گدھے اور کتے کی کھالوں سے بھرے 200بورے برآمد ،ان کا گوشت کہاں فروخت کیا جاتا تھا؟تہلکہ خیز انکشافات

گدھے اور کتے کی کھالوں سے بھرے 200بورے برآمد ،ان کا گوشت کہاں فروخت کیا جاتا تھا؟تہلکہ خیز انکشافات
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 19:08
کراچی پولیس نے کورنگی کے ایک گودام پر چھاپے کے دوران گدھے اور کتے کی 800 کھالیں برآمد کرکے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا، ملزمان کا گروہ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گدھے اور کتے کا گوشت ہوٹلوں میں سپلائی کرتا ہے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی کے مطابق شہر قائد کے علاقے کورنگی سیکٹر سیون اے میں واقع ایک گودام پر چھاپے کے دوران پولیس نے گدھے اور کتے کی کھالوں سے بھرے 200 بورے برآمد کرکے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔جن میں ایک افغان باشندہ عبدالرحیم بھی شامل ہے۔پولیس کے مطابق افغان شہری نے پاکستانی شہری

مدد سے یہ گودام لے رکھا تھا، ان کا گروہ بین الصوبائی ہے جو کے پی کے اور پنجاب کے مختلف شہروں سے کھالیں حاصل کرکے کراچی لاتا ہے اور یہاں سے کھالیں چین برآمد کردی جاتی ہیں۔افغان باشندے عبدالرحیم نے پولیس کو بتایا کہ یہ کھالیں کے پی کے اور پنجا ب کے مختلف شہروں سے لائی گئی ہیں یہ جانور وہاں ذبح کرکے ان کا گوشت ان ہی شہروں میں فروخت کردیا گیا تھابعدازاں کھالیں چین بھیجنے کے لیے کراچی لائی گئی ہیں۔متعلقہ ایس ایچ او نے بتایا کہ یہ ملک گیر گینگ ہے جو پاکستان کے مختلف شہروں سے کھالیں اکٹھی کرکے یہاں لاتا ہے تاہم یہ گینگ مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ کراچی کے پوش علاقوں میں واقع ہوٹلوں پر بھی گوشت سپلائی کرتا ہے ان 200 بوروں میں کم از کم 800 کھالیں موجود ہیں۔بعدازاں کھالیں چین بھیجنے کے لیے کراچی لائی گئی ہیں۔متعلقہ ایس ایچ او نے بتایا کہ یہ ملک گیر گینگ ہے جو پاکستان کے مختلف شہروں سے کھالیں اکٹھی کرکے یہاں لاتا ہے تاہم یہ گینگ مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ کراچی کے پوش علاقوں میں واقع ہوٹلوں پر بھی گوشت سپلائی کرتا ہے ان 200 بوروں میں کم از کم 800 کھالیں موجود ہیں۔

ایک صدرِ مملکت کی دعوت۔۔۔ کر نل قذافی کا ایک ز اویہ جسے دنیا نے نہیں دیکھا

ایک صدرِ مملکت کی دعوت۔۔۔ کر نل قذافی کا ایک ز اویہ جسے دنیا نے نہیں دیکھا
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 12:37
ڈاکٹر سید مشتاق اسماعیل نے جامعہ کراچی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد فرانس کی جامعہ پیرس سے پوسٹ گریجویٹ اوربرطانیہ کی مشہور جامعہ برسٹل سے پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی سربراہی میں خاصاتحقیقی کام کیا‘ جرمنی کے سائن داں پروفیسر جارج ہان کے ساتھ کالا باغ کے خام لوہے سے فولاد بنانے کے منصوبے پر کام کیا۔ وہ جرمنی کی مشہور درس گاہ ڈارم شٹاٹ ہوخ شولے میں دو برس مہمان لیکچرر رہے‘پھر1979ء میں لیبیا کی جامعہ الفاتح سبہا میں کیمیا کے پروفیسر بھی رہے‘زیر نظر واقعہ اسی دوران لیبیا میں ہی

آیا۔ڈاکٹر سید مشتاق اسماعیل1957 ء سے 2002 ء تک کے طویل عرصے تک سائنسی درس و تدریس کے شعبے میں اعلیٰ خدمات سر انجام دینے اور ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد آج کل اپنا وقت کراچی‘ فورٹ سمتھ‘ ارکانساس‘ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں گزارتے ہیں۔میر ا تقرر لیبیا کی جامعہ الفاتح کے کیمسٹری کے شعبے میں بحیثیت پروفیسر کے ہوا۔ پتا چلا کہ لیبیا میں تین صوبے ہیں۔ دو صوبے بحرِ روم میں سمندر کے کنارے واقع ہیں۔ ایک صوبہ سری نائکاہے جس کا دارلخلافہ بن غازی ہے، دوسرا خلیجِ سرت کے دوسری طرف طرابلس ہے جہاں لیبیا کا دارلخلافہ واقع ہے۔تیسرا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ فیضان جس کا دارلخلافہ سبہا ہے۔ جامعہ الفاتح طرابلس میں واقع ہے مگر اس کا ایک کیمپسسبہا میں بھی ہے‘ میرا تقرر وہیں ہوا تھا۔ سبہا صحرائے اعظم صحارہ کے بیچ میں واقع ہے۔ سبہا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں کے لوگ ہر کام اور ہر چیز کے لئے طرابلس جاتے تھے۔ حکومت لیبیا نے فیصلہ کیا کہ سبہا کو ترقی دی جائے چنانچہ وہاں پہلے تو ایک ہوائی اڈا بنایا گیا‘ اُس کے بعدوہاں جامعہ الفاتح کا ایک کیمپس کھولا گیا، نیشنل کمرشل بینک کی ایک شاخ کھولی گئی اورلیبین ائیر لائن کی بھی ایک شاخ کھل گئی۔یوں سبہا قصبے سے اچھا خاصا شہر بننے لگا۔ سبہا بہر حال دنیا کے سب سے بڑے ریگستان صحارہ کے بیچ میں واقع تھا‘ وہاں سے طرابلس اور بن غازی دونوں بڑے ساحلی شہر پندرہ پندرہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔صحارہ کا رقبہ نوے لاکھ چونسٹھ ہزار تین سو مربع کلو میٹر ہے۔ بحیرۂ احمراُسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ دوسرا بڑا حصہ صحرا ئے عرب ہے جس کا اپنا رقبہ پچیس لاکھ نواسی ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو سب سے پہلے ہوائی اڈے سے جامعہ الفاتح میں ایک برطانوی پاکستانی کے گھر رات گزاری۔ صبح کو ڈین فکلٹی کلیہ التربیہ (DEAN FACULTY OF EDUCATION) کے دفتر میں اطلاع کرنے گیا کہ میں آ گیا ہوں۔ ڈاکٹر محمد اور اُ ن کے نائب ڈاکٹر عبدالقادر انتہا ئی شفقت سے ملے‘ سب سے پہلے تو انہوں نے مجھے 100 دینار مرحمت کیے اس مقصد کے تحت کہ جب تک تنخواہ مقرر نہیں ہوجاتی اور بینک میں میرا کھاتا نہیں کھل جاتا‘ میں انہیں استعمال کروں۔ اس کے بعد اُن کا چپڑاسی چائے بنا کر لے آیا۔ اس نے چائے کی ایک پیالی میرے سامنے رکھی اور دوسری میرے میزبان ڈاکٹر محمد کے سامنے‘تیسری پیالی وہ اپنے سامنے رکھ کر اور کرسی کھینچ کر ہمارے ساتھ شامل ہو گیا ۔اس نے گفتگو میں حصہ نہیں لیا مگر چائے ساتھ پی اور پھر پیالیاں اٹھا کر لے گیا۔ پتا چلا کہ یہاں ڈین‘ پروفیسر اور چپڑاسی ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ ہمارے ہاں افسر چپراسی کے ساتھ نماز تو ضرور پڑھتے ہیں مگر اُس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں۔ لیبیا میں یہ اسلامی طریقہ ہے جس سے میں بہت متاثر ہوا۔یکم ستمبر کو جامعہ کھل گئی اور طلبا ء آنا شروع ہو گئے۔ وہاں دو بڑے شعبے تھے ایک کلیتہ العلوم یعنی سائنس کا شعبہ تھا جس میں کیمسٹری‘ فزکس‘ ریاضی اور نیچرل سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ دوسرا شعبہ فنون کا تھا جس میں عربی سوشل سائنس وغیرہ کے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔جامعہ کے مہمان خانے میں مجھے ٹھہرنے کی جگہ دی گئی کہ جب تک مکان تفویض نہ ہو‘ اس میں آرام سے رہوں۔ اس فلیٹ میں بیٹھک‘ آرام گاہ‘ دو سونے کے کمرے‘ باورچی خانہ اور دو غسل خانے تھے۔ ہم دو بچوں کیساتھ گئے تھے۔ ایک سونے کا کمرہ بچوں کو مل گیا اور دوسرا ہم میاں بیوی کو۔ باورچی خانے میں ایک فریج اور برتن کی الماری تھی جس میں برتن‘ چھر ی کانٹے اور چمچ تھے‘ ایک گیس کا اوون اور چولہا بھی تھا۔ غسل خانے میں گرم اور ٹھنڈا پانی ہر وقت موجود رہتا تھا۔ پورا فلیٹ ائیر کنڈیشنڈ تھا۔ سبہا میں سب سے زیادہ جس چیز کا احساس ہوا‘ وہ یہ تھا کہ یہاں ایک عجیب قسم کا سناٹا تھا۔ مانا کہ چھوٹی سی جگہ تھی اور گاڑیوں کی آمدورفت شاذونادر ہی ہوتی مگر جو سکوت اور سناٹا تھا وہ میرے لئے عجیب تھا میں نے اِس کا ذکر اپنے دوست پروفیسر ولیم سے کیا‘ وہ برمنگھم انگلستان کے باشندے اورنیچرل ہسٹری کے پروفیسر تھے اور افریقا میں رہنے کا خاصا تجربہ رکھتے تھے۔ عربی اچھی بولتے تھے بلکہ میرے مترجم تھے۔انھوں نے سنتے ہی کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں چڑیاں بالکل نہیں ہیں‘ تم ان کی آواز سے محروم ہو۔ پتا چلا کہ صحرا میں نہ پانی نہ درخت‘ چڑیا کا کیا کام! یہ سناٹا اسی وجہ سے تھا۔ دوسری چیز جو جاتے ہی محسوس ہوئی‘ وہ یہ تھی کہ یہ ایک جرائم سے مکمل طور پر محفوظ جگہ تھی۔ کسی قسم کا جرم کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ بینک میں ایک شخص آتا ہے کیشئر سے کہتا ہے ’’کل ایک چیک بھجوایاتھا۔آپ نے دس دینار کم دیے ‘‘۔ کیشئر نے بغیر کسی سوال کے اس کو دس دینا دے دیے۔ میں حیران ہوا کہ یہ بینک کیسے چل رہا ہے۔ وہاں کھڑے لوگ میری حیرانی پر حیران ہوئے اور کہا کہ وہ اگر کہہ رہا ہے تو سچ کہہ رہا ہے‘ یہاں جھوٹ نام کی کوئی چیز جانتا ہی نہیں۔ایک دن بارش ہونے لگی۔ صحرا کی بارش ہی کیا! بس چند بوندیں گری تھیں ایک دس بارہ سال کی لڑکی اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ پکڑے جا رہی تھی۔ بچہ بارش دیکھ کر گبھرا گیا اور رونے لگا کہ آسمان سے یہ کیا آفت آ رہی ہے۔ بچی اس کو سمجھانے لگی ’’میرے بچپن میں بھی ایک دفعہ ایسا ہوا تھاگھبرا ؤ نہیں۔ جلد ہی بارش رک جائے گی۔‘‘ گرمی میں سبہا کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ کر پچاس درجے تک پہنچ جاتا تھا۔ اس کے بعد ایک تیز آندھی چلتی تھی جس کو وہاں گِبلی کہتے ہیں۔ وہ اتنی تیز ہوئی کہ اگر آپ سڑک پر ہیں تو اپنا پاؤں گرد کی وجہ سے نظر نہیں آئے گااور اگر آپ نے گھر کے دروازے کھڑکیاں ٹھیک سے بند نہیں کی ہیں توسارا گھر ایک دبیز تہ سے اَٹا ملے گا۔ ایک دن ہم لوگ گِبلی میں گھر سے باہر پھنس گئے‘ دیکھا کہ ایک بدو موٹا اوورکوٹ پہنے جا رہا ہے۔ میرے ساتھ پروفیسر ولیم تھے۔ میں نے اُن سے کہا ’’یہ بدو پاگل ہے کیا کہ اتنی گرمی میں اوور کوٹ پہنے پھر رہا ہے۔‘‘ اس نے کہا’’نہیں! ہم پاگل ہیں کہ ٹی شرٹ پہنے پھر رہے ہیں‘وہ اوورکوٹ اس لئے پہنے ہوئے ہے کہ گرمی سے پسینا آئے گا۔ ہوا میں نمی صفر ہے‘ اس لئے خشک ہوا پسینے کو سکھائے گی اور بدن ٹھنڈا ہو جائے گا‘‘۔ یہ دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ مصری فرعونوں کی ممیاں بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ ہوا میں نمی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی چیز گلتی سڑتی نہیں ہے بلکہ سوکھ جاتی ہے۔ ہم لوگ کپڑے دھو کر برآمدے میں لگی رسی پر پسارتے۔ ایک طرف سے شروع کر کے دوسرے طرف کے کپڑے ختم ہونے تک شروع کے کپڑے خشک ہوتے جاتے تھے‘ لہٰذا ساتھ ہی ساتھ آپ انہیں اتارتے جایئے۔ کپڑے چند منٹوں میں خشک ہو جاتے تھے۔میں اپنے محکمے میں سب سے سینئرتھا‘ اس لئے خود بخود محکمے کا سربراہ بنا دیا گیا اور جامعہ کی کمیٹی کاکا رکن بن گیا۔ یہاں کمیٹی ہر محکمے کو چلاتی ہے۔ ایک دن کتب خانہ کمیٹی کا اجلاس ہوا اس میں ڈین نے کہا ’’ہم ایک اچھا کتب خانہ بنانا چاہتے ہیں، آپ لوگوں کو فہرستیں مل گئی ہوں گی‘ اُن میں اپنی پسند کی کتابوں پر نشان لگا دیں‘ ہم آرڈر دے دیں گے۔‘‘ سارے محکموں اور ہر استاد سے فہرستوں پر نشان لگ لگ کر آگئے ڈین نے مجھے سے پوچھا ’’ہر کتاب کی کتنی جلدیں منگواؤں‘‘میں نے کہا ’’جوکتابیں لڑکے پڑھتے ہیں ان کی دس دس جلدیں منگوا لیں اور جو کتابیں اساتذہ تدریسی مدد کے لئے پڑھیں ان کی تین تین جلدیں منگوا لیں۔‘‘ انہوں نے میرے سامنے فہرستوں کے اوپر x7 لکھا یعنی ساری کتابوں کی سات سات جلدیں۔ دو تین مہینے بعد کتب خانے کا ناظم بھاگا ہوا آیا اور کہا ’’باقی تو سب خیر ہے مگر 44 جلدوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے جو سات سیٹ آگئے ہیں‘ وہ کہا ں رکھوں؟‘‘ میں نے کہا ’’ڈین سے پوچھو۔‘‘ اس نے کہا ’’میں نے ان کو بتایا تو بولے ایک سیٹ میرے کمرے میں رکھ دو‘ اچھا لگے گا۔‘‘ میں نے کہا ’’ دوسرا سیٹ میرے کمرے میں رکھ دو۔‘‘ ہمارے محکمے میں چار اساتذہ اور آٹھ طلبا ء تھے گویا ہر دو طالب علم پر ایک استاد۔ میری ہفتے میں کل تین چار کلا سیں ہوتی تھیں‘ وقت کاٹنا مشکل تھا۔ ایک دن میں اپنے برآمدے میں بیٹھا تھا۔ دیکھا کہ سارے مصری اساتذہ جو شعبہ فنون کے مختلف مضامین پڑھاتے تھے‘ سوٹ پہنے اور بن سنور کر کہیں جا رہے ہیں‘عربی کے استاد فیاض صاحب سے میں عربی پڑھتا تھا۔ میں نے پوچھا ’’پروفیسر فیاض! کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا ’’آیئے! آپ بھی چلئے۔‘‘ میں نے اپنا کوٹ پہنا اور ساتھ ہو لیا‘وہ جہاں ہم پہنچے‘ ایک سادہ سا مکان تھا‘ اس کی گھنٹی بجائی‘ دروازہ کھلا تو دیکھا کہ کرنل قذافی کھڑے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ ان لوگوں نے پہلے سے ملاقات کا وقت اور مقام طے کیا ہوگا‘ مجھے خواہ مخواہ لے آئے ہیں۔ میں نے چپکے سے کھسکنا چاہا ‘کرنل قذافی نے مجھے دیکھ لیا اور بولے ’’آپ میرے مہمان ہیں‘ کہا ں چلے؟ اندر آؤ۔‘‘ میں سب کے ساتھ اندر چلا گیا۔ اندر سے مکان ویسا ہی تھا جیسے لیبیا میں عام مکانات ہوتے ہیں یعنی چاروں طرف صرف قالین ہی قالین اور کوئی سازو سامان نہیں البتہ بیٹھک میں قالین پر تکیے لگے ہوئے تھے۔ لوگ چار چار‘ چھ چھ کی ٹولیوں میں بٹ گئے اور باتیں شروع ہو گئیں۔ عرب آپس میں باتیں کر تے ہیں۔ تھوڑی دیر میں قذافی صاحب اٹھ کر گئے اور دستی تولئے کا ایک بنڈل لے آئے اور سب کو ایک ایک پھینک دیا‘ سب ان کو لپیٹ لپیٹ کر چوہے بنانے لگے۔ اتنے میں قذافی صاحب ایک آفتابہ اور ایک سلفچی لے کر آئے اور باری باری سب کا ہاتھ دھلانے لگے۔ مجھے چونکہ عربی کم آتی تھی‘ اس لئے میں جملہ سوچ سوچ کر بنانے لگا کہ میرے پاس آئیں گے تو کیا یہ کہوں گا۔ خیر‘ جب وہ میرے سامنے آفتابہ لے کر آئے تومیں نے کہا ’’یا اخی (اے میرے بھائی!(وہاں کرنل قذافی کو مخاطب کرنے کا یہی طریقہ ہے )پہلے ہمارے ہاں بھی یہی رواج تھا۔غسل خانہ ساتھ ہی ہے اگر آپ اجازت دیں تو اپنے ہاتھ دھو لوں۔‘‘انھوں نے کہا‘ ’’نہیں! آپ میرے مہمان ہیں اور میرا فرض ہے کہ آپ کا ہاتھ دھلاؤں۔‘‘ میری عربی ختم ہو گئی۔ میں ان سے بحث تو کرنے سے رہا۔ انہوں نے میرا ہاتھ دھلایا اور آگے بڑھ گئے۔ میں نے اپنے دستی تولیے سے ہاتھ پونچھا۔ اس کے بعد کرنل قذافی اندر سے ایک بڑے طشت میں کھانا لے کر آئے‘ ساتھ میں چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں زیتون‘ کٹی ہوئی پیاز اور دوسرے لوازم بھی۔ سب لوگ ساتھ مل کر اسی طشت سے کھانے لگے ‘اتنے میں کرنل قذافی کے ہاتھ ایک اچھی بوٹی آئی جو انہوں نے ہاتھ بڑھا کرمیرے منہ میں ڈال دی۔ میں نے گھبرا کر پروفیسر فیاض سے پوچھا ’’ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ انہوں نے چپکے سے کہا ’’چوں کہ آپ واحدغیر عرب ہیں‘ اس لئے آپ مہمان خصوصی ہیں‘ مہمان خصوصی ہونے کے ناتے جو بھی سلوک کیا جائے برداشت کیجئے۔‘‘ خدا خدا کر کے کھانا ختم ہوا۔ کرنل قذافی نے برتن اندر پہنچائے اور ایک بار پھر آفتابہ اورسلفچی لے کر ہاتھ دھلانے لگے۔اب کی بار صابن کی ایک چھوٹی سے بٹی بھی تھی۔ ہاتھ دھلانے کے بعد وہ چائے اور قہوہ لے آئے پھر کچھ پھل بھی لے کر آگئے۔ غرض لذتِ کام و دہن کا ایک سلسلہ تھا۔ اصل میں کرنل قذافی نے ایک قانون بنایا کہ کوئی لیبیائی باشندہ کسی دوسرے باشندے کو ملازم نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کو دکان میں مدد چاہیے ہو گی تو وہ اس کا شریک ہو گا‘ ملازم نہیں۔ ان کا نعرہ تھا :’’شرکا لا جرہ‘‘۔ اس پر سب سے پہلے کرنل قذافی نے خود عمل کیا‘ ان کے گھر میں کوئی ملازم نہیں تھا‘ کوئی ڈرائیور نہیں تھا‘ وہ اپنی گاڑی خود چلاتے تھے۔ ان کی بیوی گھر کا کھانا خود پکاتی تھیں اور خود صفائی کرتی تھیں۔ خیر‘ دعوت ختم ہوئی اور دروازے پر کرنل قذافی سب کو خدا حافظ کہنے لگے۔ جب میری باری آئی توانہوں نے پوچھا ’’ آپ کو کوئی شکایت ہو تو ابھی بتایئے تا کہ فوراََ رفع کر دوں۔‘‘یہ سننا تھا کہ سارے اساتذہ اشارہ کرنے لگے کہ کچھ شکایت نہ کرنا۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں تو ضرور شکایت کروں گا چنانچہ میں نے کہا ’’ہاں! جب ہم طرابلس کے ہوائی اڈے پر اترے تو کسٹم والوں نے ہمارا سامان کھلوایا اور جس جس کے سامان میں قرآن شریف تھا وہ نہ صرف ضبط کر لیا بلکہ نعوذباللہ اٹھا اٹھا کر ایک کونے میں پھینک دیا۔مسافروں میں ایک واویلا مچا ہو اتھا کہ کس کافر ملک میں آ گئے کہ قرآنِ شریف کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ یہ کیا قصہ تھا؟ ’’کرنل قذافی نے کہا ’’ہاں! اصل میں آپ کے وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی کا بیان اخباروں میں چھپا تھا کہ پاکستان میں اغلاط سے پاک قرآ ن کی طباعت کی جائے گی‘‘۔کرنل قذافی نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’ہم مسلمان ہیں۔ ہمارے نزدیک قرآن میں غلطی کا امکان نہیں ہے مگر جب آپ کے وزیر مذہبی امور نے یہ بیان دیا تو یہ امکان پیدا ہو گیا کہ پاکستان میں قرآن غلطی سے پاک نہیں ہے اس امکان کی وجہ سے میں نے خود یہ حکم دیا تھا کہ پاکستان سے جو بھی قرآن آئے اسے ضبط کر لو۔‘‘ اچھا! آپ کا قرآن کا نسخہ ضبط ہو گیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر گئے اور ایک نہایت خوب صورت مجلد قرآن کا نسخہ سرخ مرا کو چمڑے میں لے کر آئے اور مجھے پکڑاتے ہوئے بولے ’’اس میں عبداللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمہ بھی خوب ہے۔‘‘ وہ قرآن میرے پاس آج تک محفوظ ہے۔ عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ واقعی رواں انگریزی میں ہے۔

جوتے کے بعد اب ٹوپی،مردان جلسے میں شہباز شریف کی طرف ٹوپی اچھال دی گئی، ٹوپی اچھالنے والا شخص کون ہے ؟

جوتے کے بعد اب ٹوپی،مردان جلسے میں شہباز شریف کی طرف ٹوپی اچھال دی گئی، ٹوپی اچھالنے والا شخص کون ہے ؟
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 18:46
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب ٹوپی اچھا ل دی گئی، تفصیلات کے مطابق مردان میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے کے اختتام پر جب میاں شہباز شریف جلسے کے شرکاء کی طرف ہاتھ ہلا رہے تھے تو اس موقع پر ایک شخص نے ان کی جانب ٹوپی اچھال دی، یہ ٹوپی شہباز شریف کے ہاتھ پر لگنے کے بعد نیچے گر گئی، ٹوپی پھینکنے والا ہارون نامی ٹیکسلا کا رہائشی ہے۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر لاہور میں جوتی پھینکی گئی تھی لیکن اب مردان میں شہباز شریف پر ٹوپی اچھالی گئی ہے،

اچھالنے والے کا مقصد کیا تھا اس بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

پاپا آپکو ایک گھنٹے کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟

پاپا آپکو ایک گھنٹے کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 17:12
ایک لڑکے کو غصہ بہت زیادہ آتا تھا۔ بات بات پر طیش میں آجاتا تھا۔ اس کے باپ ایک بچہ اپنے باپ کے پاس گیا اور بولا کہ پاپا آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ باپ نے بولا یوکے بیٹا پلیز پوچھو۔ لڑگا بولا پاپا آپ جو جاب کرتے ہیں اس میں آپ کو ایک گھنٹے کے کتنے روپے ملتے ہیں؟۔۔۔باپ حیران رہ گیا اور اسے غصہ آیا کہ یہ کیسا اوٹ پٹانگ سوال ہے۔ خیر اس نے بتایا کہ بیٹے مجھے ایک گھنٹے کے پانچ سو روپے ملتے ہیں۔ آپ کس لیے پوچھ رہے ہو۔ لڑکا ایک منٹ کے لیے

کوئی حساب کتاب انگلیوں پر کرنے لگ گیا اور پھر بولا کہ پاپا پلیز مجھے تین سو روپے مل سکتے ہیں؟۔باپ طیش میں آگیا اور بولا کہ میں سمجھا کہ آپ کو کوئی احساس ہوا ہو گا کہ میں کتنی محنت سے دن رات کام کر کے آپ کے لیے پیسے کماتا ہوں لیکن آپ کو تو پھر بس کوئی معمولی فضول کھلونا لینا ہے یا اللہ جانے اب کونسی چیز خریدنی ہے۔ جاؤ اپنے کمرے میں۔ ہمیشہ فضولیات میں وقت ضائع کرتے رہتے ہو۔ بیٹا چپ کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کوئی ایک گھنٹے تک باپ ٹھنڈا ہو گیا تو اس کو خیال آیا کہ میرا بیٹا تو شاذو نادر ہی میرے سے پیسے مانگتا ہے۔ کو ئی ا ہم ضرورت ہی نہ ہو۔ اوپر سے ڈانٹ کھا کر چپ کر کے چلا گیا تھا۔میں اس کے کمرے میں گیا اور پاچھا کہ کیا ہوا ہے کیوں میرے سے ایسی بات پوچھی تھی اور کیا کرنا ہے تین سو روپے کا؟ وہ بولا پاپا مجھے ضروری چاہیے تھے۔ میں نے تین سو نکالے اور اس کو پکڑا دیے۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے تجسس ہو رہا تھا کہ اس معصوم کے ننھے دماغ میں کیا پلان ہے۔ اس نے پیسے لیے اور ہنسنے لگ گیا، تکیہ اٹھایا اور اس کے نیچے سے چڑ مڑ ہوئے وے دو سو سو کے نوٹ نکالے اور سارے پیسے ساتھ ملا کر گنے تو بولا پاپا یہ لو پانچ سو روپے اور وعدہ کرو کہ کل ایک گھنٹا میرے ساتھ گزارو گے اور کھانا بھی میرے ساتھ کھاؤ گے؟۔۔باپ دم بخود رہ گیا کہ یہ میرے بیٹے نے کیا بول دیا اور اس نے پتہ نہیں کب سے دو سو روپے بھی جوڑ کر رکھے ہوئے تھے۔ کھلونے آسائشیں کبھی کبھر بہت خوشی دیتی ہیں مگر اصل بات تو پیار اور رشتوں ناتوں کی ہے۔ محنت کش اللہ کا دوست ہوتا ہے اور اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کے لیے اس مہنگائی کے دور میں دن رات کام کرنا بھی ضروری ہے لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں سے اور تھوڑا سا وقت نکال کر ہم اپنے بچوں کی بہت بہتر تربیت کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جس کمپنی کے لیے ہم دن رات ایک کرتے ہیں، اتنے سال ادھر لگاتے ہیں۔۔۔انھی کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں، ہماری وفات کے بعد ین کو صرف چھ دن میں ہماری جگہ نیا امپلوئی مل جاتا ہے اور وہ ان کو ہمارے سے زیادہ منافع بھی حاصل کروا دیتا ہے مگر کسی کا باپ، بھائی، بیٹا یا شوہر اس فانی دنیا سے کوچ کر جائے تو اس کا جہان اجڑ جاتا ہے اور ان ینمول رشتوں میں سے کسی کی جگہ کوئی اور کبھی نہیں لے سکتا۔ اپنی پھول جیسے پیارے پیارے بچوں کو وقت دیں کسی کو نہیں پتہ کہ ان نعمتوں کی کیا قدروقیمت ہوتی ہے، جب کوئی بچھڑ جاتا ہے تب ہی وہ لمحہ لمحہ یاد آتا ہے

ٹوائلٹ میں سونے سے لے کر کمپنی کا مالک ہونے تک

ٹوائلٹ میں سونے سے لے کر کمپنی کا مالک ہونے تک
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 17:22
اسکا بچپن انتہائی تکلیف دہ گزرا۔ اس کا باپ اس پر، اس کے بہن بھائیوں اور اسکی ماں پر جمسانی تشدد کرتا۔ اس کے باپ نے ماں کو کئی بار عدالتوں کے چکر تک لگوا دیے۔ اب چونکہ انکی نگہداشت کرنے والا کوئی نہ تھا، یہ سب بہن بھائی بچوں کے نگہداشت سینٹر میں چلے گئے اور وہاں رہنے لگے۔ 8 سال کی عمر میں کرس گارڈنر کو اپنے ماں باپ کو چھوڑنا پڑا۔ کرس کی پہلی شادی بھی اسکے میڈیکل کیریئر کی وجہ سے ذیادہ عرصہ چل نہ سکی۔ وہ طبی آلات بیچنے کی نوکری سے بھی ہاتھ دھو

گھر ہوا وہ اپنے بیٹے کو لے کر کبھی ہوٹلوں، پارکوں، فٹ پاتھ اور یہاں تک کہ ٹوائلٹ روم بھی رات گزارنے پر مجبور ہوا۔ اس نے ایک بروکریج کمپنی میں تواتر سے دن رات محنت کی تاکہ کم از کم اپنے لیے رات رہنے کے لیے چھت پیدا کر سکے۔کچھ کمائی کے بعد رہنے کے لیے ایک جگہ کرایے پر لے لی۔ اسی کمپنی میں مسلسل محنت اور 1982ء میں لائسنسنگ کے امتحانات پاس کر کے وہ ڈین وٹر کمپنی کا تاحیات ملازم لگ گیا۔ چنانچہ اس نے اپنی ایک بروکریج کمپنی گارڈنر رچ کے نام سے 1987ء میں بنائی، جسا کا 75٪ حصہ اس کی ملکیت ہے۔ 2006میں اس نے کمپنی کا چھوٹا سا داؤ کئی ملین ڈالرز میں بیچ دیا۔ اب وہ کرسٹوفر گارڈنر انٹر نیشنل ہولڈنگز کا چیف ایگیزکٹو آفیس بن چکا تھا۔ جس کے دفاتر اب امریکہ کے مختلف شہروں میں کام کرنے لگے تھے۔ اس کی زندگی کو ہالی ووڈ کی ریکارڈ توڑ فلم دی پرشوٹ آف ہیپی نیس میں نمایاں کیا گیا۔ جسے دنیا بھرمیں بہت پسند کیا گیا۔ ہمت اور محنت کامیابی کی طرف ایسے اقدام ہیں جنکی وجہ سے دنیا میں اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑھا جا سکتا ہے۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

Such a Emotional Media Talk of Chief Justice at Mental Hospital

لاہور: پاکستان کے چیف جسٹس نے ہفتے کے روز شہر میں ایک نفسیاتی ہسپتال کا سروے کرنے کے بعد اس سہولت میں غلطی کی شکایتیں حاصل کیں.

اپنے سروے کے دوران، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہسپتال کے مختلف وارڈوں کی جانچ پڑتال کی، خدمات میں غفلت سے متعلق صحت کے محکموں کے جوابات کی تلاش کی.

ہسپتال کا دورہ ایک خاتون کے معاملے پر مبینہ طور پر ذہنی معذوری کے ساتھ منصوبہ بندی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جو موت کی قطار میں تھا.

اس معاملے کو سماعت کرتے ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ عورت کو ذہنی معذوری کے ساتھ کسی شخص کا لگتا تھا. لہذا، انہوں نے حکم دیا کہ وہ جیل سے نفسیاتی سہولت منتقل کردیے جائیں.

انہوں نے کہا کہ نفسیاتی ہسپتال میں ڈاکٹروں کا حکم دیا ہے کہ وہ عورت کی جانچ پڑتال کریں اور اس کی تلاش میں معذوریاں دیکھیں. انہوں نے ہسپتال کی حالت پر بھی اپ ڈیٹ کی درخواست کی، کہا کہ وہ اکثر وہاں غلطی کی شکایتوں کو حاصل کرتے ہیں.

ہفتہ کو اس سروے کے دوران چیف جسٹس نے ہسپتال کے باورچی خانے سے بھی ملاقات کی، جہاں انہوں نے حفظان صحت کی حالت پر تحفظات کا اظہار کیا. مریض کے حاضری جسٹس نثار کو بتایا کہ ہسپتال کلینر تھا کیونکہ عام طور پر اس کے دورے کے باعث تھا.

نفسیاتی ہسپتال میں موجود ایک عورت نے چیف جسٹس کو بتایا کہ سہولت میں دوائیوں کی کمی بھی تھی. اس پر، پنجاب صحت کے وزیر خواجہ سلمان رفیق سے ایک وضاحت کی گئی تھی.

چیف جسٹس ہسپتالوں کی فارمیسی بھی سروے کرتے ہیں جہاں انہوں نے انچارج سے تفصیلات طلب کی.

ایک وارڈ میں، ایک ڈاکٹر نے چیف جسٹس سے ملاقات کی کہ وہ اپنے بیٹے کے بارے میں بتائیں جو پچھلے آٹھ سالوں سے غائب ہو گیا تھا. اس نے بتایا کہ اس کا بیٹا بہت عرصے سے غائب ہو گیا تھا اور پولیس اسے تلاش کرنے کے لۓ تعاون نہیں کر رہا تھا. چیف جسٹس نے معاملے کا نوٹس لیا اور کارروائی کے لئے ہدایات جاری کی.

چیف جسٹس کو سروسز ہسپتال اور پھر سپریم کورٹ کے لاہور رجسٹری میں مقدمہ سننے کے لئے جانے کا ارادہ کیا گیا تھا.

Chief Justice Saqib Nisar’s Got Emotional While See A Picture In SC

Ishaq Dar got angry with Nawaz Sharif

ڈار صرف واپسی کرنے کے لئے اگر نیب میں اس کے خلاف مقدمات بند ہو جائیں گے
اسلام آباد (اردو پوائنٹ / پاکستان پوائنٹ نیوز – 28 ویں اپریل، 2018) مشہور نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے، مشہور صحافی حامد میر نے کہا کہ اس وقت اسحاق ڈار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک تجارتی رپورٹر تھے.

“میرے سربراہ انجم رشید نے مجھے سیاسی اور عدالت کے ساتھ ساتھ دھڑکنے کے لئے بھی استعمال کیا تھا. اس نے مجھ سے فائدہ اٹھایا کیونکہ میں نے تمام شعبوں میں تجربہ حاصل کر لیا تھا. میں ایک تجارتی رپورٹر تھا جب اسحاق ڈار کامرس آف کامرس لاہور کے صدر تھے اور میں اس کے ساتھ رابطے میں تھا. اسی وقت، معین قریشی کی حکومت قائم ہوئی اور عمران خان اسحاق ڈار کو شوکت خانم کے لئے فنڈز جمع کرنے کے لئے آئے. خان نے بینظیر بھٹو کے بارے میں کچھ اعتراضات کا اظہار کیا اور میں نے اسے شائع کیا.

اس نے پھر ڈار سے کہا کہ اس خبر کو مسترد کرو لیکن اس نے ایسا نہیں کیا. ”

انہوں نے کہا کہ دارال کے ساتھ ان کے پرانے رشتے ہیں لیکن جب پیناما اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا، تو ڈار احساس ہوا کہ وہ ان کا دفاع نہیں کرتے اور سخت سوالات مانگتے ہیں.

“جلد ہی ڈار پروگراموں میں مجھ پر حملہ کرتے تھے اور میں نے اسی طرح جواب دیا. میرا تعلق ان کے ساتھ ہوا. ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے. اس نے کہا کہ وہ بڑا دباؤ کے تحت ہے. وزیر اعلی نواز شریف کابینہ کی میٹنگ نہیں کرتے جبکہ 50 پارلیمانی کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں. مجھے ان کا سربراہ کرنا ہوگا اور مالیاتی وزارت بھی چل رہا ہوں. “میر نے مزید کہا.

انہوں نے کہا، “میں نے اسے بتایا کہ حکومت سے خود کو دور کرنے کے لئے اگر یہ مناسب طریقے سے کام نہیں کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا. انہوں نے نواز شریف کے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ بھی اختلاف کیا تھا. اس کے بعد، انہوں نے اسے ملک چھوڑنے کے لئے مناسب پایا. میر نے کہا کہ ڈار اب واپس نہیں آئیں گے. وہ سینیٹ کے رکن منتخب کر چکے ہیں. وہ صرف اس صورت میں واپس آئیں گے کہ نیشنل احتساب بیورو میں اس کے خلاف مقدمات بند ہیں. اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی مسائل بھی ہیں. ”

Ishaq Dar got angry with Nawaz Sharif

 

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ! ﮐﯿﻮﮞ؟ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﮑﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﺸﻠﺴﭧ ﺗﮭﮯ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭘﻤﭗ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻥ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺅﭦ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺧﻮﻥ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺜﻼ ﺗﯿﻦ

ﻣﻨﺰﻟﮧ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻤﭗ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﭘﻤﭗ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﻤﭗ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺜﻼ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ، ﻟﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ، ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﺳﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺧﻮﻥ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺩﯾﻦ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﺟﺪﯾﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ :43 ﻭَﺃَﻗِﻴﻤُﻮﺍ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗُﻮﺍ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﺍﺭْﻛَﻌُﻮﺍ ﻣَﻊَ ﺍﻟﺮَّﺍﻛِﻌِﻴﻦَ
:43 ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮٰﺓ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ) ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ( ﺟﮭﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮﻭ ﻭَﺍﺳْﺘَﻌِﻴﻨُﻮﺍ ﺑِﺎﻟﺼَّﺒْﺮِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ۚ ﻭَﺇِﻧَّﻬَﺎ ﻟَﻜَﺒِﻴﺮَﺓٌ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﺨَﺎﺷِﻌِﻴﻦَ :45 ﺍﻭﺭ ) ﺭﻧﺞ ﻭﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ( ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﮔﺮﺍﮞ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ) ﮔﺮﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ( ﺟﻮ ﻋﺠﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ

ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﺍﺫْﻛُﺮُﻭﺍ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺫِﻛْﺮًﺍ ﻛَﺜِﻴﺮًﺍ

:41 ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ

:42 ﻭَﺳَﺒِّﺤُﻮﻩُ ﺑُﻜْﺮَﺓً ﻭَﺃَﺻِﻴﻠًﺎ

:42 ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ
ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﻳَﻌْﻤُﺮُ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻣَﻦْ ﺁﻣَﻦَ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﻭَﺃَﻗَﺎﻡَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗَﻰ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﺨْﺶَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪَ ۖ ﻓَﻌَﺴَﻰٰ ﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﺃَﻥْ ﻳَﻜُﻮﻧُﻮﺍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﻬْﺘَﺪِﻳﻦَ

:18 ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮﺓ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ) ﺩﺍﺧﻞ ( ﮨﻮﮞ