کیا آپ جانتے ہیں کہ جوتے بنانے والی نامور کمپنی ’’باٹا‘‘ کا مالک ایک موچی تھا، وہ معمولی موچی سے کمپنی مالک کیسے بنا؟

باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپورفقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا

جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔

بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔

ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کیصورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اسکاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گاکہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔

ٹامس نے اپنی پروڈکٹکے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈپوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلدہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی

۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانیکا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

فیل ہونے پر بھی اللہ کا شکر

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ میرے بھائی جان کا ایک شاگرد جو دسویں جماعت میں فیل ہو گیا اور وہ شہر ہی چھوڑ کر چلاگیا، وہ آٹھ نوسال تک نظر نہ آیا، ایک دن وہ راستے چلتے ہوئے بھائی جان کو مل گیا، انہو نے پوچھا: تم اتناعرصہ نظر ہی نہ آئے، کہاں رہتے ہو؟وہ کہنے لگا:استاد جی! اللہ کا مجھ پر فضل ہوا کہ میں میٹرک میں فیل ہو گیا اس نے اپنے استاد کے سامنے یہ بات کہہ دی، بھائی جان بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیاکہہ رہا ہے، چنانچہ پوچھا کہ فیل ہونے کے

ہونے کے بعد پھر کیاکام کیا؟ کہنے لگا: پھر میں شرم کی وجہ سے شہر چھوڑ کر فیصل آباد چلاگیا، وہاں جا کر میں چھابی لگانا شروع کر دی، جب کام چل پڑاتو میں نے ایک دکان کے سامنے تھیلے پر بنیانیں

تھیلے پر بنیانیں بیچنا شروع کر دیں، اس کے بعد اور کام بڑھ گیا جس کی وجہ سے میں نے ایک چھوٹی سی دکان کرایہ پر لے گی، پھر اور کام بڑھا تو میں نے کپڑے کی ایک دکان بنا لی، اس کے بعد دوسری دکان بنالی، الحمدللہ، آج نو سال کے بعد میں کپڑے کی تھوک کی دو دکانوں کا مالک ہوں، شکر ہے کہ میں فیل ہو گیا، اگر پاس ہو گیا ہوتاتو آج میں کہیں کلرک ہوتا، تو جو پاس ہو جاتے ہیں وہ کلرک بن کر ناشکری کرتے ہیں کہ ملتا کچھ نہیں اور جو فیل ہو جاتے ہیں وہ فیل ہونے پر بھی اللہ کاشکر ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

کاروبار کرنے کا طریقہ

کاروبار کرنے کا طریقہ
جمعہ‬‮ 23 مارچ‬‮ 2018 | 16:01
ایک بڑی کمپنی کے گیٹ کے سامنے ایک مشہور سموسے کی دکان تھی۔لنچ ٹائم میں اکثر کمپنی کے ملازم وہاں آکر سموسے کھا یا کرتے تھے۔ایک دن کمپنی کے ایک منیجر، سموسے کھاتے کھاتے سموسے والے سے مذاق کے موڈ میں آ گیا۔منیجر صاحب نے سموسے والے سے کہا، “یار شاہد، اپنی دکان تم نے بہت اچھی طرح سے سیٹ کی ہے، لیکن کیا تمہیں نہیں لگتا کے تم اپنا وقت اور ٹیلینٹ سموسے بیچ کر برباد کر رہے ہو؟ سوچو،اگر تم میری طرح اس کمپنی میں کام کر رہے ہوتے تو آج کہاں ہوتے؟ .. ھو سکتا ہے شاید

سکتا ہے شاید آپ بھی آج منیجر ہوتے میری طرح .. اس بات پر سموسے والے شاھد نے بڑا سوچا۔”اور بولا، “سر یہ میرا کام آپ کے کام سے کہیں بہتر ہے. 10 سال پہلے جب میں ٹوکری میں سموسے فروخت کرتا تھا تبھی آپ کی جاب لگی تھی، تب میں مہینہ بھر میں ہزار روپے کماتا تھا اور آپ کی تنخواہ تھ10 ہزار.ان 10 سالوں میں ہم دونوں نے خوب محنت کی ۔آپ سپروائزر سے منیجر بن گئے۔اور میں ٹوکری سے اس مشہور دکان تک پہنچ گیا۔آج آپ مہینے کے 000 50کماتے ہیں اور میں مہینے کے 60000روپے۔لیکن اس لئے میں اپنے کام کو آپ کے کام سے بہتر نہیں کہہ رہا ہوں.بلکہ یہ تو میں بچوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں.ذرا سوچئے.. .!

