ٹی وائٹنر کھلے دودھ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ کیسے٬ جانیے!

ٹی وائٹنر کھلے دودھ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ کیسے٬ جانیے!
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 1:47
ٹی وائٹنر جو کہ ٹی کریمر٬ ڈیری وائٹر اور ڈیری کریمر جیسے دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے٬ دنیا بھر کے ممالک میں کروڑوں افراد اسے استعمال کرتے ہیں- ٹی وائٹنر چائے میں دودھ کے متبادل کے استعمال ہوتا ہے جو سیاہ چائے کے رنگ اور ذائقہ کو بہتر بناتا ہے- ٹی وائٹنر٬ پاؤڈر اور لیکویڈ فارم میں دستیاب ہیں- اس کی طویل شیلف لائف اور اس کی فوری طور پر تیار کردہ خصوصیت ٹی وائٹنر کو ایک آسان انتخاب بناتی ہے- ٹی وائٹنر کی لمبی شیلف لائف نے مقامی میڈیا میں تنازعات پیدا کردیے ہیں- مقامی میڈیا کے

طویل شیلف لائف بغیر نقصان دہ محافظین (preservatives/chemicals) کے نہیں حاصل ہوسکتی- لیکن یہ سچ نہیں ہے-ٹی وائٹنر اصل میں امریکہ میں 1950 میں ایجاد کیے گئے تھے- اسے ڈرائڈ کریم (dried cream)٬ چینی اور پانی ( لیکویڈ ٹی وائٹنر) سے بنایا گیا- لیکن یہ مشروبات میں اچھی طرح سے حل نہیں ہو پایا لہٰذا ٹی وائٹنر کو نئی ترکیب سے تیار کیا گیا- اس نئی ترکیب میں مِلک فیٹ کی جگہ ویجیٹیبل فیٹ کا استعمال کیا گیا تاکہ اسے چائے میں بہتر طور پر حل کیا جاسکے-مارکیٹ میں بہت سے ٹی وائٹنر دستیاب ہیں- جب آپ ٹی وائٹنر کا انتخاب کرتے ہیں تو اس بات کی تصدیق کرلیں کہ وہ UHT (الٹر ہائی درجہ حرارت) کے ٹریٹمنٹ سے گزرا ہو اور اس میں اسیپٹک پیکجنگ (aseptic packaging) کا استعمال کیا گیا ہو- ترنگ خریدتے وقت آپ اس بات کا اطمینان کرسکتے ہیں کہ اس میں شامل اجزاﺀ اعلیٰ معیار کے ہیں اور یہ پروڈکشن کے دونوں مراحل UHT اور aseptic packaging سے تیار کیا گیا ہے-UHT سے تیار کردہ ٹی وائٹنر کو 2 سے 3 سیکنڈ تک حرارت کے عمل سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس میں شامل نقصان دہ جراثیم ختم کردیے جائیں- اس کے بعد ٹیٹرا پیک کی اسیپٹک پیکجنگ (aseptic packaging) میں ڈالا جاتا ہے- اسیپٹک پیکجنگ چھ مختلف پرتوں کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعات کو ماحولیاتی آلودگی٬ روشنی اور گرمی سے محفوظ رکھنے اور مصنوعات کی اسٹوریج لائف کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے- کوئی بھی UHT دودھ یا دودھ سے بنی مصنوعات جنہیں اسیپٹک پیکجنگ (aseptic packaging) میں پیک کیا جاتا ہے وہ طویل عرصہ تک محفوظ رہتی ہیں اور کھلے دودھ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بھی ہیں جبکہ کھلا دودھ بیکٹیریا کو مارنے کے لیے ٹریٹمنٹ سے نہیں گزرتا جس کی وجہ سے دودھ جلدی خراب ہوجاتا ہے-

پاکستان میں سستی الیکٹرک کاریں آگئیں: قیمت اتنی کہ گاڑیوں کے شوقین افراد خریدنے کے لئے فوراً تیار ہوگئے

پاکستان میں سستی الیکٹرک کاریں آگئیں: قیمت اتنی کہ گاڑیوں کے شوقین افراد خریدنے کے لئے فوراً تیار ہوگئے
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 0:36
پاکستان میں آٹو کی صنعت میں نمایاں ترقی، مارکیٹ میں بڑے بین الاقوامی برانڈز کی انٹری سے جدید گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ آٹو کی صنعت میں سب سے زیادہ دلچسپ چیزیں اب بجلی سے چلنے والی کاروں کا اضافہ ہے۔پاکستان آٹو مارکیٹ میں ہائبرڈ کاروں کے بعد اب بجلی سے چلنے والی کاروں پر توجہ دی جارہی ہے، بہت سی آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیوں کا بنیادی مرکز ہے کہ وہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کروایں، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی اور ماحول دوست سفری سہولیات میسر آسکیں گی۔پاکستان میں کراچی ایکسپو سینٹر میں ایک چینی

کی جانب سے تین اقسام کی الیکٹرک گاڑیاں پیش کی گئی –> تھی۔ اب پاکستان میں موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی سپر پاور نے دو الیکٹرک کاریں متعارف کروائی ہیں۔کراچی ایکسپو سینٹر میں پیش کی گئی یہ گاڑیاں بجلی سے چلتی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یہ کاریں 3 ماہ تک پاکستانی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی۔کمپنی کے مطابق 7 گھنٹے کی چارجنگ کے بعد یہ گاڑی 120 کلو میٹر تک سفر کر سکتی ہے اور یہ گاڑی 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ڈوئل ڈور گاڑی کی قیمت 6 لاکھ پاکستانی روپے جبکہ فورڈور گاڑی کی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار روپے ہوگی۔واضح رہے کہ اس گاڑی میں 12 وولٹ کی بیٹری لگائی گئی ہے جسے آسانی سے گھر پر چارج کیا جاسکتا۔

اسٹالن کا مرغا اور ہماری حالت٬ کچھ فرق نہیں

اسٹالن کا مرغا اور ہماری حالت٬ کچھ فرق نہیں
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 1:56
سابق سوویت یونین کا صدر جوزف سٹالن ایک مرتبہ اپنے ساتھ پارلیمنٹ میں ایک مرغا لے آیا اور سب کے سامنے اس کا ایک ایک پر نوچنے لگا، مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر ایک ایک کر کے سٹالن نے اس کے سارے پر اتار دئیے پھر مرغے کو فرش پر پھینک دیا اور جیب سے کچھ دانے نکال کر مرغے کی طرف پھینک دئیے اور چلنے لگا ، مرغا دانا کھاتا ہوا سٹالن کے پیچھے چلنے لگا۔ سٹالن برابر دانا پھینکتا جاتا اور مرغا دانا منہ میں ڈال کر اس کے پیچھے چلتا ہوا آخرکار سٹالن ایک جگہ رک

اور اس کا مرغا اس کے پیروں میں آکھڑا ہوا۔سٹالن نے اپنے کامریڈز کی طرف دیکھا اور اس کے بعد ایک تاریخی فقرہ بولا’’سرمایہ دارانہ ریاستوں کے عوام اسی مرغے کی طرح ہوتے ہیں، ان کے حکمران پہلے عوام حکمران پہلے عوام کا سب کچھ لوٹ کر انہیں اپاہج کر دیتے ہیں اور بعد میں معمولی سی خوراک دے کر خود کو ان کا مسیحا بنا دیتے ہیں‘‘۔ اور چند سکوں، چند نوالوں کے عوض، معاشی غلام کا شکار اور اجتماعی شعور سے محروم عوام بھول جاتے ہیں کہ انہی انسان نما درندوں نے تو ہمیں چوپایوں کے درجے پر لا کھڑا کیا تھا‘‘۔

غیرت مند لیڈر ایسے ہوتے ہیں٬ بانیِ پاکستان کا کرارا جواب

غیرت مند لیڈر ایسے ہوتے ہیں٬ بانیِ پاکستان کا کرارا جواب
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 3:43
یہ پاکستان کے قیام سے چھ ماہ بعد کا واقعہ ہے برطانیہ کے ہائی کمشنر قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا ”اگلے مہینے برطانیہ کے شاہ کے بھائی پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں‘ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ ہوں گی اور برطانوی حکومت کی خواہش ہے آپ ائر پورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کریں“۔ قائد اعظم محمد علی جناح مسکرائے اور ہائی کمشنر سے فرمایا ”میں اس کام کیلئے تیار ہوں لیکن یہ آپ کو بہت مہنگا پڑے گا“ – ہائی کمشنر نے عرض کیا ”کیسے‘ قائداعظم نے

میں برطانوی شاہ کے بھائی کے استقبال کیلئے ائیر پورٹ گیا تو جب میرا بھائی لندن جائے گا تو ان کے استقبال کیلئے شاہ کو بھی ائیر پورٹ آنا پڑے گا“۔ ہائی کمشنر یہ جواب سن کر پریشان ہو گیا اور حیرت سے قائداعظم کی طرف دیکھنے لگا۔قائد اعظم نے پوچھا ”کیا آپ لوگ اس کیلئے تیار ہیں“ ہائی کمشنر نے شکریہ ادا کیا‘ سلام کیا اور گورنر جنرل ہاﺅس سے رخصت ہوگیا۔ ایک ماہ بعد شاہ کا بھائی ائیر پورٹ پر اترا تو اس کا استقبال کراچی کے ڈپٹی کمشنر نے کیا۔

14 بچوں کی ماں کروڑ پتی کیسے بنی؟

14 بچوں کی ماں کروڑ پتی کیسے بنی؟
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 3:48
تمی امبیل کے 14 بچے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی سکول نہیں گیا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کہانی کسی غریب خاندان ہے۔ لیکن ہم بات کر رہے ہیں ایک کروڑ پتی خاتون اور ان کے بچوں کی۔ بی بی سی کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا کی رہائشی تمی 17 لاکھ ڈالر کا نیچرل کاسمیٹک کا کاروبار ہے۔ اسے انہوں نے بغیر کسی بینک کے قرض اور سرمایہ کار کی مدد لیے کھڑا کیا ہے۔ امبیل اپنے شوہر اور 14 بچوں کے ساتھ رہتی ہیں امبیل کے شوہر پاکستانی ڈاکٹر ہیں اور ان کے گھر میں

وی سیٹ تک نہیں ہے۔ امبیل نے اپنے تمام بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے گھر پر ہی پڑھایا۔ ان کے چار بچے اب کالج میں میڈیکل، انجینئرنگ اور سائبر سیکورٹی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ باقی بچوں کو امبیل اب بھی گھر پر خود پڑھاتی ہیں۔امبیل اپنے بزنس کو تقویت دینے اور بچوں کو پڑھانے کا کام ایک ساتھ کرتی ہیں۔ بزنس کے سلسلے میں انھیں کئی ممالک کا سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ الگ الگ مقامات کی قدرتی مصنوعات کو سمجھنا اور پھر ان سے آپ کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے ان کو جگہ جگہ مارے مارے پھرنا پڑتا ہے۔اپنے ان دوروں میں وہ کئی بار اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتی ہیں۔ امبیل کا خیال ہے کہ مختلف جگہوں کا تجربہ بھی بچوں کی تعلیم کا ایک حصہ ہے۔ نیچرل باڈی پروڈکٹس کا بزنس امبیل کہتی ہیں: ‘میں اپنے بزنس کو پرانے انداز میں چلانا چاہتی تھی، جس میں ‘پہلے پیسے کماؤ پھر اسے دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے لگاؤ والی’ پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ میں نے کبھی بھی پیسہ قرضے لے کر بزنس کرنے کا نہیں سوچا۔’تمی نے سب سے پہلے ملبوسات کی کمپنی شروع کی، جس میں انھیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ انہوں نے اسے بند کر فوری طور پر دوسرے پروجیکٹ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔اس کے بعد انھوں نے ‘شیا ٹیرا آرگینک’ کے نام سے کمپنی کا آغاز کیا۔ یہ نیچرل باڈی پروڈکٹس کی کمپنی ہے جو قبائلی گروپوں اور مصر، مراکش، نامبيا یا تنزانیہ جیسے ممالک کے چھوٹے گروپوں سے خام مال منگواتی ہے۔ یہ کمپنی 17 سال پہلے شروع ہوئی اور اس نے مغربی ممالک کو ایسی چیزوں سے روشناس کروایا جن کے بارے میں وہاں کے باشندے جانتے تک نہیں تھے۔مختلف علاقوں کا دورہ امبیل نے اپنے بزنس کو توسیع دینے کے لیے ان جگہوں کا دورہ کرنا شروع کیا جہاں جلد کے علاج کے لیے اب بھی مقامی اجزا استعمال کیے جاتے ہیں۔ امبیل کہتی ہیں: ‘میں نے ان جگہوں پر روزگار پیدا کرنے کی کوشش کی جہاں زندگی بہت مشکل تھی، میں جانتی تھی کہ ان جگہوں پر ایسی کئی چیزیں ہیں جو فطرت کے بے حد قریب ہیں، لیکن بازار کی پہنچ سے دور ہیں۔’ امبیل کی کمپنی امریکہ کی ریاست ورجینیا میں واقع ہے اور آن لائن ترسیل کے ذریعے مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ اس کے امریکہ بھر میں 700 سٹور ہیں۔جعلی مصنوعات سے چیلنج گزشتہ کچھ سالوں سے امبیل کو ایک پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مارکیٹ میں نیچرل پروڈكٹس کے نام پر بہت سی جعلی مصنوعات فروخت ہونے لگی ہیں۔ اس کی وجہ سے گاہک یہ یقین نہیں کر پا رہے کہ کون سی مصنوعات درست ہیں اور کون سے غلط۔ امبیل کہتی ہیں کہ مارکیٹ میں جاری اس مقابلے میں خود کو مسلسل آگے برقرار رکھنے بہت مشکل ہے، لیکن وہ مصنوعات کے معیار کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتیں۔

امریکی جج کا فیصلہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا کارنامہ

امریکی جج کا فیصلہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا کارنامہ
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 1:40
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍْﺱ ﻧﮯ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺯ ﯾﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﺟﺞ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ” ﺗﻢ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ،ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﺱ ﮈﺍﻟﺮ ﺟﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺳْﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﯾﮧ

ﺍﭘﻨﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ” ﻣﺠﻤﻊ ﭘﺮ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺞ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺩﺱ ﮈﺍﻟﺮ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺭﻗﻢ ﻗﻮﻣﯽ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ -ﭘﮭﺮ ﺟﺞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ” ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺩﺱ ﺩﺱ ﮈﺍﻟﺮ ﺟﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺳْﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﯼ ” ﺍْﺱ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ 480 ﮈﺍﻟﺮ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺞ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﺑﻮﮌﮬﮯ ” ﻣﺠﺮﻡ ” ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯼ۔ ﯾﮧ ﻗﺼﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﮨﮯ۔ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﯾﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯﮐﻔﺎﻟﺖ ﺍﺳﯽ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﯽ ﻣﺮﮨﻮﻥ ﻣﻨﺖ ﮨﮯ ‏( حضرت ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐا ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ‏)ﮨﻤﺎﺭﮮ ١٠ ‏( ﺩﺱ ‏) ﺭﻭﭘﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﮬﻤﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻻﭼﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﮯ۔۔۔ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﮨﮯ۔۔ﺁﺋﯿﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺑﺪﻟﯿﮟ۔۔

جب قرآن پہ پابندی لگی٬ ہزاروں معجزے رونما

جب قرآن پہ پابندی لگی٬ ہزاروں معجزے رونما
جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018 | 1:37
1973 روس میں کمیونزم کا طوطی بولتا تھا بلکہ دنیا تو یہ کہہ رہی تھی کہ بس اب پورا ایشیا سرخ ہوجائے گا ان دنوں میں ہمارے ایک دوست ماسکو ٹریننگ کے لیے چلے گئے وہ کہتے ہیں کہ جمعے کے دن میں نے دوستوں سے کہا کہ چلو جمعہ ادا کرنے کی تیاری کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہاں مسجدوں کو گودام بنا دیا گیا ہے ایک دو مساجد کو سیاحوں کا قیام گاہ بنا دیا گیا ہے صرف دو ہی مساجد اس شہر میں بچیں ہیں جو کبھی بند اور کبھی کھلی ہوتی ہیں- میں نے

آپ مجھے مساجد کا پتہ بتا دے میں وہیں چلا جاتا ہوں جمعہ ادا کرنے ۔ پتہ لیکر میں مسجد تک پہنچا تو مسجد بند تھی ، مسجد کے پڑوس میں ہی ایک بندے کے پاس مسجد کی چابی تھی میں نے اس آدمی کو کہا کہ دروازہ کھول دو مسجد کا ، مجھے نماز پڑھنی ہے، اس نے کہا دروازہ تو میں کھول دوں گا لیکن اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا-میں نے کہا دیکھیں جناب میں پاکستان میں بھی مسلمان تھا اور روس کے ماسکو میں بھی مسلمان ہی ہوں پاکستان کے کراچی میں بھی نماز ادا کرتا تھا اور روس کے ماسکو میں بھی نماز ادا کروں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے ۔ اس نے مسجد کا دروازہ کھولا تو اندر مسجد کا ماحول بہت خراب تھا میں نے جلدی جلدی صفائی کی اور مسجد کی حالت اچھی کرنے کی کوشش کرنے لگا کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے بلند آواز سے اذان دی ۔۔۔۔۔ اذان کی آواز سن کر بوڑھے بچے مرد عورت جوان سب مسجد کے دروازے پہ جمع ہوئے کہ یہ کون ہے جس نے موت کو آواز دی ۔۔۔۔ لیکن مسجد کے اندر کوئی بھی نہیں آیا،۔۔۔۔ خیر میں نے جمعہ تو ادا نہیں کیا کیونکہ اکیلا ہی تھا بس ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد سے باہر آگیا جب میں جانے لگا تو لوگ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نماز ادا کر کے باہر نہیں نکلا بلکہ دنیا کا کویی نیا کام متعارف کرواکر مسجد سے نکلا ہوں-ایک بچہ میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہمارے گھر چائے پینے آئیں ۔ اسکے لہجے میں خلوص ایسا تھا کہ میں انکار نہ کرسکا میں ان کے ساتھ گیا تو گھر میں طرح طرح کے پکوان بن چکے تھے اور میرے آنے پہ سب بہت خوش دکھائی دے رہے تھے میں نے کھانا کھایا چائے پی تو ایک بچہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا آپکو قرآن پاک پڑھنا آتا ہے ۔ ؟بچے نے کہا جی بلکل قرآن پاک تو ہم سب کو آتا ہے ، میں نے جیب سے قرآن کا چھوٹا نسحہ نکالا اور کہا یہ پڑھ کر سناؤ مجھے ۔۔۔بچے نے قرآن کو دیکھا اور مجھے دیکھا پھر قرآن کو دیکھا اور ماں باپ کو دیکھ کر دروازے کو دیکھا پھر مجھے دیکھا ۔ میں نے سوچا اس کو قرآن پڑھنا نہیں آتا لیکن اس نے کہا کیوں کہ اسکو قرآن پڑھنا آتا ہے ۔ میں نے کہا بیٹا یہ دیکھو قرآن کی اس آیت پہ انگلی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ رکھی تو وہ فر فر بولنے لگا بنا قرآن کو دیکھے ہی ۔۔۔۔ مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا کہ یہ تو قرآن کو دیکھے بنا ہی پڑھنے لگا میں نے اسکے والدین سے کہا ” حضرات یہ کیا معاملہ ہے ؟انہوں نے مسکرا کر کہا ” دراصل ہمارے پاس قرآن پاک موجود نہیں کسی کے گھر سے قرآن پاک کے آیت کا ایک ٹکڑا بھی مل جائے تو اس تمام خاندان کو پھانسی کی سزا دے دی جاتی ہے اس وجہ سے ہم لوگ قرآن پاک نہیں رکھتے گھروں میں “” تو پھر اس بچے کو قرآن کس نے سکھایا کیونکہ قرآن پاک تو کسی کے پاس ہے ہی نہیں ” میں نے مزید حیران ہوکر کہا” ہمارے پاس قرآن کے کئی حافظ ہیں کوئی درزی ہے٬ کوئی دکاندار کوئی سبزی فروش کوئی کسان ہم ان کے پاس اپنے بچے بھیج دیتے ہیں محنت مزدوری کے بہانے ۔۔۔۔ وہ انکو الحمد اللہ سے لیکر والناس تک زبانی قرآن پڑھاتے ہیں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ وہ حافظ قرآن بن جاتے ہیں کسی کے پاس قرآن کا نسحہ ہے نہیں اسلیئے ہماری نئی نسل کو ناظرہ نہیں آتا بلکہ اس وقت ہمارے گلیوں میں آپ کو جتنے بھی بچے دکھائی دے رہے ہیں یہ سب کے سب حافظ قرآن ہیں۔ یہی وجہ ہے جب آپ نے اس بچے کے سامنے قرآن رکھا تو اس کو پڑھنا نہیں آیا لیکن جب آپ نے آیت سنائی تو وہ فر فر بولنے لگا اگر آپ نہ روکتے تو یہ سارا قرآن ہی پڑھ کر سنا دیتا ۔وہ نوجوان کہتا ہے کہ میں نے قرآن کا ایک نہیں کئی ہزار معجزے اس دن دیکھے ، جس معاشرے میں قرآن پہ پابندی لگا دی گئی تھی رکھنے پہ ، اس معاشرے کے ہر ہر بچے بوڑھے مرد عورت کے سینوں میں قرآن حفظ ہوکر رہ گیا تھا میں جب باہر نکلا تو کئی سو بچے دیکھے اور ان سے قرآن سننے کی فرمائش کی تو سب نے قرآن سنا دیا ، میں نے کہا ” لوگو ۔۔۔۔۔! تم نے قرآن رکھنے پہ پابندی لگا دی لیکن جو سینے میں قرآن مجید محفوظ ہے اس پہ پابندی نہ لگا سکے ۔تب مجھے احساس ہوا کہ اللہ پاک کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہےإِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-

اگر سوتے ہوئے آپ کی رال بہتی ہے تو آپ بہت خوش قسمت ہیں

اگر سوتے ہوئے آپ کی رال بہتی ہے تو آپ بہت خوش قسمت ہیں

سلام علیکم دوستو: اکژ اوقات جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو ہمارے منہ سے رال بہہ رہی ہوتی ہے ۔جس کو ہم میں اکژلوگ پریشان کن مسئلہ اور باعث شرمندگی سمجھتے ہیں ۔ اگر آپ بھی انہیں لوگوںمیں سے ہیں تو اب آپ کو اس پر شرمندہ ہونے کی بلکل بھی ظرورت نہیں بلکہ جو بات میں اب بتانے جا رہا ہوں

وہ جان کر آپ خود کو انتہائی خوش قسمت سمجھیں گے سائنسدانوں نے حیرت انگیز انکشاف کیا ہےکہ اگر سوتے ہوئے آپ کے منہ سے رال بہتی ہے تو نا صرف اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں بلکہ آپ بہت خوش قسمت مکمل ویڈیودیکھنے کے لیے نیچے ویڈیو پرکلک کریں

بھی ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جو لوگ پر سکون نیند حاصل کرتے ہیں اور جن کے خواب انتہائی مثبت نوعیت کے ہوتے ہیں ان کی رال نیند کے دوران اکثر بہہ نکلتی ہے ۔یعنی نیند کے دوران رال بہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیند کا ابتدائی مرحلہ جسے ریپڈ آئی موومنٹ کہتے ہیں بغیر کسی رکاوٹ اور گڑبڑکے مکمل ہوتا ہے اور اس کے بعد آپ پر سکون اور گہری نیند میں چلے جاتے ہیں ۔ یہ اس بات کی علامت ہے

کہ آپ کی نیند میں کوئی خرابی نہیں ہے اور آپ کا جسم اور دماغ نیند سے بھر پور استفادہ کر رہا ہے ۔ماہرین کہ یہ بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ نیند کے دوران کبھی بھی رال بہنے کا واقعہ پیش نہیں آتا انہیں نیند سے متعلقہ کچھ نہ کچھ مسائل ظرور در پیش ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ پوری نیند حاصل نہیں کر رہے ہوتے یا ان کی نیند پر سکون نہیں ہے ہوتی ۔۔اگر یہ تحریر اچھی لگی ہو تو لائک اور شیئر کریں ۔جزاک اللہ

Great Action By Court Against Judge And His Wife In Taiba Case

ISLAMABAD: Chief Justice of Pakistan Saqib Nisar on Thursday summoned an Islamabad additional district and sessions judge (ADSJ) and the records of the case of a child employed as a maid and allegedly abused by the judge and his wife.

The Supreme Court summoned ADSJ Raja Khurram Ali Khan his wife Maheen Zafar along with the deputy inspector general and the senior superintendent of police as well as the relevant records and directed to ensure the victim and her parents and relatives are present before the court on Friday.

Justice Nisar took suo motu notice of the case on Wednesday, after the ADSJ and the victim’s parents reached a settlement in the case.

Human rights activists file petition in SC against ADSJ for employing juvenile, abetting abuse
A petition was also filed with the SC on Thursday that highlighted the “over-efficiency” of the district judicial officers in Islamabad in the case and the matter “in which entire criminal proceedings were hushed up.”

ADVERTISEMENT

The petition was filed by human rights activists Noor Ejaz Chaudhry, Syeda Namra Gillani, Zohra Yusuf, Tahira Abdullah, Zoya Rehman and Bushra Gohar through their counsel Asma Jahangir asking for Tayyaba, the child maid, to be produced before the SC.

The petition requested action against the ADSJ if the case against him was proven for employing a juvenile and then abetting her torture and abuse.

It reads: “The case of child Tayyaba is only one of the few cases that have surfaced in the past of domestic child abuse and that the issue is one of the public importance as internal trafficking of children, who belong to the poorest section of society, has exposed such children to extreme maltreatment abuse and torture.”

The petition stated that information related to Tayyaba’s abuse appeared on the social media on Dec 28 but an FIR was not registered the same day because of the police’s lethargic attitude.

The police lodged the FIR on Dec 29 on the persistence of the Ministry of Human Rights and raided the ADSJ’s house where they recovered Tayyaba and produced her before an assistant commissioner, before whom Tayyaba stated that she was tortured by the ADSJ and his wife.

On Jan 3, ADSJ Raja Asif Mehmood granted Ms Zafar pre-arrest bail, and ADSJ Atta Rabbani ordered for Tayyaba to be recovered from so-called illegal detention at the Benazir Bhutto Women Crisis Centre.

The centre received the order at 3:30pm, and argued that the child was not being illegally detained.

However, ADSJ Rabbani threatened the crisis centre’s law officer, saying an FIR would be lodged against the centre’s employees if the child is not produced before him.

After she was produced before the court, the petition claimed that Tayyaba was handed over to her parents within a “few minutes” and they were sent “through the backdoor.”

The petition said this was done after a settlement document between Tayyaba’s parents and the ADSJ and his wife was produced.

It said the victim was taken to the Pakistan Institute of Medical Sciences, where the administration did not bother to examine her.

The petition alleged that ADSJ Rabbani recovered and handed Tayyaba over to her parents without a proper investigation, which was “illegal and smacked of mala fide intentions.”

It added: “It is very clear that influence had been used in this case to cover up a crime or to brush aside an incident that may or may not have occurred.”

Dabang Message of Naeem Bukhari For Ch Nisar

Islamabad—Naeem Bukhari, popular TV celeb-rity and anchorperson on Saturday announced to join Pakistan Tehrik-e-Insaf (PTI). He made this announcement after meeting with PTI chairman here at his Banni Gala residence. Later, talking to media persons, Naeem Bukhari said he had been a fan of Imran Khan for quite a long time.
“I would request all those who are my fan or like my programmes to join Imran Khan and be a part of his drive against corruption and injustice,” said Naeem Bukhari. Later, Imran Khan in a statement welcomed Naeem Bukhari in the party ranks. Naeem Bukhari is a friend and in the past he also contrib-uted and played a positive role in the campaign for Shaukat Khanam Memorial Cancer Hospital, says PTI chairman’s statement.
PTI chairman also lashed the Nawaz government and termed corruption the most serious issue in the country. “If Sharif family is not indulged in corruption of any kind, why is it shying away from accountability,” said Imran Khan. The government has time to reconsider its policy and come clear on Panama Leaks or it would be responsible for the consequences, the statement further said.
Speaking on the occasion, Imran Khan thanked Naeem Bukhari for joining PTI and expressed the hope that he would be helpful in party’s struggle against corruption. He said Naeem Bukhari was his old friend who helped him in fundraising.
Bukhari is a younger brother of former Pakistan fast bowler Altaf Bukhari. His open letter to former military ruler General Pervez Musharraf against Chief Justice Iftikhar Mohammed Chaudhry led to the dismissal of the Supreme Court judge in 2007.

Share this: