عورتوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق جو مردوں سے مختلف ہیں

عورتوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق جو مردوں سے مختلف ہیں
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 17:38
یہ بات ایک حقیقت ہے کہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔ عورتوں کی جذباتی اور جسمانی دونوں فطرت مردوں سے الگ ہے۔ آج ہم آپ کو عورتوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق اور خصوصیات بتائیں گے جو انہیں مردوں سے منفرد بناتے ہیں۔عورتوں کا دل قدرتی طور پر آدمیوں کے مقابلے ذیادہ تیز دھڑکتا ہےعورتوں کی زبان پر ذائقہ محسوس کرنے والے مساموں کی تعداد بھی ذیادہ ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عورتیں میٹھے ذائقے کی بھی بہت سی قسمیں بتا سکتی ہیں۔عورتوں کی جلد بھی دس گناہ ذیادہ حساس اور

نازک ہوتی ہے۔عورتوں جسم میں توانائی جمع کرنے کا عمل مردوں کے مقابلے میں آہستہ ہوتا ہے۔ وہ دن میں صرف 50 کلو کیلوری ہی جمع کر پاتی ہیں۔عورتوں کے پٹھوں اور گوشت میں ذیادہ لچک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں کا جسم لچکدار ہوتا ہےآنکھیں جھپکنے کے معاملے میں بھی عورتیں مردوں سے مختلف ہیں اور مردوں کے مقابلے دگنی دفعہ آنکھیں جھپکتی ہیں عورتوں کی قوت مدافعت مردوں کی بانسبت ذیادہ مضبوط ہوتی ہےنیند میں عورتوں کے دماغ کی کارکردگی صرف 10 فیصد تک کم ہوتی ہے۔

اس لئے عورتوں کی نیند بہت کچی ہوتی ہےعورتیں قدرتی طور پر ذیادہ جذباتی اور حساس ہوتی ہیں۔ ایک سال میں عورتیں تقریباً 30 سے 60 مرتبہ روتی ہیں۔ جبکہ مرد صرف 6 سے 17 مرتبہ روتے ہیںیونانی کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے۔ سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کی نہیں۔ بونا وٹیوکر کا قول ہے کہ عورت اس بچھو کی مانند ہے جو ڈنگ مارنے پر تلا رہتا ہے۔ یوحنا کا قول ہے کہ عورت شر کی بیٹی ہے اور امن و سلامتی کی دشمن ہے۔ رومن کیتھولک فرقہ کی تعلیمات کی رو سے عورت کلامِ مقدس کو چھو نہیں سکتی اور عورت کو گرجا گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت رومتہ الکبریٰ میں عورتوںحالت لونڈیوں سے بدتر تھی، ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔

یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔دورِ جاہلیت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ لیکن محسنِ انسانیت، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عورت کے بارے میں ارشادات ملاحظہ فرمایئے:٭قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس پوچھوں گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے چند یتیم بچے ہیں۔جس عورت نے اپنے رب کی اطاعت کی اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر کی خوبیاں بیان کرتی ہے اور

اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک درجہ ہوگا۔٭ جو عورت ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنے یتیم بچوں کی تربیت و پرورش کی خاطر نکاح نہ کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہے۔٭ جس عورت نے نکاح کیا، فرائض ادا کیے اور گناہوں سے پرہیز کیا اس کو نفلی عبادات کا ثواب خدمتِ شوہر، پرورشِ اولاد، اور امورِ خانہ داری سے ملے گا۔ ٭جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھ کر جہاد کرنے اور رات کو عبادت کرنے والی (عورت) کے برابر ثواب ملتا ہے

تورات کی وہ 12آیات جن پر حضرت علی ؓ بہت زیادہ غورو فکرکرتے تھے یہاں تک کہ دن میں تین بار ضرور ان کو پڑھتے تھےان آیات میں کیا لکھا ہے ؟دلچسپ اسلامی معلومات

تورات کی وہ 12آیات جن پر حضرت علی ؓ بہت زیادہ غورو فکرکرتے تھے یہاں تک کہ دن میں تین بار ضرور ان کو پڑھتے تھےان آیات میں کیا لکھا ہے ؟دلچسپ اسلامی معلومات
منگل‬‮ 27 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 17:15
حضور سرور کائنات ؐ کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ایسے ہے کہ ’’میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کا دروازہ‘‘حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حکمت و دانش سے لبریز کتاب نہج البلاغہ آپ کے علم ، حکمت و دانش کا ایسا سورج ہے جو تا قیامت لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کے عظیم منبع اسلام کی جانب مبذول کراتا رہے گا ۔حضرت علیؓ نہ صرف مدینہ منورہ کے

یہودیوں میں اپنی حکمت و دانش کے باعث مشہور تھے بلکہ مشرکین مکہ بھی آپ کے علم اور عمدہ

فیصلوں کے قائل نظر آتے تھے۔ حضرت علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں کہ میں نے توریت سے بارہ کلمات اخذ کیے ہیں جن پر روزانہ تین بار غور کرتا ہوں۔ وہ کلمات درج ذیل ہیں۔ایک۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم.! تجھ کو کسی حاکم اور دشمن حتیٰ کہ جن اور شیطان سے بھی جب تک میری حکومت باقی ہے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے۔ دو۔۔اے آدم کے بیٹے.! تو کسی قوت اور طاقت اور کسی کے باعث روزی ہونے کے سبب اس سے مرعوب نہ ہو جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق باقی ہے اور

میں تیرا حافظ ہوں اور یاد رکھ میرا خزانہ لافانی اور میری طاقت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ تین۔۔اے ابن آدم.! جب تو ہر طرف سے عاجز ہو جائے اور کسی سے کچھ بھی تجھ کو نہ ملے اور کوئی تیری فریاد سننے والا نہ ہومیں اگر تو مجھے یاد کرے اور مجھ سے مانگے تو میں یقینا فریاد کو پہنچوں گا اور جو تو طلب کرے گا دوں گا کیونکہ میں سب کا حاجت روا اور دعاو ¿ں کا قبول کرنے والا ہوں۔چار۔۔ اے اولاد آدم! تحقیق کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں پس تجھے بھی چاہیے کہ میرا ہو جا اور مجھے یاد رکھ۔ پانچ۔۔ اے آدم کے بیٹے! جب تک تو پل صراط سے پار نہ ہو جائے تب تک تو میری طرف سے بے فکر مت ہو جانا۔چھ۔۔ اے آدم کے بیٹے.! میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیااور نطفہ کو رحم مادر

میں ڈال کر اس کو جما ہوا خون کر کے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا پھر رنگ و صورت اور شکل تجویز کر کے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا پھر اس کو انسانی لباس پہنا کراس میں اپنی روح پھونکی، پھر مدت معینہ کے بعد تجھ کو عالم اسباب میں موجود کر دیا، تیری اس ساخت اور ایجاد میں مجھے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی پس اب تو سمجھ لے کہ جب میری قدرت نے ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل

تک پہنچایا تو کیا وہ تجھ کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے گی؟ پھرتو کس وجہ سے مجھ کو چھوڑ کر غیر سے طلب کرتا ہے۔ سات۔۔ اے آدم کے بیٹے.! میں نے دنیا کی تمام چیزیں تیرے ہی واسطے پیدا کی ہیں اور تجھے خاص اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے مگر افسوس تو نے ان اشیاءپر جو تیرے لیے پیدا کی گئی تھیں اپنے آپ کو قربان کر دیا اور مجھ کو بھول گیا۔آٹھ۔۔ اے آدم کے بیٹے.! دنیا کے