کہ سر میں نے تو بہت کم روپوں سے دھندہ شروع کیا تھا۔مگر میرے بیٹے کو یہ سب نہیں جھیلنا پڑے گا۔میری دکان میرے بیٹے کو ملے گی. میں نے زندگی میں جو محنت کی ہے، اس کا فائدہ میرے بچے اٹھائیں گے.جبکہ آپ کی زندگی بھر کی محنت کا فائدہ آپ کے مالک کے بچے اٹھائیں گے ۔اب آپ اپنے بیٹے کو ڈائریکٹ اپنی پوسٹ پر تو نہیں بٹھا سکتے نا ؟اسے بھی آپ ہی طرح زیرو سے شروعات کرنی پڑے گی .. اور اپنی مدت کے اختتام میں وہیں پہنچ جائے گا جہاں ابھی آپ ہو،جبکہ میرا بیٹا بزنس کو یہاں سے اور آگے لے جائے گا..اواپنےورمیں ہم سب سے بہت آگے نکل جائے گا ..اب آپ ہی بتائیے کہ کیسے میراوقت اور ٹیلنٹ برباد ہو رہا ہے؟ “منیجر صاحب نے سموسے والے کو2د سموسےکے20دروپے دیئے اور بغیر کچھ بولے وہاں سے کھسک گیا۔.

Nawaz Sharif Bring A Molvi With Him In Court

عدالت کے کمرے میں ہوا عمر کے اسٹول بو – قدیم کتابوں، قدیم لکڑی کے پینلز، پرائمری دھول کے ساتھ بھاری ہے – اور کچھ اور: متوقع. کاغذات اور اداروں کی بے حد بے حد شفاہت کے باوجود، ہر شخص. سماعت کے وقت ججوں کے لئے انتظار کر رہی ہے. کمرے اس کے پہلے ہی مقررہ گھنٹے سے پہلے ہے.

پیزوں میں شاہد اورکزئی سے تعلق رکھتا ہے، جو درخواست دہندہ راولپنڈی کے تمام راستے آتے ہیں اس دن پشاور ہائی کورٹ میں. اس کی تیسری سفر تین ماہ سے بھی کم ہے. وہ پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں 140 سے زیادہ بچوں کی دسمبر 2014 کے بارے میں پہلی معلومات کی رپورٹ (ایف آئی آر) پر عدالت کے حکمران کی تلاش کر رہی ہے. وہ ایک پولیس آفیسر سے متعلق ایک سے زیادہ قاتلوں کے لئے ایک ایف آئی آر رجسٹر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں. اب اور پھر وہ اپنی انگلی کو اپنے کاغذات کو غیر معمولی طور پر پھیلاتے ہیں. عدالت کے دائرہ کار میں، وہ ہلکا لگ رہا ہے، اس کی آنکھیں ایک عمر کے چینی بابا کی طرح پھنس گئی ہیں.

اورکزئی نے اتوار کو دوپہر کو بتایا کہ “میں نے عدالت کے پاس [اسکول کے قتل عام کے دوران] پولیس کو لے لیا ہے، لیکن قتل کرنے کی کوشش نہیں کی،” اورکزئی نے اتوار کو دوپہر کو بتایا کہ ہم اپنے گھر کی چھت پر چالالال میں بیٹھے ہیں. راولپنڈی میں مقامی علاقے، پاکستان آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹر (GHQ) سے دور نہیں. اے پی ایس کے مقامی شاخ کو صرف سڑک پر دیکھا جا سکتا ہے.

Intense Revelation of Former Secretary Of Tehmina Durrani About Ayyaz Sadiq

تحریک انصاف کے سابق سیاسی سیکرٹری زبیر محمود کا دعوی کرتے ہوئے شہباز شریف نے اپنے سیاسی سیکرٹری طلحہ برکی کے ذریعے پیسے کی مذمت کی.

زبیر نے دعوی کیا کہ طالہ برکی نے شہباز شریف کے لئے پیسہ لایا اور پیش گوئی کی کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف ریاستی گواہی دیں گے.

“تیمینہ درانی نے مجھے بتایا کہ مجھے بتایا کہ برکی دوبئی میں دوسرے لوگوں کے ناموں میں منتقل کردہ پراجیکٹ کے لئے تھا.”

زبیر نے کہا کہ لاہور میں اتتفا ہسپتال کو چلانے کے لئے وزیر اعظم کے گرانٹ سیل سے فنڈز استعمال کیے جا رہے ہیں. انہوں نے دعوی کیا کہ ان فنڈز کو ہسپتال میں مسلم لیگ ن کے حامیوں کے علاج کے لئے استعمال کیا گیا تھا.

انہوں نے کہا کہ “یہ کس طرح ہمارے محنت سے پیسہ اور ٹیکس ان لوگوں کی طرف سے استعمال کیا جا رہا ہے،” انہوں نے کہا.

زبیر نے دعوی کیا کہ طالہ برکی نے ایک کرایہ کار کار کا کام کیا.

انہوں نے کہا کہ “گاڑیاں وزیر اعلی کے پروٹوکول کا حصہ کرایہ پر ہیں”. “تالہ برکی وزیر اعلی کے کاروباری پارٹنر ہیں.

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی منتقلی کی اشاعت طلحہ برکی اور وزیر اعظم کے بیٹوں کی طرف سے فیصلہ کیا گیا تھا.

چیف جسٹس، چیئرمین نادرا اور پی ٹی ٹی رہنماؤں کو عدالت میں منانے کے لۓ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی منظوری کے ساتھ، ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس مینیجر نے ایک مربوط انٹرنیٹ ووٹنگ نظام کی ترقی پر کام شروع کر دیا ہے جس کا مقصد فرنچائز کے حق کو اگلے عام انتخابات کے لئے وقت میں 7 ملین سے زائد پاکستانیوں میں رہنے کا حق حاصل ہے.

بدھ کو سپریم کورٹ کے نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے پیش کردہ ایک پریزنٹیشن کے مطابق، تین درجے کے الیکٹرانک میکانیزم – ونڈو پاکستانیوں کے لئے انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم نامزد کیا گیا ہے – اسے 50 ملین رو. چار مہینے کی مدت. ای سی سی اس منصوبے کے لئے ضروری فنڈز فراہم کرے گا.

تین درجے کے انٹرنیٹ ووٹنگ میکانزم میں ووٹر رجسٹریشن اور توثیق، ووٹ کاسٹنگ کے طریقہ کار، اور نتائج کی تالیف اور آڈٹ شامل ہیں.
غیر ملکی ووٹنگ کے لئے میکانزم تیار

رجسٹریشن

ایک ویب پورٹل کی تخلیق کے بعد، منصوبہ کے مطابق، بیرون ملک مقیم رہنے والے ووٹر خود کو بیرون ملک ووٹروں کے طور پر رجسٹر کریں گے. ویب پورٹل میں داخل ہونے کے بعد، صارفین سے کہا جائے گا کہ وہ بیرونی پاکستانیوں (نکپ) نمبر اور دیگر تفصیلات کے لئے اپنی قومی شناختی کارڈ درج کریں.

رجسٹریشن کے بعد، نادرا، ڈی سی سی، اور پاسپورٹ محکموں اور ہر فرد کے خاندانی درخت سے متعلق کچھ خفیہ سوالات کے ذریعے ووٹر کی تصدیق کا آغاز کیا جائے گا.

یو ٹیوب کے ہیرو شام ادریس کے حادثے کی فوٹیج دیکھئے کیسے منہ سے خون نکل رہا

His YouTube channel has over 115,000 subscribers; his fan-following on Facebook reaches three million and he has well over 150,000 followers, albeit on Twitter.

Ehtesham Idrees, popularly known as Sham Idrees, is a musician, actor and YouTube sensation who has been producing music out of Ottawa, Canada for several years now.

Some of his popular songs include ‘London2Paris’, ‘Raja Rani’, ‘Tu Bewafa’ and ‘Sohni Kuri’. His popular remix of ‘Dil Dil Pakistan’ has aired on many Pakistani TV channels.

But it was his short comic videos that have made him a household name. Dawn caught up with the Internet star in Islamabad and spoke to him about his career and his decision to produce nasheed – religious chants or hymns popular in Malaysia and Indonesia.

Q: Tell us about your journey in music? You also ventured into producing nasheed. How did that happen?

A: I was always fond of acting and singing, from a very young age. I started playing music just for fun and wasn’t serious about it until as late as 2012. That was when my work started getting appreciated and I ventured into it seriously. This was around November 2013, which is when I started my YouTube channel.

When my fan base increased, I felt it was my social responsibility to clear people’s misconceptions about Islam. I wanted to tell them that Islam is a beautiful and positive religion, and unlike what the western media portrays from time to time, Islam preaches the message of peace. This is why I started making nasheed. The response was amazing

رانا ثناء اللہ کی ججوں کو دھمکی ہم جب چاہیں……. دیکھئے

آج کے فیصلے کے بعد رانا ثناء اللہ بدقسمتی کے ججوں کو دھمکی دیتے ہیں

لاہور: پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا نام سیاسی استعمال کے لۓ استعمال کرے.

منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کی، دعوی کیا ہے کہ عمران خان سپریم کورٹ نے این این 120 کے انتخابی انتخابات میں ‘سیاسی جماعت’ کے طور پر متعارف کرایا، جس میں مسلم لیگ (نواز) ن) مشکلات کے باوجود جیت لیا.

انہوں نے کہا کہ مسٹر خان نے ووٹرز کے اس حصے پر چھٹکارا کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ وہ اپیل عدالت کے حق میں اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں اور اگر انہوں نے دوسرے طرف سے ووٹ لیا تو پیپلزپارٹی نے ان کے فرنچائز کا حق استعمال کیا. ایس سی کے خلاف

“آج تک اخبارات میں عمران خان کا ایک بیان شائع کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے حجم میں کمی اصل میں سپریم کورٹ کی کامیابی تھی.” انہوں نے مزید کہا کہ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آیا وہاں کوئی بھی کردار نہیں ہے نیشنل-120 انتخابات میں مسلم لیگ ن کے مارجن کو کم کرنے میں عدلیہ.

خادم حسین رضوی نے ایک بڑا سودا کے بعد اپنے تمام احتجاج کا خاتمہ کیا

اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے لیببی یعقوب رسول کے سربراہ خادم حسین رضوی کے خلاف دو مزید مقدمات درج کردیئے گئے مظاہرین نے دارالحکومت کے دروازے پر پھانسی دی.

رضوی پہلے سے ہی ایک بچے کی موت کے لئے بکری ہوئی ہے، جو ایمبولینس ہسپتال لے جانے کے بعد گزر گیا تھا مظاہرین نے اسے روک دیا.

پیر عجاز افضل اور اسلام آباد کے احتجاجی مظاہرے کے دوسرے رہنما اور شرکاء کو بھی ان کی پہلی معلومات کی رپورٹ (ایف آر) میں بھی نامزد کیا گیا ہے.

ایک نجی ٹی وی چینل کے اسٹافرز نے ٹی وی چینل کے عملے کے خلاف تشدد کے سلسلے میں مظاہرین کے رہنماؤں کو نامزد کیا. ایف آر کے مطابق، میڈیا ٹیم پر حملہ، تشدد، دھمکی دی اور ان کی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں. شکایت کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے بھی اپنے کیمرے کو چھین لیا.

اشتہار

دوسرا مقدمہ مجاز غلام مرتضی چانڈیو کی شکایت پر سیکشن 144 کے خلاف مظاہرہ کرنے والے دیگر الزامات کے ساتھ درج کی گئی تھی.

دونوں مقدمات I9 پولیس سٹیشن میں رجسٹرڈ تھے.

پہلے ایف آر کے مدعی کے مطابق، وہ اپنے آٹھ مہینے کا بیٹا لے رہا تھا، جو اسہال سے تعلق رکھتا تھا، اسلام آباد میں ہسپتال کے علاج کے لۓ، لیکن مظاہرین نے ان کا راستہ بند کر دیا.

انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور فیض آباد انٹرچینج میں مظاہرین نے ایمبولینس کو روکا تھا. کئی درخواستوں کے باوجود، انہوں نے کہا، مظاہرین نے بیمار بچے کو اسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی.

انہوں نے مزید کہا، “میں نے اسے کھنا کے قریب ایک اور ہسپتال لے لیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں آنے پر مردہ قرار دیا.”