نبھایا تھا۔یہ وہ واقعات ہیں آپ کو جن کا اثر میاں نواز شریف کی نفسیات پر دکھائی دے رہا ہے‘ آٹھ سال کی جلاوطنی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ سال کی بیڈ گورننس اور 2013ء کے الیکشن میں میاں نواز شریف کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں‘ان تمام چیزوں نے میاں صاحب پر اثر کیا اور آپ کو یہ اثر اب ان کے چہرے پر نظر آتا ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر زبرستی بٹھایا گیا ہو اور یہ بھاگنے کا موقع تلاش کر رہے ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ آپ اب دوسری حقیقت بھی ملاحظہ کیجئے‘ وہ جنرل پرویز مشرف جس نے 12 اکتوبر 1999ء کو صرف دو جیپیں وزیراعظم ہاؤس بھجوا کر دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت کو گھر بھجوادیا تھا‘ وہ عدالت سے بچنے کیلئے 48 دن ہسپتال میں چھپے رہے‘ وہ 18فروری کو رینجرز کے نرغے میں عدالت پیش ہوئے تو انہیں ملزم کے کٹہرے کے ساتھ کرسی پر بٹھا دیا گیا‘ خصوصی ٹریبونل کمرے میں داخل ہوا تو اسے جنرل پرویز مشرف نظر نہ آئے‘ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اونچی آواز میں پوچھا ’’ ملزم کہاں ہے‘‘ جنرل پرویز مشرف یہ تین لفظ سن کر اپنی کرسی سے اٹھے اوراس عدالت کو سیلوٹ کیا جسے انہوں نے 9 مارچ 2007ء کو اپنی انا کے قدموں میں روند دیا تھا‘ عدالت نے ملزم کو دیکھا اور مسکرا کر واپس ہسپتال بھجوا دیا‘ یہ جنرل مشرف کا انجام ہے‘ آپ جنرل محمود کی کہانی بھی ملاحظہ کیجئے‘ جنرل پرویز مشرف اور جنرل محمود کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے‘ جنرل مشرف نے اس جنرل محمود کو فارغ کر دیا جس نے کبھی میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے اخلاقیات کی ساری حدود کراس کر دی تھیں‘ یہ جنرل محمود بے روزگار ہوئے‘ چند دوست درمیان میں آئے اور جنرل محمود کو ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی فرٹیلائزر کا سربراہ بنا دیا گیا‘ جنرل مشرف کی بدلتی ہوئی نظریں جنرل محمود کی نفسیات پر اثرانداز ہوئیں‘ یہ مذہب کی طرف چلے گئے‘ داڑھی رکھی‘ تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے اور یہ اب دوسری بار ریٹائر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں مصروف ہیں‘میاں نواز شریف 4 نومبر 2013ء کو خیر پور ٹامیوالی گئے‘ یہ فوج کی مشقیں دیکھنے وہاں گئے‘ جنرل عزیز بھی اس تقریب میں شریک تھے‘ میاں نواز شریف ظہرانے کے دوران جنرل عزیز کے عین سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل عزیز اور میاں نواز شریف دونوں کو اس وقت یقیناً1999ء کے وہ دن اور وہ راتیں یاد آئی ہوں گی جب جنرل عزیز نے میاں نواز شریف پر عرصہ حیات تنگ کر دیاتھا اور پیچھے رہ گئے جنرل اشفاق پرویز کیانی۔ جنرل کیانی صاحب کو شریف النفس اور فلاسفر آرمی چیف کہا جاتا تھا‘ سگریٹ اور کتاب جنرل صاحب کی دو کمزوریاں تھیں‘ یہ سروس کے دوران یس سر اور یس باس رہے تھے‘ شاید اسی لئے جنرل کیانی نے میاں نواز شریف کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے دھکے دے کر سعودی عرب بھجوانے کا بندوبستکیا تھا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور یہ میاں نواز شریف سے وقت لے کر ان سے ملاقات کیلئے جاتے تھے‘ آج کل خبر گردش کر رہی ہے جنرل کیانی سیکورٹی کی وجہ سے فیملی سمیت دوبئی شفٹ ہونا چاہتے ہیں لیکن فوجی قیادت انہیں اجازت نہیں دے رہی‘ ان کے دست رات جنرل پاشا پہلے ہی یو اے ای میں نوکری کر رہے ہیں۔ آپ اگر پچھلے پندرہ سال کے اس عروج و زوال کی داستان پڑھیں تو آپ کو جمہوریت کی طاقت پر یقین آ جائے گا‘ پاکستان میں اگر جمہوریت نہ ہوتی توشاید وہ میاں نواز شریف کبھی واپس نہ آتے جن کی جیب سے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے یہ کہہ کر پین نکال لیا تھا ’’تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ یہ صرف جمہوریت‘ ووٹ اور بیلٹ باکس کی طاقت ہے جس کی وجہ سے آج وہ شخص تیسری بار ملک کا وزیراعظم ہے جسے جیل میں رکھنے‘سزا دینے‘ جلاوطن کرنے اور انتخابی عمل سے باہر رکھنے کیلئے بار بار پوری ریاستی طاقت استعمال ہوئی‘ یہ بھی جمہوریت کا کمال ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف جو بیک جنبش قلم پوری سپریم جوڈیشری کو گھر بھجوا دیتا تھا وہ آج خود اسی جوڈیشری کے رحم و کرم پر ہے‘ ہماری سیاسی لاٹ نے اپنی آنکھوں سے جمہوریت کا یہ معجزہ دیکھا مگر اس کے باوجود ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین فوج کو دعوت دے رہے ہیں‘ یہ فوج سے فرما رہے ہیں ’’آپ ملک کو ’’ٹیک اوور‘‘ کر لیں‘‘ کاش یہ بیان دینے سے قبل الطاف حسین ایک بار اس منظر کو نگاہوں میں لے آتے جب جنرل عزیز میاں نواز شریف کے سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور جسٹس فیصل عرب عدالت میں یہ صدا لگا رہے تھے ’’ ملزم جنرل پرویز مشرف کہاں ہیں‘‘ اور کاش اس بیان پر خوش ہونے والے لوگ بھی ایک بار‘صرف ایک بار جنرل محمود کے تبلیغی سیشن میں شریک ہو جائیں‘ یہ ٹریبونل کیلئے جنرل مشرف کا سیلوٹ دیکھ لیں‘ کاش ایک بار ایسا ہو جائے‘ مجھے یقین ہے یہ بھی جمہوریت کی طاقت پر یقین کر لیں گے‘ یہ بھی بیلٹ باکس کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

تباہی کا سبب بننے والا جزیرہ نمودار٬ خوفناک انکشافات

تباہی کا سبب بننے والا جزیرہ نمودار٬ خوفناک انکشافات
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 2:03
عام طور پر جزیرے اپنے حسن اور دلکشی کے باعث لوگوں کے درمیان انتہائی مقبول ہوئے ہیں لیکن حال میں دریافت ہونے والے ایک خطرناک جزیرے نے لوگوں کے درمیان خوف و ہراس پھیلا دیا ہے- جی ہاں رواں سال اپریل میں نارتھ کیرولینا کے سمندری ساحل کے قریب اچانک ایک ایسا جزیرہ نمودار ہوا ہے جس کے بارے میں حکام مسلسل لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں اور وہاں جانے سے روک رہے ہیں-ورجینیا کے ایک پائلٹ کے مطابق یہ نیا جزیرہ چند ہفتوں قبل ہی سمندر سے ابھر کر باہر آیا ہے- یہ خطرناک جزیرہ 1 میل طویل

146 میٹر چوڑا ہے اور نارتھ کیرولینا کے Buxton نامی ساحل کے قریب واقع ہے-اس جزیرے کو سب سے پہلے پائلٹ Janet Regan نے دریافت کیا جو وہاں اپنے 11 سالہ بیٹے کو سیپیاں جمع کرنے کے لیے لے گئے تھے- یہاں بےپناہ سیپیاں پائی جاتی ہیں اور اسی وجہ اس لڑکے نے اس جزیرے کا نام Shelly Island رکھ دیا- نارتھ کیرولینا ساحل کی ایسوسی ایشن کے صدر بل سمتھ نے کئی انکشافات کرتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ یہ ایک انتہائی خطرناک مقام ہے اور یہاں جانا ان کی جان لے سکتا ہے- اس جزیرے کے خوفناک ہونے کی کئی وجوہات ہیں- پہلی تو یہ کہ درحقیقت یہ جزیرہ ایک ایسے سمندری مقام کے انتہائی قریب ہے جہاں مچھلیوں کا شکار کیا جاتا ہے- اور جزیرے کی ریت کے نیچے ماہی گیروں کے کانٹے نصب ہوسکتے ہیں-اس کے علاوہ اس مقام پر موجود پانی کے نیچے شارک اور کئی قسم کے دیگر مہلک سمندری جانور بھی پائے جاتے ہیں- بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اسی مقام پر ایک ایسا دریا بھی موجود ہے جو خطرناک کرنٹ پیدا کرتا ہے-بل سمتھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ “ اگرچہ اس جگہ شارک کے حملے کا خوف ہے لیکن اس سے زیادہ خوفناک بات یہاں ڈوبنا ہے- اس جزیرے تک رسائی صرف کشتیوں کے ذریعے ممکن ہے- یہی وجہ ہے کہ فوٹوگرافر Chad Koczera نے اس جزیرے کی تصاویر ڈرون کی مدد سے حاصل کی ہیں-بل سمتھ کا مزید کہنا ہے کہ “ اس مقام کے محل و قوع میں مسلسل تبدیلی واقع ہورہی ہے جس کی وجہ سے امکان ہے آئندہ آنے والے ایک یا دو سال کے دوران یہ جزیرہ یا تو اس سے بھی بڑا ہوسکتا ہے یا پھر مکمل طور پر واپس ڈوب سکتا ہے“-