تمام انسان اور تمام چیزیں مجھے اپنے لیے چاہتی ہیں اور میں تجھ کو صرف تیرے لیے چاہتا ہوں اور تو مجھ سے بھاگتا ہے۔ نو۔۔ اے آدم کے بیٹے.! تو اپنی اغراض فسانی کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتا ہےمگر اپنے نفس پر میرے لیے کبھی غصہ نہیں ہوتا۔ دس۔۔ اے آدم کے بیٹے.! تیرے اوپر میرے حقوق ہیں اور میرے اوپر تیری روزی ساری مگرتو میرے حقوق کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے

لیکن میں پھر بھی تیرے کردار پر خیال نہ کرتے ہوئے برابر تجھے رزق پہنچاتا رہتا ہوں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ گیارہ۔۔ اے آدم کے بیٹے!تو کل کی روزی بھی مجھ سے آج ہی طلب کرتا ہے اور میں تجھ سے اس روز کے فرائض کی بجا آوری آج نہیں چاہتا۔بارہ۔۔اے آدم کے بیٹے! اگرتو اپنی اس چیز پر جو میں نے تیرے مقسوم میں مقدر کر دی ہے راضی ہوا تو بہت ہی راحت اورآسائش میں رہے گا

اور اگر تو اس کے خلاف میری تقدیر سے جھگڑے اور اپنے مقسوم پہ راضی نہ ہوا تو یاد رکھ میں تجھ پر دنیا مسلط کر دوں گا اور وہ تجھے خراب و خستہ کرے گی اور تو کتوں کی طرح دروازوں پر مارا مارا پھرے گا مگر پھر بھی تجھ کو اسی قدر ملے گا جو میں نے تیرے لیے مقرر کر دیا ہے۔ معالی الہمم صفحہ نمبر ۲۲ از حضرت جنید بغدادی ؒ۔

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:53
بولی وڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون اور پگی چوپس پریانکا چوپڑا کے درمیاں جہاں اداکاری اور فیشن میں غیر اعلانیہ مقابلہ دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں اب یوں لگتا ہے جیسے دونوں نے شادی کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔جہاں پریانکا چوپڑا کو امریکی منگیتر نک جونس نے منگنی پر 3 کروڑ

روپے سے زائد کی انگوٹھی پیش کی تھی۔وہیں دپیکا پڈوکون کو رنویر سنگھ نے نک جونس سے بھی زیادہ قیمتی انگوٹھی دی، رپورٹس کے مطابق دپیکا کو ملنے والی انگوٹھی قیمت 5 کروڑ روپے تک تھی۔اسی طرح جہاں

دپیکا اور رنویر نے یورپی ملک اٹلی کے پرتعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے تک خرچ کیے۔اب وہیں اطلاعات ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور کے پر تعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا 4 کروڑ روپے تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دپیکا اور رنویر نے اٹلی کے سیاحتی مقام لیک کومو میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: فیس بکیہی نہیں بلکہ جہاں دپیکا اور رنویر نے بھی بیک وقت 2 شادیاں یعنی مختلف رسومات کیں، وہیں اب نک جونس اور پریانکا بھی یہی کرنے جا رہے ہیں۔دپیکا اور رنویر نے 14 نومبر کو کونکنی اور 15 نومبر کو سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی۔اور اب خبریں ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی 2 دن تک جاری رہنے والی شادی کی تقریبات میں 2 روایات کے مطابق شادی کی رسومات ادا کریں گے۔

رنویر اور دپیکا نے کونکنی اور سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی—فوٹو: دیپ ویر انسٹاگرامٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نک جونس 22 نومبر کو امریکا سے شادی کے لیے بھارت روانہ ہوئے، جہاں وہ سب سے پہلے دہلی میں قیام کریں گے۔رپورٹ کے مطابق خبریں ہیں کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی شادی کی دعوت دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور دونوں ان سے دہلی میں مل کر انہیں دعوت پیش کریں گے۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر نریندر مودی ان کی شادی میں شرکت کریں گے اور اگر انہوں نے ان کی شادی میں شرکت کی تو وہ ایک سال بعد کسی شوبز شخصیت کی شادی میں شرکت کریں گے۔

پریانکا اور نک جودھپور کے تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں شادی کریں گے—فوٹو: این ڈی ٹی ویاس سے قبل نریندر مودی انوشکا شرما اور ویرات کوہلی کی ممبئی میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا بھی 2 روایات کے مطابق شادی کریں گے۔رپورٹ کے مطابق نک جونس اور پریانکا پہلے ہندی اور بعد ازاں عیسائی رسومات کے مطابق شادی کریں گے۔ان کی شادی جودھپور کے معروف اور تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں ہونے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے جوڑے نے کوئی اعلان نہیں کیا۔

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:53
بولی وڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون اور پگی چوپس پریانکا چوپڑا کے درمیاں جہاں اداکاری اور فیشن میں غیر اعلانیہ مقابلہ دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں اب یوں لگتا ہے جیسے دونوں نے شادی کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔جہاں پریانکا چوپڑا کو امریکی منگیتر نک جونس نے منگنی پر 3 کروڑ

روپے سے زائد کی انگوٹھی پیش کی تھی۔وہیں دپیکا پڈوکون کو رنویر سنگھ نے نک جونس سے بھی زیادہ قیمتی انگوٹھی دی، رپورٹس کے مطابق دپیکا کو ملنے والی انگوٹھی قیمت 5 کروڑ روپے تک تھی۔اسی طرح جہاں

دپیکا اور رنویر نے یورپی ملک اٹلی کے پرتعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے تک خرچ کیے۔اب وہیں اطلاعات ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور کے پر تعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا 4 کروڑ روپے تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دپیکا اور رنویر نے اٹلی کے سیاحتی مقام لیک کومو میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: فیس بکیہی نہیں بلکہ جہاں دپیکا اور رنویر نے بھی بیک وقت 2 شادیاں یعنی مختلف رسومات کیں، وہیں اب نک جونس اور پریانکا بھی یہی کرنے جا رہے ہیں۔دپیکا اور رنویر نے 14 نومبر کو کونکنی اور 15 نومبر کو سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی۔اور اب خبریں ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی 2 دن تک جاری رہنے والی شادی کی تقریبات میں 2 روایات کے مطابق شادی کی رسومات ادا کریں گے۔

رنویر اور دپیکا نے کونکنی اور سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی—فوٹو: دیپ ویر انسٹاگرامٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نک جونس 22 نومبر کو امریکا سے شادی کے لیے بھارت روانہ ہوئے، جہاں وہ سب سے پہلے دہلی میں قیام کریں گے۔رپورٹ کے مطابق خبریں ہیں کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی شادی کی دعوت دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور دونوں ان سے دہلی میں مل کر انہیں دعوت پیش کریں گے۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر نریندر مودی ان کی شادی میں شرکت کریں گے اور اگر انہوں نے ان کی شادی میں شرکت کی تو وہ ایک سال بعد کسی شوبز شخصیت کی شادی میں شرکت کریں گے۔

پریانکا اور نک جودھپور کے تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں شادی کریں گے—فوٹو: این ڈی ٹی ویاس سے قبل نریندر مودی انوشکا شرما اور ویرات کوہلی کی ممبئی میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا بھی 2 روایات کے مطابق شادی کریں گے۔رپورٹ کے مطابق نک جونس اور پریانکا پہلے ہندی اور بعد ازاں عیسائی رسومات کے مطابق شادی کریں گے۔ان کی شادی جودھپور کے معروف اور تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں ہونے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے جوڑے نے کوئی اعلان نہیں کیا۔

حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا

حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:40
ایک بار غازی الدین حیدر اپنے وقت کے مشہور درباری گویے حیدری خاں سے گانا سن رہے تھے-انہوں نے حکم دیا کہ اگر حیدری خاں نے آج انہیں رُلایا نہیں تو وہ حیدری خاں کو قید خانے میں پھنکوا دیں گے-خدا کی قدرت حیدری خاں نے ایسا گایا کہ غازی الدین حیدر رو پڑے- انہوں نے خوش ہو کر کہا “ بولو حیدری اںکیا مانگتے

ہو“-حیدری خاں نے جواب دیا “ حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا“-ادشاہ نے حیرت سے پوچھا “ کیوں؟ “-حیدری خاں نے جواب دیا “ حضور آپ

بادشاہ ہیں٬ مر گئے تو کوئی دوسرا تخت پر بیٹھا دیا جائے گا لیکن اگر میں آپ کی شاہانہ طبعیت کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو مجھ جیسا حیدری خاں دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگا“-سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر بھرو سہ رکھیے۔

جب تک آپ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہو گی، آپ کامیاب اور خوش و خرم نہیں ہو سکتے۔ ایک معقول خود اعتمادی ہی کامیابی کی طرف بڑھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ احساس کمتری اور شش و پنج کا شکار دماغ مستقبل کی کیا منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟ لیکن خود اعتماد شخص اپنیصلاحیتوں سے مکمل آگاہ ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کامیابی کیسے ملے گی۔اس کی دماغی صلاحیت اور اندازِ فکر کی بلندی اسے سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔

یہ ایکچونکا دینے والی حقیقت ہے کہ کئی باصلاحیت افراد کو خوف زدہ کر کے نکما اور قابل رحم بنا دیا گیا ہے اور اس طرح ان کو احساس کمتری کے آزار میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ مگر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا حل درست علاج میں مضمر ہے۔ آپ اپنی ذہنی فکر و تردد کو بہتری کی جانب گامزن کر سکتے ہیں، اور اس یقین کے ساتھ کہ آپ ایسا کر کے رہیں گے۔

احساس کمتری کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں، اور ان میں سے چند ایک کی بنیاد بچپن ہی میں پڑ جاتی ہے۔ایک اعلیٰ عہدے دار نے مجھ سے رابطہ قائم کیا کہ وہ ایک نوجوان کو اپنی کمپنی میں ایک خاص ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے۔اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’انتہائی اہمیت کے کام اور بات کو خفیہ رکھنے کی مناسبت سے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا جس عہدے پر میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں،

وہ فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے۔ اس میں تمام اہلیت اور قابلیت موجود ہے، مگر وہ بولتا بہت زیادہ ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری بالکل نہیں ہے کہ کون سی بات کس کے سامنے کہنی چاہیے اور کس کے سامنے نہیں۔‘‘ تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ’’وہ بولتا بہت ہے۔‘‘ احساس کمتری کی یہ بھی ایک قسم ہے۔ اس طرح وہ دوسروں پر اپنی قابلیت کا رعب جمانا چاہتا ہے۔

اس کا اٹھنا بیٹھنا ان لوگوں میں تھا جو اچھی مالی حیثیت کے افراد تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور خاندانی پس منظر بھی شاندار تھا۔ مگر یہ نوجوان غربت میں پلا بڑھا اور کالج کے افراد سے بھی زیادہ ملنا جلنا نہ تھا۔ چنانچہ اسے اپنی اس کمزوری کا شدت سے احساس تھا کہ اس کی تعلیم میں بھی کچھ کمی رہ گئی ہے اور خاندانی پس منظر بھی زیادہ بہتر نہیں ہے۔اپنی خودی کو بلند کرنے کا اس کو یہی نسخہ سمجھ میں آیا کہ خوب بڑھ چڑھ کر باتیں کی جائیں۔ جب آجر کو معلوم ہو گیا کہ اس شخصیت کی خصلت کیا ہے،

تو مہربان اور شفیق دوست کی حیثیت سے اس نے نوجوان کو کاروبار میں وہ مواقع فراہم کیے جہاں اس کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں۔ اس نے بھی واضح کیا کہ اس کی ذہنی کم مائیگی اور احساسات نے اس کے اعتماد کو زک پہنچائی تھی۔ اس خود شناسی نے مل جل کر اس کو کمپنی کا ایک سرمایہ بنا دیا۔ اس کی اندرونی صلاحیتیں اور قوتیں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔بہت سے نوجوان اپنی ذاتی ہمت اور توجہ سے احساس کمتری پر قابو پا لیتے ہیں

پیپسی اور کریم کی نوک جھونک ہوئی ختم اور صارفین کو 20 لاکھ پروموز مل گئے

پیپسی اور کریم کی نوک جھونک ہوئی ختم اور صارفین کو 20 لاکھ پروموز مل گئے
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:37
سوشل میڈیا کی طلسماتی دنیا نے دورِ حاضر کے انسانوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے- آئے دن چٹپٹی خبریں فیس بک اور ٹوئیٹر پر گردش کرتی رہتی ہیں- کبھی کوئی مشہور شخصیت دوسری شادی کرلیتی ہے تو کبھی کوئی سیاستدان مضحکہ خیز بیان دے دیتا ہے یا کوئی ویڈیو وائرل ہوجاتی ہے اور دنیا اس خبر کے پیچھے لگ جاتی

ہے-سوشل میڈیا کی بات چلی ہے تو آج کل لوگوں کو ایک نئے قصے نے بہت لطف اندوز کیا ہے- مشہور آن لائن کیب بکنگ سروس کریم اور مایہ ناز کولا برانڈ پیپسی آج کل

پھپھو اور بھتیجی کی کہانی بنائے ہوئے ہے- ان پر آنے والے تبصرے اور مزیدار ٹوئیٹ نے جس انداز میں تہلکہ مچایا ہے وہ قابلِ دید ہے- لوگوں نے کریم اور پیپسی کی اس لڑائی سے بہت لطف اٹھایا ہے-

سوشل میڈیا پر آنے والے کریم اور پیپسی کے ٹوئیٹ اتنے تفریح سے بھرپور تھے کہ لوگ ان تبصرے کیے بغیر نہ رہ سکے- پیپسی نے خود کو خاندان کی پھپھو ثابت کرتے ہوئے کریم کو قانونی نوٹس کی دھمکی دی٬ اس سب کی شروعات کچھ اس طرح ہوئی: اس ٹوئیٹ کی وجہ سے بڑے ملٹی نیشنل برانڈز کے درمیان جھگڑا پڑ گیا اور لوگوں کو چہ مگوئیاں کرنے کا موقع مل گیا- پیپسی کریم کے اس جھگڑے کو مزید ہوا ملی جب پیپسی نے اس ٹوئیٹ کا جواب اپنے اس ٹوئیٹ میں دیا-پیپسی نے فوراً ہی اس ٹوئیٹ کے جواب میں کہا میرا نام کیوں لیا؟ان کے اس ٹوئیٹ کی جنگ کے آغاز میں ہی لوگوں نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کرنا شروع کردیا

٬ کچھ پیپسی کے شیدائی پیپسی کے ساتھ مل گئے- کچھ لوگ کریم کو سپورٹ کرنے لگے اور کچھ لوگوں کا ردِ عمل تھا:اس بحث کے دوران کریم نے پیپسی کو مزید غصہ دلانے کے لیے ایک اور پوسٹ شئیر کی جو کریم یو اے ای کی طرف سے آئی-کریم کی اس ٹوئیٹ نے تو لوگوں کو مزید ہنسنے کا سامان دے دیا اور لوگ اس پر پیپسی کے ساتھ برا سلوک کرنے لگے- لیکن برانڈز کی لڑائی میں کون کس سے پیچھے رہ سکتا ہے؟لوگ انتظار کرنے لگے کہ انہی ٹوئیٹس میں کچھ مزیدار موڑ آئے گا اتنے میں کریم نے پیپسی کو مزید تنگ کرتے ہوئے یہ ٹوئیٹ کیا:

اس ٹوئیٹ کے جواب میں پیپسی ایک ساس بن گئی اور اپنی کریم بہو کو ڈرانے کے لیے یہ ٹوئیٹ پوسٹ کی جس سے دونوں ہی کمپنیز کے درمیان جنگ کا ماحول بن گیااس ٹوئیٹ نے لوگوں کو بہت تفریح فراہم کی٬ جیسے کہ اجازت تو ہر کام کی لینی چاہیے اور کریم نے پیپسی کی اجازت کے بغیر اس کا نام کیسے لیا؟ ارے بھئی بنا اجازت کے جیسے پیپسی پی لیتے ہیں ویسے ہی بغیر اجازت کے نام لیا-

اس بحث کے دوران سماﺀ ٹی وی گھر کی بڑی خاتون بننے کا مظاہرہ کرتے ہوئے درمیان میں کودی ایک مزیدار بیان دیتے ہوئے ایک پول شروع کیا کہ اگر کریم مفت پیپسی دے رہا ہے تو کیا پیپسی کو بھی مفت کریم پروموز دینی چاہیے یا نہیں-اس جنگ میں لوگوں نے حصہ لینا شروع کیا اور کہنے لگے کہ اب تو جینا ہوگا مرنا ہوگا٬ دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا- پیپسی کو خود کو بہتر بنانا چاہیے نہ کہ کریم کے ساتھ لڑائی میں وقت ضائع کرے- ایک تبصرہ دیکھنے میں آیا جس میں کہا گیا کہ “ پیپسی کو چاہیے کہ اتنے پیسے میں کیس کرے

٬ اتنے پیسے اپنے برانڈ پر لگا لے تو برانڈ اچھا ہوجائے“-اسی طرح لوگوں کے تبصرے اور ٹوئیٹس آتے رہے اور دونوں برانڈز کو اندر ہی اندر اپنی حکمت عملی پتہ چلتی رہی- اس ٹوئیٹ پر کچھ لوگوں نے کریم سے کہا کہ ہمیں مفت کی پیپسی نہیں چاہیے٬ ارے یہاں تو لوگ مفت کا پانی نہیں چھوڑتے تو پیپسی کون چھوڑے گا- خیر اس لڑائی کے چلتے بہت سے دلچسپ تبصرے اور ٹوئیٹس سامنے آئے-

یہیں اس کہانی نے ایک نیا موڑ لیا اور ایک سنسنی خیز ویڈیو سامنے آئی جس میں پیپسی کے مارکیٹنگ کے ہیڈ سعد خان نے اعلان کیا کہ پیپسی کریم کے ساتھ پارٹنر شپ کرتے ہوئے 1 ملین کریم پروموز کا اعلان کر رہا ہے-اس ویڈیو لنک کے جواب میں کریم کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر عمر عابدین نے فوراً ہی پیپسی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ پیپسی کے ساتھ مل کر یہ پروموز ڈبل کرسکتے ہیں- یعنی اب پیپسی اور کریم مل کر 2 ملین پروموز کا اعلان کریں گے-

دونوں ہی برانڈز نے لوگوں کو بڑے مزے سے مصروف رکھ کر یہ کہانی میڈیا کو دی اور لوگوں نے برانڈز کی اس چھوٹی سی جنگ کو مارکیٹنگ کی حکمت عملی بنا دیا- دو بلیوں کی لڑائی میں بندر روٹی لے کر بھاگ گیا کا منظر سامنے آیا اور میڈیا کو نیا مصالحہ مل گیا-

اس پوری جنگ میں جہاں کچھ لوگوں نے ساس یعنی کریم کو سپورٹ کیا وہین بہت سے لوگوں نے بہو یعنی پیپسی کو بھی سپورٹ کیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں بڑے برانڈز کی جنگ میں جیت ہوئی ان لوگوں کی جو ان دونوں برانڈز کو سپورٹ کر رہے تھے یعنی جو محاورہ ہم سنتے آرہے ہیں CUSTOMER IS ALWAYS RIGHT وہ بالکل صحیح ثابت ہوا اور پیپسی اور کریم کی جنگ میں جیت کسٹمر کی ہوئی

خود پر بے یقینی کا خاتمہ ۔۔ صرف ” 6″ کاموں سے

خود پر بے یقینی کا خاتمہ ۔۔ صرف ” 6″ کاموں سے
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 18:53
میں آپ کو صرف ” 6 ” کام ایسے بتاوں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کواپنی صلاحیتوں کے بھربور اظہار پر بہتری آے گی ان شااللہ ۔ چلیں پھر تیار ہو جایں میری آگے ترتیب دی گئی چھ باتوں کو حرف با حرف با سمجھ پڑہنے اور پھر بہترین سے عمل کرنے کے لیے۔ بعض دفعہ ہم با صلاحیت ہو کر بھی آگے نہیں بڑھ پاتے جس کی بنیادی

وجہ ہوتی ہے ” خود پر بے یقینی” ، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد نہیں ہوتا۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور اپنے آپ کا

حوصلہ نچوڑنے والی سوچیں ہمارے ذہن میں جمنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جو فرد کامیاب ہونا چایتا ہے اس کو خود پر بے یقینی کی کیفیت پر قابو پاتے پاتے ختم کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ناکامی ہونے سے زیادہ یہ والی کیفیت ہی ہمارے خوابوں کو روند دیتی ہے جس سے پھر ہم مزید ڈپریشن میں آ کر اپنا حال اورزیادہ خراب کر لیتے ہیں ۔

تو جناب اگرآپ بھی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوئے بھی بے یقینی کی حالت میں ہیں اور کھل کر لوگوں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے ججھکتے ہیں تو میرا آج کا آرٹیکل آپ کے لیے ہی ہے ۔ میں آپ کو صرف ” 6 ” کام ایسے بتاؤں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کو اپنی صلاحیتوں کے بھربور اظہار پر بہتری آئے گی ان شااللہ ۔ چلیں پھر تیار ہو جائیں میری آگے ترتیب دی گئی چھ باتوں کو حرف با حرف با سمجھ پڑھنے اور پھر بہترین سے عمل کرنے کے لیے۔

1۔ چھوڑ دو، چھوڑ دو ” زیادہ سوچنا” چھوڑ دو ۔ سوچنا اچھا ہوتا ہے مگر اپنی منفی سوچوں کا غلام بن جانا بالکل بھی اچھا نہیں۔ کیوں قیدی بنا لیتے ہو خود کو اپنی سوچوں کا؟؟ اس صورت سے نکلنے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ خود کو باور کروائیں کہ آپ حد سے زیادہ سوچ رہے ہو۔ اپنے دماغ کو آرڈر لگائیں ذرا کہ “رک جاؤ، کیوں فضول میں اتنا سوچے جا رہے ہو۔ وقفہ کرو ذرا”۔ ۔ اپنے آپ کو شعوری حالت میں لے کر آئیں ذرا۔ اور اپنی صلاحیت پر مثبت خیال رکھ کر فوکس کریں۔

2۔ لوگوں کا کیا۔ ۔ ۔فرمانے دو ۔ اگر آپ اپنی اچھی صلاحیت والے ہر کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچیں گے کہ فلاں پتہ نہیں کیا کہے گا، فلاں میرا مذاق اڑائے گا، فلاں یہ کہے گا، وہ کہے گا تو سمجھ لیں کہ آپ خود پر قابو پانے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمیں اپنی صلاحیت کے بہتریں استعمال کو کسی دوسرے کے کہنے پر روکنا نہیں چاہیے ۔ جب ہم ہر فلاں فلاں کے کچھ سوچنے اور کہنے کو جب قابو نہیں کر سکتے تو پھر فضول میں پریشان ہونے کا کیا فائدہ ؟؟ ویسے بھی یہ صرف ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ہر کوئی ہمیں نوٹس کر رہا ہے۔ ۔حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ اور اگر کوئی کر بھی رہا ہو تو پھر ہمیں اور اچھے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ پتہ چلے سب کو کہ ہم واقعی میں ” کچھ خاص” ہیں ۔

