نئی تاریخ رقم پاکستان کے وہ خاندان جس کے 14افراد نے ایک ساتھ اسلام قبول کر لیا

نئی تاریخ رقم پاکستان کے وہ خاندان جس کے 14افراد نے ایک ساتھ اسلام قبول کر لیا
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 13:10
پاکستان میں ہندو برادری کے 4 خاندانوں کے 14افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ہندو برادری کے 14 افراد نے بلوچستان کے دھوریجی علاقے میں سابق نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان صالح محمد بھوتانی کے فرزند عرفان صالح بھوتانی کی موجودگی میں قبول اسلام کیا۔ جن میں گوپال، منیش کمار، پرکاش، لیلا رام، سریش کمار، موہن داس، روپچند و دیگر شامل ہیں، تقریب میں علاقے کے معززین ، مولوی محمد عمر، عطا اللہ، وحید سکندر چھٹو،ماستر محمد اسماعیل، محمد علی چھٹو، حاجی محمد حنیف بکک، غلام علی چھٹو، منور علی، غلام رسول شیخ ودیگر نے شرکت کی۔نجی ٹی وی کے مطابق اس موقع

اسلام قبول کرنے والے غلام دستگیر ودیگر نے کہا کہ ہم بھوتانی خاندان کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ہمیں مسلمان کرکے بڑی عزت بخشی ہے، اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہیں ، اس موقع پر سردار عرفان بھوتانی کی جانب سے مسلمان ہونے والوں کو مبارکباد دی گئی ۔

کامیابی کا نسخہ

کامیابی کا نسخہ
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 11:52
شارک کو ایک بڑے کنٹینر میں بند کر دیا اور جب کچھ اور چھوٹی مچھلیوں کو اس میں چھوڑا گیا تو شارک ان کو کچھ ہی لمحوں میں کھا گئی۔ اب ایملی جو ایک میرین بائیولوجسٹ ہے نے تجربے کے لیے اس کنٹینر کو درمیان میں سے ایک شیشے کی دیوار سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا، جب چھوٹی مچھلیوں کو دوسرے حصے میں چھوڑا گیا تو شارک نے پہلے کی طرح حملے کی کوشش کی پر شیشے کی دیوار کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔پر وہ بار بار کئی گھنٹوں تک شیشے سے سر ٹکراتی رہی۔ پھر تھک

ہار کر اس نے سمجھو تا کر لیا۔اگلے دن ایملی نے پھر چھوٹی مچھلیوں کو کنٹینر کے دوسرے حصے میں چھوڑا۔ شارک نے پھر کوشش کی پراس دفعہ جلدی ہار مان لی۔ کچھ دن مزید یہی تجربہ دہرانے کے بعد ایک ایسا دن آیاکے شارک نے ایک دفعہ بھی کوشش نہ کی۔ ایملی نے اگلے دن وہ شیشے کی دیوار ہٹا دی۔ اب حیران کن بات یہ کہ چھوٹی مچھلیاں شارک کے ارد گرد تیر رہی ہیں پر شارک ان سے بالکل بے پرواہ ہے۔کیوں کی کچھ دن کی کوشش اور ناکامی نے اس کے لاشعور میں یہ بات ڈال دی کہ یہ چھوٹی مچھلیاں اس کی دسترس میں نہیں۔بالکل انسان اسی طرح کچھ ناکامیوں سے مایوس ہو کر کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے کیسے ہی مواقع کیوں میسر نہ آئیں وہ اپنی پرانی ناکامیوں کی وجہ سے دسترس میں موجود ہر موقع کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔خصوصی تحریر: لائف ٹپس

67 سالہ منفرد حکمران بادشاہ جو یورپ میں مزدوری کر تا ہے اورسکائپ کے ذریعے حکمرانی کرتاہے

67 سالہ منفرد حکمران بادشاہ جو یورپ میں مزدوری کر تا ہے اورسکائپ کے ذریعے حکمرانی کرتاہے
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 11:50
مشرقی گھانامیں ٹوگو کی سرحد کے ساتھ واقع سلطنت جس کا نام ’’گبی‘‘ ہے کا بادشاہ ’’ٹوگبی نگوریفیاسیفاس کوسی بانسا‘‘ دنیا کا حیرت انگیز ترین حکمران مانا جاتا ہے ،مشرقی گھانامیں ٹوگو کی سرحد کے قریب واقع کنگ سیفاس کی سلطنت میں تین لاکھ سے زائد باشندے مقیم ہیں جبکہ ’’ٹوگبی نگوریفیاسیفاس کوسی بانسا‘‘ خود موٹر مکینک ہیں جو تین لاکھ کی آبادی والےملک پر حکمرانی کے ساتھ ساتھ اپنا موٹر مکینک کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ، حیرت انگیز طورپر اس ملک کے بادشاہ ’’ٹوگبی نگوریفیاسیفاس کوسی بانسا‘‘ محنت مزدوری کے لئے جرمنی میں رہائش اختیار کئے

ہیں اور وہاں مکینک کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے لڈ وک شیفن کے علاقے میں ورکشاپ کھول رکھی ہے،بتایاجاتاہے کہ بادشاہ سلامت ’’ٹوگبی نگوریفیاسیفاس کوسی بانسا‘‘ سال میں سات مرتبہ سلطنت کا دورہ کرتے ہیں جبکہ باقی تمام دن وہ اپنے ملک پرسکائپ کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔’’ٹوگبی نگوریفیاسیفاس کوسی بانسا‘‘ نے خود کو اپنی قوم کے لئے وقف کردیا ہے وہ کام کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک سے اپنے ملک کے لئے چندہ اکٹھاکرکے فلاحی کام کرتے رہتے ہیں انہوں نے اپنے ملک میں بے تحاشا سکول، ہسپتالوں کا قیام اور دیگر کام یورپ سے جمع کئے گئے چندے سے کئے ہیں ،کنگ نے ایک جرمن نژاد خاتون سے شادی کررکھی ہے جو اکثر اپنے دو بچوں کے ہمراہ افریقی سلطنت کا دروہ کرتی رہتی ہیں

صرف چار تصویروں سے اپنا مزاج جانیے

صرف چار تصویروں سے اپنا مزاج جانیے
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 11:40
آپ کا مزاج کیسا ہے، آپ کس طرح سوچتے ہیں اور مختلف معاملات کو کس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے کسی ماہرِ نفسیات کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ایک بہت ہی سادہ اور آسان سی بصری آزمائش (وژوئل ٹیسٹ) کے ذریعے آپ خود بھی اپنی شخصیت کے رازوں سے واقف ہو سکتے ہیں۔ذیل میں چار تصویریں دی گئی ہیں، ہر تصویر کو باری باری غور سے دیکھیے اور اندازہ لگائیے کہ اس تصویر میں کیا دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد تصویر کے نیچے موجود وضاحت ملاحظہ کیجیے جسے پڑھ کر آپ کو خود

اور سوچ کے بارے میں معلوم ہوجائے گا۔ اس بصری آزمائش کے ذریعے آپ اپنے دوستوں کو بھی حیران کر سکتے ہیںپہلی تصویر: جوان یا بوڑھی عورت؟اگر آپ کو اس تصویر میں ایک جوان عورت نظر آرہی ہے تو آپ ہر معاملے کا روشن پہلو دیکھنے کے عادی ہیں البتہ کبھی کبھار پریشان ہو کر جھلاہٹ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں؛ لیکن مجموعی طور پر آپ ایک خوش مزاج انسان ہیں۔اس کے برعکس اگر آپ کو تصویر میں بوڑھی عورت دکھائی دی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ایک تجربہ کار انسان ہیں اور آپ اپنی زندگی میں بہت کچھ ٹھنڈا گرم دیکھ چکے ہیں۔آپ ایک تنقیدی سوچ کے حامل ہیں اور کسی بھی مسئلے یا معاملے کو تمام ممکنہ پہلوؤں سے دیکھنے اور پرکھنے کے عادی ہیں۔دوسری تصویر: کھوپڑی یا خاتون؟کیا آپ کو اس تصویر میں ایک کھوپڑی نظر آرہی ہے؟ اگر ہاں تو پھر آپ ایک حقیقت پسند اور کسی حد تک خبطی شخص ہیں؛ اور یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ زندگی کی ہر خوشی عارضی اور کچھ ہی دیر کے لیے رہنے والی ہے۔اگر آپ اس تصویر میں آئینے کے سامنے بیٹھی ہوئی خاتون کو دیکھ رہے ہیں تو پھر آپ بہت ہی سادہ دل اور ناتجربہ کار ہیں۔عام طور پر آپ ممکنہ خطرات اور مسائل کا اندازہ ہی نہیں کر پاتے اور بڑی آسانی سے ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔تیسری تصویر: خرگوش یا بطخ؟وہ تمام ناظرین جنہیں اس تصویر میں خرگوش نظر آرہا ہے، ان کا دماغ تکنیکی معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کا عادی ہے لیکن افسوس کہ وہ اپنے اور دوسروں کے جذبات سمجھنے کے معاملے میں نہایت کمزور ہیں؛ یعنی وہ انتہائی غیر جذباتی قسم کے انسان ہیں۔وہ افراد جنہیں یہ ایک بطخ کی تصویر دکھائی دے رہی ہے وہ حساس اور جذباتی قسم کے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ دوسروں کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ان کے جذبات کو سمجھیں۔اگرچہ ایسے لوگوں کی ممکنہ تعداد بہت کم ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کو اس تصویر میں خرگوش اور بطخ ایک ساتھ دکھائی دے رہے ہوں گے۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے تو مبارک ہو! آپ ایک تخلیقی سوچ کے مالک ہیں اور آپ کی تخلیقی صلاحیتیں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔چوتھی تصویر: چڑھتی بلی یا اُترتی بلی؟اگر اس تصویر میں بلی آپ کو سیڑھیاں چڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کسی بھی معاملے کو جزئیات کے ساتھ پرکھنے کے عادی نہیں، آپ انتہائی غیر منظم اور سادہ دل ہیں۔ البتہ اسی مزاج کی وجہ سے آپ زندگی سے محبت کرتے ہیں اور بلاوجہ کے اعصابی تناؤ اور الجھنوں سے محفوظ رہتے ہیں۔کیا اس تصویر میں آپ کو یہ بلی سیڑھیاں اُترتی ہوئی نظر آرہی ہے؟ اگر ہاں تو پھر آپ کسی بھی معاملے، کسی بھی سوال اور کسی بھی مسئلے کو پوری توجہ، تفصیل اور احتیاط کے ساتھ جانچنے کے عادی ہیں۔ مسائل حل کرنے کے لیے آپ کا طرزِ عمل تقدیر پر انحصار کرنے والا نہیں بلکہ تدبیر آزمانے والا ہے۔

بس لیموں اور کالی مرچ

بس لیموں اور کالی مرچ

لیموں کااستعمال سال بھرہی جاری رہتاہے لیکن موسم گرمامیں اس کااستعمال زیادہ ہوجاتاہے خاص کررمضان المبارک میں افطارکے وقت لیموں کاش بناکریادوسرے مشروبات میں مکس کرکے استعمال کیاجاتاہے لیکن اگرلیموں اورکالی مرچ کوایک ساتھ استعمال کیاجائے توا س سے متعددا مراض ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ لیموں کو ایک قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس میں موجود

ترش ذائقہ اس کو منفرد اور فائدہ مند بناتا ہے ۔اس کا استعمال نہ صرف جسم سے فالتو چربی ختم کتنے کے کام آتا ہے بلکہ یہ جلد کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے لیکن اگر لیموں کو نمککالی مرچ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کی طاقت میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے ۔کالی مرچ ، نمک حسب ذائقہ اوراس کے ساتھ لیموں کے قطرے ملاکراستعمال کیاجائے توکئی موذی امراض سے چھٹکارہ مل جائے گا۔

موٹاپا:۔ مل جائے گا۔موٹاپا:۔ دو بڑے چمچ لیموں ، ایک چوتھائی چمچ پسی ہوئی سیاہ مرچ اورایک کھانے کا چمچ شہد لیںاورتمام اجزاءکو نیم گرم پانی میں حل کریں۔اس مشروب کو پینے کی وجہ سے آپ کامیٹابولزم تیز ہوگا اور وزن کم ہونے لگے گا۔ گلے کی خراش:۔ آدھ چمچ سیاہ مرچ ، ایک کھانے کا چمچ لیموں کا رس اور ایک چائے کا چمچ سمندری نمک لیں۔ان تمام اجزاءکو ایک کپ نیم گرم پانی میں ملائیں اور دن میں تین سے چار بار اس کے غرارے کرنے سے گلا ٹھیک ہوجائے گا۔ ناک کی بندش کاخاتمہ :۔ زیرہ، سبز الائچی کے بیج، دارچینی اور سیاہ مرچ کو باریک کریں اور باریک

پاؤڈر بناکر اسے سونگھنے سے بند ناک کھل جائے گی۔ دل کی تازگی :۔ اگر آپکا دل خراب ہورہاہوتو ایک چائے کا چمچ سیاہ مرچ ، ایک کھانے کے چمچ لیموں کے رس کو ایک کپ گرم پانی میں ملائیں۔اس مشروب کو تھوڑا تھوڑا پیتے رہیں اور کچھ ہی دیرمیں آپ تازہ دم محسوس کریں گے

دوسروں کو اپنی طرف قائل کرنے کے 12حیران کن راز

دوسروں کو اپنی طرف قائل کرنے کے 12حیران کن راز
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 11:41
ذیل میں ایسی 12 خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہونے والے یا بآسانی قائل کرنے والے افراد کی زندگی کا جزو ہوتی ہیں۔1۔اپنی آڈئینس کو پہچانیںمؤثر افراد اپنی آڈئینس (مخاطب) کو داخلی اور خارجی دونوں طرح سے جانتے ہیں اور اس کی مناسبت سے وہ انہیں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص شرمیلا ہے تو اس سے نرم لہجے میں بات کرنی ہے اور اگر کسی کا لہجہ جارحانہ ہے تو اسے دوسرے انداز سے نپٹنا ہے۔ زندگی میں مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مؤثر افراد اس فرق

بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہیں –> معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی سے ایک ہی طرح کا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے کے لیے بہت زیادہ سماجی اور شخصی جانکاری درکار ہوتی ہے جو مؤثر افراد میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔2۔ تعلق قائم کرناجب کسی کو احساس ہو جائے کہ آپ کیسے انسان ہیں تو قبولیت کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے کہا گیا کہ وہ اپنی جماعت میں کسی معاملے پر اتفاق رائے پر پہنچیں۔ ہدایات کے بغیر 55 فیصد کا اتفاق رائے ہو گیا، لیکن جب اتفاق رائے پر پہنچنے سے قبل طلبہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنا تعارف کروائیں اور اپنے پسِ منظر کے بارے میں بتائیں تو اس کے بعد 90 فیصد طلبہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس سے آپ بات کر رہے ہیں وہ آ پ کا دشمن یا ہدف نہیں ہے اور بحث میں زیادہ الجھنا بھی نہیں چاہیے، بے شک آپ کے پاس مضبوط دلائل ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر آپ اس شخص کی سطح پر آ کر اور اسے سمجھ کر تعلق اور رابطہ قائم نہیں کریں گے تو وہ آپ کی نہیں مانے گا یا آپ کے کہے کو مشکوک سمجھے گا۔3۔ زیادہ دباؤ نہیں ڈالتےمؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار اعتماد کے ساتھ اور کھل کر کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ جارحانہ انداز اختیار نہیں کرتے یا بہت زیادہ دباؤ نہیں ڈالتے۔ مؤثر افراد اپنے مؤقف پر بہت زیادہ اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسروں کے قائل ہونے میں وقت بھی لگ سکتا ہے۔ وہ بے صبرے نہیں ہوتے اور مستقل مزاج رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کے خیالات افضل ہیں تو بالآخر لوگ انہیں اختیار کرلیں گے۔4۔ اعتمادی کی کمی نہ ہونااگر اپنے خیالات کو اس انداز میں پیش کیا جائے جیسے دوسرے سے قبولیت کی سند مانگی جا رہی ہے یا جیسے ان میں کوئی خامی موجود ہے تو دوسرا انہیں سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ دوسروں کو اپنے خیالات یوں بتانے چاہئیں جیسے انہیں سوچ سمجھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ جب مقصد دوسرے کو قائل کرنا ہو تو اس میں آئیں بائیں شائیں نہیں چلتی، اور یہ بھی نہیں کہ “ہو سکتا ہے میں غلط ہوں”۔5۔ باڈی لینگوئج کو مثبت رکھیںانداز بیاں، آواز اور جسمانی حرکات میں توازن دوسروں کو قائل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ گفتار میں گرم جوشی اور دوسرے پر توجہ کا اظہار مثبت باڈی لینگوئج کی علامات ہیں۔ اس سے دوسرے آپ کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بھی اتنا اہم ہے جتنا یہ کہ آپ اسے کس انداز میں کہہ رہے ہیں۔6۔ واضح اور جامع ہونامؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار بروقت، جلد اور واضح انداز سے کر سکتے ہیں۔ جب آپ کی اپنے خیالات اور گفتار پر گرفت مضبوط ہوتی ہے تو اسے دوسروں کے اذہان میں راسخ کرنا آسان ہوتا ہے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ جس موضوع پر قائل کرنا ہو اسے خود اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔7۔ جعل سازی نہیں ہوتےمؤثر ہونے کے لیے ایماندار ہونا شرط ہے۔ جعل ساز کو پسند نہیں کیا جاتا۔ متاثر ہونا تو دور کی بات جعل ساز کی باتوں پر بہت کم اعتبار کیا جاتا ہے۔ مؤثر افراد جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔ ان میں مصنوعی پن نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ہنر سے آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ اس امر کی پروا کم کرتے ہیں کہ دوسرے انہیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے بارے فیصلہ وہ خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے خود کو غیر ضروری اور غیر معمولی حد تک بدلنے کے جتن نہیں کرتے۔8۔ دوسروں کے مؤقف کو سمجھنامؤثر افراد کی ایک اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی یا اپنے دلائل میں پائی جانے والی خامیوں کو مان لیتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے مالک ہیں۔ وہ دوسروں کی مضبوط دلیل سے انکار نہیں کرتے اور اس معاملے میں ہٹ دھرم نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کو بات کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اختلاف کرنے پر ان کا رویہ توہین آمیز نہیں ہوتا۔9۔ اچھے سوالات پوچھنالوگوں کی بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی بات کو کم سنتے ہیں بلکہ اس دوران غور کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کیا جواب دینا ہے۔ تاہم دوسرے چاہتے ہیں کہ ان کی بات کو غور سے سنا جائے۔ اگر انہیں یہ احساس ہو کہ دوسرا توجہ ہی نہیں دے رہا تووہ برا ماننے کے ساتھ ساتھ دوسرے کی بات پر توجہ بھی کم کردیتے ہیں۔ یوں ان کا اثر قبول کرنے یا ان سے قائل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔10۔ تصویر کشی کرنامؤثر افراد اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے صورت حال کا نقشہ دوسرے کے ذہن میں بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی تصوراتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہیں۔11۔ پہلا بھرپور تاثر قائم کرناملاقاتوں کے دوران ابتدا میں قائم ہونے والا تاثر تا دیر برقرار رہتا ہے۔ مؤثر افراد اس حقیقت پر توجہ دیتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر دوسروں کو قائل کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ پہلی ملاقات میں چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ کا ہونا، گرم جوش مصافحہ اور گفتار میں سلیقہ جو تاثر قائم کرتا ہے وہ دیر سے جاتا ہے۔12۔ مستقل مزاجی مؤثر افراد مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں اپنے مؤقف کا دفاع کرنا ہے اور کہاں قدم پیچھے ہٹانا ہے۔لیکن وہ اپنے نصب العین سے منہ نہیں موڑتے۔ ان کی نظر راستے کی دشواریوں کے ساتھ ساتھ مسلسل اپنے حتمی مقصد پر ہوتی ہے

اگر آپ کو بھی پیروں میں سوجن کا سامنا ہے تو اسے نظر انداز نہ کر یں بلکہ۔۔۔

اگر آپ کو بھی پیروں میں سوجن کا سامنا ہے تو اسے نظر انداز نہ کر یں بلکہ۔۔۔

لندن(نیوزڈیسک)ہم روزمرہ کے کاموں میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی صحت کو وقت دینے کا خیال ہی نہیں آتااور بعض اوقات انتہائی معمولی بیماری صرف ہماری لاپرواہی کی وجہ سے موذی مرض بن جاتی ہے ان میں سے ایک ہے پاﺅں میں سوجن ہو جا نا جو کہ انتہائی تکلیف کا باعث بنتی ہے جسے بالکل بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔

اگر آپ کے خون کی گردش ٹانگوں کی جانب ٹھیک نہ رہے تو اکثر پاﺅں کی سوجن، سُن ہوجانایا درد کی شکایت ہوجاتی ہے اور اس سے دوسرے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ایسے مسئلے کے لئے شاہ بلوط کا پھل (Horse chestnut )کا استعمال کریں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس میں ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم میں سوجن کو کم کرتے ہیں۔

240افراد پر تین ماہ تک کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پھل جسم میں سوجن کم کرتا ہے۔ پاﺅں میں سوجن اس وقت پیدا ہونا شروع ہوتی ہے جب ہمارا دل صحیح طریقے سے خون کو پمپ نہیں کرتا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر پاﺅں پر سوجن آنا شروع ہوجائے تو فوراًاس مسئلے کو حل کریں کیونکہ یہ دل کی بیماری کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اکثر دل کادورہ اس وقت اچانک پڑتا ہے جب ہمارا دل صحیح طریقے سے خون کو پمپ نہیں کرتا۔

اللہ نے” عصر کی قسم “کیو ں کھائی اورکیوں فرمایا؟ انسان خسارے میں ہے

اللہ نے” عصر کی قسم “کیو ں کھائی اورکیوں فرمایا؟ انسان خسارے میں ہے
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 16:51
میں نے عرض کیا ’’خواجہ صاحب سائنس نے کمال کر دیا ہے ٗ قدرتی آفتیں اور بیماریاں انسان کے دو بڑے مسئلے ہیں ٗ سائنس ان دونوں کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے ٗ اب وہ وقت دور نہیں جب انسان آفتوں اور عذابوں کے ہاتھ سے نکل آئے گا‘‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے ٗ وہ نرم آواز میں بولے ’’مثلاً سائنس نے کیا کر دیاہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر زلزلے ٗ آتش فشاں ٗ آندھیاں ٗ طوفان اور سیلاب پانچ بڑی آفتیں ہیں ٗ سائنس نے ان آفتوں کی پیش گوئی کا سسٹم بنا

لیا ہے ٗسائنس دانوں نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ہے جو آتش فشاں کے پیندے میں چلا جاتا ہے اور وہاں آنے والی تبدیلیاں نوٹ کر لیتاہے ٗ ماہرین یہ تبدیلیاں دیکھ کر پیشن گوئی کر سکیں گے فلاں آتش فشاں فلاں دن اور فلاں وقت ابل پڑے گا ٗ اس سسٹم کے بعد آتش فشاں کے قریب آباد لوگ وہاں سے بروقت نقل مکانی کر جائیں گے ٗ یوں بے شمار لوگوں کی جانیں اور املاک بچ جائیں گی‘‘ خواجہ صاحب سکون سے سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’زلزلے کے ماہرین نے ایک ایسی سلاخ بنائی ہے جو زمین کی تہہ میں پچاس ساٹھ کلومیٹر نیچے چلی جائے گی ٗیہ زمین کے اندرموجود پلیٹوں کی حرکت نوٹ کرے گی اب جونہی کسی پلیٹ میں کسی قسم کی حرکت ہوگی ماہرین زلزلے سے کہیں پہلے زلزلے کی شدت ٗ اس کے مرکز اور اس سے متاثر ہونے والے علاقے کا تخمینہ لگا لیں گے ٗ ماہرین اس علاقے کے لوگوں کوبروقت مطلع کردیں گے لہٰذا وہ لوگ زلزلے سے پہلے گھروں اور دفتروں سے باہر آ جائیں گے ٗ یوں ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی ٗ ماہرین نے عمارتوں کے ایسے ڈھانچے بھی بنا لئے ہیں جو ساڑھے نو درجے کی شدت سے آنے والے زلزلے میں بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب زلزلے آئیں گے لیکن لوگ اطمینان سے اپنے معمول کے کام کرتے رہیں گے ‘‘ خواجہ صاحب بڑی توجہ سے میری بات سنتے رہے ٗ میں نے عرض کیا ’’بیماریاںانسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں ٗ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے ہمارے جینز میں ساڑھے چار ہزار بیماریاں ہوتی ہیں ٗ ہر بیماری کا ایک الگ جین ہوتا ہے ٗ سائنس دانوں نے اڑھائی ہزار مہلک بیماریوں کے جینز تلاش کر لئے ہیں لہٰذا اب وہ وقت دور نہیں جب سائنس دان تکلیف شروع ہونے سے پہلے کسی شخص کا معائنہ کریں گے ٗ اس میں پروان چڑھنے والے جینز دیکھیں گے ٗ ان جینز کو صحت مند جینز کے ساتھ بدل دیں گے اور مریض مرض کے حملے سےپہلے ہی صحت مند ہو جائے گا ٗ انسانی کلوننگ کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے ٗ اگلے دس بیس برس میں انسان مرنے سے پہلے دوبارہ جنملینا شروع کر دے گا‘‘ خواجہ صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا ٗ میں نے عرض کیا ’’اس طرح سائنس دانوں نے آندھیوں ٗ طوفانوں اور سیلابوں کی پیدائش کے مراکز بھی تلاش کر لئے ہیں ٗ ماہرین کا کہنا ہے اگر ان آفتوں کے مراکز تباہ کر دئیے جائیں تو یہ آفتیں پیدا نہیں ہونگیں ٗ سائنس دان ایسے آلے بنا رہے ہیںجو ان ہواؤں ٗ ان پانیوں اور ان موجوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیں گے جو اکٹھی ہوکر آندھی ٗ سیلاب اور طوفان بنتی ہیں چنانچہ اگلے بارہ برسوں میں انسان ان تینوں آفتوں پر بھی قابو پا لے گا لہٰذا خواجہ صاحب آنے والا وقت انسان کے لئے بڑا آئیڈیل ہوگا ٗ دنیا میں انسان کے لئے کوئی چیلنج نہیں ہو گا ٗ لوگ مطمئن ٗ آرام دہ اور سکھی زندگی گزاریں گے‘‘خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور مجھے میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ کر بولے ’’تم بڑے بے وقوف ہو ٗیہ قدرتی آفتیں اتنی بڑی دشمن نہیں ہیں جتنا بڑا انسان ٗانسان کا دشمن ہے۔ آج تک انسان نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان پچھلے دس ہزار سال میں قدرتی آفتیں مل کر نہیں پہنچا سکیں ٗ تم یہ دیکھ لو 8 اکتوبر کے زلزلے میں جتنے لوگ مارے گئے تھے اس سے پانچ گنا زیادہ لوگ ہماری سڑکوں پر پچھلے ساٹھ برسوں میں حادثوں میں مارے گئے ہیں ٗ ہر سال ہمسایوں کے ہاتھوں جتنے ہمسائے قتل ہوتے ہیں ٗجتنے بیٹے اپنے باپ قتل کرتے ہیں ٗ آشناؤں کےہاتھوں جتنے خاوند مارے جاتے ہیں ٗ جتنے خاوند اپنی بیویوں کو قتل کرتے ہیں ٗ ڈاکوؤں کے ہاتھوں جتنے راہگیر مارے جاتے ہیں اور جتنے دوست ہر سال دوستوں کو قتل کرتے ہیں ٗ یہ ساری ہلاکتیں قدرتی آفتوں سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں ٗ بش جیسے لوگ اپنی انا کی تسکین کے لئے جتنے لوگ مار دیتے ہیں ٗ دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنے لوگ مارے جاتے ہیں ٗ کشمیر ٗ فلسطین ٗ افغانستان ٗ سری لنکا ٗ عراق اور چیچنیا میں انسانوں کے ہاتھوں جتنےانسان مارے جاتے ہیں ٗ گورے کے ہاتھوں جتنے کالے مارے جاتے ہیں اور سرخ رو انسان جتنے پیلے انسانوں کو قتل کرتے ہیں یہ تعداد قدرتی آفتوں کا لقمہ بننے والے انسانوں سے کہیں زیادہ ہے ٗ ناگاساگی پر بم کس نے پھینکا تھا ٗ ایک انسان نے ٗ اس کا نشانہ کون بنے دوسرے انسان ٗ دوسری اور پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی تھی ٗ ایک انسان نے ٗ اس جنگ کا لقمہ کون بنے ٗ دوسرے انسان ٗ کوریا کی جنگ کس نے چھیڑی تھی ٗ ویتنام پر حملہ کس نے کیا تھا ٗروس افغانستان جنگ کس نے شروع کی تھی ٗ افغانستان اور عراق پر حملہ کس نے کیاتھا؟ انسان نے ٗ اور ان جنگوں سے کس کو نقصان پہنچا ٗ انسان کو؟ بارہ اکتوبر کا واقعہ کس کا کمال تھا؟ انسان کا اور اس کا نقصان کس کو پہنچا؟ انسان کو؟ اس دنیا میں بھائی کے ہاتھوں بھائی اور دوست کے ہاتھوں دوست مارا جاتا ہے لہٰذا انسان کا سیلابوں ٗ طوفانوں اور بیماریوں سے مقابلہ نہیں ٗ انسان کا انسان سے مقابلہ ہے اور جب تک انسان کی شرست میں تبدیلی نہیں آتی ٗیہ دنیا دارِامن نہیں بن سکتی ٗ اس زمین پر تخریب کا عمل جاری رہے گا‘‘میں خواجہ صاحب کی بات غور سے سنتا رہا ٗ انہوں نے فرمایا ’’انسان ٗ انسان سے خائف ہے ٗ وہ جب بھی ذرا سا خوشحال ہوتا ہے ٗ اسے جب بھی ذرا سا اقتدار یا اختیار ملتا ہے ٗ وہ جب بھی ذرا سی کامیابی پاتا ہے تو وہ دوسرے انسان کو تکلیف دینا شروع کر دیتا ہے ٗ وہ آم کھا کر گٹھلیاں ہمسائے کے گھر پھینک دے گا ٗ وہ دو لاکھ کا کتا خریدے گا اور یہ کتا دوسرے کے دروازے پر باندھ دے گا ٗ وہایٹم بم بنا کر چاہے گا ساری دنیا اس کے قدموں میں جھک جائے ٗ وہ بادشاہ کا مصاحب بن کر چاہے گا سب لوگ اسے سلام کریں ٗ سب لوگ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں ٗاب دوسری طرف بھی انسان ہوتا ہے ٗ اس کے اندر بھی وہی خون ٗ وہی انا اور وہی ہٹ دھرمی ہوتی ہے لہٰذا انسان انسان کے ساتھ ٹکرا جاتا ہے اورآخر میں دونوں فنا ہو جاتے ہیں ٗ انسان کی انسان کے ساتھ جنگ میں پورس بھی مارا جاتا ہے اور سکندر بھی ٗ دونوں خسارے میں رہتے ہیں ٗیہ اس زمین کا قانون ہے لہٰذا انسان جب تک مقدونیہ ٗ سمرقند اور واشنگٹن کے اقتدار تک محدود نہیں رہتا ٗ وہ جب تک دوسرے انسان پر حکمرانی کی خواہش ختم نہیں کرتا ٗ وہ جب تک دوسرے لوگوں سے چھیڑ چھاڑ بند نہیں کرتا اس وقت تک انسان کے ہاتھوں انسان مارا جاتا رہے گا ٗ اس وقت تک اس زمین پر امن نہیں ہوگا‘‘ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا ٗ انہوں نے فرمایا ’’سائنس دانوں کو قدرتی آفتوں کی بجائے انسانی شرست کا کوئی علاج دریافت کرنا چاہئے ٗانہیں کوئی ایسی دوا ایجاد کرنی چاہئے جسے کھانے کے بعد صدر بش اور صدام حسین کی انا پر سکون ہو جائے اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکرانا بند کر دیں ٗ جسے کھانے سے صدر پرویز مشرف اور نواز شریف کے اختلافات ختم ہو جائیں اور دونوں خود کو کمزور اور چند سانسوں کے مہمان انسان سمجھ لیں ٗ جسے کھانے سے طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کو تسلیم کرلیں ٗ جسے کھانے سے ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی آزادی اور زندہ رہنے کا حق مان لیں ٗجسے کھانے سے انسان انسان کو معاف کر دے اور جسے کھانے سے انسان انسان سے ٹکرانا بند کر دے‘‘ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا ٗ انہوں نے فرمایا ’’یقین کرو ایک جنگل میں دو شیر سکون اور آرام سے رہ سکتے ہیں لیکن ایک چھت کے نیچے دو انسان لڑے ٗٹکرائے اور مرے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ٗ شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا عصر کی قسم انسان خسارے میں ہے‘‘

حسن علی کے جنریٹر جشن سے پہلے واہگہ بارڈر پر پریڈ کے موقع پر کیا ہوا تھا؟بھارتیوں کو مرچیں کس بات کی لگی ہوئی ہیں؟نجم سیٹھی نے بھارتی صحافی کی طبیعت صاف کر کے رکھ دی

حسن علی کے جنریٹر جشن سے پہلے واہگہ بارڈر پر پریڈ کے موقع پر کیا ہوا تھا؟بھارتیوں کو مرچیں کس بات کی لگی ہوئی ہیں؟نجم سیٹھی نے بھارتی صحافی کی طبیعت صاف کر کے رکھ دی
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 10:31
چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے حسن علی کے واہگہ بارڈر واقعے پر بھارتی اعتراض مسترد کر دیا۔آئی سی سی میٹنگز کے موقع پر بھارتی صحافی کی جانب سے جب اس بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہاکہ کرکٹرز پہلے بھی واہگہ بارڈر پر جاتے رہے ہیں۔ فاسٹ بولرز وہی کرتے ہیں جو ان کا دل چاہے، میں اس بات کو اہمیت نہیں دیتا، ویسے بھی میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ورنہ آپ اس میں بھی سیاست شامل کرلیں

پرندوں کا بادشاہ عقاب جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو موت سے بچنے اور دوبارہ جوان ہونے کیلئے کیا کام کرتا ہے

پرندوں کا بادشاہ عقاب جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو موت سے بچنے اور دوبارہ جوان ہونے کیلئے کیا کام کرتا ہے
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 11:42
ایک عقاب کی عمر 70سال کے قریب ہوتی ہے۔اس عمر تک پہنچنے کے لیے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہو تا ہے۔جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہو جاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کر پاتا،اسی طرح اس کی مظبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہو جاتی ہے، اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہو جاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتےہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان سب مشکلات کے ہوتے ہوے اس کے سامنے

راستے ہوتے ہیں یا تو وہ موت کو تسلیم کر لے یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لیے تیار ہو جائے۔چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے ۔اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔پھر جن اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان پھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ تیس سال مزید زندہ رہ پاتا ہے۔عقاب کی زندگی اوران ساری باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بعض دفعہ ہمارے لیے اپنی زندگی کو بدلنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم اس سے بہتر زندگی گزار سکیں اگرچہ اس زندگی کو بدلنے کے لیے ہمیں سخت جد وجہد کیوں نا کرنی پڑے۔(عربی ادب سے ماخوذ)