3۔ صلاحیت ۔ ۔ کبھی دھوکہ نہیں دے گی اپنے آپ پر اگر اعتماد کھو بھی رہے ہو ، پھر بھی اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتبار رکھنا، ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا کہ کہ آپ ان کو جب بھی آزماؤ گے وہ آپ کو دھوکہ نہیں دیں گی۔ صرف اتنا کرنا کہ منفی سوچوں کو قابو کر کے رکھنا، اپنے خیالات پر کڑی نظر رکھنا۔ خود کو ایسے لوگوں کے درمیان میں رکھنا جو آپ کو حوصلہ دے سکیں ، آپ کو سراہیں اور دلجوئی کریں ۔ یاد رکھنا ہے کہ پہلے آپ کو خود سے لڑنا پڑے گا اپنے آپ کو منوانے کے لیے۔

4۔ لکھتے رہو۔ ۔ جو خوبی ہے ، جو پایا ہے ۔ یہ کام تو لازمی کرنا ہے کہ اپنے اندر خوبیاں ہیں ، جس صلاحیت پر سراہا گیا ہے ، اسی حوالے سے جب جب تعریف ہوئی ہے ، کیا کچھ حاصل ہوا ہے ۔ ۔ ۔سب لکھنا ہے پھر ایسی جگہ رکھنا ہے جہاں سے اسے آسانی سے بار بار پڑھ پاؤ، خاص کر اس وقت جب بے یقینی کا شکار ہونے لگو۔۔۔ تب ایسا سب پڑھنے سے ، وہ سب یاد کرنے سے نیا حوصلہ ملے گا، ذہن میں مثبت سوچیں آئیں گی ۔ آپ کو لگے گا کہ آپ کافی کچھ اچھا حاصل کر چکے ہو، بہت سارے لوگ آپ کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور آپ کو اسی حوالے سے پہچانتے ہیں ۔ اس طرح آپ دیکھنا کہ جلد ہی بے یقینی کی کیفیت سے باہر آنا شروع ہو جاؤ گے ۔

5۔ کچھ خاص و منفرد کرنا۔ ۔ جاری رہنا۔ بے یقینی کی کیفیت میں بھی خود کو اپنے کرنے والے کام سے روکنا نہیں۔ بے شک آہستہ ہو جانا، دل نہیں بھی کر رہا پھر بھی تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر کرنا ضرور ہے ۔ رک جاؤ گے تو بے یقینی اور زیادہ بڑھنے لگے گی۔ مزید منفی سوچیں دماغ میں جگہ بناتی جائیں گی۔ آپ نے اپنی بے یقینی والی کیفیت کو گزرنے دینا ہے مگر خود کو اسکے ساتھ بہنے نہیں دینا۔ ایسا تب ہونا جب آپ رک جاؤ گے۔ اس لیے خود کو روکنا نہیں۔ اپنی تخلیقی قوت کا استعمال کرتے جانا اور چھوٹے چھوٹے قدموں ساتھ آگے بڑھتے جانا۔

6۔ آج اور ابھی میں رہنا۔ ۔ اور سوچنا۔ آپ کو شاید احساس نہ ہوتا ہو مگر ہمیں بے یقینی زیادہ تبھی ہوتی ہے جب ہم ماضی میں رہ جاتے ہیں ۔ پہلے ہوئی کسی ناکامی سے اور لوگوں کے منفی طنز اور رویوں سے سہمے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ” پھر سے ویسا نہ ہو جائے” کی بات سے ڈرتے ہیں ۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، گزر جاتا ہے ۔ سب پہلے جیسا ہی ہو، بالکل بھی ضروی نہیں ہوتا۔ پہلے سے حاصل کیا سبق یاد کرتے، دوبارہ سے اچھی پلاننگ کرتے قدم بڑھانا ہی پڑتا ہے ۔ ایسا اسی صورت ممکن جب آپ ” آج اور ابھی” کے لمحہ میں رہ کر سوچیں اور پلان کریں۔

تو دوستو، یہ وہ سب خاص باتیں ہیں جن پر آپ عمل کر کے خود کی صلاحیتوں پر ہونے والی بے یقینی والی کیفیت پر قابو پا سکتے ہیں ۔حرف آخر یہ اہم بات بھی یاد رکھیں کہ دوسرں ساتھ مثبت موازنہ کرنا اچھا ہوتا ، آپ کو بھی ویسا ہی یا اس سے زیادہ بہترین بننے کی تحریک ملتی مگر حاسدانہ موازنہ نہ ہو۔ زیادہ اچھا تو یہی کہ صرف اپنے آپ ساتھ موازنہ کریں ۔ اپنے آج کو گزرے کل ، پچھلے مہینہ یا سال سے اچھا بنائیں ۔ اپنی دوڑ دوڑیں بس۔ اپنے رب سے دعا کیا کریں کہ وہ آپ کی کمی و کوتاہیوں کو دور کرنے میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین!

قائداعظمؒ کے سسرالیوں کی ضد

قائداعظمؒ کے سسرالیوں کی ضد
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 18:47
نظر نہ آنے والے سفید دھاگوں میں پروئی ہوئی پھولوں کی لمبی لمبی لڑیوں میں سر سے پاؤں تک چھپے ہوئے محمد علی پانیلی میں اپنے دادا کے گھر سے دلہا بن کر بارات کے ہمراہ اپنے ہونے والے سسر کے گھر کی جانب روانہ ہوئے جہاں چودہ سالہ ایمی بائی قیمتی نئی لباس اور بھاری بھرکم زیورات پہنے ہاتھوں میں مہندی رچائے دلہن بنی بیٹھی تھی ۔ اس کے لباس اور چہرے پر نہایت قیمتی عطر چھڑکا ہوا تھا ۔ گاؤں کے مولوی صاحب نے رسمِ نکاح ادا کی ۔

قرآن حکیم سے چند آیات کی

تلاوت کی گئی اور دونوں میاں بیوی ہوگئے ۔ میرے والد کو کراچی سے آئے چند ہفتے ہوچکے تھے اور ان دنوں مواصلات کے ذرائع بہت محدود تھے ۔ نتیجتاً یہ ہوا کہ وہ پانیلی بیٹھ کر اپنے کاروبار کے لیے فکر مند ہونے لگے ، بے صبری اور گھبراہٹ کا اظہار ہونے لگا اور انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ جلد کراچی واپس جانا چاہتے ہیں ۔ مگر سماجی رسوم کی اپنی ایک طاقت ہوا کرتی ہے ۔ خاص طور پر پرانے زمانے میں ایک دور افتادہ گاؤں میں یہ اور بھی سخت تھیں ، معاشرتی رسم و رواج کو توڑنا مقدس مذہبی روایات کی پامالی کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔میرے بھائی کے سسرال والے روایات کی سختی سے پیروی کرنے والے لوگ تھے ۔

انہوں نے یہ بات شائستگی مگر پوری شدت کے ساتھ اپنے سمدھی جناح بھائی پر واضح کردی تھی کہ ان کی بیٹی دلہن بننے کے بعد تین ماہ تک اگر ممکن نہ ہو تو ایک ماہ تک قیام ضرور کرے گی ۔ اس کے بعد ہی اسے اس کے دلہا کے ساتھ کراچی جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔ میرے والد کے لیے اتنا عرصہ پانیلی میں قیام کرنا ممکن نہیں تھا اور وہ کراچی واپسی کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ ادھر میری والدہ اپنے شوہر کو تنہا کراچی واپس جانے کی اجازت دینے کے لیے رضامند نہیں تھیں ۔ وہ بے حد مصروف آدمی تھے۔ وہ گھنٹوں کام کرتے تھے۔

ایسی صورت میں ضروری تھا کہ والدہ ان کے ساتھ کراچی واپس جاتیں، گھر بار سنبھالتیں، والد کے لیے کھانا وغیرہ بنا کر گرما گرم ان کو پیش کرتیں۔ نوکروں پر کون اعتبار کر سکتا ہے؟ وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے اورکھانا بھی اچھا نہیں بناتے اور نہ ہی وہ رات کو صاحبِ خانہ کی آمد پر دیر تک انتظار کر سکتے ہیں اور نہ رات کو ان کی واپسی پر گرما گرم چپاتیاں بنا کر دے سکتے ہیں۔ ان حالات میں والدہ بھی پانیلی میں مزید نہیں رک سکتی تھیں۔ البتہ محمد علی پانیلی میں رک سکتے تھے۔یہاں تک کہ ان کے سسرال والے انہیں ان کی دلہن کو لے کر کراچی جانے کی اجازت دے دیتے۔ مگر میرے بھائی بھی میرے والد کے ساتھ کراچی جانے کو بے تاب تھے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ شادی کے بندھن سے باہم وابستہ ہونے والے دونوں خاندانوں کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہو گئی۔ دونوں خاندان کئی روز تک باہم مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اختلافات ختم نہ ہوئے۔ انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی لاینحل معاملے میں الجھ کر رہ گئے تھے۔ اس تمام گفت و شنید کے دوران محمد علی اب تک خاموش رہے تھے۔ ان کی حیثیت اکھاڑے کے باہر بیٹھے شخص کی سی تھی اور اکھاڑے کے اندر خاندانی جھگڑے کو نپٹانے کے لیے کوششیں کی جارہی تھیں۔

مگر جب انہیں یقین ہو گیا کہ بات تعطل کا شکار ہو گئی ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود معاملے کو نمٹائیں گے۔ اپنے والدین کو بتائے بغیر محمد علی اپنے سسر اور خوش دامن سے ملنے چلے گئے۔ ان لوگوں نے رسم و رواج کے مطابق اپنے داماد کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا اور ان کی خوب تواضع کی۔ انہیں بتائے بغیر کہ وہ کس مقصد کے لیے ان کے پاس آئے ہیں، محمد علی ان کے ساتھ کچھ دیر بیٹھے رہے۔ ان کے سسرال والوں نے یقینا سوچا ہو گا کہ ان کا داماد کس قدر مہذب، خاموش طبع اور فرمانبردار ہے۔

استقبال اور خوش آمدید وغیرہ کی رسومات مکمل ہو جانے کے بعد محمد علی نے نہایت پختہ لہجے میں بات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا ان کے والدین پانیلی میں قیام نہیں کر سکتے اور انہیں لازمی طور پر کراچی واپس جانا ہے اور یہ کہ وہ خود بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔ وہ اپنی دلہن بھی ساتھ لے جانا چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ دلہن کے والدین کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن اگر انہوں نے گاؤں کے رسم و رواج کے مطابق فیصلہ کیا تو ٹھیک ہے ان کی مرضی۔ میرے بھائی نے کہا وہ انہیں (اپنے سسرال والوں کو) یہ بتانے آئے ہیں کہ اس صورت میں وہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور جب چاہیں اسے کراچی بھجوا سکتے ہیں۔ دلہن کے والدین اس نوجوان کی اپنے سسرال والوں سے اس قدر بے باکانہ گفتگو پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے اپنے داماد کو حیرت اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے غیر متوقع مضبوط لہجے اور صاف گوئی پر انہیں بہت حیرت ہوئی۔

تاہم محمد علی نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ وہ جلد ہی تین برس کے لیے کراچی سے یورپ روانہ ہو جائیں گے۔ شاید دلہن کے والدین اسے شوہر کی عدم موجودگی میں کراچی بھیجیں اور اسے تین سال تک ان کی انگلینڈ سے واپسی کا انتظار کرنا پڑے۔ نوجوان بیٹا اس مسئلے کو سلجھانے میں کامیاب ہو چکا تھا جس میں اس کے والدین کو ناکامی ہوئی تھی۔ اگلے روز محمد علی کے سسر اور خوش دامن میرے والدین سے ملنے آئے اور بڑی فکر مندی سے پوچھا کہ وہ ایمی بائی کو کب کراچی لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس کی رخصتی کے لیے ضروری انتظامات کر سکیں۔ دونوں خاندانوں کے درمیان اختلاف اور تلخی کی جگہ خیر سگالی کی فضا بر قرار ہو چکی تھی

دنیا کا وہ شخص جسے مرنے کے بعد5بار مختلف جگہوں پر دفنایا جاتا رہا

دنیا کا وہ شخص جسے مرنے کے بعد5بار مختلف جگہوں پر دفنایا جاتا رہا
منگل‬‮ 27 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 11:22
میں کولمبس کی قبر کے سامنے کھڑا تھا‘ دنیا کے زیادہ تر لوگ موت کے بعد زمین میں دفن ہوتے ہیں لیکن کولمبس شاید دنیا کا واحد شخص تھا جو مرنے کے بعد چار بار دفن ہوا اور پانچویں مرتبہ اس کی لاش کو ہوا میں معلق کر دیا گیا‘ وہ 20 مئی 1506ء کو میڈرڈ کے قریب والا ڈولیڈ شہر میں فوت ہوا‘ آخری زندگی مایوسی‘ غربت اور

بیماری میں گزری‘ بادشاہ فرڈیننڈ نے اس سے وعدہ کیا تھا ہندوستان (وہ مرنے تک امریکا کو ہندوستان سمجھتا رہا) سے حاصل ہونے والی دولت کا دس فیصد

اس کا ہو گا اور اسے نئی دنیا کا والئی بھی بنایا جائے گا لیکن پھر بادشاہ مکر گیا اور کولمبس کسمپرسی میں مارا مارا پھرنے لگا‘ کولمبس کے مرنے کے بعدپتہ چلا وہ سادگی میں جس سرزمین کو ہندوستان سمجھتا رہا وہ نئی دنیا ہے‘

نئی دنیا کو نئی دنیا کولمبس کے دوست امریکانو ویسپیوسیو نے ثابت کیا اور بادشاہ نے امریکا کو امریکانو کے نام پر امریکا ڈکلیئر کر دیا‘ بادشاہ کو کولمبس کے بعد کولمبس کی قدر ہوئی‘ کولمبس کے بیٹے ڈیگو کو حکم دیا گیا اور وہ باپ کا تابوت والا ڈولیڈ سے نکال کر سیویا لے آیا‘ کولمبس کو دریا کے ساتھ قدیم درگاہ لا کارتوہا میں دفن کر دیا گیا‘ کولمبس کا بڑا بیٹا ڈیگوکولمبس سیویا کے شاہی خاندان اور اشرافیہ میں پاپولر تھا‘بادشاہ فرڈیننڈ نے ڈیگو کو امریکن سپینش کالونی ڈومنیکا کا وائسرائے بنا دیا‘

ڈیگو کی وفات کے بعد اس کی بیوی ماریا جاتے جاتے سیویا سے اپنے شوہر اور سسر کولمبس کا تابوت بھی ساتھ لے گئی‘ماریا نے اسے سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں دفن کر دیا‘یہ کولمبس کی مرنے کے بعد دوسری قبر کشائی اور دوسری نقل مکانی تھی‘ کولمبس 258 سال ڈومنیکا میں دفن رہا‘ 1795ء میں ڈومنیکا میں سپین کے خلاف شورش برپا ہوئی‘ کیوبا سپین کی کالونی تھا‘ کولمبس اس وقت تک عالمی اثاثہ بن چکا تھا

چنانچہ تیسری بار اس کی قبر کھولی گئی اور اس کی لاش کو ڈومنیکا سے ہوانا (کیوبا) شفٹ کر دیا گیا‘ وہ1898ء تک ہوانا میں رہا‘1898ء میں امریکا اور سپین کے درمیان جنگ شروع ہوگئی‘کیوبا میں بھی سپین کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی‘ 1898ء میں چوتھی مرتبہ کولمبس کی قبر کھولی گئی اور اس کا تابوت سیویا منتقل کر دیا گیا‘ سیویا کا کیتھڈرل اس کی پانچویں اور شاید آخری منزل تھا‘کولمبس بار بار کی قبر کشائیوں اور منتقلیوں کی وجہ سے ڈیڑھ سو گرام کی باقیات بن چکا تھا اور یہ باقیات بھی ہڈیوں کا چورا تھی

چنانچہ اسے زمین میں دفن کرنے کی بجائے ہوا میں معلق کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ کولمبس کیلئے آبنوس کی لکڑی کا شاندار تابوت بنایا گیا‘ سپین کے چار بڑے بادشاہوں کے مجسمے بنائے گئے اور تابوت ان چاروں کے کندھوں پر رکھ دیا گیا‘اُدھر1877ء میں ڈومنیکا میں سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں کھدائی کے دوران ایک باکس دریافت ہوا‘ اس کے اوپر کرسٹوفرکولمبس کا نام لکھا تھا اور اس کے اندر 13 بڑی اور 28 چھوٹی ہڈیاں تھیں‘ کھدائی کرنے والوں نے دعویٰ کیا کولمبس کی سپین لے جائی جانے والی باقیات اصل نہیں ہیں‘ 2002ء میں سانتوڈومینگو اور سیویا میں موجود دونوں قبروں کی دوبارہ کھدائی کی گئی‘

باقیات کا ڈی این اے لیا گیااور یہ ڈی این اے سیویا کے کیتھڈرل میں دفن کولمبس کے دوسرے بیٹے ہرنانڈو کی لاش سے میچ کیا گیا تو ثابت ہوگیا سیویا کیتھڈرل کی باقیات ہی اصل میں کرسٹوفرکولمبس کی باقیات ہیں‘ یہ بھی ثابت ہو گیا کولمبس جوڑوں کے درد‘ قلب اور جنسی امراض کا شکار تھا اور اس کی موت دل بند ہونے سے ہوئی تھی اور میں اس وقت کولمبس کی معلق قبر کے سامنے کھڑا تھا اور سوچ رہا تھا انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے‘ اس کا اختتام بہرحال ڈیڑھ سو گرام کی باقیات پر ہوتا ہے‘

وہ مشت خاک سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا‘ یہ حقیقت اپنی جگہ لیکن کولمبس شاید دنیا کا واحد جہاز ران تھا جو موت کے بعد بھی بحری سفر کرتا رہا‘ وہ پانچ سوسال نئی اور پرانی دنیا کے درمیان رواں دواں رہا‘ بادشاہوں نے اس کی دریافت کی قدر نہ کی‘ وہ اپنے وعدوں سے مکر گئے لیکن قدرت نے اس کی قدر بھی کی اور اس کے ساتھ علم اور دریافت کے وعدے بھی نبھائے لہٰذا دنیا میں جب تک امریکا موجود ہے اس وقت تک کولمبس کا نام بھی موجود رہے گا اور شناخت بھی‘ دنیا آج فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی قبر سے واقف نہیں لیکن لوگ پانچ سو سال بعد بھی کولمبس کی قبر کا طواف کرتے ہیں‘

دنیا میں آج بھی پانچ مقامات پر اس کی قبریں موجود ہیں اور یہ تمام قبریں اصلی ہیں‘ کولمبس ان سب میں دفن بھی رہا اور ان کی مٹی نے اس کی لاش کی خوشبو کو بھی محسوس کیا‘ بہرحال اللہ ہی سپریم رہے گا اور وہ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو پھر کوئی اس سے وہ عزت چھین نہیں سکتا اور کولمبس اس حقیقت کی بہت بڑی نشانی تھا۔ سیویا اندلس کے مشہور دریا وادی الکبیر پر واقع ہے‘

وادی الکبیرغرناطہ کے قریب کیزرولا کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور یہ قرطبہ سے ہوتا ہوا سیویا آتا ہے اور پھر وہاں سے کادیز کے مقام پر بحراوقیانوس میں جا گرتا ہے‘ سیویا بحراوقیانوس سے قربت کی وجہ سے سپین کی سب سے بڑی منڈی بن گیا‘ بحری جہاز قرطبہ اور سیویا سے چلتے اورشام اور سعودی عرب تک جاتے‘ یہ واپس سیویا بھی آتے تھے‘ مسلمان بادشاہوں نے آٹھویں صدی میں دریا کے دونوں کناروں پر مینار تعمیر کرائے اور ایک انتہائی وزنی زنجیر دونوں میناروں کے ساتھ باندھ دی‘

وہ زنجیر کے ذریعے تجارتی اور فوجی جہازوں کو کنٹرول کرتے تھے‘ زنجیر ختم ہو گئی لیکن ایک مینار آج بھی قائم ہے‘ یہ سنہری مینار کہلاتا ہے اور یہ کیتھڈرل کے مورش مینار کے بعد مورش مسلمانوں کی دوسری بڑی نشانی ہے‘ میں سفر کے آخر میں اس سنہری مینار کے سائے میں بیٹھ گیا‘ شہر کی فصیل میرے سامنے تھی اور وادی الکبیر کا پانی پیچھے‘ تاریخ اپنے رنگوں کے ساتھ میرے سامنے بکھری تھی‘ اشبیلیہ نویں اور دسویں صدی میں دنیا کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا‘

دنیا بھر سے کتابیں یہاں لائی جاتی تھیں‘ میں جہاں بیٹھا تھا وہاں نیلام گھر سجایا جاتا تھا‘ کتاب نیلامی کیلئے پیش ہوتی تھی اور پھر اشبیلیہ کے امراء بولی لگا کر وہ کتاب خرید لیتے تھے‘ اشبیلیہ کے امراء اس وقت اپنی جاگیر‘ محل اور خادموں کی تعداد کی بجائے کتابوں سے جانے اور پہچانے جاتے تھے‘ لوگ گلیوں میں چلتے پھرتے ہوئے امراء کے محلوں اور نوکروں کی طرف اشارہ کر کے کہتے تھے یہ وہ گھر ہے یا یہ اس شخص کا ملازم ہے جس کے گھر میں فلاں کتاب موجود ہے‘

حضرت عثمانؓ نے اپنی حیات میں چھ قرآن مجید تیار کرائے تھے‘ آپؓ نے ایک نسخہ اپنے پاس رکھا اور باقی پانچ عالم اسلام کے اہم ترین مقامات پر بھجوا دیئے‘ تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب یہ چھ کے چھ نسخے اشبیلیہ کے امراء کے پاس تھے‘ ابن رشد‘ ابن بطوطہ‘ ابن خلدون اور ابن عربی جیسے لوگوں نے بھی اپنی جدوجہد کے ماہ و سال اشبیلیہ میں گزارے تھے‘ مولانا روم المغرب (مراکش) اور اندلس جانے والے ہر مسافر کے ہاتھوں اشبیلیہ کے علماء کو سلام بھجواتے تھے‘

صحیح بخاری‘ صحیح مسلم‘جامع ترمذی‘سنن ابی داؤد‘سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ کے اصل نسخے بھی اشبیلیہ پہنچے اور اشبیلیہ کے علم پرستوں نے وہ نسخے نیلامی میں خریدے لیکن پھر وہ دور ختم ہوگیا اور اسلامی علم اور آرٹ دونوں کی قندیلیں بجھ گئیں مگر علم کا دھواں اور فضل کی مہک ابھی تک سیویا کی گلیوں میں موجودہے‘ شہر کی فضا میں آج بھی گئے دنوں کی طراوت زندہ ہے‘

یہ وہ شہر تھا جہاں کبھی اذانیں سانس لیتیں اور نمازیوں کے قدم لبیک لبیک کہتے تھے‘ جہاں علم سورج کی طرح پھوٹتا اور عرفان ہوا کی طرح بٹتا تھا‘ جہاں تصوف کی نبضیں رک جاتی تھیں اور منطق بولتے بولتے حقیقت کا روپ دھار لیتی تھی‘ سنہری مینار‘اس سنہری مینار اور اس کے سائے میں بہتے وادی الکبیر میں آج بھی گئے‘ پرانے اور بیتے ہوئے وقتوں کی ہلکی ہلکی باس موجود تھی‘

سیویا کے چہروں اور گہری سیاہ آنکھوں میں بھی تاریخ کے پھٹے پرانے ورق زندہ تھے‘ وقت اور تاریخ کے قافلے گزر گئے لیکن قدموں کے نشان ابھی باقی ہیں‘ ابن رشد‘ ابن بطوطہ‘ ابن خلدون اور ابن عربی بھی ابھی سیویا کی فضا میں زندہ ہیں اوردنیا میں جب تک کتاب‘ علم اور مسلمان تینوں موجود ہیں دنیا کی کوئی طاقت اس وقت تک سیویا کی فضا سے یہ نقش نہیں مٹا سکے گی‘ سیویا میں اس وقت تک اشبیلیہ قائم رہے گا‘ دنیا میں ازابیلا جیسی ہزاروں ملکائیں اور فرڈیننڈ جیسے لاکھوں بادشاہ آئیں گے‘

جائیں گے اور پھر ان کی قبروں کے نشان تک بکھر جائیں گے لیکن اشبیلیہ جیسے شہر‘ ان شہروں میں مسجدوں کے مینار اور ان میناروں کے سائے میں بیٹھی اسلامی تاریخ یہ ہمیشہ قائم رہے گی‘ یہ کبھی ختم نہیں ہو گی۔ میں نے انگڑائی لی‘ سنہری مینار کا بدن نومبر کی دھوپ میں سرشار تھا اور پچھلے پہر کی طلائی کرنیں وادی الکبیر کے پانیوں کو گدگدا رہی تھیں‘

کیتھڈرل کی گھنٹیوں نے بھی انگڑائی لی اور فضا میں ٹن ٹن کی آوازیں گونجنے لگیں‘ میں اٹھا اور سہیل مقصود کے ساتھ پارکنگ لاٹ کی طرف چل پڑا‘ ہماری گاڑی سیویا کے جدید محل کی پارکنگ میں کھڑی تھی‘ ہم نے رات سے پہلے طریفہ پہنچنا تھا اور پھر طریفہ سے طنجہ (مراکش) کیلئے بحری جہاز (فیری) لینا تھا‘ طنجہ میرے جیسے پاگلوں کے مرشد ابن بطوطہ کا شہر ہے‘

ابن بطوطہ 1304ء میں طنجہ میں پیدا ہوا‘ 22 سال کی عمر میں حج کیلئے نکلا اور پھر غائب ہو گیا‘ مرشد نے 30 سال میں 44 ملک پیدل گھومے‘ وہ افریقہ‘ مڈل ایسٹ‘ سنٹرل ایشیااور ہندوستان سے ہوتا ہوا چین جا پہنچا‘ 1355ء میں واپس آیا تو دماغ کی گٹھڑی میں ہزاروں ہیرے بندھے تھے‘ فیض شہر اس وقت المغرب (مراکش کا عربی نام) کا دارالحکومت تھا‘ بادشاہ نے مرشد کو فیض بلایا‘

استاد کو احترام دیااور اسے دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی القراویں میں پروفیسر لگا دیا لیکن ٹک کر بیٹھنا اور پڑھانا مرشد کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ ابن بطوطہ واپس طنجہ آ گیا اور بادشاہ کے حکم پر اپنی معرکۃ الآراء کتاب ”رحلہ“ لکھنا شروع کر دی‘ کتاب مکمل ہوئی تو مرشد 1368ء میں طنجہ کی تنگ اور قدیم گلیوں میں فوت ہو گیا‘ میں نے 1984ء میں منت مانگی تھی میں جب مرشد کے دیکھے 44 ملک دیکھ لوں گا تو اس کے مزار پر حاضری دوں گا‘ میرا سکور 80 ہو چکا ہے چنانچہ میں اندھیرے سے پہلے پہلے طریفہ پہنچنا چاہتا تھا‘ مرشد کے قریب پہنچنا چاہتا تھا

چند موجد اپنی ہی ایجادات سے زندگی کی بازی ہار گئے

چند موجد اپنی ہی ایجادات سے زندگی کی بازی ہار گئے
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:15
٭ ریڈیم میری کیوری نامی خاتون کی دریافت ہے ،جنہوں نے طویل عرصے تک اس پر تحقیق کی اور اس دریافت پر 2 بار نوبیل انعام کی حقدار ٹہریں۔1934 میں طویل عرصے تک تابکار شعاعوں کی زد میں رہنے کے باعث لیو کیمیا (ہڈیوں کے گودے کے کینسر) میں مبتلا ہوگئیں، کچھ عر صے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔٭ ایرو ویگن نامی گاڑی

کا موجد ویلیرین اباکووسکی 1921 میں اپنی ایجاد کردہ گاڑی کی پہلی ہی آزمائش کے دوران ہلاک ہوگیا۔ایئر کرافٹ کے انجن پر چلنے والی یہ گاڑی پہلے تجربے کے دوران اس وقت الٹ گئی جب وہ

نہایت برق رفتاری سے دوڑ رہی تھی۔٭ ایک آسٹریلوی نزاد فرانسیسی موجد فرنز ریچلٹ نے 1912 میں پیرا شوٹ سوٹ ایجاد کیا تھا۔اس کا مقصد ان پائلٹوں کی جان بچانا تھی جو طیارے کے کسی حادثے کا شکار ہونے کے بعد طیارے سے چھلانگ لگانا چاہتے ہوں۔

پیراشوٹ سوٹ مکمل ہونے کے بعد اس کی آزمائش کے لیے ایفل ٹاور کا انتخاب کیا گیا،تاہم بدقسمتی سے پہلی آزمائشی اڑان ہی بری طرح ناکامی سے دو چار ہوئی اور سوٹ کا موجد اپنے بنائے ہوئے سوٹ میں پھنس کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔٭ 1912 میں گلیشیئر سے ٹکرا کر ایک خوفناک حادثے کا شکار ہونے والے جہاز ٹائی ٹینک کا موجد بھی اس حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔جہاز کا چیف ڈیزائنر تھامس اینڈریوز جونیئر اس وقت پانی میں ڈوب گیا جب وہ لائف بوٹ میں بیٹھنے کے لیے لوگوں کی مدد کر رہا تھا۔

٭ جدید پرنٹنگ کا بانی ولیم بلاک867 میں اپنی ہی بنائی ہوئی پرنٹنگ مشین میں آ کر اپنی ٹانگ کٹوا بیٹھا۔حادثے کے وقت ولیم نے چرخی کو چلانے کے لیے اس پر اپنی ٹانگ سے زور آزمائی کی ،جس پر اچانک مشین چل پڑی اور ولیم کی ٹانگ برق رفتاری سے گھومتی چرخی میں آکر کٹ گئی۔نو دن تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد اس کی ٹانگ کا انفیکشن پورے جسم میں پھیل گیا ،جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی